جمعیت کی صدسالہ تقریبات کے تحت مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اور مولانا احمد سعید دہلویؒ پر سیمینار کا انعقاد

Views: 98
Avantgardia

جنگ آزادی کی ایسی کوئی تحریک نہیں جس میں مولانا احمد سعید کی شرکت نہ رہی:مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند
مولانا عبدالباری فرنگی محلی اس عظیم خاندان کے فردہیں جو صدیوں سے علمی ود ینی خدمات انجام دے رہا ہے: مولانا رابع حسنی ندوی
تحریک آزادی سے وطن کی آزادی تک جمعےۃ علماء کا کردار قائدانہ ہے: مولانا محمود مدنی
ہم اپنے اکابر کی حیات و خدمات سے روشنی حاصل کرکے مستقبل کے لیے راہ عمل طے کریں: مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی
مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ ہندو اورمسلم اتحاد کے بڑے علم بردار تھے: مولانا خالد رشیدفرنگی محلی
نئی دہلی 21/ستمبر2019ء
صدسالہ تقریبا ت کے تحت جمعےۃ علماء ہند کے زیر اہتمام نئی دہلی کے این ڈی ایم سی کنونشن سینٹر میں جمعیۃ کے اکابر مولانا محمد عبدالباری فرنگی محلی بانی ورکن جمعیۃ علماء ہند اور مولانا احمد سعید دہلویؒ سابق ناظم عمومی وبعدہ صدر جمعیۃعلماء ہند کی خدمات و قربانیوں پر دورروزہ سیمینار کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت امیر الہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صدر جمعیۃ علماء ہند نے کی،جب کہ نظامت کے فرائض مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند،مفتی محمد عفان منصورپوری اور مولانا عمران اللہ و ڈاکٹر عبدالملک نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔
اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں صدر جمعےۃ علماء ہند مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ یہ دونوں شخصیات تاریخ جمعےۃ میں ممتاز مقام رکھتی ہیں، مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کی ذات جمعیۃ علماء ہند کے لیے بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہے،مولانا ان شخصیات میں سے ہیں جن کی فکر اور کوششوں سے جمعےۃ علماء کی تشکیل ہوئی، قیام کے بعد آپ جمعیۃ کی تحریک اور سرگرمیوں میں تا حیات شریک رہے، پہلی ہی مجلس میں رکن نامزد ہوئے اورتا حیات رکن رہے۔
انھوں نے اپنی خاندانی روایت کے مطابق درس و تدریس اور تصنیف وتالیف کا مشغلہ اختیار کیا۔ تاہم جب ملک کو ضرورت پڑی تو انھوں نے درسگاہ اور خانقاہ سے قدم باہر نکالا اور متعدد دینی و علمی و سیاسی خدمات انجام دیں، انھوں نے انجمن خدام کعبہ، انجمن خدام حرمین شریفین، خلافت تحریک اور جمعیۃعلماء ہند کے ذریعہ ملت اسلامیہ کی خدمت کی۔صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ دوسرے مولانا احمد سعید دہلویؒ کی شخصیت ہے جو وقت تاسیس سے وفات تک جمعےۃ کی خدمات اور ملک و ملت کی رہ نمائی کا فریضہ انجام دیتے رہے اور مسلسل اپنی کوششوں او ر مجاہدوں کے ذریعہ جمعےۃ کو وسعت و استحکام بخشا۔مولانا احمد سعید دہلوی ؒ نے جس وقت عملی میدان میں قدم رکھا تو اس وقت انگریزوں کے خلاف تحریکیں چل رہی تھیں، شاید ہی کوئی ایسا جلسہ یا ایسی کوئی تحریک ہوگی، جس میں مولانا احمد سعید کی شرکت نہ رہی ہو، گاندھی جی کی ستیا گرہ تحریک ہو، تحریک سول نافرمانی ہو، ستیہ گرھ، ہندستان چھوڑ و تحریک ہو، نہرو رپورٹ مخالفت، تحریک پاکستان کی مخالفت ہر ایک میں آپ کا نمایاں کردار رہا۔ان تحریکات میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے کی پاداش میں آپ کو متعدد مرتبہ قید وبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑیں۔آپ جمعیۃ کے ایسے منفرد و ممتاز رکن تھے جو تاسیس جمعےۃ سے لے کر اپنی وفات تک سرگرمی اور فعالیت کے ساتھ وابستہ رہے، آپ جمعیۃ کی ا بتدائی مدت سے مسلسل بیس سال تک ناظم عمومی رہے اور سترہ سال نائب صدر اور دو سال عہدہ صدارت پر فائز رہے۔ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ علمی مشغلہ ترک نہ کیا اور متعدد علمی واصلاحی کتابیں تصنیف کیں۔صدر جمعیۃ نے آخری میں اپیل کی کہ ضروری ہے کہ ہم ان اکابر کی زندگی سے سبق حاصل کریں اور جمعیۃ کی فکر و نظریات سے وابستہ رہیں۔
سیمینار میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابوالقاسم نعمانی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ناظم مولانا رابع حسنی ندوی کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا جو ذاتی اعذار کی بنیاد پر شریک نہ ہوسکے۔ مولانا رابع ندوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ اس عظیم اور تاریخ رکھنے والے خاندان کے فرد فریدتھے جسے کئی صدیوں سے مسلسل علمی ود ینی خدمات اور کارنامے انجام دینے او رملک و ملت کی رہ نمائی کا شرف حاصل ہے۔انھوں نے جمعیۃ علماء ہند کو تہنیت پیش کی کہ وہ اپنے معماروں کی خدمات سے نئی نسل کو متعارف کرانے کاکا م ایک تحریک کے طور پر انجام دے رہی ہے۔مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اپنے پیغام میں جمعیۃ علماء ہند کے اس عمل کی ستائش کی۔
اس موقع پر تعارف پیش کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند نے پورے وقار کے ساتھ اپنے قیام کے سو سال پورے کرلئے۔ یہ اللہ رب العزت کی خصوصی نصرت واعانت کا مظہر ہے۔ آج کا یہ پروگرام اسی متحرک وفعال دینی وملی اور سماجی تنظیم جمعیۃ علماء ہند کے ان مایہ نازبانیوں، صدور ونظماء اور عظیم المرتبت، تاریخ ساز وانقلاب آفریں شخصیات کی دینی وملی، ملکی وقومی خدمات کے تعارف اور ان کے گراں قدر کارناموں سے نسل نو کو متعارف کرانے کے لئے منعقد کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تحریک آزادی سے لے کر وطن کی آزادی تک اس جماعت کا قائدانہ کردار ہے، آزادی کے بعد فسادات کے طویل اور بھیانک سلسلے کے دوران جمعیۃ علماء ہند کی رفاہی وملی خدمات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ مجھے کہنے دیا جائے کہ اس جماعت سے وابستہ مخلصین”رہبانٌ باللیل وفرسانٌ بالنہار ” کے حقیقی مصداق تھے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا اس جماعت اور اس سے وابستہ افراد کو ہاتھوں ہاتھ لیاجاتا، قوم انھیں اپنی پلکوں پر بٹھاتی، ان کی خاک پا کو آنکھوں کا سرمہ بناتی مگر افسوس!اس جماعت کی مخالفت کی گئی، اوراس تنظیم پر ایسا وقت بھی آیا جب اس سے عداوت کی انتہا کردی گئی۔ اس جگہ آکر بے ساختہ میری نگاہوں میں وہ منظر آجاتا ہے جسے سوچ کر کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ صوبہ سرحد کے دورہ سے واپس آرہے تھے، جالندھر اسٹیشن پر بعض لیگی نوجوانوں نے ان کے ساتھ انتہائی گستاخی اور بدتمیزی کا معاملہ کیا، ان کی پگڑی اتار کر روند دی، طمانچہ مارا، گالیاں دیں، منہ پر تھوک دیا۔شورش کاشمیری نے اپنی خود نوشت سوانح ”بوئے گل…..“ میں لکھا ہے کہ اسی وقت ایک جلسے میں عطاء اللہ شاہ بخاری ننگے سر آئے، کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا:”جب سے میری قوم نے حسین احمد کی پگڑی اتاری ہے، میں نے عہد کیا ہے آئندہ سر پر ٹوپی نہیں رکھوں گا۔
خاندان فرنگی محلی کے چشم و چراغ مولانا خالد رشید فرنگی نے تاثرات میں کہا کہ مولانا عبدالباری فرنگی جیسی تاریخ ساز شخصیت کی خدمات کو بیان کرنے کے لیے کافی وقت درکار ہے۔آپ کی تربیت فرنگی محل میں ہوئی۔ آپ کو اللہ تعالی نے غیر معمولی صلاحیت سے نوازا تھا۔اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ انھوں نے صرف اڑتالیس سال کی عمر میں 113 کتابیں تصنیف کی ہیں۔ آپ ملت اسلامیہ ہند اور ہندو اورمسلم اتحاد کے بڑے علم بردار تھے۔اسی مقصد سے آپ نے تحریک خلافت کمیٹی تشکیل دی اور پھر جمعیۃ علما ء کے تاسیسی اجلاس کی صدارت فرمائی۔
امیر جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کہا کہ آج مجھے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ ہم ایسی شخصیات سے متعلق اجلاس میں شریک ہوئے ہیں جو ہمارے اکابر تھے، جن کی مثال زمانہ نہیں پیش کرسکتا۔ ضرورت یہ ہے کہ ان کی حیات و خدمات سے روشنی حاصل کرکے ہم مستقبل کا راہ عمل طے کریں۔
ان مذکورہ شخصیات کے علاوہ پروفیسر شریف حسن قاسمی دہلی سا بق صدر شعبہ فارسی دہلی یونیورسٹی، مولانا ندیم الواجدی دیوبند، مولانا سلمان بجنوری دیوبند، مولانا متین الحق اسامہ کانپور مولانا ڈاکٹر اسجد قاسمی مرادآباد، مولانا حمزہ قاسمی دہلی یونیورسٹی، عدنان عبدالوالی فرنگی محلی لکھنو، ڈاکٹر شمیم اختر قاسمی کلکتہ پروفیسر ڈاکٹر ابوبکر عبادشعبہ اردو دہلی یونیورسٹی، ڈاکٹر وارث مظہری شعبہ اسلامیات ہمدرد یونیورسٹی، ڈاکٹر منور حسن کمال ایڈیٹر ایوان ادب اردو دہلی وغیرہ نے مقالات وتاثرات پیش کیے۔ ان کے علاوہ اسٹیج پر مولاناسید شاہد امین عام جامعہ مظاہر علوم سہارن پور، حافظ پیرشبیر احمد حیدرآباد، راشد سعید نبیرہ مولانا احمد سعید دہلوی ؒ مولانا حافظ ندیم صدیقی مہاراشٹرا، مولانا معزالدین احمد،مفتی محمد سلمان منصور پوری، مولانا یحیی کریمی، مولانا ضیاء الحق خیر آبادی، مولانا اخترامام عادل، ڈاکٹر مسعود اعظمی، مولانا نیاز احمد فاروقی اور سیمینار کے کنوینر مولانا عمران اللہ قاسمی اور ڈاکٹر عبدالملک رسول پوری موجودتھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart