کمزوروں ، ناداروں ، عورتوں اور بچوں کے حقوق کی رعایت

مولانا محسن اعظم صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند



اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ، آفاقی وہمہ گیر نظام اور دین فطرت ہے، جو زندگی کے ہر شعبہ میں عین فطرت کے مطابق بنی نوع انسان کے ہر طبقے کی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا مقام ومرتبہ اور ان کے حقو ق متعین کرتا ہے ، تاریخ عالم گواہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی امت ایسی نہیں گزری ہے ، جو اپنے عہدوپیمان ، عدل وانصاف ،ر حم وکرم ، اخلاق وکردار اور لوگوں کے آپس کے معاملات اور حقوق متعین کرنے میں اسلام سے بہتر ہو ، اس کی بہتری کی وجہ یہ ہے کہ ان حقوق کا بنیادی مصدر دین اسلام ہے ، جسے رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے جوپوری کائنات کے لیے نبی رحمت ہیں ،جن کی ذمہ داری لوگوں کو ظلم وجہل کی تاریکیوں سے نکال کر نور مبین اور صراط مستقیم پر گامزن کرنا ہے ، ان کے حقوق کی ضمانت فراہم کرنا لوگوں کو امن واطمینا ن کی زندگی گزارنے ، بھائی چارہ اور ان کے تمام مصالح کی حفاظت کرنا آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
اللہ تعالی نے پوری کائنات کو انسانوں کے لیے مسخر کیا ، اسی لیے اسلام میں انسانوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات پوری کرنے والی اشیا کے حقوق کا بھی پورا پور ا لحاظ رکھا گیا ہے اور ہر ذی روح کے ساتھ حسن سلو ک کا حکم دیا گیا ہے۔انسان تو انسان اسلام میں جانورو ں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ کسی بھی کام میں عدل وانصا ف کو ہاتھ سے مت جانے دو اور ہر ذی روح کے ساتھ رحم وکرم اور حسن سلوک کرو۔ چنانچہ نبی رحمت نے اس صفحہ ہستی پربسنے والے ہر فرد بشر کے حقوق الگ الگ بیان فرماکر انھیں تحفظ فراہم کیا او راس سلسلے میں انتہائی ٹھوس اور جامع قوانین و اصول مقرر کیے ، جیسا کہ حجۃ الوداع کے طویل اور تاریخی خطبے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں زمانہ جاہلیت کے جملہ اعمال قبیحہ اور رسومات بد پر روک لگاتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے بعض بنیادی اصول واضح فرمائے وہیں ، خاص طور پر اجتماعی زندگی کی تین اہم او ربنیادی چیزوں ’’ جان کا پاس ‘‘ ’’ ما ل کی حفاظت‘‘اور ’’عزت و آبرو کا احترام ‘‘پر بہت ہی زیاد ہ زوردیا اور ا س کے خلاف عمل کو ناجائز اور حرام قراردیتے ہوئے اس صفحہ ہستی پر تا قیامت آنے والی نسل انسانی کو منارہ نور عطا کیا ۔
اسلام میں کمزوروں ، ناداروں اورمفلسوں کے حقوق کی رعایت
اسلام میں ضرورت مندوں ، ناداروں ، یتیموں ، بیواؤں ، مسکینوں ، مجبوروں اور غریب وپسماندہ لوگوں کے جملہ حقوق کی بھر پور رعایت کی گئی ہے ۔چنانچہ اسلام نے اقتصادی توازن برقرار رکھنے اور مذکورہ بالا لوگوں کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے اغنیا اور اہل دولت کے اموال پر زکوۃ فرض کی ہے ، جیساکہ قول باری تعالی انما الصدقات للفقرا ء ۔۔۔۔۔۔سے واضح ہے ۔ نیز اللہ تعالے نے بعض مخصوص زمانوں میں کچھ اور صدقات کو ضروری قراردیا ہے ، ان صدقات کوشریعت میں واجب اور سنت موکدہ کہا جاتا ہے ۔ جیسے کہ صدقہ فطر ، عید الاضحی کے موقع پر قربانی اور حج کی ہدی وغیرہ ، علاوہ ازیں اسلام میں صدقات مستحبہ بھی ممدوح اور پسندیدہ عمل ہے تاکہ اغنیا ، فقرا اور مساکین وغیرہ کو صدقات د یں او راللہ کا قرب حاصل کریں ، جیسا کہ ارشاد باری تعالے ہے ، ’واٰتیٰ المال علی حبہ ذوی القربی و الیتامی والمساکین وابن السبیل والسائلین و فی الرقاب ‘( بقرہ ۱۷۷) یعنی نیکی اس شخص کی ہے جو مال سے اپنی محبت کے باوجود( اللہ کے حکم سے )رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں ،سوالیوں اور غلام آزاد کرانے کے لیے خرچ کرے۔اس کے علاوہ قران حکیم کی مختلف آیات میں صدقہ کرنے میں جلدی کرنے کا حکم کیا دیا گیا ہے ۔متعدد آیات میں اس کے اجر وثواب کا وعدہ کیا گیا ہے ، (ملاحظہ ہو سورۃ البقرہ آیت۲۵۴، ۲۶۱، ۲۶۲، ۲۶۷، ۲۷۴، )
کتا ب اللہ کے علاوہ احادیث مبارکہ میں بھی ضرورت مندوں کی مدد کرنے کے بارے میں بے شمار فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ، جیسا کہ ارشاد نبوی ہے: من کان فی حاجۃ اخیہ کا ن اللہ فی حاجتہ ( متفق علیہ ) یعنی جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کر نے میں مشغول رہے گا تو خدا تعالی اس کی ضرورت پوری کرنے میں لگا رہے گا ، ایک دوسری روایت میں ہے واللہ فی عون عبدہ ماکان العبد فی عون اخیہ ( ترمذی شریف ) یعنی خدا تعالی اپنے بندے کی مدد میں اس وقت تک لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے کسی بھائی کی مددمیں لگا رہتا ہے ۔اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین اور بیوہ عورت کی مدد کرنے کو جہاد فی سبیل اللہ کے برابر قراردیا ہے ۔ ارشا دنبوی ہے ’الساعی علی الارملۃ والمساکین کا المجاہد فی سبیل اللہ‘ اسلام نے یتیم بچوں اور بچیوں کی خبرگیری ، خدمت اور امداد پر پوری توجہ دی ہے ، قران پاک میں جگہ جگہ یتیموں کی امداد و سرپرستی کی تاکید آئی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ ارشاد گرامی یتیموں کی خدمت کے کامو ں کی اہمیت ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے : انا و کافل الیتیم کہاتین فی الجنۃ ( ابو داؤد جلد نمبر ۲ ص ۳۵۴) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کو ملا کر فرمایا میں او ریتیم کی دیکھ بھال کرنے والا جنت میں پاس پاس ہوں گے۔
اسلام میں بچوں کے حقوق کی رعایت
بچے ، ہمارے مستقبل کا قیمتی سرمایہ ہیں ، اگر وہ اس وقت گودکا کھلونا ہیں، تو آگے چل کر وہ مستقبل کے معمار ہوں گے ، شریعت اسلامی نے بچوں کی پروش اوران کی اچھی تعلیم وتربیت کا بڑا اہتمام کیا ہے اور ان کے کچھ حقو ق مقررکیے ہیں ، جن کے تحت ا ن کی پرورش کی تلقین کی ہے ، ولاد ت کے بعد سے ہی بچے کا خیال رکھنے کا حکم دیا گیا ہے او ر عملی طور پرآ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا ہے کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کیا جائے اور بوسہ دیا جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے بچوں کے حقوق بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : مروہم بطاعۃ اللہ و علمو ہم الخیر ( بیہقی شعب ا لایمان ) یعنی ان کو اللہ کی اطاعت کا حکم دو اور نیکی کی تعلیم دو، ایک اور روایت میں ہے حق الولد علی الوالد ان یحسن اسمہ و یعلمھم الکتابۃ و یزوجہ اذا بلغ یعنی والد پر بچے کا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا سا نام رکھے ، اس کو کتابت ،لکھنا پڑھنا سکھائے او رجب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کردے ۔ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی اچھی تعلیم اور اعلی سے اعلی تربیت کی ہدایت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
(۱) بچوں کو ادب و شائستگی سکھانا صدقہ کرنے سے بہترہے ( ۲) اولاد کے لیے بہترین عطیہ اور بہترین دولت اچھی تعلیم سے انھیں آراستہ کرنا ہے (۳) لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیے ، بلکہ لڑکیو ں کی تعلیم وتربیت کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ایسا شخص جنت میں داخل ہو گا ( ابوداؤ د کتاب الا ادب )
اسلام میں عورتوں کے حقوق کی رعایت
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل عورت دنیا کی مظلوم ترین چیز سمجھی جاتی تھی ، رشتہ ازدواج کے بنیا دی مقصد کو لوگوں نے فراموش کردیا تھا ، لڑکیوں کی پیدائش باعث عار سمجھی جاتی تھی ، پیدا ہونے کے ساتھ ہی ان کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا ، عورت ہر جگہ مردوں کے ظلم و جور کا شکار بنی ہوئی تھی اور سماج میں اس کو کوئی حیثیت حاصل نہ تھی ۔ لیکن ایک اسلام اور صرف اسلام تھا جس نے اسے ا پنے آغوش میں پناہ دی اور اسے قعر مذلت سے نکال کر بام عروج پر پہنچایا ، اس کی عزت وعظمت کی حفاظت کے موقع پراسلام نے اپنے فرزندوں کا خون بہایا ۔اس کو پورے حقوق دیے ، صحیح آزادی کا سبق پڑھایا اور زیور تعلیم سے آراستہ کیا ، حتی کہ مذہبی اور معاشرتی کاموں میں مردوں کے ساتھ شریک کرتے ہوئے اسلام نے یہ اعلان کردیا ، المومنو ن والمومنات ، بعضھم اولیا ء بعض ، یامرون بالمعروف و ینھوں عن المنکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( التوبۃ)اور مومن مرد اور مومن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں ، وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں اور برائی سے روکتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں او ر اللہ او راس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں ، یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ اپنی رحمت سے نوازے گا ، یقیناًاللہ اقتدار کا مالک ہے ، حکمت کا مالک ہے ۔نیز سورہ بقرہ میں اللہ نے ارشاد فرمایا : ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف و للرجال علیھن درجۃ ( بقرہ ) اور عورتوں کا حق دستور کے مطابق مردو ں پر ویسا ہی ہے جیسا مردوں کا عورتوں پر ، البتہ مردوں کو عورتو ں پر ایک خاص فضیلت حاصل ہے ۔ اس قانو ن نے شوہروں پر ضروری قراردیا کہ وہ اپنی رفیقہ حیات کی جملہ ضرروتوں ، کھانے ،پینے ، کپڑے ، رہائش ، بیماری میں علاج اور سماج کے باعزت فرد کو آرام او رراحت کے لیے جن باتوں کی ضرورت پڑتی ہے ، ان سب کا انتظام کرے اور عورت کو اپنی حیثیت کے مطابق رفیقہ حیات بنا کر رکھے ۔ البتہ گھر کا نظام چلانے کے لیے عورت پر یہ ضروری ہے کہ مرد کو گھر کا نگراں اور سردار سمجھے ، کیو ں کہ مرد کے ذمہ گھر کے چلانے کے لیے کمانے اور پیسہ لانے کا بوجھ ڈالا گیا ہے ۔ علاو ہ ازیں قران کی سورۃالنساء اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلا م نے دوران عدت مطلقہ عورت کے نا ن ونفقہ کا بھی انتظام کیا ، مال میں اس کاحق ، جائیداد میں اس کا حصہ ، طلاق کے مقابلہ میں خلع کا اسکو اختیار پھر ضروری اوقات میں مثل مردوں کے اس کو ذمہ دار بنایا ۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذاتی طور اپنی ازواج کے ساتھ جو حسن سلوک کیا اور جس طرح انھیں عزت وعظمت کے مقام سے نوازکر عورتوں کی توہین اور تحقیر کے عام تصور اور رواج کی تردید فرمائی، وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کا نہایت روشن باب ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بارے میں خیر کی وصیت فرمائی ہے ۔ایک حدیث میں ہے کہ : تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے سب سے بہتر ہو اور میں اپنے اہل خانہ کے تعلق سے تم لوگوں سے بہتر ہوں ( ترمذی شریف ) ایک دوسری روایت میں آپ صلی ا للہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ما اکرمھن الا کریم و لا اہانھن الا لئیم ( یعنی عورتوں کی عزت وتکریم نہیں کرتا مگر کریم وخوش بخت اور ان کی اہانت نہیں کرنا مگر کمینہ اور بدبخت)
الغرض اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت وافتخار سے نواز ا ہے ، عورت ماں ہو ، یا بیوی ، بہن ہو یا بیٹی ، ہر حالت میں اسلام نے عورت کی شان کو بلند کیا ہے اور اس کے تمام حقوق کی بھر پو ررعایت کی ہے جب کہ آج اس کے برعکس پروپیگنڈا کیا جارہا ہے ، اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ اسلام میں عورتوں کے جو حقوق متعین کیے گئے ہیں ، نیز بچوں اور کمزوروں ، ناداروں کے ساتھ حسن سلوک کی جو تاکید کی گئی ہے ، اس کو پورے طور پر عمل میں لایا جائے اور اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات کا پوری صراحت کے ساتھ دنیا میں پیش کیا جائے تاکہ غلط پروپیگنڈا کے ازالے کے ساتھ انسانیت کو صحیح رہ نمائی بھی حاصل ہوسکے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.