ہندی اخبار کی شرارت کا جائزہ: سید احمد شہید بریلویؒ کی جہاد حریت اور موجودہ بالا کوٹ سانحہ

Views: 27
Spread the love
Avantgardia

مولانا عظیم اللہ صدیقی میڈیا انچارج جمعیۃ علماء ہند

حال میں بالاکوٹ ( موجودہ پاکستان ) میں سرجیکل اسٹرائک کی بات کرتے ہوئے کچھ ہندی اخبارات میں جہاد حریت کے علم بردارسید احمدبریلویؒ اور شاہ اسمعیل شہیدؒ کوگنہ گار اور مطعون کرنے کی ناپاک کوشش کی گئی ہے ۔تاریخ سے ناواقفیت اور جہالت کو علم بتانے کا کاروبار تو ان دنوں بہت زوروں پر ہے ، لیکن کیا اس کا دائرہ اس قدر پھیلا دیا جائے کہ وطن پر جاں نچھاور کرنے والوں کو بھی آتنک وادی ا ور منفی معنی میں ’جہادی‘ کہا جائے اور حق کے علم بردار شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن چھپا کر خاموش رہ جائیں ، یہ ہر گز متوقع نہیں تھا ۔ یہ دیکھا گیا کہ اس پر وہ بھی خاموش رہ گئے جو ان سادات حسنی سے اپنی نسبت جوڑ کر فخر کا اظہار کرتے ہیں ۔
تاہم ایک طالب علم کے لیے یہ سب ہونا بہت ہی تکلیف دہ ہے ، تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جب ان کی حیات و خدمات پر لکھی گئی کتابیں بالخصوص وقائع احمدی ، تواریخ احمدیہ ، مکتوبات فارسی ، سوانح احمدی ، سیر ت سید احمد شہیدوغیرہ کا مطالعہ کیا تو یہ ظاہر ہوا کہ جس طرح ہندی اخبارات نے منفی تصور پیدا کرنے کی کوشش ہے ، اس کا ان کی زندگی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ایک ہندی اخبار (دینگ جاگرن ۲۸؍فروری ۲۰۱۹ء جالندھر ) نے اپنی خبر میں سرخی لگا کر یہ لکھا ہے کہ دو سو سال پہلے بھی بالاکوٹ میں جہادی مارے گئے تھے ، ا س نے آگے لکھا ہے کہ ’ سید احمد شہید انگریزوں کے کہنے سے مہارا جارنجیت سنگھ سے نبردآزماہوا جیسے کہ آج کل پاکستان کے حکم پر جہاد ی بالاکوٹ کو مرکز بنارہے ہیں‘۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کی مماثلت میں جس طرح ایک نیک تحریک کو بد تحریک سے جوڑ کر گندگی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اسے ہر گز قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ بھی سراسر غلط ہے کہ انھوں نے بالاکوٹ کی لڑائی اسلامی مملکت کے قیام کے لیے کی تھی ۔ 
حقیقت تو یہ ہے کہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ نے 1803 میں جب جہاد حریت کا فتوی دیا تھا جو غیرملکی اقتدار کے خلاف سب سے پہلا اور سب سے زیادہ موثر قدم تھا، تو سب سے پہلے جس نے اس پر لبیک کہاوہ سید احمد شہید بریلویؒ اورشاہ اسمعیل شہید ؒ کا طبقہ تھا اور اسی مقصد کے تحت انھوں نے سرحدی علاقے کے پٹھانوں ا ورمجاہدین کو جمع کیا تھااور ان کی تربیت کرنے میں سرحدی علاقوں میں شب و روز لگے رہے ۔ تاہم دریں اثنا سکھ حکمراں مہارا رنجیت سنگھ سے ان کو جنگ لڑنی پڑی ، جو ناگزیر ہوگئی تھی، وہ ہرگز ان سے لڑنا نہیں چاہتے تھے ، جس کا انھوں نے خود اپنے قلمی مخطوطے میں ذکر کیا ہے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ مہاراجہ اور اس کے حکمراں مسلمانوں کی عزت و آبرو سے کھیلتے تھے ، لاہور کی مشہور شاہی مسجد کے حجروں میں شاہی اصطبل بنادیا گیا اور گھوڑوں کے لیدوں کو وضو خانہ کی جگہ ڈالا جانے لگا ۔ایسے میں مجاہدین کے مشورے سے یہ طے ہوا کہ پہلے مہارا رنجیت سنگھ کے مظالم سے نبر د آزما ہوا جائے چنانچہ اسی مقصد سے یہ لڑائی لڑی گئی ،لیکن قدرت نے وفا نہ کی اور وہ ۱۸۳۰ء میں دوران جنگ شہید ہوگئے یا اس جنگ کے بعد بقول بعض معتقدین غائب ہوگئے ۔ 
انگریزوں سے پرسر پیکار
سید احمد شہید ؒ کی انگریزوں سے عداوت و نفرت کا اندازہ اس خط سے بھی لگایا

مورخہ 28 فروری 2019 ، دینیک جاگرن کے جالندھر ایڈیشن میں شائع اس خبر میں حضرت سید احمد شہید کو انگریزوں کا ایجنٹ اور جہادی بمعنی آنتک وادی کہا گیا گیا ہے۔

جاسکتاہے جو انھوں نے شاہ بخارا کے نام لکھا تھا۔ وہ اس خط میں لکھتے ہیں کہ ’’ نصاری و مشرکین ہندستان کے بلاد پر دریائے سندھ سے ساحل بحر تک قابض ہوگئے ، انھوں نے خدا کے دین کو ختم کرکے تشکیک و تزویر کا جال پھیلا یا ہے اور ان تمام خطوں کو ظلم وتزویر کی تیرگی سے بھر دیا ہے ‘‘ ظاہر سی بات ہے کہ اس خط میں’ نصاری‘ سے مراد انگریز کے علاوہ کون ہوسکتا ہے ۔وہ اسی خط میں آگے لکھتے ہیں ’’ جو فرنگی ہندستان پر قابض ہوئے ہیں وہ بے حد تجربہ کار ، ہوشیار او رمکارہیں ، اگر اہل خراسان پر حملہ کردیں تو سہولت سے ان کے ملک پر قابض ہوجائیں گے ، دارالحرب اور دارالاسلام کے اطراف متحد ہوجائیں گے ‘ ( مکاتیب شاہ اسمعیل ۵۳) ان کے دوسرے خط سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ وہ انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے کے بعد ہرگز حکومت یا اسلامی مملکت کے خواہاں نہیں تھے ۔ایک مکتوب میں فرماتے ہیں ’’ دور کے ملک سے آنیو الے بیگانے تاجر مالک سلطنت بن گئے ، جب ہندستان کا میدان غیروں اور دشمنوں سے خالی ہو جائے گا تو میں مناصب ریاست و سیاست دوسروں کے حوالے کرکے الگ ہوجاؤں گا (مکاتب اسمعیل ص ۱۷۰)
دور قریب کے مشہور محقق خلیق احمدنظامی نے ۱۸۵۷ء سے متعلق اپنے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ

’’حقیقت یہ ہے کہ سید احمد شہیدؒ اور ان کے رفقاکار کے خون سے آزادی کا پودا ہندوستان میں سینچا گیا۔ انگریزوں نے ان کی تحریک کی نوعیت کو خوب سمجھ لیا تھا اور وہ اس جذبہ سے بھی بے خبر نہ تھے جو جماعتِ مجاہدین کے قلب و جگر کو گرمائے ہوئے تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک طرف تو وہابی کا لقب دے کراس مکتبِ خیال کے لوگوں کو ختم کیا اور دوسری طرف کوشش کر کے اس تحریک کو اس طرح پیش کیا اور کرایا جس سے متاخرین کو ایسا محسوس ہونے لگا گویا اس کا رخ محض سکھوں کی طرف تھا۔‘‘
مشہور محقق غلام رسول مہرؒ نے اپنی کتاب’ تحریک مجاہدین ‘کے ۲۲؍ویں باب میں اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے کہ کیا سید احمد شہید کی لڑائی صرف سکھوں کے خلاف تھی اور کیا وہ حکومت اقتدار اسلامی کے لیے لڑرہے تھے ۔انھوں اس سلسلے میں بانی علی گڑھ سر سید احمد خاں،مرزا حیرت دہلوی اور خود سید احمد شہید کی تحریک کے رکن رہے مولوی جعفر تھانیسری کی غلط فہمیوں پر سخت تنقید کی ہے جو ان کی لڑائی کو سکھوں کی لڑائی بتانے لگے تھے ۔غلام رسول مہر نے ان روایتوں کو بے اصل قراردیتے ہوئے سرسید احمد خاں کی بات کو مضحکہ خیز قرارد یا ہے ، نیز مولوی جعفر تھانیسری کے رویہ پر حیرت کا اظہار کیا جنھوں نے انھوں نے کہہ دیا کہ ان کی لڑائی انگریزوں سے نہیں صرف سکھوں سے تھی ، انھوں نے اس کے لیے سید احمد شہید بریلویؒ کی عبارتوں میں تحریف کی ہے ۔ مولوی محمد جعفر تھا نیسری نے تواریخِ عجیبہ میں ان کے مکتوبات کو مسخ کیا اور نصاریٰ نکوہیدہ خصال ‘‘کی جگہ سکھاں نکوہیدہ خصال ‘‘کر دیا اور کفار فرنگ بر ہندوستان تسلط یافتہ ‘‘کو‘‘ کفار دراز مویاں کہ بر ملک پنجاب تسلط یافتہ میں تبدیل کر دیا۔ (تحریک مجاہدین منصفہ غلام رسول مہر باب ۲۲)
نہ جانے مولوی تھانیسر ی جیسے قابل ا ور ایک مجاہد عالم کو ایسی کیا ضرورت پڑی کہ اپنے محسن کی تحریر میں تحریف کرکے ان کے مقاصد جہاد کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ، لیکن جب سید صاحب کے قلمی ذخیرے دنیا کے سامنے آئے تو یہ حقیقت بے نقاب ہوگئی ،  نیزمرزا حیرت اور جعفر تھانیسری کی تحریر کر بنیاد بنا کر بعد میں مولانا ارشد القادری نے بھی زلزلہ نامی کتا ب میں جو غلط فہمی   پھیلائی تھی وہ بھی وا ہوگئی- چنانچہ  ان کے پوتے نے اپنے داد ا کی بات سے رجوع کرلیا ۔مزید کوئی شخص بھی جس نے ہنٹر کی کتاب‘‘ ہمارے ہندوستانی مسلمان پڑھی ہے، اس سے انکار نہیں کرے گا کہ وہابی کا لفظ اس زمانہ میں سید صاحب اور ان کے ہم خیال علماء کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اور بقول ہنٹر ‘‘ وہابی‘‘ اور غدار ہم معنی الفاظ تھے ۔بخت خان ، مولانا لیاقت علی الہ آبادی بھی اسی مکتبِ خیال  کے مجاہد معلوم ہوتے ہیں۔ مولانا لیاقت علی خاں کے شائع کئے ہوئے دو اشتہارات کا مضمون ملاحظہ فرمائیے ایک ایک حرف سید صاحب کے اندازِ فکر کی ترجمانی کرتا ہوا نظر آئے گا۔ ایک اشتہار میں تو ستائیس اشعار اس جہاد یہ نظم میں سے نقل کئے گئے ہیں جو سید صاحب کے مجاہدین میدانِ جنگ میں پڑھا کرتے تھے۔ مولانا عنایت علی صادق پوریؒ جن کی کوششوں سے مروان میں ر جمنٹ ۵۵ نے بغاوت کی تھی، سید صاحب کے خلیفہ اور جماعت مجاہدین کے سر گرم کارکن تھے۔مولانا عبد الجلیل شہید علی گڈھیؒ جنہوں نے علی گڈھ میں فرنگی قوت سے دلیرانہ مقابلہ کیا۔ سید صاحب کے خلفاء سے تھے۔ ان چیدہ شخصیتوں کے علاوہ 1857 کے ہنگامہ میں حصہ لینے والے اور بہت سے اشخاص سید صاحب کی جماعت یا ان کے مکتبِ خیال سے تعلق رکھتے تھے۔   

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart