کہیں آپ ساس کو گناہ میں مبتلا کرنے والے داماد تو نہیں ہیں ……؟

محمد یاسین جہازی، جمعیت علمائے ہند
کسی چیز کے کرنے کی اہمیت کے پیش نظر اسلام میں اس کے چار درجے ہوتے ہیں: فرض،واجب، سنت اور مستحب۔اسلام میں کوئی دعوت فرض تو نہیں ہے؛ البتہ بقیہ تینوں درجے پائے جاتے ہیں اور مجموعی اعتبار سے دعوت و ضیافت کی آٹھ شکلیں ہیں: بچہ کی پیدائش کی خوشی کے موقع پر ساتویں دن (۱) ’عقیقہ کی دعوت‘، اور رمضان المبارک میں ثواب حاصل کرنے کے لیے (۲)’افطار کی دعوت‘ مستحب ہے۔ شادی کے بعد وجود رحمت یعنی بیوی کی نعمت ملنے کی خوشی میں (۳)’ولیمہ کی دعوت‘ سنت قرار دی گئی ہے۔جب کہ ایک دن ایک رات (۴) ’مہمان کی دعوت و ضیافت‘، بوڑھاپے کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکنے کی شکل میں ہر ایک روزہ کے بدلہ (۵) ’روزہ کفارہ کی دعوت‘، صحیح قسم کھانے کے بعد اسے پورا نہ کرسکنے کی صورت میں دس غریبوں کو (۶) ’قسم کے کفارہ کی دعوت‘، حالت احرام میں شکار کر لینے کی وجہ سے لازم (۷)’شکار کے کفارہ کی دعوت‘، اور اپنی بیوی کو کسی محرم عورت جیسے ماں سے تشبیہہ دے دینے پر ظہار ہوجانے سے دو وقت ساٹھ غریبوں کو (۸)’ظہار کے کفارہ کی دعوت‘ کرنا واجب ہوجاتا ہے۔
نمبر (۴) یعنیمہمان کی دعوت و ضیافت میں تینوں درجے پائے جاتے ہیں۔ ایک دن رات تو واجب ہے، جب کہ تین دن تک سنت ہے۔ اور تین دن کے علاوہ مستحب کے زمرہ میں آتا ہے۔
آج کے مصروف ترین دور میں نہ تو کسی کے پاس لمبی مہمانی کرنے کا وقت ہے اور نہ ہی میزبان کو اتنی فرصت ہے کہ وہ اپنے مہمان کو مکمل وقت دے سکے؛ اس کے باوجود کچھ پر لطف و پر تکلف میزبانی ایسی ہوتی ہے، جہاں فرصت نہ ہونے کے باوجود لوگ لمبا لمبا قیام کرتے ہیں اور پر تعیش اعزاز و اکرام میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں یہاں سے واپس بھی جانا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان جملوں کا اشارہ ”دامادی ضیافت“ کے علاوہ اور کدھر ہوسکتا ہے۔ مشاہدہ ہے کہ بعض داماد سسرال میں اتنے لمبے قیام کرتے ہیں کہ ساس سسر، سالی سالہ؛ سب دلی تنگی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اور چوں کہ یہ ”کمر ڈوری“ کا رشتہ ہوتا ہے، اس لیے نزاکت کا پورا پورا خیال رکھنا پڑتا ہے، اور کمزور رشتہ کی بنیاد پر ”داماد“ کی مکمل آؤ بھگت کرنی ہی پڑتی ہے، جس سے سسرال والے اقتصادی حالات سے بھی دوچار ہونے لگتے ہیں۔ داماد کے لمبے قیام سے عاجز ہوکر کبھی کبھار سسرال والے میزبانی کے فریضہ کی ادائیگی میں گناہ میں ملوث ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح بعض حضرات کی اقامت ایسی مرکزی جگہ پر ہوتی ہے، جہاں روزانہ کسی نہ کسی کی آمدو رفت ہوتی رہی ہے۔ ایسے افراد مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے میزبانی کا مکمل فریضہ انجام نہیں دے پاتے، اس کے باوجود بعض مہمان بلا وجہ لمبے لمبے قیام کرتے ہیں، اس سے جہاں وہ مہمان سے تنگ دل رہتے ہیں، وہیں طول قیام میزبان کے گناہ گار بننے کا سبب بھی ہوجاتا ہے۔
مہمانی و میزبانی کے حوالے سے اسلامی فلسفہ یہ ہے کہ سماجی روابط اور باہمی تعلق برقرار رہے۔ لہذا اس میں ہر اس چیز سے بچنا ضروری ہے، جو ربط و تعلق کو بوجھ بنانے کا سبب بن جائے۔ صاحب فتح المنعم لکھتے ہیں کہ
”دعوت میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ نہ تو میزبان کو تکلیف ہونے پائے اور نہ ہی مہمان تکلف محسوس کرے۔دعوت سماجی روابط کا ایک ذریعہ ہے۔ دعوت مہمان و میزبان کے لیے ایسے ہی معاون ہوتی ہے، جیسے کہ دونوں ہاتھ ایک دوسرے کو دھوتے ہیں“۔ (مسلم، کتاب اللقطہ، باب الضیافۃ و نحوہا)
یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اتنے دنوں تک کسی کے پاس ٹھہرنے سے منع کیا گیا ہے، جس سے میزبان تکلف یا تکلیف میں مبتلا ہوجائے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ
”ضیافت تین دن تک ہے اور اس کا تکلف ایک دن رات تک ہوناچاہیے اور کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اپنے بھائی کے پاس ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اس کو گناہ میں ڈالے۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس طرح اس کو گناہ میں ڈالے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کے پاس ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کھلانے کے لیے کچھ نہ ہو۔
تین دن سے زیادہ ٹھہرنے میں گھروالوں کے لیے دقت ہے اور اس سے خودکی شخصیت بھی مجروح ہوتی ہے اس لیے کسی کو مشقت میں ڈال کر گنہگار نہیں بننا چاہیے؛ بالخصوص سسرال اور آمدو رفت کی مرکزی جگہ پر بلا ضرورت مہمانی کرنے سے بچنے کی ضرورت ہے۔
مآخذو مصادر
(۱) أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالیَوْمِ الآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، جَاءِزَتُہُ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ، وَالضِّیَافَۃُ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ، فَمَا بَعْدَ ذَلِکَ فَہُوَ صَدَقَۃٌ، وَلاَ یَحِلُّ لَہُ أَنْ یَثْوِیَ عِنْدَہُ حَتَّی یُحْرِجَہُ۔ (صحیح البخاری،کِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ إِکْرَامِ الضَّیْفِ، وَخِدْمَتِہِ إِیَّاہُ بِنَفْسِہِ)
(۲) قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:الضِّیَافَۃُ ثَلَاثَۃُ أَیَّامٍ، وَجَاءِزَتُہُ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ، وَلَا یَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ یُقِیمَ عِنْدَ أَخِیہِ حَتَّی یُؤْثِمَہُ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ، وَکَیْفَ یُؤْثِمُہُ؟ قَالَ: یُقِیمُ عِنْدَہُ وَلَا شَیْءَ لَہُ یَقْرِیہِ بِہِ۔(صحیح مسلم، کِتَابُ اللُّقَطَۃِ،بَابُ الضِّیَافَۃِ وَنَحْوِہَا)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں