باب (4) ریاستی اطلاعاتی کمیشن

Views: 48
Avantgardia

مترجم محمد یاسین جہازی

15
(1) اس ایکٹ کے تحت دیے گئے اختیارات کو استعمال کرنے اور تفویض کردہ فرائض کو انجام دینے کے لیے، سرکاری گزٹ میں شائع اعلان کے مطابق، ہر ریاستی حکومت ایک ادارہ قائم کرے گی، جس کا نام…… (ریاست کا نام) انفارمیشن کمیشن ہوگا۔
(2) ریاستی انفارمیشن کمیشن درج ذیل افرادپر مشتمل ہوگا:
(a) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر۔اور
(b) ریاستی انفارمیشن کمشنر ان کے اس قسم کے ممبران کی تعداد دس سے زیادہ نہ ہوگی، جیسا کہ ضروری خیال کیا جائے۔
(3) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر اور ریاستی انفارمیشن کمشنروں کو ایک کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر گورنر تقرر کریں گے۔ یہ کمیٹی درج ذیل افراد پر مشتمل ہوگی:
(i) وزیر اعلیٰ۔ یہ کمیٹی کے چیر پرسن ہوں گے۔
(ii) مجلس مقننہ میں حزب مخالف کا لیڈر۔ اور
(iii) ایک ریاستی وزیر، جسے وزیر اعلیٰ نامزد کریں گے۔
وضاحت: شک و شبہ کو دور کرنے لیے، یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر مجلس مقننہ میں حزب مخالف کا لیڈر نہیں ہے تومجلس مقننہ میں حزب مخالف کے زیادہ ارکان والے گروپ کے لیڈر کو ہی حزب مخالف کے رہنما کا درجہ دیا جائے گا۔
(4) ریاستی انفارمیشن کمیشن کے کام کاج کی عام نگرانی، مشورہ اور انتظام، ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر کو تفویض ہوگا۔ اورریاستی انفارمیشن کمشنروں کی طرف سے اس (ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر) کی مدد کی جائے گی اور وہ (ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر)اس طرح کی تمام طاقتوں کا استعمال کر سکتا ہے اور اس ایکٹ کے تحت کسی دوسرے اتھارٹی کی طرف سے ہدایت دیے بغیر خود مختار طریقے سے ان تمام کاموں اور چیزوں کو انجام دے سکتا ہے، جو ریاستی انفار میشن کمیشن انجام دیتا ہے۔
(5) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر اور ریاستی انفارمیشن کمشنر ایسے لوگ ہوں جوعوامی زندگی میں قدرو منزلت والے ہوں،علاوہ ازیں قانون، سائنس اور ٹیکنالوجی، سماجی خدمات، انتظام، صحافت، بڑے پیمانے پر ذرائع ابلاغ یا انتظامیہ اور گورنمنٹ کے بارے میں وسیع علم اور تجربے کے حامل ہوں۔
(6) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر وہ شخص ہوسکتا ہے جو پارلیمنٹ کا ممبر نہ ہو،یا کسی بھی ریاست یا مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے یونین کے مجلس قانون ساز کا ممبر نہ ہو(جو بھی ہو) یا کسی منافع بخش عہدے پر نہ ہو، یا کسی سیاسی پارٹی سے منسلک نہ ہو، یا کوئی کاروبار نہ کر رہا ہو یا کسی پیشہ سے وابستہ نہ ہو۔
(7) ریاستی انفارمیشن کمیشن کا مرکزی دفتر ریاست میں ایسی جگہ پر ہوگا، جس جگہ کو سرکاری گزٹ میں شائع نوٹیفیکشن کے ذریعے ریاستی حکومت نے متعین کیا ہو۔ اور ریاستی حکومت سے منظوری لینے کے بعد ریاستی انفارمیشن کمیشن ریاست کے کسی بھی دوسرے علاقے میں اپنے دفاتر قائم کرسکتا ہے۔
16
(1) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر(اطلاعت کا ریاستی افسر اعلیٰ)، اپنے عہدہ قبول کرنے سے پانچ سال تک اپنے عہدے پر قائم رہے گا، اور وہ دوبارہ تقررکا اہل نہیں ہوگا۔
نوٹ کرلیں کہ کوئی بھی ریاستی چیف اطلاعاتی کمشنر65 سال کی عمر کے بعد اس عہدے پر قائم رہنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
(2) ہر ریاستی انفارمیشن کمشنر اپنے عہدے کے حلف لینے سے پانچ سال تک یا 65 سال کی عمرتک، جو بھی پہلے ہوجائے، (اس وقت تک) اپنے عہدے پر فائز رہے گا۔ اور (عہدے سے سبکدوشی کے بعد) ریاستی انفارمیشن کمشنر کے طور پردوبارہ تقرر کا اہل نہیں رہے گا۔
نوٹ کریں کہ اس ذیلی سیکشن کے تحت عہدہ سے سبکدوش ہونے والے ہرریاستی انفارمیشن کمشنر، سیکشن 15 کے ذیلی سیکشن (3) میں بتائے گئے طریقے کے مطابق ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر بننے کا اہل ہوگا۔
مزید یہ یاد رکھیں کہ جس ریاستی انفارمیشن کمشنر کو ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر بنایا گیا ہے، وہ اپنے دونوں عہدوں (ریاستی انفارمیشن کمشنر اور ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر) کو ملاکر پانچ سال سے زائد مدت تک عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔
(3) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر کو اپنے عہدے کو قبول کرنے اور اقرار نامہ پر دستخط کرنے سے پہلے صدر یا اس کے مقر رکردہ کسی دوسرے شخص کے سامنے پہلے شیڈول میں بتائے گئے قواعد کے مطابق حلف لینا ہوگا۔
(4) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر کسی بھی وقت، اپنے ہاتھ سے لکھ کر گورنرکو اپنااستعفی دے سکتا ہے۔
نوٹ کریں کہ ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر کو سیکشن 17 میں بیان کردہ طریقے کے مطابق عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
(5) ملازمت کی تنخواہ، الاؤنس اور دیگر شرائط و ضوابط (درج ذیل ہیں:)
(a) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر کی حیثیت وہی ہوگی جو الیکشن کمشنر کی ہوتی ہے۔(ملازمتی شرائط کے تعلق سے)
(b) ایک ریاستی انفارمیشن کمشنر،ریاستی حکومت کے چیف سکریٹری کے مماثل ہوگا۔
نوٹ کریں کہ اگر ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر کے تقرر کے موقع پر ماضی میں مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت میں کی گئی ملازمت سے سبکدوش ہوکر پنشن لے رہا ہے، تومعذوری پنشن یا زخمی لوگوں کو دیے جانے والے پنشن کے علاوہ ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر کے طور پر نوکری کرنے پر ملنے والی تنخواہ سے اس پنشن کی رقم کو کم کردی جائے گی۔
(پنشن کی رقم سے تنخواہ کم کردی جائے گی) اس میں ملنے والا پنشن کا کچھ حصہ اور ریٹائرمنٹ فوائد کی دیگر اقسام کے برابر والاپنشن شامل ہوگا۔ اس میں وہ پنشن شامل نہیں ہوگا جو ریٹائرمنٹ گریجویٹی کے برابر تھا۔
مزید یہ یاد رکھیں کہ اگر ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر اپنی تقرری کے وقت، کسی بھی سینٹرل ایکٹ یا ریاستی ایکٹ کے تحت چلنے والے ادارہ یا مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کی ملکیت والی یا زیر کنٹرول کمپنی میں کی گئی سابقہ ملازمت سے ملنے والے ریٹائرمنٹ کے فوائد حاصل کر رہے ہوں، تو (اب) ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر یا ریاستی انفارمیشن کمشنر کی ملازمت سے ملنے والی تنخواہ کو ریٹائرمنٹ فوائد کے برابر پنشن کی رقم سے کم کرکے تنخواہ دی جائے گی۔ (سابقہ ملازمت سے ملنے والے پنشن کے برابر تنخواہ کم کردی جائے گی)
یہ بھی یا درہے کہ ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر اورریاستی انفارمیشن کمشنر کے تقرر کے بعد ان کی تنخواہیں، الاونس اور دیگر ملازمتی اصول و قواعد، ان کو نقصان پہنچانے کی صورت میں لاگو نہیں ہوں گے۔
(6) اس ایکٹ کے تحت انجام دیے جانے والے فرائض کو تشفی بخش طریقے سے انجام دینے کے لیے، ریاستی حکومت، ریاستی چیف انفارمیشن کمشنر اورریاستی انفارمیشن کمیشن کو ضروری افسران اور ملازمین فراہم کرے گی۔ اوراس ایکٹ کے مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے تقرر کردہ افسران اور ملازمین کو دی جانے والی تنخواہیں، الاونس اور ملازمت کی شرائط و ضوابط ویسی ہی ہوں گی، جیسا کہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart