کشمیر کی وادی

Views: 18
Avantgardia

محمد طارق قاسمی لکھیم پوری

کبھی تھی رشک جنت واقعی کشمیر کی وادی


کبھی تھی رشک جنت واقعی کشمیر کی وادی
مگر اب ایک  زنداں  بن گئی کشمیر کی وادی


کچل ڈالے گئے سب گل، مَسل ڈالی گئیں کلیاں
نظر  آنے  لگی اجڑی   ہوئی  کشمیر  کی  وادی


نہ مہندی ہاتھ میں باقی،نہ رخساروں پہ غازہ ہے
مجھے بیوہ سی اب لگنے لگی کشمیر کی وادی


مسلمانو کہو گے کیا اگر پوچھے گا رب تم سے
تمہارے سامنے کیونکر جَلی کشمیر کی وادی


حرم کے  پاسبانو!   کیا نظر آتی نہیں تم کو
سراپا  درد  بن  کر چیختی  کشمیر کی وادی


الہی کب تلک دیکھیں گے ہم یہ خوں چَکاں منظر
رہے گی کب تلک  مقتل بنی کشمیر  کی  وادی


سکوں ملتاتھا آنکھوں کو جہاں کے سبزہ زاروں سے
لہو سے  سرخ  ہے  طارقؔ!   وہی کشمیر کی وادی




Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart