یہ قیامت کی گھڑی ہے تو عرصہ محشر میں ہے

Views: 33
Avantgardia





آزاد ہندوستان ہمارے مرحوم و مغفور آباؤ اجداد کی قابل فخر یادگار ہے، اس قصرِ آزادی کی تعمیر میں انہوں نے اپنے خون و جگر کے گارے اور چونے لگائے ہیں، یہ آزادی انہیں خونِ شہیداں کا ثمرہ ہے،اور یہ گلشن انہیں کی لافانی قربانیوں کی دین ہے، یہ انہیں کے خون و پسینے سے پروان چڑھا شجر سایہ دار ہے جس کی گھنی چھاؤں ہمارا سائبان ہے ، اس وجہ سے اس قصر کی بقا اور تحفظ ہمارا مشترک دینی و قومی فریضہ ہے،اس کی حفاظت در حقیقت آئندہ نسلوں کی مذہبی تشخص کی حفاظت ہے، اپنی قومی اور ملی شیرازے کی بقا کی ضمانت ہے، یہ مقتضائے شریعت کی تعمیل ہے کہ اگر یہی محفوظ نہیں رہے تو کل اذان پر بندش لگ جائیگی، خانہ خدا ویران ہوجائیں گے، گھوڑوں کا اصطبل نہ سہی گاؤ ماتا کی گاؤ شالہ بن جائیں گے ، یہ شعائر دین کی حفاظت ہے، واقعہ یہ ہے کہ یہ بڑےثواب کا کام ہے.

لیکن آج بصد حیف اس قصر کی سالمیت پر سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں، اس کے خلاف کالے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں، اور اس کے تقدس کو پامال کرنے کے لئے گندے کھیل رچے جارہے ہیں، طوفان بلاخیز کی سرکش موجیں اس کے دیوار سے ٹکڑا رہی ہیں،اور اس کے تحفظ کو غیروں کے بنسبت اپنوں سے زیادہ خطرات لاحق ہیں،ایسے ہر طوفان کو خاموش کرنا نوشتئہ دیوار سمجھنے کے مترادف ہے، فسطائی طاقتیں اس قصر کی تشکیلِ نو کرنا چاہتی ہیں، وہ بتانِ رنگ و نسل اور مذہب و زبان کی بنیاد پر اس کے موجودہ جغرافیہ پر خط نسخ پھیرنا چاہتی ہیں.

لہذا ان پر خطر حالات میں ان خونِ شہیداں کے لئے ہمارا سب سے بڑا نذرانئہ عقیدت اور ان کی بابرکت تربتوں پر ہمارا سب سے گراں قدر چڑھاوا یہی ہوسکتا ہے کہ آزادی کے جس مشعل کو انہوں نے اپنے مقدس لہو سے فروزاں کیا تھا اسے مزید درخشاں اور جاوداں کرنے کے لئے ہمیں حالات کے لہروں کو سمجھنا چاہئیے اور اس کی راہ میں سدِ سکندری بن کر سینہ سپر ہوجانا چاہئیے تا آنکہ وہ بے جان ہو کر خاموش ہوجائیں.

لیکن اقوام عالم کے عروج و زوال اور زیر و زبر کی تاریخ شاہد عدل ہے کہ جو قوم اختلاف و انتشار کی ٹولیوں میں بٹی رہی، اور اتحاد و اتفاق سے کنارہ کش رہی، اور قوم کے پیشواؤں نے قوم و ملت کی خیر خواہی کے لئے اپنے ذاتی مفادات کے مذبح پر چاقو نہیں رگڑے، اور قوم و ملت کے مصالح کو پیش پیش نہیں رکھا، تو سنت الہی نے یک قلم نقشہ عالم سے بے دخل کردیا، اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اقوام عالم کے لئے جائے عبرت اور محل حیف بن کر رہ گئیں.

لیکن واحسرتاہ! اس مصلحت کی نازک گھڑی میں بھی ہمارے درمیان یہ اختلاف و انتشار کی باہم دیگر برسر پیکار ٹکڑیاں اور مسلک و مشرب کی یہ نفرت انگیز سرحدیں، ذاتی مفادات کے حصول کی یہ ریس، جس سے شرم و حیا کو بھی شرم آجائے، اگر ان خونچکاں حالات میں بھی ہم کجسد واحد ایک نہیں ہوے ، اور ان مسلکی بیڑیوں کو ہم نے نہیں توڑا، ذاتی مفادات کے بدبودار دلدل سے باہر نہیں آئے، تو یاد رکھیں حقائق سے چشم پوشی کرنا خود کشی کرنے کے مترادف ہے، اور موجودہ مسلم قیادت اس کے لئے ذمہ دار ہوگا جسے آنے والا کل کبھی معاف نہیں کریگا، کل کے عدالتی کٹہرے میں سب سے بڑے مجرم مسلم قیادت و سیادت اور پیشوائی کے قبا و عبا کے دلدادہ یہ نام نہاد قیادت کے رکھوالے ہونگے،اور تاریخ ان جیسے مطلب کے بندوں اور مفاد پرستوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی .

اس لئے ظاہر کی بصارتوں کے بجائے باطن کی بصیرتوں سے نظارہ گرد و پیش کرو، یہی نظارے شب و روز کے اسکرین پر متحرک نظر آئیں گے ، اگر ظاہر کی آنکھیں قوت ادراک سے محروم ہوچکی ہیں، تو دیدہ دل کام میں لاؤ، تو مشاہدہ کروگے کے ایام کے صفحات پر یہی نوائے وقت نقش ہے، اور یہی نوشتئہ دیوار ہے جو کب سے گہار لگارہی ہے.



*حمید الساعدی متعلم جامعہ ملیہ اسلامیہ*

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart