ہمزہ اور اضافت

Views: 25
Avantgardia

ایسے مرکب الفاظ جن کے آخر میں ہائے مختفی ہو،تو وہاں پر ہمزہ لگایا جائے گا،جیسے: نامہئ عشق، خانہئ خدا، جلوہئ طور،نذرانہئ خلوص، خانہئ دل۔
جس مضاف کے آخر میں مصوتے:الف اورواو میں سے کوئی ایک حرف آئے، تو ان کے آگے یائے مجہول بڑھا کر ہمزہ لگایا جائے گا،جیسے: دوائے دل،تمنائے عشق،نوائے سروش، بوئے گل، سوئے چمن،خوشبوئے وطن وغیرہ۔
جس مضاف کے آخر میں ’ی‘ آئے،اس پر ہمزہ کے بجائے زیر لکھا جائے گا،جیسے:بے خودیِ عشق،تازگیِ خیال۔
یائے مجہول پر ختم ہونے والے الفاظ،جو دوہرے مصوتے سے بولے جاتے ہیں، اضافت کے وقت ان پر ہمزہ لگایا جائے گا،جیسے: مئے رنگین،تگنائے غزل۔
جن لفظوں کے آخر میں ہمزہ آتا ہے، بوقت ا ضافت کسرہ لگایاجائے گا، جیسے:سوءِ ظن، مبدءِ اول، مبدءِ فیض۔
سابقے اور لاحقے
لفظ کے شروع میں بڑھائے جانے والے جز کو ’سابقہ‘ کہا جاتاہے، جیسے:بے ادب،بے ایمان،آپس میں، دل میں،ان پڑھ،ہم کلام،ہم عصر، بہ خوبی،بہ ہر صورت،دل چسپ، طالب علم۔اورلفظ کے آخر میں بڑھائے جانے والے جز کو ’لاحقہ‘ کہاجاتا ہے،جیسے: قلم کار، صنعت کار، نیل گوں، پیشتر، خواب گاہ۔صنم خانہ۔بت کدہ وغیرہ۔ ایسے تمام سابقوں اور لاحقوں کو الگ الگ لکھنا چاہیے، لیکن جن کو ملا کر لکھنے کا رواج ہوچکا ہو، تو انھیں ملاکر لکھنا ہی بہتر ہے، جیسے: پاسبان،باغیچہ، بچپن، غمگین، سوگوار، بیتاب۔
انگریزی اور یورپی زبانوں کے الفاظ اور اصطلاحوں کوٹکڑوں میں تقسیم کر کے علاحدہ علاحدہ لکھنا چاہیے، جیسے: پارلیا منٹ،ٹیلی ویژن، انسٹی ٹیوٹ،ورک شاپ، ٹرانس پورٹ۔
اسی طرح عربی کے کچھ الفاظ جو اردو میں ملا کر لکھے جاتے ہیں، جیسے: مولٰنا،علیحدہ۔انھیں اردو کے مطابق الگ الگ لکھنا چاہیے، جیسے: مولانا، علاحدہ۔
علاماتِ اضافت: کا،کے، کی۔علاماتِ افعال:گا،گے،گی وغیرہ اور ضمائراشاریہ کو علاحدہ علاحدہ لکھنا چاہیے، جیسے: آئے گا، اس کو، ہم کو، اس واسطے کہ، مجھ کو،آپ کا وغیرہ۔
اعداد
(۱)گیارہ سے اٹھارہ کی گنتی میں ہائے ملفوظ لکھی جائے گی،جیسے:گیارہ،بارہ،تیرہ،چودہ، پندرہ۔ اوراعدادِ ترتیبی ووصفی میں ہائے مخلوط لکھی جائے گی، جیسے:گیارھواں،بارھواں،تیرھواں۔
(۲)جو عدد مصمتے پر ختم ہوتے ہیں،انھیں وصفی عدد بنانے کے لیے ’واں‘ یا ’ویں‘کا لفظ بڑھایاجائے گا،جیسے: دسواں، چوبیسوں،اڑتالیسواں۔لیکن اگر عدد مصوتے پر ختم ہو تے ہوں، تومناسب یہ ہے کہ ہندسہ لکھ کر’واں‘ یا’ویں‘ بڑھا دیا جائے،جیسے: ۹۷ واں،۹۷ویں،۸۹واں،۸۹ویں۔
(۳)انیس سے اڑتا لیس تک کے اعداد میں سین کے بعد ’ی‘ لکھی جائے گی،جیسے: بیس، انتیس، چالیس، چوالیس، پینتالیس،سینتالیس۔
(۴)اعداد:۱۵،۱۸ اور ۱۹کو’ی‘ سے لکھی جائے گی، جیسے: اکیاون،اکیاسی،اکیانوے۔
(۵)گھنٹوں کی تعداد بتانے کے لیے حروف استعمال کیے جائیں گے،جیسے:چوبیس گھنٹے،ساڑھے تین گھنٹے،پونے چار گھنٹے۔اور اوقات کے لیے ہند سے لائے جائیں گے، جیسے:۰۴:۵، ۰۵:۰۱ وغیرہ۔
(۶)جدول اور نقشہ جات میں ہند سے لکھے جائیں گے۔
(۷)اوزان اور پیمائشوں کے اعداد ہندسوں میں ہوں گے، جیسے: ۰۵۲/گرام۔۰۶/سنٹی میٹر وغیرہ۔ اسی طرح کسور بھی ہندسوں میں ہوں گے، جیسے: ۰۵۔۲/کلو۔ ۵۷۔۲کلو وغیرہ۔ لیکن جو کسور کسی عدد صحیح کا جزنہ ہوں، تو وہ حروف میں لکھے جائیں گے، جیسے: چوتھائی حصہ۔ تہائی آبادی وغیرہ۔
(۸)تاریخ لکھتے وقت مہینے کے لیے حروف اورتاریخ وسن کے لیے ہندسے لائے جائیں گے، جیسے: ۹/ذی الحجہ ۷۲۴۱؁ھ۔ اور صدی کے لیے حروف استعمال کیے جائیں گے،جیسے: چھٹی صدی عیسوی،اکیسویں صدی عیسوی وغیرہ۔
(۹) فی صد لکھنے کے لیے اعداد کو ہندسوں میں لکھ کر اس کے آگے لفظ فی صدلکھا جائے گا، جیسے: ۵/ فی صد،۰۱/ فی صد۔
(۰۱) نقشہ، چارٹ یا کتاب کے کسی صفحے کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اعداد ہندسوں میں لکھے جائیں گے، جیسے: ملاحظہ فرمائیں: سیرت النبی ص / ۰۵، دیکھیے: شکل نمبر ۳۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart