ہندوستان اور ذلت ہوئے ہمنام

زین العابدین ندوی
جامعہ حسن سنجری کوٹ ۔ فتح پور
9161229141
یہ کون نہیں جانتا کہ جب انسان کا وجود اوصاف انسانی سے خالی ہو جاتا ہے تو اس کا شمار جانوروں میں ہوتا ہے ؟ یہی اصول ہر جگہ نافذ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی شئی اپنے مقصد اور خصوصیات سے بے پروا ہوتی ہے تو پھر دنیا کے بازار میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی ، لیکن اگر یہی جانور پنا اور بے حیثیتی ہی تمام تر حیثیات کا معیار بن جائے تو بلا تکلف وتردد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایسا معاشرہ اور ماحول ناپاکیوں اور گندگیوں کی آماجگاہ ہوتا ہے ، جہاں سے تعفن کی بو آتی ہے ،یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ ہمارا ملک ہندوستان آج کل انہیں مراحل سے گزررہا ہے ، اور ہندوستان کے کونے کونے سے گندگی اور ناپاکی کی بو آرہی ہے ، اور اس ملک کی عوام کو اس بدبو میں خوشبو کا مزہ مل رہا ہے ، ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ ان کے یہاں شرافت و اعزاز کا کوئی معیار نہیں ، عزت وذلت میں کوئی فرق نہیں ،مہذب اور غیر مہذب میں کوئی امتیاز نہیں ، جس وطن اور اہالیان وطن کی درگت یہ ہو اس کے مستقبل کے بارے میں اس کے سواء اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بے موت مارے جائیں گے اور ان کے ساتھ آنے والے دنوں میں جانوروں سے بدتر سلوک کیا جائے گا ۔
لوک سبھاالیکشن کی اس فضا میں جب ہم ایک بار امیدواروں پر نظر کرتے ہیں تو زبان سے بے اختیار نکل پڑتا ہے کہ ملک ذلت کی انتہاء کو پہونچ چکا ہے ، جس کے پاس اب شرافت کا کوئی معیار باقی نہیں رہ گیا ، ہندی عوام کی نمائندگی کرنے والے ممبر آف پارلیمنٹ کے دعویداروں میں ایسے چہرے نظر آتے ہیں جن کو خود اپنی نمائندگی تک کرنی نہیںآتی ، جن کی زندگیاں غلط کاریوں ، بے حیائیوں اور ناپاک افکار سے عبارت ہیں، آج ملک اس مرحلہ پر پہونچ گیا کہ ان کی نمائندگی کی خاطر ناچنے اور گانے والوں کے سواء کوئی نہ رہ گیا ، اس سے زیادہ ماتم ان اہالیان وطن پر ، ان کی فکروں پر ہے جو ان کا دفاع کرتے نہیں تھکتے ، ان کے دائیں بائیں بازو بنے پھر رہے ہیں ، اپنے انجام سے بے خبر یہ باشندگان وطن کیا یہ نہیں جانتے کہ سیاست کے میدان میں کودنے والے یہ فن کار ،گلو کار اور بدکار قوم کی مصلحت اور اسکے مفاد کی خاطر نہیں آئے بلکہ اپنی حرص وہوس پوری کرنے اور دنیا کمانے کی غرض سے اس میدان کا انتخاب کیا ہے ؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ بے مروت اور بدکردار انسان ان کی نمائندگی کی اہلیت نہیں رکھتے ؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ دنیا پرست ، مادہ پرست امیدوار صرف اور صرف اپنی دھاگ جمانے کی خاطر اس میدان میں آئے ہیں ؟ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہماری قوم کا یہ حال ہے کہ وہ دیوانہ وار ان پرٹوٹ رہی ہے ، اور انہیں اپنا رہنما اور لیڈر کہتے نہیں تھکتی ، ہائے انہیں کون سمجھائے کہ یہ ڈاکوؤں کا ٹولہ ہے جو تمہیں سورج ڈوبتے ڈوبتے لوٹ لیگا اور تم بے سرو سامان ہو جاؤگے ، یہ تمہاری عزتوں کو تارتار کردیں گے اور تم کف حسرت ملتے رہ جاؤگے ،ان کے ظاہر و باطن میں ایسا تضاد ہے کہ اگر اس کی حقیقت تمہارے سامنے آجائے تو تم بیہوش ہو جاؤگے ، ان کی غلط کاریاں جگ ظاہر ہیں کون ہے جو اس پر پردہ ڈال سکتا ہے ؟
میری قوم کے لوگوں دھوکہ مت کھاؤ یہ دغاباز دھوکہ باز مداڑی تمہیں کھیل دکھا کر چلے جائیں گے اور تم خود کو اکیلا پاؤگے ، اپنی حیثیت کو جانو اور سمجھو اپنے وقار کو اور ان مداڑی والوں سے پرہیز کرو اور اپنا نمائندہ ایسے شخص کو بناؤ جو تمہاری بہتر نمائندگی کر سکتا ہو تمہارے غموں میں تمہارا شریک ہو سکتا ہو ، تمہیں اپنا جانتا ہو ، میں پھر کہتا ہوں ان فن کاروں اور بدکاروں کو اپنا نمائندہ بنانے سے پرہیز کیجئے ، اس ملک کی مفتخر پیشانی پر کسی کلنک سے کم نہیں کہ اس کے ایوان پارلیمنٹ میں ایسے افراد پہونچیں جنہیں جینے کا سلیقہ نہیں آتا حب انسانیت سے جو کوسوں دور ہیں اور یاد رہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں ہماری کوتاہیاں بھی برابر شامل ہیں ۔
ہندوستانی سیاست کی بگڑی ہوئی درگت کا ندازہ ذکر کردہ باتوں سے لگانا آسان ہو گیا ہوگا ، اسی سلسلہ کی ایک دوسری کڑی جس سے واقفیت انتہائی ضروری ہے ، جس پر بسا اوقات آپ نے غور بھی کیا ہوگا کہ اس وقت ناکارگی اور عدم صلاحیت کا کوئی میدان ہے تو بلا شبہ وہ سیاست کا میدان ہے ، اس میں قدم رکھنے والے اکثر یا تو جاہل ہیں یا کام چور ،بھلے انسانوں کا وہاں کوئی گزارہ ہی نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ سب سے بڑا نیتا ووہ کہلاتا ہے جو سب سے زیادہ جھوٹ بولے ، اس لئے اگر کام چوروں اور جاہلوں کی بھیڑ دیکھنی ہو تو ہندوستانی سیاسی لیڈروں کی جماعت اس کا رمز ہے ، ہمیں تو تعجب ہوتا ہے کہ جس ملک میں معمولی سے معمولی نوکری کے لئے ہائی ایجوکیشن کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے آخر اسی ملک میں لیڈرشپ کے لئے کسی قابلیت اور اہلیت کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا ؟ اس کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ کہ کرپشن پھیلانے کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا اگر ایسا نہ کیاجاتا تو امن وسلامتی کی فضا ہوتی ، گویا امن وسلامتی کو غارت کرنے کا یہ وہ دروازہ ہے جس پر اولین مقننین نے قد غن نہیں لگائی جو ان کی نیتوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے ، اور ان کے کردار کو شک کے دائرہ میں لاتا ہے ، آخر ایسا کوئی قانون کیوں نہیں پاس کیا گیا کہ لیڈر شپ کے لئے فلاں درجہ کی قابلیت کا ہونا ضروری اور لازمی ہے ؟ یہ وہ باتیں ہیں جن کو غورسے سمجھنا ہوگا اور عدلیہ تک اس آواز کو پہونچانا ہوگا اور اسے مجبور کرنا ہوگا کہ وہ ایسا قانون پاس کرے جس میں لیڈر شپ کے لئے شرائط بیان کئے جائیں ، اور اس بے لگام دروازہ پر تالا لگایا جائے ، تاکہ چوروں اور اچکوں کی آمد بند ہوسکے اور ملک سلامتی کا گہوارہ بن سکے ، مجھے معلوم ہے کہ میری یہ آواز صدا بصحراء ثابت ہوگی لیکن اپنے حق کو ادا کرتے ہوئے میں یہ تحریر آپ قارئین باتمکین کے حوالہ کر رہا ہوں۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں