ہماری عید کب ہوگی؟

رمضان المبارک کا مہینہ اپنے تمام برکت و سعادت کے ساتھ تقریبا ختم ہونے کو ہے، عید کی مبارک گھڑی قریب ہے، عید مسلمانوں کیلئے اللہ کی طرف سے تحفہ عظمی ہے، ہر وہ شخص جن کا تعلق دین اسلام سے ہیں، اس سعادت کو حاصل کرنے کیلئے افراد خواندانی کے انتظام و انصرام میں مصروف ہے، گھر میں چہ میگوئیاں زوروشور پر ہے، ہر معصوم بچے کا اپنے والدین سے نئے کپڑے، نئی چپل وغیرہ کا کا مطالبہ ہو تا ہے، والدین اس صدا پر لبیک کی صدا لگاتے ہیں، مختلف زیب و زینت و فانوس و شمع سے گھروں کو آراستہ کیا جاتا ہے، گلیوں اور سڑکوں کو قمقموں سے روشن کیا جاتاہے، آخر کار وہ دن بھی آن پہنچتا ہے جس دن کیلئے سارے انتظامات کئے گئے تھے، بھائی، بہن ایک دوسرے کو عید کی خوشی میں شریک کرتے ہیں، احساسات و جذبات کا ملن ہوتا ہے، دوستوں احباب بغل گیر ہوتے ہیں، دشمنی دوستی کی شکل میں نظر آنے لگتی ہے، اجسام نئے کپڑے میں ملبوس نظر آتے ہیں، شوکت و عظمت کا اظہار ہوتا ہے، سوشل میڈیا (social media ) کے ذیعہ رشتہ داروں کو بھی عید کی خوشی دی جاتی ہے، عید مبارک، عید مبارک، کی صدائیں گلیوں اور کوچوں سے بلبد ہونے لگتی ہے، طعام کے مختلف پکوان کی فہرست تیار ہوجاتی ہے، گویا ہر شخص اس شعر کا عملی تفسیر ہوتا ہے،

مہک اٹھی ہے فضا پیرہن کی خوشبوؤں سے،
چمن دلوں کا کھلانے کو عید آئی ہے،

دوستوں، اجسام نئے کپڑے میں ملبوس لیکن دل و دماغ غم و الم سے سمندر میں غوطہ زن ہے، عید کی ساری خوشیاں اپنی جگہ درست ہے، لیکن ہماری حقیقی عید کب ہوگی؟؟؟؟؟
یہ وہ جملہ ہے جو دل و دماغ کے دریچوں میں جاگزیں ہے، اور مسلسل دل و دماغ کو متنبہ کرنے کا کام انجام دے رہاہے،،،،،،
محمد جاوید ضمیر صدیقی،

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں