پتہ نہیں آزادی کی جنگ کس نے لڑی؟

Views: 35
Avantgardia

مفتی محمد سفیان القاسمی
صدر جمعیۃ علماء بسنت راءے گڈا جھارکھنڈ

ہندوستان کی آزادی کے لیے کس نے لڑائی لڑی، ہندوؤں نے، مسلمانوں نے، سکھوں نے یا کسی اور مذہب کے لوگوں نے؟. اور اگر مسلمانوں نے لڑائی لڑی ہے تو دیوبندیوں نے، بریلویوں نے، اہل حدیث نے یا کسی اور مسلک کے لوگوں نے؟ اگر آپ مختلف زبانوں میں لکھے گئے مختلف لوگوں کے مضامین پڑھیں گے اور مختلف زبانوں میں مختلف حضرات کی تقریریں سنیں گے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کنفیوز ہو جائیں گے اور آپ یہ فیصلہ نہیں کر سکیں گے کہ آزادی میں کس نے حصہ لیا، کس کا اہم کردار رہا، کون برائے نام شریک رہا اور کس نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی.

مثلاً اگر آپ اردو میں لکھی گئی تحریریں پڑھیں گے اور اردو تقریروں کو سنیں گے تو معلوم ہوگا کہ آزادی کی جنگ صرف مسلمانوں نے لڑی ہے، دوسرے لوگوں کی بھی شرکت تھی مگر برائے نام. اور اگر آپ ہندی تحریروں کو دیکھیں گے اور غیر مسلموں کے بھاشنوں کو سنیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس جنگ میں صرف غیر مسلموں نے حصہ لیا ہے. زیادہ سے زیادہ کوئی انصاف پسند ہوگا تو ایک دو مسلمانوں کا ذکر بھی ان کی زبان پر آجاءے گا اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ سامعین مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہوں جبکہ اگر سامعین میں صرف مسلمان ہوں یا صرف غیر مسلم ہوں تو پھر مقرر بھی سامعین کے حساب سے ہی آزادی کے مجاہدین کا نام لےگا

اس پر بھی حیرت کی بات یہ ہے کہ آپ جب اردو تقریروں اور اردو تحریروں کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیں گے تو محسوس ہوگا کہ مضمون نگار اور مقرر کے مسلک کے لوگوں نے ہی صرف آزادی کی لڑائی کی ہے پوری تقریر اور پورے مضمون میں کسی دوسرے مسلک کے ان مجاہدین کا تذکرہ نہیں ہوگا جن کی لازوال قربانیاں آزادی کے لیے رہی ہیں. اور اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایسی تحریر و تقریر کا عنوان اس قسم کا ہوگا،، جنگ آزادی کی تاریخ، ہندوستان کو آزادی کیسے ملی، تاریخ جنگ آزادئ ہند. وغیرہ وغیرہ،، اور اگر کوئی ذرا سا احتیاط سے کام لے گا تو کہے گا،، جنگ آزادی میں مسلمانان ہند کا کردار،، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی تحریر و تقریر کا عنوان اپنے مشمولات کے اعتبار سے یوں ہونا چاہیےکہ جنگ آزادی میں ہمارے مسلک کے لوگوں کا کردار وغیرہ

مجھے تعجب اس پر ہوتا ہے کہ وہ مسلمان جو اپنی تحریر و تقریر میں خود عدل و انصاف کا خون کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں میں سے بھی صرف اپنے مسلک کے لوگوں کے تذکرہ کو جنگ آزادی کی تاریخ قرار دیتے ہیں ایسے لوگ کس منہ سے توقع رکھتے ہیں کہ غیر مسلم لوگ انصاف سے کام لیتے ہوئے ان کے اکابرین مجاہدین آزادی کا ذکر کریں گے. اگر آپ اپنے مسلک و مذہب سے اوپر اٹھ کر سارے ہی مجاہدین آزادی کا تذکرہ کریں گے اور صحیح تاریخ سامنے رکھیں گے تو سب لوگ نہیں تو کم از کم سنجیدہ اور انصاف پسند غیر مسلم لوگ اس کو ضرور تسلیم کریں گے اور وہ آپ کے اکابرین کا بھی نام لیں گے . اور اگر آپ خود ہی تعصب سے کام لیں گے، تاریخی واقعات میں سے چن چن کر صرف اپنے مطلب کی بات کہیں گے بلکہ کسی کو نمایاں ثابت کرنے کے لئے کچھ گھڑ بھی لیں گے تو آپ کو حق نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے تعصب کا شکوہ کریں

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart