ہر جنتی کے سر پر تاج ہوگا

اللہ جل شانہٗ اہل جنت کے اعزاز واکرام میں اُنہیں شاہی پوشاک اور ریشمی لباس تو عطا فرمائیں گے ہی،اِس کے ساتھ ساتھ ہر جنتی کے سر پر: ہیرے، جواہرات، اور موتیوں سے جَڑے ہوئے شاہی تاج بھی رکھیں گے،جو انتہائی روشن اورچمکدار ہوگا، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا کہ:اہل جنت کے سروں پر: ہیرے،جواہرات،اور موتیوں سے جَڑا ہوا، ایسا خوبصورت، بارونق اور چمکدار تاج ہوگا کہ:اُس کا ادنیٰ موتی مشرق سے مغرب تک پوری دنیا کو جگ مگادے۔(حادی الارواح:۲۵۱)
ہر جنتی بادشاہ ہوگا
جنت میں ادنیٰ سے ادنیٰ مؤمن اتنا بڑا بادشاہ ہوگا کہ: ہفت اِقلیم کی بادشاہت بھی اُس کے سامنے ہیچ ہوگی،روایت میں ہے کہ: جو مسلمان سب سے اخیر میں جہنم سے نکال کر جنت میں بھیجا جائے گا،اُس کو دنیا سے دس گنا بڑی جنت ملے گی،اُس کے سر پر بادشاہت کا تاج،اور بدن پر جگمگاتاہوا ریشمی لباس ہوگا،خود قرآن کریم میں بھی اِس کا ذکر کیا گیا ہے؛سورہئ دہر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وَاِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّمُلْکاً کَّبِیْراً“(الدہر:۰۲)اور جب تو دیکھے وہاں،تو دیکھے نعمت،اور سلطنت بڑی (ترجمہ شیخ الہند) علامہ شبیر احمد صاحب عثمانی نور اللہ مرقدہٗ اِس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں کہ: جنت کا حال کیا کہا جائے؟کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت، اور کتنی بھاری بادشاہت ہے،جو ادنیٰ ترین جنتی کو نصیت ہوگی۔رَزَقَنَا اللّٰہُ مِنْہَا بِمَنِّہٖ وَفَضْلِہٖ۔ (فوائد عثمانی)
روایت سے پتہ چلتاہے کہ:اہل جنت کو ایسی بادشاہت عطاکی جائے گی کہ: اُن کے مکانات تاحدِ نظر لمبے چوڑے ہوں گے،کئی سارے دروازے ہوں گے،ہر دروازے کا دربان الگ الگ ہوگا،اللہ کی طرف سے تحفہ لے کر آنے والا مقرب فرشتہ بھی بلا اجازت اُن کے پاس نہیں پہنچ پائے گا،دروازے پر آکر پہلے اندر آنے کی اجازت لے گا،پہلا دربان دوسرے کو وہ تیسرے کو وہ چوتھے کو،اِسی طرح ہر دربان اگلے دربان کو اطلاع کرے گا،اور آخری دربان اُس جنتی کو اطلاع کرکے اجازت حاصل کرے گا،تب جاکر وہ خدا کا قاصد فرشتہ قیمتی تحفے لے کر،جنتی کی خدمت میں پہنچے گا، مگر اُس جنتی کا مقام اتنا بلند ہوگا کہ: اُس کے محل سرائے سے دارالسلام میں پہنچنے کا دروازہ ہوگا، وہ جب چاہے گا،دربارِ الٰہی میں حاضر ہوجائے گا،اجازت لینے کی کوئی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔(حادی الارواح:۷۹۱)
ایک حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:سب سے کم درجے کے جنتی کا مقام یہ ہوگا کہ:اُن کے پاس صبح وشام پندرہ ہزار فرشتے،نئی نئی چیزیں لے کر حاضر ہوا کریں گے،(حدیث میں کم درجے کا جنتی دنیاوی اعمال کے اعتبار سے کہا گیاہے،ورنہ جنت میں کوئی شخص کم درجے کا نہیں ہوگا)(حادی الارواح:۷۹۱)
ایک حدیث میں ہے کہ:جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا،اُس کے ایک ہزار خزانچی ہوں گے، اُن سب کے ذمہ الگ الگ کا م ہوگا۔(حادی الارواح:۷۹۱)
ایک حدیث میں ہے کہ جنتی جوں ہی جنت میں داخل ہوں گے،ستر ہزار خدام اُن کا استقبال کریں گے،وہ خدام ایسے خوبصورت ہوں گے کہ:گویا چمکدار موتی ہوں۔
(حادی الارواح:۷۹۱)
ایک روایت میں ہے کہ:ادنیٰ سے ادنیٰ جنتی کا مقام یہ ہوگا کہ:اُس کے لئے جنت میں اسِّی (۰۸) ہزار خدام ہوں گے،بہتر(۲۷) بیویاں ہوں گی، اور اُس کے لئے جنت میں جابیہ اور صنعاء کی درمیانی مسافت کے برابر موتی،یاقوت اور زبرجد سے نبے ہوئے گنبد نما بڑے بڑے مکانات ہوں گے،(جابیہ ملک شام کا،اور صنعاء ملک یمن کا شہر ہے)دونوں کے درمیان طویل مسافت ہے،حدیث پاک میں کوئی معین مسافت مراد نہیں ہے؛بلکہ اُن مکانات کے بہت لمبے چوڑے ہونے کو بیان کرنا مقصد ہے کہ:جنت کے وہ مکانات انتہائی لمبے چوڑے ہوں گے۔(حادی الارواح:۸۹۱)
مسلم شریف میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا کہ:حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ جل شانہٗ سے سوال کیا کہ:سب سے کم درجے کے جنتی کا کیا حال ہوگا؟حق تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ:جب سارے جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے، تب اخیر میں وہ لایا جائے گا،اُس سے کہا جائے گا کہ: جنت میں چلا جا،وہ کہے گا:پروردگار!کیسے جاؤں؟وہا ں تو سب نے اپنی اپنی جگہ لے لی ہے، ساری جنت بھر گئی،کوئی جگہ خالی نہیں بچی ہے،اُس سے کہا جائے گا کہ:کیا تم اِس سے خوش نہیں ہوکہ:دنیا کے کسی بڑے بادشاہ کی سلطنت کے برابر تمہیں جنت دے دی جائے، وہ کہے گاکیوں نہیں!میں خوش ہوں،اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے،جاؤ!یہ بھی، اور پھر اِتنی ہی بڑی، پھر اتنی ہی بڑی،پھر اتنی ہی بڑی،پھر اتنی ہی بڑی،پانچ گنا پر وہ کہنے لگے گا:میرے پرودگار!بس میں خوش ہوں،اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے:جاؤ!تم کو یہ بھی اور اس کا دس گنا دے دیا،اور تمہارے لئے جنت میں وہ تمام نعمتیں ہیں،جو تمہارادل چاہے،اور جس سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں،وہ کہے گا بس خوش ہوں۔
(مسلم شریف:۱/۶۰۱ باب اثبات الشفاعۃ،حادی الارواح:۸۹۱)
ایک حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:اللہ جل شانہٗ نے جنت کی عمارتوں کی ایک اینٹ چاندی کی اور ایک اینٹ سونے کی بنائی ہے، اپنے ہاتھ سے اُس میں درخت لگائے،پھر جنت سے کہا کہ:مجھ سے کچھ بات کرو!جنت نے کہا: ”قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ“کام نکال لیا ایمان والوں نے(المؤمنون:۸۱)پھر فرشتے آئے اور جنت کو مبارکبادی پیش کرتے ہوئے کہاکہ:اے جنت!تم کو یہ شاہی محلات مبارک ہوں۔ (حادی الارواح:۸۹۱)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں