حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادرحمۃ اللہ علیہ کے جلیل القدراساتذہ کرام قسط نمبر 06

قسط نمبر  

مولاناطلحہ نعمت ندوی استھانوی
استھانواں بہارشریف( نالندہ)
۔
شخصیت کی تعمیر وتشکیل میں اساتذہ کرام کا بنیادی کردار ہوتاہے؛ اس لیے حضرت سجاد کے اساتذہ کرام کے تذکرہ اور حالات پر ایک اجمالی نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
حضرت مولاناسجادؒ نے چار جگہ تعلیم حاصل کی،مدرسہ اسلامیہ بہارشریف،مدرسہ جامع العلوم کانپور،دارالعلوم دیوبنداور مدرسہ سبحانیہ الہ آباد،ان میں دارالعلوم دیوبند میں وہ صرف چند ماہ رہے؛اس لیے اصل اعتبار ان تین ہی مدرسوں کا ہوگا،نیز ان کے اساتذۂدیوبند کا ہمیں علم بھی نہیں۔
یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان کی شخصیت کی تعمیر میں جن اساتذہ نے نمایاں حصہ لیا،ان میں ان کے عزیز (چچازاد بہنوئی)وخسر حضرت مولانا سید وحیدالحق استھانوی کا نام بہت نمایاں ہے؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ان کی شخصیت اتنی ہی زیادہ گمنام ہے،ان کے علاوہ حضرت مولانا احمد حسن کا نپوری اورمدرسہ سبحانیہ الہ آباد میں حضرت مولانا عبدالکافی الٰہ آبادی سے استفادہ کیا تھا،حضرت سجاد ؒ کے شاگرد مولانا اصغر حسین صاحب قاسمی بنولوی نے مدرسہ سبحانیہ الہ آباد کے اساتذہ میں ایک نام مولوی عبدالحمید جونپوری کا بھی لیا ہے؛(۱)لیکن یہ نہیں لکھا کہ مولانا نے باضابطہ ان سے بھی استفادہ کیاتھا،ممکن ہے کہ انہیں مولانا عبدالکافی الہ آبادی رحمہ اللہ نے اپنے معاون کے طور پر رکھا ہو،اور وہ اونچے درجات کے طلبہ کو درس نہ دیتے ہوں،ہمیں ان کے حالات کا علم بھی نہیں ہوسکا۔یہاں ہم حضرت والا کے انہیں اساتذہ کرام کے حالات ذکر کریں گے، جن کے حالات کا ہمیں علم ہوسکا ہے،ممکن ہے کہ آپ نے اور بھی اہل علم سے استفادہ کیا ہوا؛لیکن وہ ہمارے علم میں نہیں نہ تاریخ وسوانح میں ان کے نام محفوظ رہ سکے،البتہ ایک دو مضامین میں غلطی سے انہیں حضرت شیخ الہندؒ کا بھی شاگرد لکھا گیا ہے، جس کی تردید کی گئی ہے۔
انہوں نے بالکل ابتدائی تعلیم اپنے برادر بزرگ صوفی احمد سجاد صاحب سے حاصل کی تھی،صوفی صاحب اس وقت مدرسہ اسلامیہ میں طالب علم تھے اور انہوں نے ہی پھر ان کا داخلہ اس مدرسہ میں کرایا،جناب زکریا فاطمی صاحب مولانا مبارک کریم کی یادداشت کی بنا پر لکھتے ہیں :
’’مولانا مرحوم کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر ہی میں شروع ہوئی اور اپنے والد ماجد نیز اپنے برادر کلاں مولوی احمد سجاد صاحب سے جو اس وقت بھی ماشاء اللہ بقید حیات ہیں اور عابد مرتاض ہونے کی وجہ سے صوفی صاحب کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں،قرآن مجید اور ابتدائی اردو وفارسی کی تعلیم پاتے رہے‘‘۔(۲)
آگے لکھتے ہیں:
’’ابتدائی تعلیم کے بعد اپنے برادر کلاں کے حسب مشورہ مدرسہ اسلامیہ بہارشریف میں داخل کئے گئے، ووہاں آپ نے اپنے رشتہ کے بزرگ حضرت مولانا سید وحیدالحق صاحبؒ ساکن استھانواں ضلع پٹنہ(حال ضلع نالندہ، بہارشریف)بانی مدرسہ مذکورہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا،آپ کے برادر موصوف پہلے ہی سے مدرسہ میں تعلیم حاصل کررہے تھے،چنانچہ اس دوران میں آپ کی نگرانی بھی کرتے رہے،غالباََیہ واقعات 1310 ہجری کے ہیں‘‘۔(۳)
حضرت والا کے ان اساتذہ کرام میں دو نام ہمیں ایسے بھی ملتے ہیں،جن سے انہوں نے خود ان کی زمانہ طالب علمی میں استفادہ کیا ہے:
حضرت مولاناابو نعیم مبارک کریم صاحب :
ان میں ایک مولانا مبارک کریم صاحب سپرٹنڈنٹ اسلامک اسٹڈیز بہار وشاگرد مولاناسیدوحید الحق استھانوی تھے،جن سے مدرسہ اسلامیہ بہارشریف کے دوران قیام ہی استفادہ کا موقع ملا،مولانا موصوف اونچے درجات میں پڑھتے تھے اور حضرت سجاد نیچے درجات میں،چنانچہ اس دور کے رواج کے مطابق انہیں زیریں درجات کے طلبہ کی تدریس کی ذمہ داری دی گئی، اسی میں ان سے استفادہ کا موقع ملا،حضرت سجا دکی وفات کے وقت وہ حیات تھے اور اپنی یادداشت بھی لکھوائی تھی جس کو زکریا فاطمی صاحب مدیر الہلال پٹنہ نے مرتب کے محاسن سجادمیں شائع کروایا تھا۔وہ لکھتے ہیں:
’’جس زمانہ میں مولانا ؒ مدرسہ اسلامیہ بہار کی ابتدائی جماعتوں میں تعلیم حاصل کررہے تھے اسی زمانہ میں مولانا مبارک کریم صاحب بھی اوپر کے درجوں میں تحصیل علم میں مشغول تھے،تو جیسا کہ عام طور پر عربی مدارس کا قاعدہ ہے کہ اعلیٰ درجوں کے طلبہ کو ابتدائی جماعتوں کے طلبہ کی تدریس کے فرئض سپرد کئے جاتے ہیں،اسی طرح مولانا مبارک کریم صاحب کے ذمہ بھی مولانا مغفور کی ابتدائی تعلیم کے فرائض سپرد کئے گئے‘‘۔(۴)
مولاناابونعیم محمد مبارک کریم کا آبائی وطن شیخ پورہ تھا، بعد میں ان کے والد مولوی حکیم عبدالکریم صاحب وہاں کا مکان ضائع ہونے کے بعد اپنی سسرال بہارشریف میں آباد ہوگئے تھے،یہیں انہوں نے حضرت مولاناسید وحید الحق استھانوی کے قائم کردہ مدرسہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کی، بالخصوص ان سے استفادہ کیا،پھر قدیم مدرسہ جونپور میں مولانا ہدایت اللہ خاں رامپوری سے پڑھا،پھر وہاں سے کانپور جاکر مولانا احمد حسن کانپوری سے مدرسہ فیض عام میں استفادہ کیا،مولانا احمد حسن سے تکمیل کے بعد مولانا ابوالانوار نور محمد صدر المدرسین احسن المدارس کانپور سے دوبارہ تمام کتابیں بالخصوص صحاح ستہ مکمل پڑھیں،فراغت کے بعد پہلے ایک اسکول میں ہیڈ مولوی مقرر ہوئے، پھرمدرسہ اسلامیہ کے بعض ذمہ داروں کے اصرار پر اس سے استعفیٰ دے کر مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں مدرس اول کے عہدہ پر بحال ہوئے،ان کے دوران قیام مدرسہ نے تعلیمی اعتبار سے بہت ترقی کی، بہارشریف میں مدرسہ عزیزیہ کے قیام کے بعد اس کے سب سے پہلے پرنسپل مقرر ہوئے،پھر گوررنمنٹ ایڈیڈ سینئر مدرسہ دارالعلوم ڈھاکہ کے پرنسپل ہوئے،پھر۱۹۱۷ء ؁ میں گورنمنٹ مدرسہ عالیہ کلکتہ کے ٹائٹل کلاس کے لیے منتخب ہوئے،پھر گورنمنٹ بہار نے سپرٹنڈنڈنٹ اسلامک اسٹڈیز کے عہدہ پر بحال کیا،اس دوران مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کی خصوصی نگرانی کی اور اس کو ترقی دے کرآگے بڑھایا،اس عہدہ سے ۱۹۴۰ء ؁ میں ریٹائرڈ ہوئے۔(۵) 1955 سے 1960 کے درمیان کسی سال اعتکاف کی حالت میں اپنے محلہ میں جہاں ان کامسکن تھا ؛یعنی محلہ کہنہ سرائے بہارشریف میں ان کی وفات ہوئی۔(۶)
حضرت مولانا سیدعبدالشکورآہ ؔ مظفرپوری ؒ :
حضرت مولاناسجاد کے دوسرے طالب علم استاذ بہار کے مشہور عالم مولانا عبدالشکور آہ مظفر پوری مدرس مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ ہیں،ان سے منطق اوردوسری کئی اہم کتابیں پڑھ کرانہوں نے اپنی استعداد میں پختگی پیدا کی تھی،ان کے شاگردمولانا اصغر حسین صاحب بنولوی نے لکھا ہے کہ انہوں نے حضرت والا سے اپنی حیرت کا ذکر کیا کہ حضرت مولانا عبدالکافی الہ آبادی تو بہت ہی کم درس دیتے تھے، پھر آپ کے اندر اتنی استعداد کیسے پیدا ہوگئی، اس پر مولانا نے فرمایا کہ:
’’ میں ایک گونہ صلاحیت پیدا کرکے پہنچا تھا،مولانا عبدالشکور صاحب مظفر پوری (فی الحال مدرس مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ)سے سلم وغیرہ پڑھ کر کتاب فہمی کی صلاحیت پیدا ہوگئی تھی‘‘۔(۷)
آگے مولانا اصغر حسین صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’ حضرت مفکر اعظم ؒ تہذیب وغیرہ پرھنے کے زمانہ میں کانپور سے دیوبند تشریف لے گئے تھے؛لیکن ایک تبتی طالب علم سے لڑائی ہوجانے کے قصہ میں جس کے سرخیل مولانا عبدالشکورصاحبؒ تھے،دیوبند کو خیر باد کہنا پڑا‘‘۔(۸)
اس تحریرسے اندازہ ہوتاہے کہ حضرت سجاد مولانا عبدالشکورکے ساتھ ہی دیوبندمیں تھے،حالانکہ مولانا عبدالشکور کا قیام دیوبند میں صر ف ایک سال رہا تھا، جیسا کہ ان کے حالات میں آگے آئے گا،اس سے پہلے انہوں نے کانپور میں حضرت مولانا احمد حسن سے استفادہ کیا تھا،جہاں حضرت سجاد بھی تھے؛اس لیے بظاہر یہی صورت قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ کانپور اور دیوبند دونوں جگہ ان کا ساتھ رہا ہواور جب مولانا عبدالشکورکانپورسے دیوبند جارہے ہوں توحضرت سجاد کو بھی ساتھ لے لیا ہواوران کا داخلہ نیچے کے درجات میں ہوا ہو؛لیکن وہ یہاں رہ نہیں سکے اور پھر مولانا مبارک کریم صاحب کی اطلاع کے مطابق کانپور واپس آگئے،(۹)یہیں مولانامبارک کریم بھی تعلیم حاصل کررہے تھے،وہی اپنے ساتھ حضرت سجا دکو لے گئے تھے، ممکن ہے دوران طالب علمی حضرت سجاد کے دنوں اساتذہ مولانا عبد الشکور اور مولانا مبارک کریم کے مراسم رہے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں نے ساتھ ہی تعلیم حاصل کی ہو۔
مولانا عبد الشکور آہ ؔ بن مولانا سید نصیر الدین احمد نصرؔ مطفرپوری کا شماربہارکے ممتاز علمامیں ہوتا ہے،وہ بہت جید الاستعداد عالم اور ممتاز شاعر تھے،مدرسہ جامع العلوم مظفر پور اورکانپور کے مختلف مدارس میں بالخصوص مولانا احمد حسن کانپوری سے استفادہ کے بعد تکمیل تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند کاسفر کیا اور وہاں ایک سال رہ کر 1317 ہجری مطابق 1899 میں سند فراغت حاصل کی۔ فراغت کے بعد وطن واپس آئے اور ایک عرصہ تک مدرسہ جامع العلوم مظفرپورمیں جہاں انہوں نے مشکاۃ تک کی تعلیم حاصل کی تھی، تدریسی خدمت انجام دی،پھر دارالعلوم مؤ تشریف لے گئے اور بحیثیت شیخ الحدیث وہاں ایک عرصہ تک تدریسی خدمت انجام دیتے رہے،پھر مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ میں انہیں تدریسی خدمت کے لیے مدعو کیا گیا اور وہ یہاں تشریف لے آئے اور مسلسل 23 سال تک تدریسی خدمت انجام دے کر 1945 میں ریٹائرڈ ہوئے اور اپنے شہر مظفر پور تشریف لے آئے،یہاں اہل شہر اور ممتاز علماکے اصرار پر کچھ دن مدرسہ جامع العلوم میں اعزازی طور پر درس دیا؛ لیکن اسی دوران جلدہی 17 رجب 1356 مطابق 17 جون 1946 کو ان کی وفات ہوگئی اور مظفر پور ہی میں تدفین ہوئی۔حضر ت آہ بہت باکمال عالم اور ایک کامیاب مدرس تھے،اردو نثر ونظم پر پوری قدرت رکھتے تھے،ان کا شعری مجموعہ ان کی یادگار ہے،انہوں نے بہت زیادہ علمی سرمایہ نہیں چھوڑا؛ لیکن ان کا اصل امتیازی کارنامہ ممتاز وباکمال شاگردوں کی ایک جماعت ہے، جو انہوں نے اپنے طویل تدریسی دور میں تیارکی۔ حضرت آہؔ کے تفصیلی حالات اور کلام کے لیے ان کے حفید عزیز جناب مولانا مفتی اختر امام عادل قاسمی کی سات سو صفحات کی کتاب’’تذکرہ مولانا عبدالشکور آہ مظفر پوری‘‘(۱۰) کا مطالعہ کرنا چاہیے،یہ معلومات اسی کتاب سے مستفاد ہیں۔
حضرت مولانااحمدحسن کانپوری ؒ :
دیوبند میں چند ماہ رہ کر پھر حضرت سجادؒ واپس کانپور آگئے اور حضرت مولانا احمد حسن ؒ سے تقریباََتین سال(۱۱) استفادہ کیا،یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت سجاد کے دونوں طالب علم اساتذہ مولانا مبارک کریم اورمولانا عبدالشکور آہ حضرت کا نپوری ہی کے فیض یافتہ ہیں،حضرت کانپوری صدیقی النسب تھے ،مولانا روم ان کے اجداد میں ہیں،ان کے دادا شیخ عظمت علی مدینہ منورہ سے ہجرت فرماکر صوبہ پنجاب میں پٹیالہ ضلع کے ڈسکا گاؤں میں آباد ہوگئے تھے،ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کرکے علم حدیث کی تکمیل کے لیے لکھنؤکاسفرکیااور مولانا عبدالحی فرنگی محلی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیااور ان سے اس فن کی تکمیل کی،پھر علی گڑھ جاکر مولانا لطف اللہ علی گڑھی سے مزیدکتابیں پڑھ کر فراغت حاصل کی،پہلے مدرسہ مظاہرالعلوم سہارنپورمیں تدریسی خدمت انجام دی، پھر مدرسہ فیض عام کاپنور تشریف لائے اور اسی شہر کے ہوکر رہ گئے،کچھ دنوں کے بعد چند اسباب کی بنا پر اس مدرسہ سے علاحدہ ہوکر اپنا مدرسہ دارالعلوم کانپور قائم کیا،جس میں تادم آخردرس دیتے رہے،حج کے لیے دوبار حجاز تشریف لے گئے اور دونوں بار دو دو سال قیام فرمایااورحضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی علیہ الرحمۃ سے باطنی وروحانی استفادہ کیا اور اجازت وخلافت سے سرفراز ہوئے،اپنے شیخ کی ایما پر مثنوی مولاناروم کی شرح فرمائی،حضرت مولانا احمد حسن جامع معقول ومنقول تھے،پوری زندگی تدریس میں گذری اور ایک کامیاب مدرس کی حیثیت سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی،شام وخراسان اور ماوراء النہر کے علاقہ کے طلبہ ان سے استفادہ کے لیے ان کے مدرسہ میں کانپور حاضر ہوئے،تدریس کے علاوہ تصنیفی خدمات بھی انجام دیں،ان کی قرآن پاک کی ایک تفسیرکا بھی ذکر کیا جاتا ہے،اس کے علاوہ حاشیہ شرح حمداللہ علی السلم،تنزیہ الرحمان عن شائبۃ الکذب والنسیان اور افادات احمدیہ کا ذکر کیا جاتا ہے؛لیکن ان کا سب سے مشہور کارنامہ مثنوی مولانا روم کی شرح ہے۔ صفر 1322 مطابق 18 اپریل 1904 کو ان کی وفات ہوئی اور تکیہ بساطیان قبرستان کانپور میں دفن ہوئے۔ (۱۲)
حضرت مولاناخیرالدین کامل پوری ثم گیاوی ؒ :
کانپور کے دور طالب علمی میں حضرت مولانا خیرالدین صاحب کامل پوری سرحدی ثم گیاوی سے بھی استفادہ کا موقع ملا،جس کا علم راقم کو مولانا فخرالدین صاحب گیاوی کی کتاب ’’درس حیات‘‘ کے مطالعہ کے بعد ہوا،حضرت مولانا خیرالدین صاحب کی زبانی مولانا فخرالدین صاحب نے ان کے حالات میں لکھا ہے کہ انہوں نے کانپور سے فراغت کے بعد چند سال وہاں تدریسی خدمت بھی انجام دی،پھر تلامذہ کی فہرست میں حضرت سجادکا ذکر کرکے لکھا ہے کہ انہوں نے گیا میں ملاقات کے وقت خود اعتراف کیاکہ ان سے کانپور میں پڑھا ہے۔ (۱۳)
حضرت مولاناعبدالکافی ناروی الٰہ آبادی ؒ :
حضرت سجاد کے آخری درجہ کے استاذ جن سے انہوں نے سند فراغت حاصل کی حضرت مولانا عبدالکافی الٰہ آبادی تھے،یہاں ان کے ہم وطن شہر بہارشریف کے ایک اور عالم بھی ان کے شریک درس تھے اور وہ ابوالمحسن مولانا محمد امیر حسن بن محمد معصوم بہاری تھے،جن کے نامور فرزند اور ہندوستان کے مایہ ناز محقق مولانا ابومحفوظ الکریم معصومی علیہ الرحمۃ (م 2010)تھے،مولانا موصوف اپنے والد کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’آپ نے علوم دینیہ کے ابتدائی مراحل بہارشریف کے مدرسہ اسلامیہ (موقوفہ بی بی جین مرحومہ)میں طے کئے،مولانا سجاد احمد مرحوم جو بعد میں آسمان شہرت پر بدر کامل بن کر چمکے شروع سے رفیق درس رہے،کتاب مختصر المعانی وغیرہ تک پہنچ کر دونوں الہ آباد پہنچے،اور مدرسہ سبحانیہ میں حضرت الحاج مولانا عبدالکافی ودیگر کبار اساتذہ کے حلقہ درس میں باقاعدہ حاضر رہ کر تکمیل فرمائی‘‘۔
مولانا معصومی نے اپنے والدکے کانپور میں استفادہ کاذکر نہیں کیاہے،جب کہ حضرت سجادؒ کے کانپورمیں استفادہ کا ذکر ان کے تمام سوانح نگاروں کے یہاں ملتا ہے،شاید مولانا معصومی سے اس کا ذکر رہ گیا کہ بہارشریف اور الہ آباد میں دونوں کا ساتھ رہا،مولانا امیر حسن بہارشریف سے براہ راست الہ آباد پہنچے اور حضرت سجاد کانپور اور دیوبند کاچکر کاٹ کر،البتہ الٰہ آباد سے دونوں ساتھ ہی فارغ ہوئے۔الٰہ آباد میں حضرت سجاد ؒ کے قیام کی مدت چار سال ذکرکی جاتی ہے،1322 ھ میں ان کی اور ان کے رفیق مولانا امیر حسن کی دستار بندی ساتھ ہی ہوئی،اس کے بعد پھر دونوں نے وہاں تدریسی خدمت بھی انجام دی۔ (۱۴)
حضرت مولانا عبدالکافی کے بہت زیادہ حالات کا علم نہیں ہوسکا۔(۱۵)
صاحب نزہۃ الخواطر نے ان کا مختصراًتعارف کرایا ہے،وہ لکھتے ہیں:
’’الشیخ العالم الفقیہ عبدالکافی بن عبدالرحمن الحنفی الناروي الإلہ آبادي أحد عباد اللّٰہ الصالحین‘‘۔(۱۶)
ان کی پیدائش الہ آباد کے ایک معروف قریہ نارہ میں جس کی نسبت سے انہیں ناروی بھی کہاجاتا ہے،ربیع الاول 1285 ھ میں ہوئی،ان کے استاذ خود ان کے چچامولانا عبدالسبحان ناروی تھے، جن سے پہلے انہوں نے کڑا ،الہ آباد میں حفظ قرآن پاک مکمل کیا ،پھر انہیں کے ساتھ 1291 میں الہ آباد پہنچے اور انہی سے درس نظامی کی کتابیں پڑھ کر1300ھ میں فراغت حاصل کی،محلہ یاقوت گنج الہ آباد میں مولوی عبدالحمید صاحب کے مکان سے تدریس کا آغاز کیا اور اپنے استاذ ہی کی نسبت سے الہ آباد کی جامع مسجد میں مدرسہ سبحانیہ قائم کیا،حضرت مولانا حکیم فخرالدین الہ آبادی کے مرید وخلیفہ تھے، آپ کے مسترشدین میں ایک اہم نام مشہور شاعر سید اکبر حسین الہ آبادی کا بھی ہے۔مولانا سید عبدالحی لکھتے ہیں:
’’لقیتہ غیر مرۃ ووجدتہ شیخا منورا متعبدا،علی وجہہ سیما الصالحین‘‘۔
21 شعبان 1350 میں ان کی وفات ہوئی،مزار یحییٰ پورالٰہ آباد میں ہے۔(۱۷)
حضرت مولاناسید وحیدالحق استھانوی ؒ :
اب اخیر میں ہم ان کے مربی او ر خصوصی استاذ حضرت مولانا سید وحید الحق استھانوی ؒ جو ان کے خسر بھی تھے اور عزیز بھی کا تذکرہ کرتے ہیں۔حضرت والا کی تاریخ پیدائش کا علم نہیں،وہ اس دیار کے استاذ الکل اور عربی زبان وادب کے رمز شناس ہونے کے علاوہ ممتاز داعی الی اللہ بھی تھے،ان کے وطن اورشہر بہار شریف کے اکثر باکمال اہل علم انہیں کے خوان علم کے زلہ ربا ہیں اور مدرسہ اسلامیہ کے طویل دور میں تو ان سے نہ جانے کتنوں نے استفادہ کیا ہوگا،اس سے قبل بھی انہوں نے مختلف مقامات پر تدریسی خدمت انجام دی تھی،وہاں بھی ان کے تلامذہ ہوں گے،ان کے اہم تلامذہ میں مولانا مبارک کریم،ان کے چھوٹے داماد حضرت سجاد،مولانا عبدالغنی وارثی استھانوی معروف مصنف اور مولانا سید رحیم الدین استھانوی مدیر الپنچ پٹنہ کا نام نمایاں ہے،مولاناسید مناظر احسن گیلانی علیہ الرحمۃ نے حضرت مولانا وحیدالحق کے شاگرد مولانا عبدالغنی وارثی کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ!
’’ آپ کے وطن مالوف استھانواں کے ایک نوجوان عالم جو بعد کو بہار کے ممتاز ترین علما کی صف میں شمار کئے گئے؛ بلکہ سچ یہ ہے کہ بلا مبالغہ اس وقت بھی بہار کی علمی اور دینی ہلچل کا مختلف حیثیتوں سے آپ ہی کا وجود باسعود سر چشمہ ہے، ان کا نام مولانا سید وحید الحق رحمۃ اللہ علیہ تھا،قصبہ بہار کا مشہور اسلامیہ مدرسہ جو اب تک باقی ہے،آپ ہی کا قائم کیا ہوا ہے اور آج بہار میں دین کی سرکاری تعلیم کا سر رشتہ جس بزرگ کے ہاتھ میں ہے؛یعنی خان بہادرمولانا مبارک کریم اور جس کی ذات غیر سرکاری اسلامی تحریکوں کا اسی بہار میں ملجا وماویٰ ہے؛ یعنی حضرت ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب نائب امیر شریعت بہار،یہ دونوں سرکاری وغیر سرکاری ہستیاں اسی آسمان علم کے دو مختلف الجہات تارے ہیں133..مولانا عبدالغنی مرحوم ارقام فرماتے ہیں کہ (میں آرہ سے مولاناالمولوی وحیدالحق کے پاس جو فارغ التحصیل ہو کر پٹنہ میں ایک امیر کے یہاں ملاز م ہوئے تھے چلا آیا)مولانا وحیدا لحق مرحوم جیسا کہ اشارۃََمیں نے پہلے ہی عرض کیا:ایک خاموش انقلابی وجود کے مالک تھے،خاکسار کی والدہ محترمہ چوں کہ استھانواں ہی کی تھیں بچپن میں ان سے وحید الحق بھائی (کہ اس لقب سے والدہ مرحومہ ان کو یاد فرماتی تھیں)کے متعلق جو واقعات میں نے سنے ہیں،ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو کچھ کر گذرنا چاہتے تھے، انہوں نے بجائے شہر کے ممبروں،لیڈری کے اسٹیجوں کے دیہات کی گلیوں میں اپنے مقصد کو تلاش کیا ہے،مشرکانہ عقائد ورسوم جن میں مسلمانوں کی پچھلی نسلیں غیر اقوام کی صحبت اور حکومت کی غفلت کی بدولت مبتلا ہوگئی تھیں،مولانا نے عورتوں اور جاہل مردوں کو کن خاموش راہوں سے بت خانوں کے اس قافلہ کو حرم تک لے جانے کی کوشش فرمائی ہے، آبدیدہ ہوکر اماں مرحومہ یاد کرتی تھیں کہ موٹیا کا لانبا کرتا اور موٹیا کا پاجامہ،موٹیا کی ٹوپی میں اسلام کا یہ مخلص خادم گھر گھر مسلمان خواتین کو نرمی اور دل دہی کے ساتھ بدعات اور مشرکانہ رسوم کے چھوڑنے کی ہدایت کرتا تھا،اللہ نے ان کی باتوں میں تاثیر رکھی تھی‘‘۔(۱۸)
استھانواں کے معاصر دور کے ایک مختصر کتابچہ میں بھی مولانا کا ذکر اس حیثیت سے آیا ہے کہ استھانواں کے مردوں میں دینداری مولانا کے ذریعہ پھیلی۔(۱۹)
علامہ سید سلیمان ندوی بھی اپنی تحریروں میں جابجا ان کے کمالات کے مداح ومعترف نظر آتے ہیں، حضرت سجاد کے مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ مولانا سید وحید الحق استھانوی کے دم قدم سے تیرہویں صدی کے شروع میں بہار میں علم کو ایک نئی رونق حاصل ہوئی۔مولانا کے شاگرد مولانا عبدالغنی کے بیان کے مطابق انہیں ان کی پاک وبے ریا زندگی کی صحبت سے بہت فوائد حاصل ہوئے،(۲۰)انہیں کے بیانات سے ان کے جستہ جستہ حالات کا علم ہوسکا ہے،حضرت گیلانیؒ کے بقول ان کی عربی دانی بھی مسلم تھی،خود راقم کی نظر سے ان کے وطن استھانواں کے قدیم کتب خانہ الفلاح میں بعض قلمی عربی تحریریں ایسی گذری ہیں،جن سے اس کی مزید تایید وتوثیق ہوتی ہے۔مولانا کے اساتذہ میں ان کے علاقہ کے ایک مشہور عالم جو حضرت سجاد کے وطن کے قریب ہی قریہ دھن چوہی متصل راجگیر کے رہنے والے تھے،مولانا لطف علی راجگیری کا نام ملتاہے، جنہوں نے حضرت شاہ عبدالغنی دہلوی سے تعلیم حاصل کی تھی اور علامہ شمس الحق ڈیانوی اور مولانا عبدالوہاب بہاری جیسے سر آمد روزگار علماء ومحدثین ان کے تلامذہ میں ہیں،دوسرا نام مشہور معقولی عالم مولانا ہدایت اللہ خاں جونپوری کا ملتا ہے،جن سے بہ ظاہر انہوں نے جونپور جاکر استفادہ کیا ہوگا۔(۲۱)بیعت کا تعلق مولانا اصغر حسین صاحب بہاری کی اطلاع کے مطابق حضرت قاری شاہجہاں پوری سے تھا،(۲۲)سیدصاحب نے عربی قواعد میں ان کی ایک کتاب ’’مغنی الصبیان‘‘کا ذکر کیا ہے،(۲۳)اس س کے علاوہ راقم کو ان کے وطن استھانواں کے کتب خانہ میں ان کی جو قلمی یادداشت نظر آئی،اس میں مترادف الفاظ کا ایک ذخیرہ ہے،شاید مترادفات پر مولانا کی غیر مرتب کتاب ہو جو ابو علی رمانی کے الالفاظ المترادفہ کے طرز کی ہے،راقم کی نظر سے رد تعزیہ داری پر بھی ان کاایک رسالہ بعنوان ”نصیحۃ الاخوان” مطبوعہ لکھنؤگذرا ہے،ان کے علاوہ کسی اور تصنیف کاعلم تا حال نہیں،ممکن ہے انہوں نے اور بھی کتابیں لکھی ہوں،ان کے مدرسہ اسلامیہ کا کتب خانہ جو بڑا نادر تھا،ضائع ہوگیا۔فراغت کے بعد انہوں نے اپنے شاگر د مولانا عبدالغنی وارثی کی اطلاع کے مطابق پٹنہ میں ایک امیر کے یہاں ملازمت اختیار کی،پھر نگرنہسہ اور اس کے علاوہ مختلف مقامات پر کئی سال گذار کر آرہ پہنچے،جہاں کے باشندوں نے انہیں تدریسی خدمت کے لیے بلایا تھا،چنانچہ وہاں انہوں نے مدرسہ فخرالمدارس قائم فرمایا،اسی میں درس دیتے رہے،یہاں تک کہ زمانہ نے کروٹ لی اور مدرسہ ختم ہوگیا، اس کے بعد انہوں نے بہارشریف آکر مدرسہ اسلامیہ قائم فرمایا اور پھر مستقل یہیں قیام فرمالیااور علمی وملی اور دینی خدمت انجام دے کر 1315 مطابق 1898 میں وفات پائی،اس کا علم نہیں ہوسکا کہ انتقال وتدفین خود ان کے وطن استھانواں میں ہوئی، یابہارشریف میں۔مولانا کے مفصل حالات اس مختصر مضمون میں نہیں ذکر کئے جاسکتے؛ اس لیے اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے۔(۲۴)
مصادر ومراجع
(۱) محاسن سجاد مرتبہ مولانا مسعود عالم ندوی،مطبوعہ الہلال بک ایجنسی پٹنہ 1941ِ،ص :17
(۲) محاسن سجاد ص 10
(۳) ایضاً
(۴) ایضاً
(۵) نورالہدیٰ -حیات خدمات،نورالہدیٰ بیرسٹر ابن شمس الہدیٰ بانی مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ،مطبوعہ برقی مشین بانکی پور پٹنہ،1941ص۷۲،۷۳۔
(۶) تذکرہ علمائے بہار میں مولانا ظفیرالدین صاحب سابق صدرالمدرسین مدرسہ عزیزیہ کے حوالہ تاریخ وفات۱۹۶۰ء لکھی ہے؛ لیکن مجھے مولانا کے محلہ کے ایک معمر،ذی علم فاصل جناب نسیم اختر صاحب علیگ سابق استاد سائنسی علوم مدرسہ شمس الہدیٰ پٹنہ سے معلوم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ان کی وفات تقریباً 1955 میں ہوئی؛اس لیے ہم نے احتیاطا 55 سے 60 لکھا ہے،موصوف کو مولانا سے بہت سی باتیں سننے کا موقع ملا ہے اور بہارشریف کے ایک معزز گھرانے اور علمی خانوادہ کے فرد ہیں اور حضرت مولانا محمد یوسف رحمہ اللہ امیر تبلیغی جماعت کی صحبت اٹھائی ہے،انہوں نے خود مولانا مبارک کریم کی زبانی سنا ہوا مولانا کی زندگی کا ایک اہم واقعہ بیان کیا جو ان کے اور حضرت سجادؒ کے مشترک استاذ حضرت مولانا وحید الحق صاحب سے بھی متعلق ہے،مولانا مبارک کریم صاحب ایک غریب گھرانے کے فرد تھے اور بچپن میں تقریبات میں باجہ بجاتے تھے،کسی تقریب میں یہ ڈھول باجہ کے ساتھ بارات والوں کے ہمراہ استھانواں پہنچے،صبح میں ان کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی (نسیم صاحب کو نام یاد نہیں رہا؛ لیکن وہ حضرت مولانا وحید الحق ہی ہوں گے؛ کیوں کہ وہی مولانا کے اصل مربی اور استاد ہیں جیسا کہ یہاں معروف ہے)،انہوں نے مولانا سے کہ بچے کیا تم پڑھوگے،تمہاری پیشانی سے علم جھلک رہا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے والد اجازت دیں تو ضرور پڑھوں گا،چنانچہ والد سے اجازت لی تو اجازت مل گئی،اس کے بعد حضرت مولانا سید وحید الحق صاحب نے انہیں خود سے تعلیم دی اور اس کے بعد دنیا نے دیکھا کہ مولانا بڑے عالم ہوئے۔
(۷) ایضا،ص:۲۳
(۸) ایضا،ص:۲۳
(۹) ایضا ،ص :۱۳
(۱۰) مطبوعہ جامعہ ربانی منوروا شریف سمستی پور بہار ۲۰۱۷ ؁ء
(۱۱) محاسن سجاد،ص 11
(۱۲) ماخوذ از تذکرہ مولانا عبدالشکور آہ مظفرپوری،ص 224 تا 232
(۱۳) درس حیات، مطبوعہ مدرسہ قاسمیہ گیا 2010،ص 126
(۱۴) ادبیات،از مولانا ابومحفوظ الکریم معصومی،مرتبہ ڈاکٹرمحمدصدر الاسلام مطبوعہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 2014، ص 588
(۱۵) حوالہ سابق ومحاسن سجاد،ص12
(۱۶) نزہۃ الخواطر ج 8ص280۔مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد
(۱۷) نزہۃ الخواطر کے علاوہ ضیائے طیبہ ڈاٹ کام سے بھی ان کے حالات میں استفادہ واضافہ کیا گیا ہے۔
(۱۸) مضامین گیلانی مرتبہ مظفر گیلانی،مطبوعہ بہار اردو اکیڈمی پٹنہ،1986 ص 95
(۱۹) مسماۃ گیندھریا دائی کی سوانح عمری،از مومنہ مطبوعہ یونائیٹیڈ ویلفیر ایسو سی ایشن استھانواں نالندہ2015ص:۱۳
(۲۰) محاسن سجاد ص 37
(۲۱) مضامین گیلانی مرتبہ مظفر گیلانی،مطبوعہ بہار اردو اکیڈمی پٹنہ،1986 ص 95
(۲۲) ملاحظہ ہو احسن البیان فی خواص القرآن از مولانا محمد احسن استھانوی، مکتبہ اسحاقیہ کراچی، ص 10
(۲۳) محاسن سجاد،ص 27
(۲۴) مشاہیراہل علم کی محسن کتابیں مرتبہ مولانا عمران خاں ندوی،بحوالہ حضرت علامہ سید سلیمان ندوی نقوش وتاثرات،مرتبہ طلحہ نعمت ندوی،مطبوعہ علامہ سید سلیمان ندوی اکیڈمی استھانواں،بہارشریف،2016 ص 13

Facebook Comments

POST A COMMENT.