امن و ایکتا سمیلن ظلم و جبر میں ’’عدم تعاون‘‘ کی طاقت کا دوسرا نام ہے

Views: 39
Avantgardia

 

دانشورووں، علماء، مذہبی شخصیات کی شرکت

نئی دہلی:۵؍اگست(پریس ریلیز) ملک میں جاری ماب لنچنگ کے انسانیت سوز واقعات اور فرقہ پرستی کے بڑھتے قدم کو روکنے کے لیے آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام تالکٹورہ انڈوراسٹیڈیم نئی دہلی میں امن و یکتا سمیلن منعقد ہوا جس میں ہند و، مسلم ، سکھ ، عیسائی اور بودھ سمیت سبھی مذاہب کے با ا ثر رہنمائوں نے شرکت کی جب کہ اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پچاس ہزار کا مجمع تھا ۔اس موقع پر ایک مشترکہ اعلامیہ پڑھا گیا جس کی تائید مسلم رہ نمائو ںکے علاوہ سوامی چدا نند سرسوتی مہاراج، جین رہ نما ڈاکٹر اچاریہ لوکیش منی ، بدھشٹ رہ نما لاما لو بزانگ اور مسیحی آرک بشپ انل جوجف تھومس کوٹو ، گیانی رنجیت سنگھ گرودوارہ بنگلہ صاحب نے ہاتھ اٹھا کر کی ۔ اعلامیہ میں خاص طور سے مذہب یا راشٹرواد کے نام پرنہتے اور کمزور لوگوں کو یکا دکا گھیر کر مار نے ، جلانے ، موت کے گھاٹ اتارنے اور سوشل میڈیا کے ذریعہ اس کی تشہیر کرنے اور عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کو نہایت گھنائو نا اور قابل نفرت عمل قراردیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ سب کسی بھی مہذب سماج میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ، ہم سب ہندستانی ایسے لوگوں سے اور ان کی انسان دشمن تحریکوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے خلاف موثر کارروائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔یہ سمیلن مرکز ی اور صوبائی سرکاروں سے ماب لنچنگ کے خلاف فوری طور سے موثر قانون بنانے کا مطالبہ کرتا ہے جس میں مجرمین کو سخت سزا دینے کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے اعلی عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انھیں بھی سزا دی جائے ۔جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری اور اس سمیلن کے آرگنائزر مولانا محمود مدنی نے اعلامیہ کا متن پڑھتے ہوئے کہا کہ یہ دیش ہمارا ہے ، اس کو نفرت کی آندھیوں سے بچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے ،اسی احساس ذمہ داری کے تحت جمعیۃ علماء ہند نے مستقبل میں ذمہ داری نبھانے فیصلہ کیا ہے ۔چنانچہ میں اعلامیہ میں یہ شامل کیا گیا کہ ملک کے ماحول کو سازگار بنائے رکھنے کے لیے ہر ضلع اور شہر میں ’ جمعیۃ سدبھائونا منچ‘ قائم کیے جائیں جس میں ہر طبقہ اور ہر مذہب کے امن پسند شہریوں کو شامل کیا جائے اور اس منچ کی طرف سے موقع بموقع مشترکہ میٹنگیںاور پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ آپس میں اعتماد کی بحالی میں مدد مل سکے۔مولانا مدنی نے اشعار کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں پورا بھارت جمع ہے ، لہذا یہ مطالبہ بھارت کے سبھی طبقات کی طرف سے ہے ۔اس موقع پر صدارتی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے متحدہ قومیت کے عنوان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ سے یہ کہتی رہی ہے باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک قوم ہیں ۔جمعیۃ علماء ہند کے سابق صدر حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ متحدہ قومیت کے علم بردار تھے اور انھو ں نے اس نظریہ کو پیش کرکے قوموں کو جوڑنے اور ایک دھاگے میں باندھنے کی راہ دکھائی تھی ۔موجودہ حالات کے لیے حکومت ذمہ دار ہے ، مگر یہ کہہ کر ہم اپنی ذمہ داری سے پلہ نہیں جھاڑ سکتے بلکہ ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہو تی ہے کہ ہم ہرقسم کی مایوسی اور جذباتیت سے اپنے آپ کو بچاکر اسلامی تعلیمات پر پوری طرح کاربند ہونا چاہیے اور اسلامی روایات کے مطابق تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کا رویہ اختیار کریں۔سوامی چدانند سرسوتی جی،صدر پرمارتھ نکیتن،رشی کیش،معاون بانی گلوبل انٹر فیتھ واش الائنسنے اعلامیہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ بل سنسد میں پاس ہوتا ہے ، تاہم بل پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ دل کا جوڑنا ضروری ہے ۔ اس لیے آج کے پروگرام سے ہم لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کا سنکلپ لیتے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ ہمیں کسی بھی حالت میں گیدر نہیں جینا ہے بلکہ شیروں کی طرح جینا ہے ۔ انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کے ذریعہ سدبھائونا منچ بنائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہمیں وطن کو چمن بنانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔انھوں نے اس موقع پر ایک ننے پودے کی نمائش کرکے
درخت لگانے پر زور دیا ۔معروف عالم دین مولانا ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے قیام کا

مقصد ملک کے مختلف مذاہب کے درمیان امن و امان کا قیام ہے ، ستر سال گزر جانے کے بعد بھی جمعیۃ اپنے اکابر کی راہ پر قائم ہے اور حالات چاہے جیسے بھی ہوں ، ہم اس سے نہیں ہٹیں گے ۔ میں مسلمانوں سے کہتاہوں کہ وہ صبر کا دامن ہر گز نہ چھوڑیں ، کیوں کہ ظالم بن کر زندہ رہنے سے مظلوم بن کر مرجانا بہتر ہے ۔مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی صدر آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ،سجادہ نشین،آستانہ سیدمخدوم اشرف جہانگیر سمنانیؒکچھوچھہ شریف نے پروگرام میں دعوت کے لیے جمعیۃ علماء ہند کا شکر یہ ادا ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام سلامتی اور خیرخواہی کا درس دیتا ہے ۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیر ت موجود ہے کہ آپ نے کس طرح اپنے دشمنوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا ۔گیانی رنجیت سنگھ جی چیف گرنتھی گردوارہ بنگلہ صاحب نے مذہب کو انتہائی حساس موضـوع بتاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو مذہب کی بنیاد پر مارنا پیٹنا انتہائی قابل مذمت عمل ہے ۔ ہر ایک کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق ہے ۔اچاریہ لوکیش منی اہمسا ویشوا بھارتی نے کہا کہ دھرم ہمیں جوڑنا سکھاتا ہے ، توڑنا نہیں ، ہم جہاں اپنے دھرم کا پالن کریں وہیں دوسرے کے دھرم کا احترام بھی کریں۔ انل جوجف تھومس کوٹو ،آرک بشپ آف دہلی نے کہا کہ کثرت میں وحدت بھارت کی خوبصورتی ہے ۔ اسے توڑنے والے کو سزا ملنی چاہیے۔دیگر خطاب کرنے والوں میں خاص طور سے امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی ،مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، سید معین حسین صدر انجمن خدام خواجہ صاحب سید زادگان درگاہ اجمیر شریف،مولانا سید محمد تنویر ہاشمی صدر مسلم متحدہ کونسل وسجادہ نشین خانقاہ ہاشمیہ بیجاپور،پروفیسر اختر الواسع صدر مولانا آزاد اردویونیورسٹی جودھپور،ڈاکٹر سید ظفر محمود زکوۃ فائونڈیشن آف انڈیا ، مولانا متین الحق اسامہ کانپوری صدر جمعیۃ علماء اترپردیش،مولانا صدیق اللہ چودھری صدر جمعیۃ علماء مغربی بنگال،مولانا رحمت اللہ میرمہتمم دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر،مولانا حافظ ندیم احمد صدیقی صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹرا، اشوک بھارتی،صدرنیکڈور، سید قاسم رسول الیاس رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،مولانا محمود احمد خاں دریابادی جنرل سکریٹری آل انڈیاعلماء کونسل ممبئی،، سید سلمان چشتی صدر خواجہ غریب نواز فائونڈیشن اجمیر وغیرہم نے بھی خطاب کیا ۔ ان کے علاوہ مجتبیٰ فاروق جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، ڈاکٹر فادر میتھیو ، فادر سوسئی سبسٹین ، فادر آنند، مولانا نیاز احمد فاروقی ، مولانا معزالدین سمیت کئی اہم شخصیات پروگرام میں شریک رہیں ۔مختلف نشستوں میں مہمان خصوصی کے طور پر سوامی چدانند سرسوتی جی،مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی، سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند،ا لحاج سید معین حسین صدر انجمن خدام خواجہ صاحب سید زادگان درگاہ اجمیر شریف، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی شریک ہوئے ۔نظامت کے فرائض مشترکہ طور سے مولانا محمود

مدنی ، مولانا مفتی محمد عفان منصورپوری ومولانا حکیم الدین قاسمی نے انجام دیے ۔

 

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart