رہائی

سورج حسب معمول پہاڑی کنگروں سے سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ گلشن  کے پھول کھل اٹھے تھے اور بھنورے بھنبھنارہے تھے۔سبزے پر شبنم کے قطرے چمک اٹھے تھے۔ شہر کے پرانے زنداں کے دریچوں سے  سورج کی کرنیں داخل ہوکر مجبور قیدیوں کوجگانے کے لئے بے تاب ہورہی تھیں۔ معروف احمدکو سلاخوں سے گزرتی کرنوں مزید پڑھیں