کشمیر میں کیا تبدیلی ہوئی؟

Views: 47
Avantgardia

ریاست کشمیر اپنے خصوصی درجہ کو کھوچکا اور گھٹ کر وہ دو مرکزی علاقوں میں متبدل ہوا۔ ہندوستان کی تقسیم اور کشمیر کی شمولیت کی تاریخ کو کیسے تبدیل کردیا گیا۔ ہند کے دستور کے آرٹیکل 370اور 35(A)کیا ہے جو سنے جاتے تھے کہ ان کے ذریعہ وہ کشمیر کے لئے کیا خصوصی درجہ نہیں رکھتے تھے؟
فیضان مصطفی (وائس چانسلر نیشنل لاء یونیورسٹی حیدرآباد)
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
بی جے پی نے پیر 5اگست کو اپنے الیکشن مینوفیسٹو میں کئے گئے وعدہ کے مطابق جموں اور کشمیر کے خصوصی موقف کو جو دستورِ ہند کے ذریعہ دیا گیا تھا جسے انہوں نے آرٹیکل 370 جو جموں اور کشمیر کو خوداختیاری دیتا تھا اُسے منسوخ کرڈالا۔ اس ضمن میں دستوری جو فیصلہ طلب و زیر بحث امور ہیں اور جو اب پیدا ہوئے ہیں ا س منظرنامہ میں جس کی وجہ سے وہ کونسی تبدیلیاں ہیں جو ریاست میں اور ملک میں ہوگی۔ حکومت کے اس فیصلہ کو کن بنیادوں پر چیلنج کیا جاسکتا ہے؟
کیا آرٹیکل 370 ختم کردیا گیا؟
دستور جو جموں اور کشمیر Constitution (Aplication to Jammu & Kashmir) Order 2019 صدر ہند رام ناتھ کووند نے اپنے اختیارات محصلہ شق نمبر 1 آرٹیکل 370 دستور ہند کے تحت انہیں حاصل ہیں انہوں نے دفعہ 370 کو ختم نہیں کیا، جبکہ اس کے پرووژن قانون کی کتاب میں قائم ہے۔ اس کا استعمال کرتے ہوئے جموں اور کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو کالعدم کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ صدر ہند اپنے آرڈر کے ذریعہ سے دستور ہند کے تمام دفعات کو جموں اور کشمیر میں اطلاق کیا ہے۔ جس میں اس بات کا بھی حوالہ ہے صدر ریاست جموں کشمیر کے معنی و مطلب ریاست کے گورنر سے لیا جائے گا۔ اس طرح ریاست کے اس گورنر کو جموں کشمیر کے گورنر کی حیثیت جو وزرائے کونسل کے مشاورت سے جو کام کرتا ہے اس کی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ پہلی دفعہ دستور کے آرٹیکل 370 کا اس طرح استعمال کیا گیا ہے کہ وہ ترمیمی آرٹیکل 367 کے ذریعہ کی جائے۔ (یہاں کی اس کی توضیح ہوتی ہے) 367متعلقہ جموں و کشمیر اور اس ترمیم کو اس ترمیمی قانون کے ذریعہ آرٹیکل 370 کو خود ترمیم کیا گیا ہے۔
آرٹیکل 35(A) کا اب کیا موقف و درجہ ہے؟
آرٹیکل 35(A) آرٹیکل 370 سے اُبھرتا ہے۔ جو 1954ء میں صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ داخل ہوا ہے۔ آرٹیکل 35(A)دستور کی باڈی میں نظر نہیں آتا۔ اس لئے کہ آرٹیکل 35 آرٹیکل 36 کے بعد آیا ہے۔ لیکن اس کا شمار Appendix Iمیں کیا گیا ہے۔ یعنی آرٹیکل 35(A)جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کو اس بات کے اختیارات دیتا ہے کہ وہ وہاں کے مستقل رہنے والوں اور ان کے خصوصی حقوق و مراعات کا تعین و تعریف کرے۔
پیر کے صدارتی حکمنامہ نے دستورِ ہند کے تمام دفعات کو جموں و کشمیر پر لاگو کیا۔ بشمول بنیادی حقوق۔ اس لئے یہ جو امتیازی خصوصیت آرٹیکل 35(A)نے دے رکھی تھی اب وہ غیر دستوری بن گئی ہے۔ پریسیڈنٹ 35(A)کو بھی خارج کرسکتے ہیں۔ یہ دفعہ فی الوقت عدالت عظمیٰ میں چیلنج کی گئی ہے کہ اسے دستوری ترمیم کے ذریعہ ہی آرٹیکل 368 کے بموجب داخل ہونی چاہئے تھی نہ کہ صدارتی حکمنامہ سے، جو آرٹیکل 370 میں جاری ہوا تھا۔ اس طرح پیر کے دن جاری کیا ہوا صدارتی حکمنامہ نے آرٹیکل 367 کے طریقہ کار کے مطابقت میں نہ ہونے کے باوجود 367 آرٹیکل کی ترمیم کی۔
اس سے جموں کشمیر میں کیا تبدیلی رونما ہوئی؟
راجیہ سبھا نے پیر کو Jammu & Kashmir Re-Organisation Bill 2019منظو ر کرڈالا۔ منگل کو وہ بل راجیہ سبھا میں منظور بھی ہوا۔ اس طرح ریاست جموں و کشمیر باقی نہیں رہی۔ بلکہ اس کے بجائے دو مرکزی علاقے جموں و کشمیر اور لداخ بن گئے ہیں۔ پہلے مرکزی علاقوں کی ریاست بنتی تھی۔ اب یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ریاست کو مرکزی علاقہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے کی ایک اسمبلی ہوگی جیسے دلی اور پانڈیچری کی ہے۔
دستور ہند کا آرٹیکل 3 پارلیمنٹ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ دستور کو سادی اکثریت سے کسی بھی ریاست کے حدود کو تبدیل کرسکتا ہے اور نئی ریاست کی تشکیل بھی دے سکتا ہے۔ لیکن اس تبدیلی کے لئے اس بل کو پہلے متعلقہ ریاستی اسمبلی کو صدر ہند کے ذریعہ بھیجنا ہوگا، تاکہ لوگ ان کی رائے حاصل کرسکے۔ آرٹیکل نمبر 3 کے وضاحت نمبر 11 کے ذریعہ پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مرکزی علاقہ بھی بنائے۔
جموں کشمیر کے نہ صرف خصوصی موقف کو ختم کیا گیا بلکہ اس کا درجہ دوسری ریاستوں سے بھی کم کردیا گیا۔ یعنی ہندوستان میں اب 29 ریاستوں کے بجائے صرف 28 ریاستیں رہ گئی ہیں۔ اب کشمیر میں کوئی گورنر نہیں ہوگا۔ بلکہ دلی اور پانڈیچری کی طرح لیفٹنٹ گورنر ہوگا۔
اب اس بات کی اجازت ہوگی کشمیر میں کارپوریٹ یا انفرادی شخصیت بھی وہاں زمین خریدنے کے مجاز ہوجائیں گے۔ غیر کشمیریوں کو بھی وہاں ملازمتیں دی جائیں گی۔ اس طرح جغرافیائی تبدیلیوں کا وہاں آغاز ہوچکا ہے اور اس میں آئندہ آنے والے مختلف دہوں میں اور مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔
آرٹیکل 370 کی کیا خصوصیت اور شناخت ہے؟
یونائٹیڈ اسٹیٹ میں سب سے اہم خصوصیت وہاں کی وفاقی حیثیت ہے۔ ”وہ جو Compact برٹش کے سامراجی زمانے میں جو 13 کالونیز میں تھا جس کو ملاکر ایک Confederationبنا اور تب اس کی پالیسی ملک کے لئے 1791ء کے دستور میں ہوئی۔ ہندوستان کے سپریم کورٹ نے اسٹیٹ آف ویسٹ بنگال بنام یونین آف انڈیا (1962ء) کے سلسلہ میں بہت ہی عظیم اہمیت لگتی ہے۔ وہ اس طرح کے کوئی معاہدہ و انضمام دو ریاستوں کے درمیان فیڈرل اسٹریکچر کے لئے ضروری امر ہے۔ اُسی طرح ایس آئی بی 2016ء میں عدالت عظمیٰ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ کشمیر کے سلسلہ میں آرٹیکل 370 ہندوستان کے فیڈرلزم اسٹریکچر کے لئے ضروری ہے۔ جیسا کہ یونائٹیڈ اسٹیٹ کے Compactمیں ہے۔ اس کے ذریعہ سے مرکز کے تعلقات جموں کشمیر کے ساتھ تھے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حیثیت ہندوستان کے دستور کی بنیادی ساخت ہے۔
ہندوستانی دستور کے مسودے میں آرٹیکل 370 کو گورنمنٹ آف جموں کشمیر نے مرتب کیا۔ جو دستور ساز اسمبلی ہندوستان نے 27مئی 1949ء کو منظور کئے ہوئے مسودے کی متبدلہ شکل ہے۔ اس آرٹیکل کو پیش کرتے وقت این گوپال سوامی اہنگار نے کہا تھا کہ ”اگر کشمیر کی شمولیت استصواب عامہ سے منظوری حاصل نہ کرسکے تب ہم کشمیر کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں بنیں گے کہ وہ اپنے آپ کو ہندوستان سے بھی علیحدہ کرسکے۔“
17 اکتوبر 1949ء کو دستور ہند کے آرٹیکل 370 کی شمولیت دستور ساز اسمبلی کے ذریعہ ہوئی۔ آرٹیکل 370 کے ناقدین نے اس سے قبل بحث کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر 1947ء ہی میں بغیر کسی شرط کے شامل ہوچکا اور آرٹیکل 370 کے ذریعہ غیر ضروری طور پر اسے خصوصی درجہ دیا جارہا ہے۔ پھر بھی دستور ساز اسمبلی کا جو مسودہ 26 نومبر 1949ء کو تکمیل ہوا اس میں آرٹیکل 370 دستور میں نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ اسے منظور کیا گیا۔

کشمیر کی ہندوستان میں شمولیت کیا کہتی ہے؟
Independence Act 1947 کے ذریعہ برٹش نے ہندوستان کو تقسیم کیا۔ یعنی وہ علاقے جو راست برٹش کے زیر انتظام تھے اُسے ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم کرڈالا۔ 580 رجواڑے اور ریاستیں تھیں جنہوں نے الگ سے برٹش کے ساتھ معاہدے کئے تھے اور وہ اپنے آپ میں خودمختار تھے۔ اس لئے ان کی مطلق العنانی واپس کردی گئی اور انہیں اس بات کا اختیار دیا گیا کہ وہ آزاد رہے یا ہندوستان کی حکومت میں شامل ہوجائیں۔ یا پھر پاکستان کی حکومت میں شامل ہوجائیں۔ اس قانون کی دفعہ 6(A) کے مطابق اس بات کی بھی اجازت ہے چاہے تو وہ ہندوستان اور پاکستان میں شامل اپنے کسی دستاویز کے ذریعہ ہوجائیں۔ اور اس طرح ان ریاستوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اپنے شمولیت والی دستاویز میں اپنے شرائط بھی رکھیں کہ کس طرح وہ نئی حکومت میں ٹیکنیکل بنیادوں پر رہیں گے۔ اس طرح سے ان ریاستوں کی شمولیت والے دستاویز گویا ان دونوں کے درمیان ایک معاہدہ تھا جو دو آزاد ملک ایک دوسرے کے درمیان کررہے تھے کہ وہ آئندہ مستقبل میں کس طرح سے رہنا چاہتے ہیں۔گویا اس کی بنیاد بین الاقوامی قانون کے ضرب المثل Pacta sunt servanda کے مطابق یہ معاہدے اور اعلانات دو ریاستوں کے درمیان ہوا کرتے ہیں۔ جس کے ذریعہ سے کئے گئے وعدوں کو وفا کیا جاتا ہے۔ لیکن پیر کے دن کے صدارتی حکمنامہ نے مہاراجہ ہری سنگھ سے وفا نہیں کیا ہے۔
مہاراجہ ہری سنگھ مسلم اکثریتی علاقہ کی ریاست کے مہاراجہ تھے۔ جو ابتداءً آزاد رہنا چاہتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے 26 اکتوبر 1947ء کو شمولیت کے دستاویزات پر دستخط کی۔ جبکہ پاکستان کی آرمی اور آفریدی قبائلی ریاست میں گھس خوری کررہے تھے۔ اور اس وقت ہندوستان نے اس شرط پر مدد کرنے کا وعدہ کیا کہ پہلے وہ دستاویز کے ذریعہ ہندوستان میں شمولیت کردے۔ اس دستاویز کے ساتھ جو منسلکات ہیں اس کے ذریعہ ہندوستانی پارلیمنٹ کو اس بات کے اختیارات دئے گئے ہیں کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق قانون سازی صرف دفاع، امور خارجہ اور ذرائع ابلاغ رسل و رسائل کی حد تک ہی کرسکیں گے۔
اس دستاویز کے فقرے نمبر 5 کے مطابق مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ بھی شرط عائد کی تھی کہ ”میری شمولیت کی دستاویز کو کسی بھی ترمیمی قانون کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جاسکے گا۔ یا وہ Indian Independence Act جب تک کہ اس قسم کی تبدیلی تاوقتیکہ مجھے قبول ہو اور وہ بذریعہ اضافی دستاویز شامل کیا جائے گا۔“ اسی طرح شق نمبر 7 میں اس نے کہا کہ اس دستاویز کے مطابق مجھے اس بات کا پابند نہ سمجھا جائے کہ میں کسی بھی طریقہ سے مستقبل میں دستورِ ہند یا میرے اختیارِ تمیزی کے ذریعہ میں حکومت ہند کے ساتھ انتظامات کروں گا۔ جو مستقبل میں دستور کے مطابق ہوگی۔
آرٹیکل 370 کو دستورِ ہند نے بطور شرط منظور کرتے ہوئے شمولیت کی دستاویز کے تحت مان لیا گیا ہے۔ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ دونوں فریقین کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک معاہدہ ہے۔
کیا آرٹیکل 370 ایک عارضی سہولت نہ تھی؟
آرٹیکل 370 دستور ہند کے آرٹیکل XXIکا دوسرا حصہ ہے۔ جسے اس طرح عنوان دیا گیا تھا۔ (Temporary Transitional and Special Provision) آرٹیکل 370 دستور ساز اسمبلی کے معنی کے مطابق عارضی معنی میں تھا۔ جس کے ذریعہ جموں کشمیر کو اس بات کا استحقاق دیا گیا تھا کہ وہ دستور ساز اسمبلی کشمیر کے فیصلہ کو قائم رکھے یا ترمیم، تنسیخ کرے۔ یہ اُن کے صواب دید پر منحصر تھا۔
دوسرا نظریہ اس وقت یہ تھا کہ یہ عارضی اُس وقت تک ہے جب تک کہ استصواب عامہ منعقد نہ ہوجائے۔ جس کے ذریعہ سے جموں و کشمیر کے لوگوں کی مرضی و منشاء حاصل کرسکے۔ گورنمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ آر ٹیکل 370کو ختم کرنے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔
مقدمہ کماری وجئے لکشمی شاہ بنام یونین آف انڈیا 2017ء میں دہلی ہائیکورٹ درخواست کو نامنظور اس بناء پر کیا کہ آرٹیکل 370 عارضی دفعہ تھی۔ اور اس کی ترتیب و تشکیل دستور کے ساتھ دھوکہ تھا۔
اسی طرح اپریل 2018ء میں سپریم کورٹ نے کہا تھاکہ عارضی کی سرخی جو آرٹیکل 370 سے قبل لگائی گئی تھی دراصل وہ عارضی نہیں تھی۔
اسی طرح سنتوش کمار 2017ء کے مقدمہ میں عدالت عظمیٰ نے تاریخی وجوہات کی بناء پر کہا کہ جموں و کشمیر کا خصوصی موقف ہے۔
اسی طرح سپریم کورٹ نے ایس بی آئی بنام ظفراللہ نہرو 2016ء میں کہا کہ ہندوستان کے دستور کی وفاقی شکل و صورت کا اظہار دستورِ ہند کے باب XXIمیں دیکھنے کو ملتا ہے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر کا مخصوص درجہ ہے۔ اور آرٹیکل 370 عارضی نہیں ہے۔ اس ضمن میں کورٹ نے آرٹیکل 369 باب XXIمیں وضاحت سے پانچ سال کے عرصہ کو بتاتا ہے۔ لیکن آرٹیکل 370 میں کہیں بھی وقت کی معیاد نہیں دی گئی ہے۔ کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر دستور سازاسمبلی کی منظوری کے بغیر آرٹیکل 370 منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔
اسی طرح پریم ناتھ کول 1960ء کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کی پانچ ججوں والی بنچ نے کہا کہ آرٹیکل 370(2) بتاتا ہے کہ جو پارلیمنٹ اور صدر کے اختیارات ہیں اس کا استعمال ایک دوسرے سے متعلق ہے کہ آرٹیکل 370(1) عارضی ہے۔ لیکن اس کے خاتمہ کے لئے شرط یہ لگائی گئی ہے کہ تاوقتیکہ دستور ساز اسمبلی جموں و کشمیر کی منظوری حاصل نہ ہوجائے۔
اسی طرح سپمت پرکاش کے مقدمہ 1968ء میں عدالت عظمیٰ نے فیصلہ کیا کہ آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی اُٹھایا جاسکتا ہے۔ یعنی آرٹیکل 370 اپنی عمل آوری میں کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتا۔ اس مقدمہ میں بھی یہ فیصلہ پانچ ججوں والی بنچ نے دیا ہے۔
راجیہ سبھا میں وزیر داخلہ نے بل پیش کیا اور پاس بھی ہوا۔ جس کے مطابق صدارتی حکمنامہ بھی گویا ایک معاہدہ، سمجھوتہ، قرارداد، شمولیت کے دستاویز، کورٹ کا فیصلہ، قانون، احکامات طور طریقے، رسم ورواج وغیرہ ہوگا۔
رازداری کی کیا وجوہات ہیں جہاں کشمیر کو لاک ڈاؤن کیا گیا؟
غیر روایتی طور پر صیانتی فوج کو بلاکر سیاسی لوگوں کو ان کے گھروں میں محروس کرنا اور ذرائع رسل ورسائل و ابلاغ کو بند کردینا، یہ بتاتے ہیں کہ گورنمنٹ کو اس بات کی توقع تھی کہ عوامی طور پر اس فیصلہ کی مخالفت و احتجاج ہوگا۔ جموں و کشمیر کا جو بنیادی فیصلہ شمولیت کا تھا اُسے ان کی مرضی کے خلاف گفتگو اور رائے شماری نہ کرتے ہوئے کیا گیا۔ جبکہ اس وقت ریاست میں کوئی بھی منتخبہ حکومت نہیں تھی۔ صدارتی حکمنامہ یہ کہتا ہے کہ ریاستی حکومت کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کا مطلب شائد یہ لگایا جارہا ہے کہ گورنر کی منظوری جو مرکزی حکومت کا نمائندہ ہے۔
اور اب حکومت کی یہ تحریک کا رخ کس جانب ہوگا؟
کیا کانگریس حکومت نے آرٹیکل 370 کا بیجا استعمال نہیں کیا؟ہاں انہوں نے کیا۔ کئی صدارتی حکمنامے انہوں نے راجہ ہری سنگھ کے دستاویز کی روح کے مغائر جاری کئے۔ یعنی 1954ء کا پریسیڈنٹ آرڈر، عین تقریباً وہ تمام دستور (بشمول تمام دستوری ترمیمات)کو جموں و کشمیر تک لاگو کیا۔ یعنی 97 مشمولات جو مرکزی فہرست میں آج ہیں اس میں سے 94 کو جموں و کشمیر میں لاگو کیا گیا۔ جیسا کہ دوسری ریاستوں میں بھی لاگو ہے۔ اسی طرح دستورِ ہند کی 395 آرٹیکل میں سے 260 آرٹیکل کو جموں و کشمیر پر لاگو کیا گیا۔ اسی طرح دستورِ ہند کے 12 شیڈول میں سے 7 شیڈول کو بھی جموں و کشمیر کی حد تک لاگو کیا گیا ہے۔
برسوں بعد مرکزی حکومت نے آرٹیکل 370 کو جموں و کشمیر کے دستور کی ترمیم کے لئے استعمال کیا ہے۔ حالانکہ آرٹیکل 370 کے ذریعہ سے انہیں اس کا اختیار نہ تھا۔ اس لئے کہ 370 کا اطلاق محدود حد تک ہی دستورِ ہند کے لئے حاصل تھا۔
اس طرح آرٹیکل 356(ریاستوں میں صدر راج کا نفاذ) کا بھی اطلاق جموں کشمیر پر کیا گیا ہے۔ حالانکہ جموں و کشمیر کے دستور میں آرٹیکل 92 اُن کے لئے حاصل تھا۔ اسی طرح اس دفعہ کو تبدیل کرنے کے لئے جموں و کشمیر کے دستور کا انتخاب اسٹیٹ اسمبلی کرتی تھی۔ لیکن آرٹیکل 370 کا استعمال کرکے اس پوزیشن کو تبدیل کیا گیا کہ گورنر پریسیڈنٹ کا نامزد کردہ نمائندہ ہوگا۔
گورنر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ریاست میں صدر ہند کا ایجنٹ ہے۔ اسی طرح پیر کو جاری ہونے والے احکامات کے ذریعہ سے تمام بقیہ آرٹیکل کا اطلاق دستور کے ذریعہ سے ہوگا اور سابق میں دئے گئے تمام آرڈرس منسوخ ہوجائیں گے۔
قبل اس کے حکومت نے اس قسم کے اقدامات کیوں نہیں کئے۔ نہرو میں شائد اس کے لئے سیاسی خواہش نہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ وہ دستوری معاہدہ جو مہاراجہ ہری سنگھ سے کیا گیا تھا اُس کا احترام کریں۔ ان کا جذباتی طور پر کشمیر سے تعلق تھا اور اٹل بہاری واجپائی کا بھی یہ نظریہ تھا کہ کشمیر یوں کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔ جس کے ذریعہ سے انہوں نے کہا تھا کہ کشمیر انسانیت کا طریقہ ہی ہونا چاہئے۔مودی کی کشمیر میں پہلی مخلوط حکومت پی ڈی پی کے ساتھ جموں و کشمیر میں 2018ء تک تھی۔ وزیر داخلہ نے کہا ایک مرتبہ حالات نارمل اور معمول پر آجائیں تو State Hood کی پاسداری کی جائے گی۔
کیا صدارتی حکمنامہ کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے اور کن بنیادوں پر؟
بڑی حد تک چیلنج کیا جاسکتا ہے اور عدالت عظمیٰ اس آرٹیکل 370 پر غور کرے گی۔ یقینا یہ آرٹیکل صدر ہند کو وسیع اختیارات دیتا ہے۔ ہوسکتا ہے اس معاملہ کو دستوری بنچ دو سے تین برس لگادے۔ تاکہ یہ چیلنج کئے ہوئے معاملہ کا تصفیہ کرے۔
ممکنہ جو جواز اُٹھائے جاسکتے ہیں بشمول اس کے جموں کشمیر کی ریاست کو مرکزی علاقوں میں تبدیل کرنا دستورِ ہند کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہے۔ اس لئے کہ اس بل کو صدرِ ہند نے ریاستی اسمبلی کو نہیں بھیجا۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہ کیا دستور ساز اسمبلی کا مطلب Lagislative Assemblyہوسکتا ہے۔اور کیا گورنر و ریاستی حکومت کا مطلب ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دستوری معاملات و اس کے مطابقت میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ مہاراجہ کا کیا ہوا معاہدہ اُس پر بھی کورٹ غور کرے گی۔ آیا آرٹیکل 370 دستور کی بنیادی شکل کا جز ہوسکتا ہے۔ اور آرٹیکل 370 کا استعمال جو آرٹیکل 370 کو ترمیم کرنے کے لئے کیا گیا ہے اس پر بھی عدالت عظمیٰ غوروخوص کرے گی، تعبیر و تشریح کرے گی۔
کیا پھر کشمیر اس وقت پوری طریقہ سے ہندوستان کا انضمام ہو گیا ہے؟
جموں و کشمیر دستور کے آرٹیکل 3 خود اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ ریاست ہندوستان کا ایک جز رہے گی۔ اور کشمیر کے دستور کے دیپاچہ میں کہا گیا ہے کہ وہ مطلق العنانی نہیں مانگیں گے جیسا کہ دستور ہند میں دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وضاحت کے ساتھ جموں و کشمیر کا دستور اس مقصد کو مانتا ہے اور جموں کشمیر کا دستور مزید اس بات کا بھی تعریف و تعین کرتا ہے کہ وہ ریاست اور مرکز کے ساتھ اس کا جز بن کر ہی رہے گا۔
انضمام تو پہلے سے ہی ہوچکا تھا۔ آرٹیکل 370 صرف جموں و کشمیر کو کچھ حد تک خود اختیاری دی تھی۔ اُسے اب ختم کردیا گیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart