*امن و ایکتا ہریالی یاترا کا دوسرا دن*

Views: 25
Avantgardia

*ماحولیات کی بہتری اور شجرکاری کے لیے عوامی بیداری ضروری: مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری*

*ہماری عبادتیں الگ الگ ہیں تاہم ہمارا ملک ایک ہے اور ہم اس کی حفاظت کے لیے متحد ہیں: سوامی چدا نند سرسوتی مہاراج*

*ہمیں مسلمان ہونے اور بھارتیہ ہو نے پر فخر ہے: ہم اپنی اس تحریک سے جل اور من دونوں کی گندگی صاف کریں گے. مولانا محمود مدنی*

نئی دہلی۔26/ اگست 
*ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے اور بھارتیہ ہونے پر بھی، ہمارا یہ حق ہم سے کوئی چھین نہیں سکتا، اسلام جب بھارت میں آیا اور جب یہاں کی مٹی سے اس کا ملاپ ہوا تو اس نے ایسے صوفیوں، سنتوں اور ولیوں کو جنم دیا جنھوں نے اپنے کردار اور حسن اخلاق سے دنیا والوں کے دلوں پر بادشاہت کی، اس لیے بھارت کی سرزمین کو صوفیوں اور ولیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دیوبند میں ’امن ایکتا ہریالی یاترا‘ کے دوسرے دن کے آغاز پر کی۔یہ یاتراآج صبح ماتا سندری مند ر دیوبند سے شروع ہوئی جس کی قیادت معروف ہندو رہ نما سوامی چد نند سرسوتی مہاراج نے کی۔مولانا مدنی نے اس موقع پر کہا کہ ہمارا یہ قافلہ گرچہ ماحولیات، جل اور جنگل کے لیے ہے تاہم ان شاء اللہ اس سے قومی یک جہتی اور رواداری کا بھی پیغام جائے گا، انھوں نے کہا کہ ہم بلاتفریق ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نکلے ہیں تاکہ جہاں ایک طرف ماحولیات کی گندگی کو صاف کیا جائے وہیں ہم ذہنوں میں پیدا شدہ گندگی کو بھی صاف کریں گے، کیوں کہ یہ گندگی ملک کو جوڑنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ہم ملک کے مشترک مسائل میں بلا تفریق مذہب شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور اپنے ملک کی تعمیر میں نہ کسی سے پیچھے ہیں اور نہ رہیں گے۔مولانا مدنی نے یاترا کی اگلی منزل محمود ہال دیوبند میں دارالعلوم دیوبند کی عظیم خدمات کا تذکرہ کیا اور کہا کہ دیوبند نے دنیا کو ہمیشہ سے پیارو محبت کا پیغام دیا ہے، جس ہال میں آج ہم بیٹھے ہیں، وہ ایسی شخصیت کی طرف منسوب ہے جنھوں نے انتہائی پیرانہ سالی میں جنگ آزادی کے لیے جانثاری کی تاریخ لکھی اور انھوں نے ہمیشہ ملک کی تعمیر کے لیے برادران وطن کے ساتھ جد وجہد کی تعلیم دی۔*

*جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری* نے کہا کہ شجرکاری اور آب وہوا کی بہتری ایک بہت ضروری مسئلہ ہے۔ جمعیۃ علماء ہند نے اپنے اجلاس میں اس پر غور کرکے فیصلہ کیا کہ ماحولیات کی بہتری اور شجرکاری کے لیے عوامی بیداری پیدا کی جائے کیوں کہ یہ انسانی زندگی سے جڑا ہوا بہت ہی ناگزیر مسئلہ ہے اور سب کا مسئلہ ہے۔

جلال آباد میں اپنے خطاب میں *سوامی چدانند سرسوتی مہاراج صدر پرمارتھ نکیتن* نے کہا کہ جل شکتی کو جن شکتی اور جن جاگرن اور جل جاگرن بنانا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماحولیات کو لے کر پورے ملک میں تحریک چلائیں گے۔ساتھ ہی ہمیں سبھی طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور سب کے ساتھ پیار بانٹنا ہے۔ہماری عبادتیں الگ الگ ہیں تاہم ہمارا ملک ایک ہے۔ ہم اپنے ملک کی حفاظت اور اس کو چمن بنانے کے لیے یک جٹ ہیں اور رہیں گے۔

دیوبند سے نکل کر یہ یاترا ہولی ہوم پبلک اسکول نانوتہ پہنچی جہاں ڈی ایم صاحب نے استقبال کیا۔ اس سلسلے میں مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے بتایا کہ یہ یاترا اس کے بعد جلال آباد شاملی، جامعہ بدرالعلوم گڑھی دولت کاندھلہ، محمد پور راعین، مدنی نگر پنجیت بھی پہنچی اور ان جگہوں پر شجرکاری کی گئی۔جامعہ بدرالعلوم گڑھی دولت میں لوگوں کی زبردست بھیڑ تھی، یہاں جمعیۃ علماء مغربی دہلی کے صدر مولانا محمد عا قل نے تحریک کی رہ نمائی کی-ان کے علاوہ مولانا محمد یامین مبلغ دارالعلوم سمیت جمعیۃ علماء کے کئی مقامی ذمہ داران شریک تھے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart