20 فیصد ہندوستانی نشہ کی زد میں

انڈین ایکسپریس 27 فروری 2019ء
ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ (مہاراشٹرا)
Cell:9890245367
جس میں زیادہ تر شمال مشرقی ریاستیں شامل ہیں۔ ریاستی حکومتوں میں نشہ آور افیون وغیرہ سے متاثر افراد کا تناسب
میزورام 6.9 فیصد، ناگالینڈ 6.5 فیصد، اروناچل 5.7 فیصد، سکیوم 5.1 فیصد، منی پور 4.0فیصد، پنجاب 2.1، دمن این دیو 2.5 فیصد، ہریانہ 2.5 فیصد، دلی 2.3 فیصد، میگھالیہ 2 فیصد۔
قومی سطح پر کئے جانے والے سروے جس میں عوام کا مختلف نشہ آور چیزوں کو استعمال کرنے کے بارے میں کیا گیا تھا جسے انڈین ایکسپریس کو رپورٹ ملی کہ پچھلے ہفتہ انہوں نے یہ محسوس کیا کہ ہندوستان کی 2.06 فیصد آبادی نشہ آور کی کسی بھی شکل کی اشیاء کا استعمال کرتی ہے جس میں سے تین افیون، ہیروئن اور ادویاتی نشہ آور چیزیں ہیں۔ (جس میں مختلف قسم کی دوائیں بھی شامل ہیں) سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ہیروئن (1.40 فیصد)، جس کے بعد نشہ آور دوائیوں کی شکل میں استعمال ہونے والی اشیاء 0.96 فیصد اور افیون 0.52 فیصد ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق ان اشیاء کے استعمال کی وجہ سے جو خطرناک حالات پیدا ہوتے ہیں وہ 77 لاکھ مسائل ہیں جس میں سے آدھے سے زیادہ مسائل ان چند ریاستوں میں ہیں جس میں اُترپردیش، پنجاب، ہریانہ، دلی، مہاراشٹرا، راجستھان، آندھراپردیش اور گجرات سب سے زیادہ اہم ہیں جہاں کے لوگ نشہ آور چیزوں کی وجہ سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ پھر بھی ان تناسب کے اعداد و شمار کے لحاظ سے جو آبادی متاثر ہورہی ہے اُن میں سب سے زیادہ تناسب والے علاقے شمال مشرقی، میزورام، ناگالینڈ، اروناچل، سکم اور منی پور، پنجاب، ہریانہ اور دلی کے ساتھ ساتھ ہے۔
نشہ آور چیزوں کا استعمال مختلف ریاستوں کا فیصد
کل ہند سطح پر 10 تا 75 سال کے لوگ 21فیصد۔تمام مرد 4.0۔ تمام عورتیں 0.2 فیصد۔ لڑکے 10 سے 17 سال کے 18فیصد۔ بالغ افراد 18 سال سے زائد 21 فیصد۔ یہ اعداد و شمار نیشنل ڈرگ ڈبینڈینٹ ٹریٹمینٹ سنٹر، اے آئی آئی ایم ایس دلی کی مدد سے شائع ہوئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں