کہہ دو آندھی سے دکھائے ذرا دَم خَم اپنا


محمد طارق قاسمی لکھیم پوری

ہم بیاں کس سے کریں اب غمِ پیہم اپنا
کوئی ملتا ہی نہیں دہر میں محرم اپنا

یہ وہ بادل ہے جو ہر وقت برستا ہی رہے
چشمِ تر کا نہیں ہوتا کوئی موسم اپنا

کیوں نہ ژولیدہ ہو اُس قوم کی حالت ،جس نے
خود سنوارا نہ کبھی گیسوئے برہم اپنا

خود مری قوم نے کر ڈالے مرے ہاتھ قلم
میں نے چاہا جو اٹھانا کبھی پرچم اپنا

سیکولر اِزم کا مسلم پہ نشہ ایسا چڑھا
آبِ گنگا کو سمجھ بیٹھا وہ زمزم اپنا

دفعتًا درد مرے زخم کا بڑھ جاتا ہے
چارہ گر جب کبھی رکھتا ہے تو مرہم اپنا

اب نہ بجھنے کی چراغوں نے قسم کھائی ہے
کہہ دو آندھی سے دکھائے ذرا دَم خَم اپنا

 

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں