یہاں صرف دو نمازوں کی تخصیص کیوں؟

یوں تو مسلمانوں پر پانچوں وقت کی نمازیں فرض ہیں، اور بذاتِ خود انتہائی اہم ہیں،اور اُن سب کی پابندی ہر مسلمان پر لازم وضروری ہے،مگر اِس روایت میں رویتِ باری تعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ کے حصول کے لئے،نبی اکرم ا نے صرف دو نمازوں فجر وعصر کے اہتمام کی تاکید فرمائی ہے،وجہ اس کی یہ ہے کہ:صبح کا وقت نیند وغفلت اور آرام وراحت کا ہوتا ہے، اور عصر کا وقت دنیا وی کاروبار میں الجھے اور پھنسے رہنے کا ہوتا ہے، جس کی بناء پر انسان ان دو نمازوں میں زیادہ کوتاہی اور سستی کا شکار ہوتا ہے، طرح طرح کی رکاوٹیں اُن کے سامنے آتی ہیں، جو شخص تمام رکاوٹوں کے باوجود اِن دونوں نمازوں کی پابندی کرے گا، وہ دوسری نمازوں کی بدرجہئ اولیٰ پابندی کرے گا،اِسی لئے یہاں اِن دونوں نمازوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیاہے، یا دونوں نمازوں کو خاص طورپر یہاں ذکرکرنے کی وجہ یہ ہے کہ: یہ دونوں اوقات دوسرے وقتوں سے زیادہ شرف وفضیلت رکھتے ہیں،یا پھر اِن دونوں نمازوں کو خاص طورپر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ:حق تعالیٰ شانہٗ کا دیدار صرف اِنہیں دو وقتوں میں ہوا کرے گا، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تینوں وجہیں بیک وقت پائی جائیں،واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔
دیدارِ الٰہی جنت کی سب سے بڑی نعمت ہے
یہ بات گذر چکی ہے کہ مؤمنین کو طلب جنت کا مکلف،اِسی لئے بنایا گیا ہے کہ: وہاں حق تعالیٰ کا دیدار ہوگا،طلب جنت اصل مقصود نہیں،مقصودِ اصلی درحقیقت دیدارِ الٰہی اور لقاءِ رحمان ہے، جنت صرف لقاء ودیدار کا سبب ہے،گویا جنت کی مثال اُس پارک کی سی ہے، جہاں محبوب سے ملاقات کا وعدہ ہو،اور عاشق اُس باغ میں پہنچنے کے لئے تڑپ رہا ہو، مگر مقصود پارک نہیں،پارک کی طلب تو لقاءِ یار،دیدارِ محبوب اورقرب وزیارت دلبر کی وجہ سے ہے، یہ تو ایسا ہی ہے جیسے مجنوں کو چہئ لیلیٰ کے درودیوار،اور اُس کی گلی سے گذرنے والے کتے کے پیرصرف اس لئے چوم رہا تھا کہ: وہ کوچہئ محبوب ہے،اور کتا دیار یار سے گذرکرآیاہے، فریفتگی کے ساتھ دیارِ یار کے چکر لگ رہے ہیں، کبھی چو کھٹ پر سر ہے تو کبھی دیواروں اور پتھروں پر لب ؎
اَمُرُّ عَلَی الدِّیَارِ دِیَارِ لَیْلٰی

اُقَبِّلَ ذَا الْجِدَارَ وَذَاالْجِدَارَا
وَمَاحُبُّ الدِّیَارِ شَغَفْنَ قَلْبِیْ

وَلٰکِنْ حُبَّ مَنْ سَکَنَ الدِّیَارَا
مجنوں کہتاہے کہ میں لیلیٰ کے کوچوں سے گزرتا ہوں،تو کبھی اِس دیوار کو چومتاہوں، کبھی اُس دیوار کو،مگر میرے دل میں کوچہئ محبوب کے درودیوار نے کوئی جگہ نہیں بنائی،اِس میں در حقیقت گلی میں رہنے والی کی جگہ ہے۔
بس یہی حال جنت کا ہے کہ: وہاں کی سب سے بڑی نعمت لقاءِ محبوب،زیارتِ دلبر، اور دیدارِ الٰہی ہے،جو جنت کی اصل نعمت ہے،حدیث پاک میں آیا ہے:
حدیث(۰۲۱):-عَنْ صُھَیْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ، یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی: تُرِیْدُوْنَ شَیْءًا اَزِیْدُکُمْ؟ فَیَقُوْلُوْنَ:اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا؟ اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ؟ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: فَیُرْفَعُ الْحِجَابُ،فَیَنْظُرُوْنَ اِلٰی وَجْہِ اللّٰہِ تَعَالٰی، فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا،اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظْرِ اِلٰی رَبِّہِمْ“ ثُمَّ تَلا ہٰذِہٖ الْاٰیَۃَ ”لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ“(یونس: ۶۲) رَوَاہُ مُسْلِمْ (مشکوۃ:۰۰۵، ترغیب:۴/۹۰۳، حادی الارواح:۱۹۱)
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:نبی کریم انے ارشاد فرمایا کہ: جب تمام جنتی جنت میں اپنی اپنی جگہ پہنچ جائیں گے، (اور وہاں کی ساری نعمتیں مل جائیں گی) تو اللہ جل شانہ فرمائیں گے،کیا تم اور کوئی نعمت چاہتے ہوں؟جو تم کو دوں؟ جنتی عرض کریں گے کہ: پروردگار عالم!کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں کر دیا؟ کیا جنت میں داخل نہیں فرمایا؟ کیا جہنم سے نجات نہیں عطا فرمائی؟ نبی کریم انے فرمایاکہ:اُس کے بعد ذاتِ حق تعالیٰ شانہ سے (نور کا) پردہ اٹھادیا جائے گا، اور جنتی کھلی آنکھوں اللہ جل شانہ کی طرف دیکھیں گے، تو اُس وقت معلوم ہوگا کہ: اہل جنت کو دیدارِ الٰہی سے بہتر اور پسندیدہ کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی، پھر آں حضرت ا نے یہ آیت تلاوت فرمائی:”لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْ الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ“(یونس: ۶۲) جن لوگوں نے اچھے کام کئے ہیں، اُن کی جزاء بھی اچھی ہے، (یعنی جنت) اور مزید(براں یہ کہ دیدارِ الٰہی اُن کو نصیب ہوگا)
رِضاءِ الٰہی بہت بڑی نعمت ہے
حدیث(۱۲۱):- عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ”اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ لِاَہْلِ الْجَنَّۃِ:یَا اَہْلَ الْجَنَّۃِ! فَیَقُوْلُوْنَ: لَبَّیْکَ رَبَّنَا،وَسَعْدَیْکَ،وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ، فَیَقُوْلُ:ہَلْ رَضِیْتُمْ؟فَیَقُوْلُوْنَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضٰی یَا رَبَّنَا؟وَقَدْ اَعْطَیْتَنَا مَالَمْ تُعْطِ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ،فَیَقُوْلُ: اَلاَ اُعْطِیْکَ اَفْضَلَ مِنْ ذٰلِکَ؟فَیَقُوْلُوْنَ:وَاَیُّ شَیْءٍی اَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکْ؟فَیَقُوْلُ: اُحِلُّ عَلَیْکُمْ رِضْوَانِی،فَلاَ اَسْخَطُ عَلَیْکُمْ بَعْدَہُ اَبَدًا“رواہ البخاری ومسلم والترمذی (ترغیب:۴/۳۱۳)
ایک حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: اللہ جل شانہٗ اہل جنت سے فرمائیں گے:اے جنت والو! تو سارے جنتی کہیں گے: ”لَبَّیْکَ رَبَّنَا،وَسَعْدَیْکَ،وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ“کہ پروردگار!ہم حاضر ہیں،فرمایئے کیا حکم ہے؟تو حق تعالیٰ شانہٗ دریافت فرمائیں گے:کیا تم سب خوش ہوگئے؟تو جنتی کہیں گے:ہمیں کیا ہوگیا کہ: ہم خوش نہیں ہوں گے؟جبکہ آپ نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو اپنی مخلوقات میں سے کسی کو نہیں دیں،تو اللہ جل شانہٗ فرمائیں گے:کیا تم لوگوں کو اِس سے بڑی نعمت نہ دوں؟یہ سن کر جنتی کہیں گے:اِس سے بڑی کون سی نعمت ہوگی؟تب حق جل مجدہٗ فرمائیں گے کہ:میں تم سب کو اپنی خوشنودی عطا کرتا ہوں،آج کے بعدمیں تم لوگوں سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔(بخاری،مسلم،ترمذی،ترغیب:۴/۳۱۳)
یہ بات پہلے آچکی ہے کہ:جنت کی سب سے بڑی نعمت لقاء رحمان،زیارت ِ خداوندی،دیدارِ الٰہی اور رِضاءِ باری تعالیٰ ہے،یہی وہ نعمت ہے،جس کے لئے مؤمنین کو، طلب جنت کا مکلف بنایا گیاہے،اوریہی مؤمن کا منتہائے مقصود ہے، اِس لئے مناسب معلوم ہوا کہ کتاب کوبطورِ نیک فالی اِسی مضمون پر ختم کیا جائے،حق تعالیٰ شانہٗ اِن تحریرات کو قبول فرما کر،سعادتِ دارین کا ذریعہ بنائے، اور آخرت میں دیدارِ الٰہی اور رِضاءِ خداوندی کی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمائے،اور اِس رسالہ کو ہم سب کے لئے بے حد مفیدو نافع بنائے۔آمِین یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ بِحُرْمَۃِ حَبِیْبِکَ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ،صَلّٰی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ،وَعَلٰی مَنْ تَبِعَھُمْ بِاِحْسَانٍ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ،بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَََََََ۔
بفضلہ تعالیٰ آج مؤرخہ: ۸۲/شعبان المعظم ۱۲۴۱ھ؁موافق ۵۲ /نومبر ۰۰۰۲ء؁ بروز سنیچر ۱۱/بجے دن اس کتاب کی تکمیل سے فراغت ہوئی۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُوَالْمِنَّۃُ عَلٰی اِحْسَانِہٖ وَاِنْعَامِہٖ…………محمد شوکت علی عفی عنہ بھاگلپوری

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں