باب (3) مرکزی اطلاعاتی کمیشن

Views: 22
Spread the love
Avantgardia

12
(1) مرکزی حکومت، سرکاری گزٹ میں نوٹیفیکیشن کے ذریعے، اپنے اختیارات کا استعمال کرنے، اور اس ایکٹ کے تحت انجام دیے جانے والے امور کو انجام دینے کے لیے ایک مرکزی انفارمیشن کمیشن باڈی کی تشکیل کرے گی۔
(2) مرکزی انفارمیشن کمیشن میں شامل ہونا چاہیے:
(a) چیف انفارمیشن کمشنر(اطلاعات کا افسر اعلیٰ)۔اور
(b) مرکزی اطلاعاتی کمشنران، جن کی تعداد دس سے زائد نہ ہوں، جیسا کہ ضروری سمجھا جائے۔
(3) ایک کمیٹی کی سفارش پر (ہندستان کے)صدر کی طرف سے چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر کا تقررکیا جائے گا۔ اس کمیٹی میں درج ذیل افراد ہوں گے:
(i) وزیراعظم، یہ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے؛
(ii) لوک سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما؛ اور
(iii) وزیر اعظم کی طرف سے نامزد کیا گیا کابینہ کا رکن۔
وضاحت: شک و شبہ کو دور کرنے لیے، یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اگر لوک سبھا میں حزب مخالف کا لیڈر نہیں ہے تولوک سبھا میں حزب مخالف کے زیادہ ارکان والے گروپ کے لیڈر کو ہی حزب مخالف کے رہنما کا درجہ دیا جائے گا۔
(4) مرکزی انفارمیشن کمیشن کے کام کاج کی عام نگرانی، مشورہ اور انتظام، چیف انفارمیشن کمشنر کو تفویض ہوگا۔ اورانفارمیشن کمشنروں کی طرف سے اس (چیف انفارمیشن کمشنر) کی مدد کی جائے گی اور وہ (چیف انفارمیشن کمشنر)اس طرح کی تمام طاقتوں کا استعمال کر سکتا ہے اور اس ایکٹ کے تحت کسی دوسرے محکمہ کی طرف سے ہدایت دیے بغیر خود مختار طریقے سے ان تمام کاموں اور چیزوں کو انجام دے سکتا ہے، جو مرکزی انفار میشن کمیشن انجام دیتا ہے۔
(5) چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر ایسے لوگ ہوں جوعوامی زندگی میں قدرو منزلت والے ہوں،علاوہ ازیں قانون، سائنس اور ٹیکنالوجی، سماجی خدمات، انتظام، صحافت، بڑے پیمانے پر ذرائع ابلاغ یا انتظامیہ اور گورنمنٹ کے بارے میں وسیع علم اور تجربے رکھتے ہوں۔
(6) چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر وہ شخص ہوسکتا ہے جو پارلیمنٹ کا ممبر نہ ہو،یا کسی بھی ریاست یا مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے یونین کے مجلس مقننہ کا ممبر نہ ہو(جو بھی صورت ہو) یا کسی منافع بخش عہدے پر نہ ہو، یا کسی سیاسی پارٹی سے منسلک نہ ہو، یا کوئی کاروبار نہ کر رہا ہو یا کسی پیشہ سے وابستہ نہ ہو۔
(7) سینٹرل انفارمیشن کمیشن کا ہیڈکوارٹر دہلی میں ہوگا۔ اور مرکزی حکومت سے منظوری لینے کے بعد مرکزی انفارمیشن کمیشن ہندستان کے کسی بھی دوسرے علاقے میں اپنے دفاتر قائم کرسکتا ہے۔
13
(1) چیف انفارمیشن کمشنر، اپنے آفس جوائن کرنے سے پانچ سال تک اپنے عہدے پر قائم رہے گا، اور اسے دوبارہ تقرر نہیں کیا جائے گا:
نوٹ کرلیں کہ کوئی بھی چیف انفارمیشن کمشنر65 سال کی عمر کے بعد اس عہدے پر قائم رہنے کا مجاز نہیں ہوگا۔
(2) ہر انفارمیشن کمشنر اپنے عہدے کے حلف لینے سے پانچ سال تک یا 65 سال کی عمرتک، جو بھی پہلے ہوجائے، (اس وقت تک) اپنے عہدے پر فائز رہے گا۔ اور (عہدے سے سبکدوشی کے بعد) انفارمیشن کمشنر کے طور پردوبارہ تقرر کا اہل نہیں رہے گا۔
نوٹ کرلیں کہ اس ذیلی سیکشن کے تحت عہدہ سے سبکدوش ہونے والے ہر انفارمیشن کمشنر، سیکشن 12 کے ذیلی سیکشن (3) کے مطابق چیف انفارمیشن کمشنر بننے کا اہل ہوگا۔
مزید یہ یاد رکھیں کہ
جس انفارمیشن کمشنر کو چیف انفارمیشن کمشنر بنایا گیا ہے، وہ اپنے دونوں عہدوں کو ملاکر پانچ سال سے زائد مدت تک عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا۔
(3) چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کو اپنے عہدے کو قبول کرنے اور اقرار نامہ پر دستخط کرنے سے پہلے صدر یا اس کے مقر رکردہ کسی دوسرے شخص کے سامنے پہلے شیڈول میں بیان کیے گئے قواعد کے مطابق حلف لینا ہوگا۔
(4) چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کسی بھی وقت، اپنے ہاتھ سے لکھ کر صدر کو اپنااستعفی دے سکتے ہیں۔
نوٹ کریں کہ
چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کو سیکشن 14 میں بیان کردہ طریقے کے مطابق عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے۔
(5) تنخواہ، الاؤنس اور دیگر شرائط و ضوابط (درج ذیل ہیں:)
(a) چیف انفارمیشن کمشنر کی حیثیت وہی ہوگی جو چیف الیکشن کمشنر کی ہوتی ہے۔(ملازمتی شرائط کے تعلق سے)
(b) انفارمیشن کمیشنرکو الیکشن کمشنر کے مساوی حقوق حاصل رہتے ہیں۔
نوٹ کریں کہ اگر چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کے تقرر کے موقع پر ماضی میں مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت میں کی گئی ملازمت سے سبکدوش ہوکر پنشن لینے کی صورت میں معذوری پنشن یا زخمی لوگوں کو دیے جانے والے پنشن کے علاوہ چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کے طور پر نوکری کرنے پر ملنے والی تنخواہ سے اس پنشن کی رقم کو کم کردی جائے گی۔(پنشن کی رقم سے تنخواہ کم کردی جائے گی) اس میں ملنے والا پنشن کا کچھ حصہ اور ریٹائرمنٹ فوائد کی دیگر اقسام کے برابر والاپنشن شامل ہوگا۔ اس میں وہ پیشن شامل نہیں ہوگا جو ریٹائرمنٹ گریجویٹی کے برابر تھا۔
مزید نوٹ کریں کہ اگر چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر اپنی تقرری کے وقت، کسی بھی سینٹرل ایکٹ یا ریاستی ایکٹ کے تحت چلنے والے ادارہ یا مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کی ملکیت والی یا زیر کنٹرول کمپنی میں کی گئی سابقہ ملازمت سے ملنے والے ریٹائرمنٹ کے فوائد حاصل کر رہے ہوں، تو (اب) چیف انفارمیشن کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کی ملازمت سے ملنے والی تنخواہ کو ریٹائرمنٹ فوائد کے برابر پنشن کی رقم سے کم کرکے تنخواہ دی جائے گی۔
(سابقہ ملازمت سے ملنے پنشن کے برابر تنخواہ کم کردی جائے گی)
یہ بھی نوٹ کریں کہ چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمشنر کے تقرر کے بعد ان کی تنخواہیں، الاونس اور دیگر ملازمتی اصول و قواعد، ان کو نقصان پہنچانے کی صورت میں لاگو نہیں ہوں گے۔
(6) اس ایکٹ کے تحت انجام دیے جانے والے فرائض کو تشفی بخش طریقے سے انجام دینے کے لیے، مرکزی حکومت، چیف انفارمیشن کمشنر اور انفارمیشن کمیشن کو ضروری افسران اور ملازمین فراہم کرے گی۔ اوراس ایکٹ کے مقاصد کو بروئے کار لانے کے لیے تقرر کردہ افسران اور ملازمین کو دی جانے والی تنخواہیں، الاونس اور ملازمت کی شرائط و ضوابط ویسی ہی ہوں گی، جیسا کہ مقرر کیا جائے۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. اسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
    عالی جناب
    ہندوستان کی موجودہ سیاسی اور سماجی صورتِ پر آپ کی رہنمائی درکار ہے۔

0

Your Cart