کھری کھری دینی اداروں کے جلسے : کتنے مفید ، کتنے بامعنی

عظیم اللہ صدیقی
دنیا کی تقریبا تمام قوموں کے لیے مشترکہ طور سے تجارت، سماجیات اور تعلیم بنیادی مسائل ہیں ، لیکن مسلمانوں کے لیے دینی تشخص نہ صرف یہ کہ بنیادی مسئلہ ہے بلکہ سب سے اہم بھی ہے ۔مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنے اس دینی جذبہ کا اظہار بھی کیا ہے ۔ اس لیے جب دینی جلسوں اور ا سلامی اداروں کی تقریبات میں لوگوں کی’ نہ کے برابر‘ شرکت کی بات سامنے آتی ہے تو حیرانی فطری چیز ہے ۔

یہ تاثر دیاجانا ہرگز ٹھیک نہیں ہے کہ اہل مدارس کے اندر اخلاص یا روحانیت میں کوئی کمی ہے ، وہ تو پورے اہتما م کے ساتھ حفاظ قرآن کی دستار بندی یا ختم بخاری کی محفل سجاتے ہیں ، جہاں وارثان انبیا و صلحا کی عزت افزائی کی جاتی ہے ۔لیکن اس روحانی محفل میں پڑوس کے لوگ بالکل ندارد ہوتے ہیں ، حالاں کہ اہل مدارس اپنے پروگرام کا اشتہار بھی دیتے ہیں اوربذریعہ دعوت نامہ اطلاع بھی۔
اس کے باوجود کہ عوام کی اکثریت آج بھی مدرسوں کے اجلاس کا مالی بوجھ اٹھانے اور دینی مدارس کی خدمت میں پیش پیش رہتے ہیں ۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر کمی کہاں ہے اور اس کے ازالے کا طریقہ کیا ہے ؟ ۔ اس سلسلے بہت ساری باتیں کہی جاسکتی ہیں تاہم بظاہر یہ ایسا لگتاہے کہ ان جلسوں میں خطاب کرنے والے مقررین کا انداز بیاں کہیں نہ کہیں سامعین کے اندر اجنبیت پیدا کررہا ہے ۔مقررین نے وہی قدیم طرز تکلم کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے جو آج سے پچاس سال قبل رائج تھا جب کہ آج کی اصطلاحات ، آج کے اسلوب و نفسیات بالکل مختلف ہیں ۔ آج اسلوب ، زبان، معیار اور محاورے جدید ہیں ۔ حضرت مولانا ابوالکلا م آزادؒ اورحضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ سابق صدر جمعےۃ علماء ہند کی خطابت اپنے دور کی پرشکوہ خطابت تھی ، آج اگر ان کے لہجے میں بات کریں، تولوگ یہ کہتے ہیں کہ مولانا صا حب وظیفہ پڑھ رہے ہیں ۔ ا س سلسلے میں راقم نے اپنے بڑوں سے ایک لطیفہ سنا ہے کہ’’ کچھ لوگ ایک مولانا کے پاس آئے ، انھوں نے کوئی بات پوچھی ، مولانا نے اپنے انداز میں جواب دیا جس میں آدھی فارسی اور آدھی عربی تھی ۔لہجہ دیکھ کر ان سب کے چودھری صاحب اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے کہ چلو بھئی چلتے ہیں، کیوں کہ مولانا صاحب تو اس وقت کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں ‘‘۔

دوسری بات یہ ہے کہ آج کے دور میں معلومات کے مختلف ذرائع ہیں ، یوٹیوب اور دوسرے ذرائع سے ایک سے ایک تقریر سنی جاسکتی ہے۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ مقررین کی معلومات کا دائرہ بھی وسیع ہو۔ وہ صرف گھسے پٹے قصے اور واقعات سے لبریز تقاریر کا عادی نہ ہو ، بلکہ قول فیصل اور بالکل ہی معتبربات پیش کرے۔ لیکن اس کے برعکس زیادہ تر مقررین ناقابل عمل واقعات اور قصے کہانیوں پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ مثلاپاپیادہ حج والے بزرگ کا واقعہ ہو ،رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقد س کی طر ف منسوب کوڑا پھینکنے والی یہودی خاتون ، یا گٹھری اٹھائی ہوئی بوڑھی خاتون کے جھوٹے واقعات ہوں ، یہ نہ دل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی سننے والے کو خود کے لیے قابل عمل نظر آتے ہیں۔

اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ موضوع کی تیاری میں ہمارے ہاں مارکیٹ میں بکنے والے خطبات اور دل نشیں تقریروں کی کتابیں پڑھی جاتی ہیں ۔ ا س نے مقررین کے ذوق خطابت کو خراب کردیا ہے ۔یہ سوچے سمجھے بغیر کہ کتا ب کا خطیب کس ماحول میں خطاب کررہا تھا ، ممکن ہے کہ وہ تیس سال پہلے کے ماحول میں با ت کررہا ہواو راب تیس سال بعد جب کہ ماحول بدل چکا ہے ، موجودہ درپیش ماحول کی رعایت کیے بغیر ان تقاریرکو پیش کیا جانا کتنا عبث معلوم ہو تا ہے ، مگر وہی تقاریر اور وہی اشعار پیش کیے جاتے ہیں ۔
دوسری طرف مقررین اور واعظین کی تقاریر، سنجیدگی سے بھی خالی نظر آتی ہیں ، ان کے ذریعہ ہاتھ پاؤں کا پھینکنا اور زور زور سے مائک پر چلانے سے بھی سنجیدہ اور جدید علم سے آراستہ طبقے کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ بات صرف سامعین کو بہلانے کے لیے کی جارہی ہے ، اس طرح کے پروگراموں میں جانے سے ان کو کوئی نصیحت نہیں ملے گی اور نہ مجلس میں روحانیت حاصل ہو گی ۔واعظین کے ذریعہ موقع بموقع عجیب و غریب جذباتی اشعار پیش کیا جانا بھی موضوع سخن کو غیر سنجیدہ بنادیتا ہے ۔بارہا یہ محسوس کیا گیا ہے کہ واعظین کی تقاریر پیغام سے خالی ہوتی ہیں ۔ راقم الحروف نوئیڈا کے ایک دستاربندی اجلاس میں گیاتھا، وہاں پر تقریر کرتے ہوئے دین سے دوری اور مسلم بچیوں کے ذریعہ غیر مسلم شوہر کے انتخاب جیسی سماجی برائی پر لوگو ں کو متوجہ کیا تو ناظم جلسہ نے فوری طور سے روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ مسائل سیاسی ہیں ، یہاں پر بات نہ کریں۔ ظاہرسی بات ہے کہ وہ ہر گز ایسے موضوع پر بات نہیں کرنا یا کروانا چاہتے ہیں جس سے ان کے گنے چنے شریک جلسہ کو تلخی محسوس ہو۔حیرت انگیز طور سے مدارس کے سالانہ جلسوں میں مختلف غیر مربوط حوالے دے کر لوگوں سے تقریر کے بعد پروفیشنل مقرر سے چندے بھی جمع کرائے جاتے ہیں ۔ چندہ جمع کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور نہ ہی غلط ہے ، چوں کہ مدارس کی یہ ضرورت ہے مگر جس طرح قرآن و حدیث میں کسی واقعہ کی اعداد و شمار کا حوالہ دے کر متعینہ مقدار طلب کی جاتی ہے، وہ ایک افسوس ناک طریقہ ہے ۔ مثلاپانچ نمازیں فرض ہیں ، اس لیے پانچ ہزار کون دے گا؟ اللہ ایک ہے تو ایک ہزار کو ن دے گا ، جنت کے سات دروازے ہیں تو سات ہزار کون دے گا وغیرہ وغیرہ ۔آخیر میں روایتی دعاء کا طریقہ جس میں آدھے گھنٹے تک اللہ سے زمین و آسمان کی ہر چیز مانگی جاتی ہے ، اسے بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ دعاء مختصر ہو اور جامع ہو تو زیادہ موثر ہوگی۔ تقریر کے طرز پر کی گئی دعائیں بہت ہی اکتاہت پیدا کرنے والی ہوتی ہیں، پھر مانگنے والے اس میں شامل ہونے کے بجائے اس کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں ۔

ان حالات میں کیا اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ دینی جلسوں کو مفید اور موثر بنانے کے لیے ایسی نامشکور چیزوں اور در آئی عبث باتوں کو ختم کیا جائے اور ایک پیغام کی شکل میں دینی جلسوں کو پیش کیا جائے جیسا کہ ماضی میں ہمارے اکابر کرتے ہیں اور جیسا کہ جمعیۃ علماء ہنداور ملک کے بڑے دینی مدارس کے اجلاس ایک پیغام کے تحت منعقد ہو تے ہیں ،اہل مدارس بھی قرآن مجید یا درس حدیث کا پیغام دے سکتے ہیں
۔ساتھ ہی عام لوگوں کے مطلب کی باتیں کی جائیں ، مثلاان کے معاشرتی مسائل ، دین سے دوری وغیرہ جیسے عنوان پر باضابطہ مقرر صاحبان کو موضوع دیا جائے ، ایسا نہیں ہے کہ ہر مقرر ایک ہی طرح اور طرز کی بات کرتا رہے ، اس سے بھی دوری اور اکتاہٹ ہورہی ہے ۔ خیر بات جو ہی یہاں مقصد تقریر کی اصلاح نہیں ہے بلکہ عوام کو دینی اداروں سے جوڑنے کی کوشش ہے ۔ اس سلسلے میں اہل مدارس کو بھی بیدا ر ہونا پڑے گا ، ان کے مدرسوں میں مقامی بچوں کی تعلیم کا عمدہ نظم ہو تو عوام ان سے وابستہ ہوں گے ۔مدرسہ دہلی میں ہو اور طلباء سب بنگال و بہار کے ، مقامی بچے ندارد تو عوام اور مدرسہ میں دوری یقینی بات ہے ۔




 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں