کیا نکاح محض ایک سماجی معاہدہ ہے؟

محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند

مغربی تہذیب و ثقافت کے ذہنی و عملی مریض مساوات انسانی کے تصور سے اس قدر خیرہ چشمی میں مبتلا ہیں کہ جنس کے قدرتی اور طبعی فرق کی نزاکت کو ملحوظ رکھے بغیر ہر چیز میں مساوات کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ نظریہ انھیں اس نتیجہ پر پہنچاتا ہے کہ نکاح سماجیزندگی گذارنے کا صرف آپسی سمجھوتہ ہے، جس کا حقدار تنہا شوہر کو بنانا سماج دشمنی اور عورت کی آزادی کے خلاف ہے۔
حقیقیت یہ ہے کہ اسلام نے مرد و عورت کے درمیان مساوات انسانی اور انسانی عظمت و تکریم کی جس قدر رعایت کی ہے، اس قدر مساوات و توازن نہ تو دوسرے کسی مذاہب میں موجود ہے اور نہ ہی دنیا کے کسی قانون میں پایا جاتا ہے۔
دوسرے مذاہب و معاشرے میں نکاح کا جو بھی تصور ہو ، لیکن اسلام کے نقطہ نظر سے نکاح اور سمجھوتہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ فرق کیا ہے، ذیل کی سطروں میں پیش خدمت ہے:
(۱) نوعی فرق: سمجھوتہ ایک خالص تمدنی اور معاشرتی معاملہ ہے، جب کہ نکاح ایک خالص دینی معاملہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ
اذا تزوج العبد فقد کمُل نصف الدین فلیتق اللّٰہ فی نصف الباقی۔ (شعب الایمان، فصل فی الترغیب فی النکاح)
(۲) مقصدی فرق: سمجھوتوں کے بنیادی مقاصد معاشی مفادات ہوتے ہیں، جب کہ نکاح کا مقصد دینی و اخروی مفادات ہیں۔
تنکح المرأۃ لاربع: لمالھا و لحسبھا و لجمالھا و لدینھا، فاظفر بذات الدین۔ (بخاری، کتاب النکاح،باب الاکفاء فی الدین)
(۳) سزا کا فرق: سمجھوتوں پر عمل نہ کرنے پر وعید نہیں ہے ، جب کہ بوقت ضرورت نکاح نہ کرنے پر وعید آئی ہے۔
النکاح من سنتی، فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی۔ (ابن ماجہ، کتاب النکاح،باب ماجاء فی فضل النکاح)
(۴) اخلاقی فرق: سمجھوتوں پر عمل محض مطلب بر آری اور فریقین اپنا وقار برقرار رکھنے کے لیے ہوتا ہے، جب کہ نکاح مدارات و موانست اور الفت و محبت پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
من اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا و الطفھم باھلہ۔ (المستدرک علیٰ الصحیحین، کتاب الایمان، باب من اکمل الایمان۔۔۔)
(۵)طرز عمل کا فرق: سمجھوتوں میں ساری تگ و دو محض مفادات حاصل کرنے لیے ہوتی ہے، جب کہ نکاح کی ساری کوششیں آپس میں عشق و شیفتگی پیدا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے منہ میں پیار سے ایک لقمہ بھی ڈالتا ہے تو اس کا ثواب ملتا ہے۔
و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ۔ (الروم، ۲۱)
وانک لن تنفق نفقۃ تبتغی بھا وھہ اللّہ الا اجرت بھا حتیٰ ما تجعل فی فی امرأتک۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب رثاء النبی ﷺ سعد ابن خولۃ)
(۶) مفادات کا فرق: سمجھوتوں میں صرف مادی مفادات پیش نظر ہوتے ہیں، جب کہ نکاح تصفیہ قلب اور اصلاح باطن کے لیے کیا جاتا ہے۔
و من آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنو الیھا۔ (الروم، ۲۱)
(۷)ہیئت کا فرق: سمجھوتوں میں کوئی بھی فیصلہ فریقین کے باہمی رضامندی سے ہی ہوسکتا ہے، جب کہ نکاح میں پورا معاملہ شوہر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
بیدہ عقدۃ النکاح۔ (البقرۃ، ۲۳۷)
(۸) اختیار کا فرق: سمجھوتوں کو ختم کرنے کے لیے فریقین کی صلاح و مشورہ ضروری ہے، جب کہ نکاح کو ختم کرنے کے لیے شوہر کو مکمل اختیار دیا گیا ہے۔
و ان عزموا الطلاقَ۔ (البقرۃ، ۲۲۷)
(۹) شرائط کا فرق: سمجھوتوں میں معاملات و حقوق اور شرائط طے کرنے پڑتے ہیں، جب کہ نکاح ایک خدائی اصطلاح ہے، جس کے احکام و مسائل قرآن و احادیث میں طے کردیے گئے ہیں، جن میں کوئی تبدیلی و ترمیم کی نہیں جاسکتی ہے۔ سورہ الطلاق اور دیگر آیات و احادیث میں تفصیلات موجود ہیں۔
(۱۰) انداز قبول کا فرق: مترادف الفاظ ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال کرنا غیر موزوں نہیں ہوتا۔ چنانچہ گفتگو کی جگہ بات چیت بولا جاسکتا ہے، لیکن سمجھوتے کے لیے استعمال ہونے والے کسی بھی لفظ کو نکاح کے کسی بھی لفظ کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ اگر دو ملکوں میں سمجھوتہ ہوتا ہے، تو یہ کبھی نہیں کہاجاتا کہ دو ملکوں میں نکاح ہوگیا ہے۔ اسی طرح سمجھوتہ ختم ہونے پر یہ نہیں بولا جاتا کہ دونوں میں طلاق ہوگئی ہے۔
(۱۱) ذمہ داریوں کا فرق: سمجھوتوں میں معاملات کے ذمہ دار دونوں فریق ہوتے ہیں، جب کہ نکاح میں صرف مرد عورت کی ذات کی ملکیت حاصل کرلیتا ہے، کیوں کہ عورت مرد کو اپنی جان حوالے کردی ہے، جس کے عوض نان، نفقہ اور سکنیٰ وغیرہ کی حقدار ہوتی ہے۔
(۱۲) غلبہ کا فرق: سمجھوتوں میں دونوں فریق برابر ہوتے ہیں، کسی کو غلبہ و تسلط حاصل نہیں ہوتا، جب کہ نکاح میں مرد کو قوامیت اور غلبہ حاصل ہوتا ہے۔
الرجال قوامون علیٰ النساء۔ (النساء، ۳۴)
(۱۳)تصرفات کا فرق: سمجھوتوں میں فریقین ایک دوسرے کی جان و مال میں تصرف کا حق نہیں رکھتے، جب کہ نکاح میں مرد عورت کے نفس اور بعض اوقات مال میں بھی تصرف کا حق رکھتا ہے۔
نساؤکم حرث لکم، فأتوا حرثکم انیٰ شئتم۔ (البقرۃ، ۲۲۳)
(۱۴) قول و قرار کا فرق: سمجھوتوں میں قول و قرار دینا پڑتا ہے اور بسااوقات محض زبانی اقرار سے کام نہیں چلتا؛ بلکہ اس کو حیطہ تحریر میں لانا بھی ضروری ہوتا ہے، جب کہ نکاح میں محض زبانی اقرار و قبول ہی کافی ہوتا ہے؛ بلکہ شرمیلی عورت کا سکوت بھی رضامندی کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
(۱۵) انتفاعات کا فرق: سمجھوتوں میں صرف مال و متاع سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے، ذات سے نہیں؛ جب کہ نکاح میں مال و متاع کے ساتھ ساتھ ذات و نفس سے بھی انتفاع مقصود ہوتا ہے۔
(۱۶) لفظی تاثیرکا فرق: سمجھوتوں کے انعقاد کے لیے فریقین کے درمیان سنجیدہ بحث و گفتگو ضروری ہے، جب کہ نکاح کا معاملہ اس سے برعکس ہے۔ مزاح اور دل دلگی میں بھی نکاح ہوجاتا ہے۔
ثلاث جدھن جد و ھزلھن جد: النکاح والطلاق والرجعۃ۔ (ابوداؤد، کتاب الطلاق، باب فی الطلاق علیٰ الھزل)
(۱۷) احکام کا فرق: سمجھوتوں میں کسی کی ذات حلال وحرام نہیں ہوتی ، لیکن نکاح و طلاق سے حلال حرام اور حرام حلال ہوجاتا ہے ۔
حرمت علیکم امھاتکم الاٰیۃ۔ (النساء، ۲۳)
(۱۸) شرکت کی نوعیت میں فرق: سمجھوتوں میں دو سے زائد افراد بھی شرکت کرسکتے ہیں اور برابر کے حق دار ہوسکتے ہیں، جب کہ نکاح محض دو شخصوں کے درمیان ہی ہوسکتا ہے۔
(۱۹) صنفی فرق: سمجھوتوں میں مرد و عورت کا ہونا ضروری نہیں ہے؛ سب مرد ہوسکتے ہیں یا سب عورتیں ہوسکتی ہیں، جب کہ نکاح میں ایک مرد اور ایک عورت کا ہونا ضروری ہے۔ کیوں کہ یہی فطرت کا اصول ہے اور جو لوگ اس کے خلاف عملی اقدام کر رہے ہیں، در اصل وہ فطرت سے بغاوت کی انتہا کر رہے ہیں، جو انسان اور انسانیت کی ہلاکت کا پیش خیمہ ہے۔
(۲۰) قرب و قرابت کا فرق: سمجھوتوں سے کوئی حقیقی رشتہ وجود میں نہیں آتا؛ جب کہ نکاح حقیقی رشتہ کی تولید کا تسلسل پیدا کرتا ہے۔بیٹا سے باپ اور پھر دادا وغیرہ وغیرہ۔
فجعلہ نسبا و صھراً۔ (الفرقان، ۵۴)
(۲۱) میعاد کا فرق: ہر ایک سمجھوتہ محدود وقت کا پابند ہوتا ہے۔ وقت پورا ہوتے ہی سمجھوتہ بھی ختم ہوجاتا ہے؛ لیکن نکاح ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے۔ کوئی مدت گذرنے سے نکاح کی میعاد پوری نہیں ہوتی۔
(۲۲) لوازم کا فرق: سمجھوتہ ختم ہوتے ہی کلی طور پر کالعدم ہوجاتا ہے، جب کہ نکاح ٹوٹنے کے بعد بھی علیٰ الفور رشتہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بعد عدت گذارنی ہوتی ہے۔
(۲۳) نتائج کا فرق: سمجھوتوں سے اشیا کی صنعت کاری مقصود ہوتی ہے، جب کہ نکاح سے نسل انسانی کی افزائش ہوتی ہے۔
درج بالا سطور سے واضح ہوگیا کہ سمجھوتہ الگ چیز ہے، جب کہ نکاح ایک دوسری چیز ہے۔ ان تمام فرقوں کے ساتھ نکاح کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس کے ذریعہ نسل انسانی کی افزائش کے ساتھ سلسلہ نسب کا تحفظ بھی بڑا مقصد ہے۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ ایک عورت صرف ایک ہی مردکے نکاح میں رہے اور صرف اپنے ہی مرد سے جنسی تعلقات بنائے۔ اگربیک وقت ایک سے زائد مرد کے نکاح میں رہے گی یا شوہر کے علاوہ بھی کسی سے جنسی تعلقات بنائے گی، تو ایک طرف جہاں نکاح کے حقیقی مقصد کے خلاف ہوگا، وہیں دوسری طرف جانور کی طرح انسان کا سلسلہ نسب بھی منقطع ہوجائے گا۔
مورخہ ۲۷؍ ستمبر۲۰۱۸، جمعرات کوسپریم کورٹ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 497 (ایڈلٹری) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیر صدارت پانچ رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا کہ غیر ازدواجی تعلقات قائم کرنا اب جرم نہیں ہے۔ ایڈلٹری کو شادی سے الگ ہونے کی بنیاد تو بنائی جا سکتی ہے؛ لیکن اسے جرم نہیں مانا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس نے فیصلہ پڑھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’جمہوریت کی خوبصورتی ہے میں، تم اور ہم‘‘۔اس فیصلہ کے جواز پر دلیل دیتے ہوئے کہا کہ’’تعزیرات ہند کی دفعہ 497 ؍خواتین کے احترام کے خلاف ہے جبکہ انھیں ہمیشہ مساوی حقوق ملنے چاہییں‘‘۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس تناظر میں تھا کہ ’’ کیا عورت ایک وستو(چیز) ہے؟ جس طرح ایک چیز جس کی ملکیت ہوجاتی ہے، تو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر اسے کوئی دوسرا استعمال نہیں کرسکتا۔ اسی طرح اگر ایک عورت کسی مرد سے شادی کرلے تو کیا وہ عورت اس مرد کے لیے چیز کی طرح ہوجاتی ہے کہ اس کے بعد اسے کوئی دوسرا مرد استعمال نہیں کرسکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے اس کا تصفیہ کرتے ہوئے کہا کہ عورت کوئی وستو نہیں ہے کہ شادی سے صرف شوہر کا قبضہ رہے گا۔سپریم کورٹ کی دلیل ہے کہ ایک لڑکی، خواہ کسی کی بیٹی ہو یا بیوی ،یا پھر ماں ہو یا بہن ، جب تک اس میں ، میں، تم اور ہم سب شرکت نہ کریں ، تب تک جمہوریت کی خوب صورتی کہاں برقرار رہ سکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں؛ بلکہ خواتین کے لیے اپنے باپ، بھائی اور شوہر کو تحفظ کا حصار بنانا عورت کی توہین ہے۔آخر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک خوب صورت عورت صرف ایک ہی مرد کو خوش رکھے! پورے محلے والوں کا بھی تو کچھ حق ہے۔
یہ نظریہ کسی جاہل ، ان پڑھ اور گنوار شخص کا نہیں؛ بلکہ بھارت کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے اعلیٰ ذہن و فکر رکھنے والے جج صاحبان کا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ایسے اعلیٰ دماغ اس طرح سے فیصلے کرنے لگیں توسمجھ لیجیے کہ وہ نکاح کی حقیقیت و مقاصد سے واقف ہی نہیں ہیں۔ ان کے نزدیک نکاح محض ایک سماجی معاہدہ کے علاوہ کچھ نہیں۔
نوٹ: اس مضمون کی ترتیب میں حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نور اللہ مرقدہ کی کتاب :’ نکاح و طلاق عقل کی روشنی میں ‘ سے خصوصی استفادہ کیا گیا ہے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.