ہجومی تشدد کی دہشت

Views: 18
Avantgardia

ڈاکٹر اسلم جاوید
جھارکھنڈ میں لگاتار ہورہی ماب لنچنگ کے واقعات نے ایک بار پھر یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ حکومت اور پولس انتظامیہ سے لیکر پورے سماج کو اسے ہر حال میں روکنے پر سنجیدگی سے غورکرنا ہوگا ورنہ یہ ملک کے دو بڑے گروہوں کے درمیان نفرت اور رنجش کو بڑھاتا چلا جائے گا۔ جھارکھنڈ میں ابھی سرائے کیلا میں تبریز انصاری کی بے رحمی سے پٹائی کے بعد موت کا معاملہ تھما بھی نہیں تھا کہ گری ڈیہہ، ہزاری باغ، رام گڑھ اور پھر سرائے کیلا میں بھی لگاتار ایسے واقعات ہوئے ہیں جو یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ یہ بہت سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کیا اور کرایا جارہا ہے۔ پہلے گوشت کے نام پر، پھر بچہ چوری کے نام پر، پھر جادو ٹونے اور ڈائن کے نام پر بے قصور اور معصوم لوگوں کو نہ صرف بے رحمی سے درندہ صفت ہجوم نے قتل کردیا بلکہ بعض اوقات انہیں بچانے کے لئے آنے والی پولس فورس پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔ اس سے پہلے معاشقے کے نام پر یالو جہاد کی آڑ لیکر بھی بہت سے لوگوں کو بے رحمی سے مارا پیٹا گیا۔ اس قسم کے واقعات کسی مہذب سماج کو زیب نہیں دیتے اگر کسی نے کوئی غلطی کی ہے تو اسے قانون اور عدالت سے سزا ملے گی لیکن کسی کو سرے عام مارڈالنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس لئے ایک طرف جہاں جذبات بھڑکاکر اس طرح کے واقعات کو ہوادینے والوں کی شناخت کرکے انہیں سخت سزا دینے کی ضرورت ہے وہیں عام لوگوں کو بھی بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی مجرم کو پولس کے حوالے کرکے قانون کے تحت اسے سزا دلانے کا رویہ یا جذبے کو فروغ دینے کے لئے حکومت اور پولس انتظامیہ کو بڑے پیمانے پر بیداری مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ آج سے دو دہائی پہلے تک جب سڑک پر کوئی حادثہ ہوجاتاتھا تو لوگ نہ صرف ڈرائیور کو زدوکوب کرتے تھے بلکہ بسوں، ٹرکوں اور کاروں میں آگ لگا دیا کرتے تھے۔ اب اس رویے میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ اسی طرح جب تک ہجوم کی قیادت کرنے والوں اور مارپیٹ کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا نہیں ملے گی تب تک یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے گا۔
ملک میں گذشتہ ساڑھے پانچ برسوں سے ہجومی تشدد کاایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے اوراب یہ سلسلہ رکنے کانا م نہیں لے رہاہے۔ایسا لگتاہے کہ سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اس قسم کی وارداتیں انجا م دی جارہی ہیں تاکہ پورے ملک میں خوف ودہشت کاماحول قائم ہواور ہرچہار جانب سراسیمگی پھیلے۔انسانیت کے خلاف چلائے جارہے اس نفرت انگیز مہم کے بعد سیاسی پارٹیوں کے چھٹ بھیّے لیڈروں کی جانب سے اس قسم کے واقعات کودرست قرار دینے کے رویے نے بھی اس قسم کے تشدد کوبڑھا وا دیاہے۔اس طرح کے واقعات سے نمٹنے کیلئے یوپی لاکمیشن نے کچھ مشورے پیش کئے ہیں۔ان مشوروں کے مطابق ایسے واقعات کوروکنے کیلئے موجودہ قانون ناکافی ہے۔اس لئے الگ سے ایک سخت قانون بنایا جائے۔کمیشن نے مشورہ دیا ہے کہ اس قانون کے مطابق بھیڑ میں تشدد کرنے والوں کوسات سال سے لیکر عمر قید تک کی سخت سزا دی جائے اورایسے معاملوں میں کوتاہی برتنے والے پولیس افسروں اور ضلع افسروں کو بھی سخت سزا دینے کامشورہ دیا گیاہے۔نام نہاد گؤ رکشکوں اورجے شری رام بولنے کیلئے مجبور کرنے والے غیر سماجی عنا صر کی بھیڑ کے تشددپر سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہاہے کہ ہجوم کے تشدد کوایک الگ جرم کے زمرے میں رکھا جانا چاہئے۔کوئی بھی شہری اپنے ہاتھ میں قانو ن نہیں لے سکتا۔جمہوریت میں ہجومی نظام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سب سے زیادہ بھیڑ کے ذریعہ قتل کے واقعات مہاراشٹر،اترپردیش اورجھارکھنڈ میں ہوئے ہیں۔خود وزارت داخلہ کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق 2014 سے مارچ 2018تک جنونی بھیڑ نے 45بے قصور لوگوں کوقتل کردیا۔285بے قصور لوگوں کوبری طرح پیٹ پیٹ کرلہولہان کردیاجس میں 50فیصد اقلیتی فرقہ کے تھے یعنی مسلمان تھے۔ان واقعات کی گونج اقوام متحدہ تک بھی پہنچی۔سوال یہ نہیں ہے کہ اس میں کس کا قتل ہورہاہے بلکہ بھیڑ کے ذریعہ کئے گئے حیوانیت کوکون بڑھا واد ے رہاہے اور اس سے وہ کیا فائدہ اٹھانا چاہتاہے۔مرکزی اورریاستی حکومتیں اس پر کنٹرول کیوں نہیں کررہی ہیں اورپولیس اورانتظامیہ ایسے واقعات کیوں ہونے دے رہی ہے۔حدتو یہ ہے کہ سرکاری ڈاکٹر بھی ماب لنچنگ کے شکار لوگوں کا ٹھیک ڈھنگ سے علاج کیوں نہیں کررہے ہیں اورپولیس والے بھی موت کے منہ میں پہنچے ان لوگوں کو علاج کیلئے اسپتال میں بھرتی کرانے کے بجائے انہیں جیل میں بھیجنا کیوں چاہتے ہیں۔تبریز انصاری کے معاملے میں ایسا ہوچکاہے اور اس سلسلے میں تین ڈاکٹروں پر مقدمہ قائم کیا جاچکاہے جس میں ایک نالائق ڈاکٹر مسلمان بھی تھا۔ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پولیس ان لوگوں کوتحفظ فراہم کرتی ہے جو ماب لنچنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔اس کی تازہ مثا ل یہ ہے کہ پولیس نے پہلو خاں کے قاتلوں کوسزا دلوانے کے بجائے ان کے بیٹوں کوگائے کی اسمگلنگ کاملزم بنایا ہے اور قاتلوں کے گروہ کو کلین چٹ دے دی ہے۔اس ہفتے لنچنگ کے لگاتار چارواقعات ہوچکے ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ راجستھان کاہے جہاں تفتیش کے لئے گئے مسلم ہیڈ کانسٹیبل کوبھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مارڈالا،دوسرا واقعہ یوپی کے کاہے جہاں جے شری رام نہ بولنے پر امام کوبھیڑ نے زدوکوب کیااور داڑھی نوچی،تیسرا واقعہ مغربی بنگال کاہے جہاں رام کانعرہ نہ لگانے پر مدرسے کے گیارہ بچے کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی۔چوتھا واقعہ مدھیہ پردیش کاہے جہاں بی جے پی کے لیڈ رنے ایک مسلم آٹو ڈرائیور کوبری طرح زدوکوب کیااور اس پر فائرنگ بھی کی۔یہ اور اس قسم کے بے شمار واقعات مودی حکومت کے دوران اس شدت سے ہوئے ہیں کہ اسے کسی بھی طرح اتفاقی واقعہ یاوقتی اشتعال نہیں کہا جاسکتاہے۔یہ ایک ہی پیٹرن پر چلنے والی مہم لگتی ہے جس کا ماسٹر مائنڈ وقفے وقفے سے مختلف علاقوں میں اس قسم کی وارداتوں کی زمین تیار کرتا ہے اورملک میں بدامنی،لاقانونیت،بے چینی،خوف وہراس اورنراج پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس وقت تک اس قسم کے واقعات ہوتے رہیں۔ اس لئے حکومت کوچاہئے کہ کلکٹر اورایس پی کواس کا ذمہ دار بناکر اسے سختی سے روکنے کا حکم دے ورنہ بے قصوروں کی جان اسی طرح جاتی رہے گی۔

موبائل:8468964597

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart