42 لاکھ مقدمات، ہائیکورٹ میں زیر التواء ہیں جس میں سب سے زیادہ الہ آباد ہائیکورٹ میں ہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ مقدمات 31جنوری 2019ء تک کے اعداد و شمار ہے

ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین (ناندیڑ)
بارہ لاکھ سے زیادہ کیس 31 جولائی 2019ء تک کی تاریخ میں ہائیکورٹ میں زیر التواء ہیں اور تقریباً 57 ہزار مقدمات یکم دسمبر پچھلے سال کے اعداد و شمار ہے۔ یہ اعداد و شمار کو لوک سبھا میں اس وقت پیش کیا گیا جس کے ذریعے اس با ت کا اظہار کیا گیا، الہ آباد ہائیکورٹ میں سب سے زیادہ زیر سماعت مقدمہ کی تعداد جو 7.2 لاکھ سے زائد ہیں۔ یہ اعداد و شمار نیشنل جوڈیشیل ڈاٹا گرٹ نے دئے۔ دیگر ہائیکورٹ میں سب سے زیادہ زیر التواء مقدمات ہیں جس میں راجستھان جہاں 4.5 لاکھ اور مدراس جہاں 4 لاکھ مقدمات زیر معدلت ہیں۔ وزارت قانون و انصاف نے کہا کہ متعینہ مدت میں منفصل ہونے والے مقدمات کی طوالت میں پڑنے کے مختلف اسباب ہیں اور حکومت اس کی کوشش کا آغاز کیا ہے کہ ان مقدمات کو Echo System کے ذریعہ زیادہ تیزی سے منفصل کیا جا سکے۔ جیسا کہ نیشنل مشن فار جسٹس ڈیلیوری اور قانون اصلاحات جس کے ذریعہ ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اور اتفاق سے زیر معدلت مقدمات کی تعداد کو کم کیا جاسکے گا۔ دوسرے عناصر یا معاملات جو مقدمہ میں فیصل ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں وہ ہے حکومت کی جانب سے ججوں کی عدم فراہمی۔ اس طرح آج بھی سپریم کورٹ آف انڈیا میں تین ججس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں تین لاکھ 73 ہزار 191، حیدرآباد ہائی کورٹ میں 3 لاکھ 63 ہزار 140، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں 3لاکھ 33 ہزار 905، بامبے ہائی کورٹ میں 2 لاکھ 67 ہزار 809، کرناٹک ہائیکورٹ میں 2 لاکھ 39 ہزار 293، کیرالا ہائیکورٹ ایک لاکھ 91 ہزار 446، اڑیسہ ہائیکورٹ ایک لاکھ 61 ہزار 412، پٹنہ ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 53 ہزار 880، گجرات ہائیکورٹ میں ایک لاکھ 15ہزار 66 مقدمات۔
زیر سماعت مقدمات
سال سپریم کورٹ ہائیکورٹ
2015 59272 3870373
2016 62573 4015147
2017 55588 4244907
2018-19 56994 4245775
مخلوعہ جائیدادیں
سپریم کورٹ ہائیکورٹ 
منظورہ جائیدادیں 31 1079
برسرخدمت 28 679
مخلوعہ جائیدادیں 3 400
مہندر سنگھ مندرل (انڈین ایکسپریس 13؍فروری 2019ء )
ذریعہ وزارت قانون اور انصاف کی رپورٹ لوک سبھا میں دی گئی معلومات۔ 

Facebook Comments

POST A COMMENT.