دلائل کی زبان، گالی گلوچ کی زبان

Views: 430
Avantgardia

مفتی محمد سفیان القاسمی

مفتی محمد سفیان القاسمی
استاذ مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

جب لوگ آپس میں ایک دوسرے سے زبانی طور پر بات چیت یا بحث و مباحثہ کرتے ہیں تو کچھ لوگ دلائل کے ذریعہ ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ کچھ لوگ گالی گلوچ کے ذریعہ مد مقابل کو زیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں. اور جب سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ نے تحریر کو باہمی گفتگو کا ذریعہ بنا دیا ہے تو لوگ اب تحریری شکل میں وہ کام کرنے لگے ہیں جو پہلے باہمی گفتگو میں کیا کرتے تھے. چنانچہ مخالفین کو شکست فاش دینے کے لئے لوگوں کی جو تحریریں ملتی ہیں وہ دو قسم کی ہوتی ہیں، ایک میں دلائل کی زبان استعمال ہوتی ہے اور دوسری میں گالی گلوچ کی زبان.

ان تحریروں سے صاحب تحریر کی شخصیت کو پہچاننا نہایت آسان ہے. وہ اس طور پر کہ دلائل کی زبان اہل علم اور مہذب لوگوں کی پہچان ہوتی ہے اور گالی گلوچ کی زبان جہلا اور غیر مہذب لوگوں کی پہچان ہوتی ہے. اہل علم کو اگر کسی سے اختلاف بھی ہوتا ہے تو وہ ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی بات رکھتے ہیں اور دلائل سے اپنی بات ثابت کرتے ہیں جبکہ جہلاء بد زبانی، بد تمیزی اور گالی گلوچ کے ذریعہ اپنے مخالفین پر حاوی ہونے کی کوشش کرتے ہیں. اس فرق کو جاننے کے بعد ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ ہمیں کن تحریروں کو پڑھنا چاہئے اور کن تحریروں کو نہیں پڑھنا چاہئے.کن لوگوں کو جواب دینا چاہیے اور کن لوگوں کے ساتھ خاموشی کا طریقہ اپنانا چاہیے کیونکہ اہل دانش کا قول ہے،، جواب جاہلاں باشد خموشی،،

آج کل بعض لوگوں نے محترم شخصیات کے خلاف بد زبانی کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے، وہ ایسی ایسی گالیوں کا استعمال کرتے ہیں جن کے معنی بھی ڈکشنری میں نہیں ملتے. وہ اپنے گمان کے مطابق اس طرح اپنے مخالفین کو شکست فاش دے دیتے ہیں مگر یہ ان کی طفلانہ سوچ ہے. کیونکہ تحریر میں لکھی گئی باتوں کے صحیح یا غلط ہونے کا فیصلہ تو لوگ بعد میں کرتے ہیں، اس سے پہلے جو فیصلہ کرتے ہیں وہ صاحب تحریر کے بارے میں ہوتا ہے. وہ تحریر میں مذکور گالی گلوچ کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ لکھنے والے کے اندر نہ علم ہے اور نہ تہذیب. وہ اس کی تحریر سے اندازہ لگالیتے ہیں کہ یا تو یہ اچھے گھرانے سے نہیں ہے اور اگر اچھے گھرانے سے ہے تو اس کی تربیت صحیح طور پر نہیں ہوئی ہے ورنہ یہ ایسی زبان استعمال نہیں کرتا.

یہاں پر غور کرنے کی بات یہ ہے کہ معاذاللہ اگر کوئی کعبۃ اللہ کو، قرآن و حدیث کو حتی کہ اللہ اور اس کے رسول کو بھی گالی دے تو اس کے جواب میں شریعت میں گالی دینے کی اجازت نہیں ہے تو پھر اگر آپ کو کسی سے اختلاف ہے یا آپ کی محترم شخصیت کے خلاف کسی نے کچھ لکھا ہے تو اس کو جواب دینے کے لئے گالی کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے. اگر آپ کی نظر میں کوئی حقیر و ذلیل ہے جس کی وجہ سے آپ اس کا احترام ملحوظ نہیں رکھنا چاہتے تو مان لیتے ہیں کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں مگر کسی کو گالی دینا شریعت میں کیسے جائز ہو سکتا ہے. حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے عمل کا جواز ثابت کرنے کے لئے کچھ بھی کہیں مگر آپ کا یہ کام دین و شریعت سے محبت کی علامت نہیں بلکہ یہ آپ کے نفس کی شرارت ہے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart