ہر مسلمان کے لئے تین سوال

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 15

مذکورہ مباحث کی روشنی میں میں ہر مسلمان قاری سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ ان تین سوالوں پر سنجیدگی اور دیانت داری کے ساتھ غور کرے۔
پہلا سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عقائد اسلامی کے بارے میں آپ کی رائے مطلق برحق ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ وہ اسلام کے پانچوں ارکانوں یعنی شہادت کے دونوں کلموں، قبلہ رخ مکہ کی جانب نماز ، زکوٰۃ ، ماہ رمضان کےروزوں اور مکہ میں حج کو فرض مانتا ہے۔ جو چھ عقائد پر یعنی اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی مذہبی کتابوں ، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور خیر و شر کےاللہ کی جانب سے مقدر ہونے پر ایمان رکھتا ہے لیکن وہ بعض باتوں میں مثلا خدا کے ہاتھ سے کیا مراد ہے وہ آپ کا ہم خیال نہیں ہے تو کیا وہ شخص غلط ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ سے مختلف عقائد کے حامل دوسرے لوگ حقیقی اہل ایمان نہیں ہیں، کیا وہ جہنم کے مستحق ہیں؟ کیا یہ آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے کہ ان کی اصلاح کریں اور اگر وہ بحث کریں یا اپنے آپ کو تبدیل کرنے سے منع کردیں تو کیا یہ آپ کا فرض ہے کہ ان پر زبردستی کریں حتی کہ ان سے جنگ و جدال کریں؟ کیا آپ ان کو واقعی غیر مسلم سمجھتے ہیں؟ کیا شیعہ غیر مسلم ہیں؟ اور اگر آپ شیعہ ہیں تو کیا سنّی غیر مسلم ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں اشعری غیر مسلم ہیں؟ کیا آپ صوفی حضرات کو غیر مسلم سمجھتے ہیں؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ابن رُشد اور ابن طفیل جیسے فلسفی غیر مسلم تھے؟ کیا آپ ایسے لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا ناممکن سمجھتے ہیں؟ کیا آپ ایسے لوگوں سے محبت کرنا ناممکن سمجھتے ہیں؟

دوسرا سوال: اگر آپ کسی مسلم اکثریتی ملک کے شہری ہیں جسکے تمام قوانین آپ کی فہم کے مطابق شریعہ پر مبنی نہیں ہیں، تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آپ پر فرض ہےکہ آپ ہتھیار اٹھائیں اور آپ کا شریعہ کا جو فہم ہے اس کو زبردستی نافذ کریں بجائے اس کے کہ آپ پُر امن طریقے سے اور صبر کے ساتھ نظام میں رہتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کریں اور موجودہ نظام ہی میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ریاست کافر ریاست ہے جو آپ کی تعریف کے مطابق شریعہ کا نٖفاذ نہیں کرتی؟ کیا وہ لوگ جو ایسی حکومتوں کے لئے کام کرتے ہیں کیا وہ غیر مسلم ہیں؟ کیا وہ لوگ جو ایسی حکومتوں سے وابستہ ہیں یا ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ بھی غیر مسلم ہیں؟ کیا ایسے لوگوں پر حملہ کرنا اور ان کو قتل کرنا جائز ہے؟
تیسرا سوال: اگر آپ کسی ایسے ملک کے شہری ہیں جہاں غیر مسلم اکثریت میں ہیں اور آپ کو انصاف، مذہب کی پوری آزادی اور غیر مسلموں کی طرح مکمل حقوق حاصل ہیں تو کیا آپ بطور مسلم الٰہی قانون کے پابند ہیں اور ملکی قانون کے نہیں اور کیا یہ الٰہی قانون ملکی قانون سے بڑھ کر ہے؟ کیا یہ آپ کا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ آپ ان قوانین پر عمل درآمد دنہیں کریں۔ ہر چند کہ یہ آپ کی مذہبی زندگی میں مداخلت نہ کرتے ہوں۔ اگر آپ کا ملک کہیں اور کے مسلمانوں سے حالت جنگ میں ہو تو کیا آپ اپنے ملک کے خلاف نہیں ہیں؟ کیا آپ اپنے ہی ملک میں لوگوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں گے اور ان کو اپنا نشانہ بنائیں گے؟ کیا آپ کے دیگر ملکی شہری بھائی جائز نشانہ ہیں؟ کیا غیر مسلموں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہنا ناممکن ہے؟ کیا ان سے دوستی کرنا اور ان سے باہمی احترام اور اکرام ناممکن ہے جبکہ وہ بعض مقامات پر مسلمانوں سے جنگ کررہے ہوں یا ان کی خارجہ پالیسی سے آپ کو اختلاف ہو۔
یہ اہم سوال ہیں اور ان کا جواب اللہ اور لوگوں کے سامنے دینے کی ضرورت ہے۔ یہ آپ کے دین کے فہم اور آپ کی قلبی کیفیت کی آزمائش ہے۔
اگر مذکورہ بالا سوالوں میں سے کسی سوال کا جواب ہاں میں ہے تو آپ اصولی مخالف تحریک کے نزدیک ہیں۔ اگر آپ کا جواب ہاں میں تو آپ دنیا کے نوے فیصدی مسلمانوں سے اختلاف کریں گے اور دنیا کی پچھتر فیصدی آبادی سے جو کہ غیر مسلم ہے۔کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اسلام کی اور شریعہ کی اپنی فہم کو دوسرے مسلمانوں پر نافذ کریں اور کیا یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا دین اور اپنی شریعت پوری دنیا پر تھوپیں؟ کیا اس کے لئے مستقل اور اقدامی جہاد کی ضرورت ہے؟ کیا آپ کے خیال میں یہی اللہ کو پسند ہے؟ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی فتح ہوگی کیونکہ اللہ آپ کی مدد کرے گا یا پھر آپ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آپ ان چیدہ مسلمانوں میں سے ہیں جو کہ اللہ سے مخلص ہیں ہر چند کہ وہ ایک چھوٹی سی اقلیت ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ جنگ کی جائے، قتل کیا جائے اور اللہ کی راہ میں آپ قتل ہوں؟ کیا زندگی اور تخلیق کے بارے میں آپ کا یہی نظریہ ہے؟ یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ آپ کا ملک یا علماء کا اجماع اس نوع کی جنگ کے اصول نہیں طے کرتا۔
اگر مذکورہ بالا تمام سوالات کاجواب آپ نے نہیں میں دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کی بھی وہی رائے ہے جو 1900ء تک ننانوے فیصدی مسلمانوں کی رائے تھی اور جو آج بھی واضح اکثریت میں ہیں اور آپ اس مستند روایتی اسلام کے نمائندہ ہیں اور اس مسلم امت کے جو پروان چڑھی اور جس نے دنیا کی سب سے بڑی، سب سے زیادہ حسین اور تہذیبی اور سائنسی، اخلاقی اعتبار سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ تکثیری تہذیب تعمیر کی اور جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ اسلام کی جانب مائل ہوئے۔ آپ کے جواب سے یہ بھی واضح ہے کہ آپ دوسروں کے ساتھ باہمی محبت اور تعلق کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگر آپ کو ضرورت ہو تو آپ اپنا دفاع کرسکتے ہیں لیکن کسی پر پہلے حملہ آور نہ ہوں گے۔ آپ کا یہ یقین ہے کہ اللہ نے تمام انسانوں کو اپنی شفقت اور رحمت کے باعث تخلیق کیا اور وہ عبادت کے ذریعہ اللہ کا قرب حاصل کرسکتے ہیں اور لوگوں کو چاہئیے کہ وہ اللہ کا خوف دلوں میں رکھیں۔ آپ کا یہ بھی نقطۂ نظر ہے کہ نبی اکرمؐ نہ صرف اتباع کے لائق ہیں بلکہ ان کی اخلاقیات اور کردار بھی قابل اتباع ہیں۔ آپ کا یہ یقین ہے کہ آپ کے مذہب کے قوانین پیچیدہ یا من مانے یا جابرانہ نہیں ہیں بلکہ یہ انسانیت کی فلاح اور بہبود کے لئے ہیں۔ آپ باہمی عزت اور تکریم اور برداشت، تکثیریت اور تمام انسانوں کے درمیان اچھے باہمی تعلقات کے قائل ہیں۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ روئے زمین پر رہنے والے ہر شخص کے تئیں آپ کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ آپ اس کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں۔ اسی طرح آپ کائنات کی تمام اشیاء سے محبت کرتے ہیں۔ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنے عقائد میں برحق ہیں لیکن ساتھ ہی اس امکان کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ آپ غلطی پر ہوں آپ اپنی انا کے قتیل نہیں ہیں اور دوسروں کے بارے میں رائے زنی کرنے سے اجتناب کرتے ہیں۔ آپ شوریٰ اور اجماع میں یقین رکھتے ہیں۔ اصولی طور پر آپ ایسے شخص ہیں جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ و مامون ہیں۔
اگر مذکورہ بالا سوالوں میں سے کسی سوال کے لئے آپ کا جواب ہو کہ مجھے علم نہیں تو آپ اس کتاب کو براہ کرم مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دیتا ہے:

اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو امّت معتدل تاکہ ہو تم گواہ لوگوں پر اور ہو رسول تم پر گواہی دینے والا، اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ کہ جس پر تو پہلے تھا مگر اس واسطے کہ معلوم کریں کون تابع رہے گا رسول کا اور کون پھر جائے گا اُلٹے پاؤں، اور بیشک یہ بات بھاری ہوئی مگر اُن پر جن کو راہ دکھائی اللہ نے، اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کرے تمہارا ایمان، بیشک اللہ لوگوںپر بہت شفیق نہایت مہربان ہے۔
(سورہ البقرہ 143 : 2)

Facebook Comments

POST A COMMENT.