علماء نے انگریزی زبان کی نہیں انگریزی تہذیب کی مخالفت کی ہے : مہتمم دارالعلوم دیوبند

Views: 226
Avantgardia

علماء نے انگریزی زبان کی نہیں بلکہ انگریزی تہذیب کی مخالفت کی مرکزالمعارف اکابر علماء کا خواب تھا جسے مولانا بدرالدین اجمل نے پورا کیاہماری شخصیت ہی ہماری شناخت ہے اور ہماری شناخت ہی ہماری شخصیت ہےمرکزالمعارف کے سہ روزہ سلور جوبلی سیمینار کا اختتام، مولانا ابوالقاسم نعمانی، مولانا محمود مدنی، مولانا بدرالدین اجمل، حافظ ندیم صدیقی، مولانا متین الحق اسامہ سمیت دیگر علما و دانشوران کا خطابنئی دہلی-۶/اکتوبر: (نازش ہما قاسمی) مرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم آرسی) کے ۲۵ سالہ جشن سیمیں( سلور جبلی ) کا آخری پروگرام ماولنکر ہال کنسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا رفیع مارگ نئی دہلی میں بعنوان ” علماء مسلم نوجوان اور معاصر چیلینج مابعد مدرسہ تعلیم ڈپلومہ ان انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر کورس میں”منعقد ہوا- اس موقعہ پر مفتی ابوالقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے صدارتی خطبے میں کہا کہ میں مولانا اجمل سے ۱۹۹۲ سے واقف ہوں اور مرکز کی سرگرمیاں میرے علم میں ہیں مرکزالمعارف کن حالات میں قائم ہوا اور پچیس سال میں کہاں پر ہے، یہ دیکھ کر خوشی ہورہی ہے، انہوں نے کہا کہ علماء اس اندیشے میں تھے کہ اگر انگریزی تعلیم حاصل کی گئی تو کہیں اس کی تہذیب سے متاثر نہ ہوں؛ لیکن جب تجرباتی مراحل سے گزرا گیا تو نتیجہ برخلاف نکلا- مرکز کے فارغین اپنے اسلامی تشخص پر قائم ہیں ان کی اس طرح تربیت کی گئی کہ انہوں نے زبان کو قبول کیا؛ لیکن تہذیب سے متاثر ہوئے بغیر اسلامی خدمات کو انجام دینے میں مشغول ہیں- انہوں نے اجمل گروپ کی تمام خدمات کا سہرا ان کے والد مرحوم کے سر ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ عالم نہیں تھے؛ لیکن علماء دوست تھے آج جو بھی رفاہی، تعلیمی، سماجی خدمات انجام دی جارہی ہیں وہ ان کے لیے ذخیرہ آخرت ثابت ہوں گی- مولانا بدرالدین اجمل ممبر آپ پارلیمنٹ، رکن شوری دارالعلوم دیوبند و صدر مرکزالمعارف نے ادارے کی اصل سوچ مولانا سید اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو قراردیا اور کہا کہ اس ادارے کے قیام سے پہلے اکابر علماء اور بزرگوں سے دعائیں کروائی گئیں اور استخارہ کروایا گیا، بزرگوں کی دعاؤں کے اثر سے یہ آج جشن سیمیں منارہا ہےانہوں نے کہا کہ اس ادارے کے قیام کا مقصد ہی دین کا داعی اور مبلغ پیدا کرنا ہے – اس سے قبل جمعیت علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود اسعد مدنی نے اپنے خطاب میں مرکزالمعارف کو امت کا قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے ادارے کے روح رواں مولانا بدرالدین اجمل اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کی- انہوں نے کہا کہ قوموں کے درمیان خلیج کو پاٹنے کیلیے زبان کی ضرورت پیش آتی ہے، جب ہم معاصر زبان سے ہم آہنگ ہوں گے تب ہی ہمارے علماء نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کی کونسلنگ کرسکیں گے نوجوانوں کے مسائل کو سمجھ سکیں گے اور اسے حل کرنے کی کوشش کریں گے، ان نوجوانوں کے مسائل اور چیلنج سے نمٹنے کیلئے ادارہ مرکزالمعارف کا قیام عمل میں آیا اور آج یہ ایک ثمر آور درخت بن چکا ہے- ڈائریکٹر اجمل گروپ آف کمپنیز سراج اجمل صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اجمل فیملی کی جانب سے آج جوکچھ بھی تعلیمی فلاحی و رفاہی خدمات انجام پارہے ہیں وہ ہمارے والدین کا خواب تھا ہمارے دادا نے کہا تھا کہ بدرالدین کو عالم دین بناؤ، آج ہمیں سمجھ میں آرہا ہے کہ ان کی کتنی دور رس نگاہ تھی- آج جو بھی دینی و ملی کام انجام پارہے ہیں اس میں مولانا بدرالدین اجمل کی کاوشوں کا خصوصی دخل ہے- مولانا عتیق احمد بستوی سکریٹری فقہ اکیڈمی و استاد حدیث و فقہ دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزالمعارف ہمارے اکابر علماء کا خواب تھا جسے مولانا بدرالدین اجمل نے شرمندۂ تعبیر کیا، اس موقع پر انہوں نے شیخ الہند اور علامہ سید سلیمان ندوی کے حوالے سے انگریزی زبان کی اہمیت و افادیت پر گفتگو کی اور کہا کہ ہمارے کسی بھی عالم نے اس زبان کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس کے خلاف فتوی دیا-دین کی ترویج و اشاعت کے لیے دنیاوی زبان سیکھنا لازمی ہے، ہمیں اس وقت ایسے علماء کی ضرورت ہے جو زبان و بیان پر دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ موجودہ دنیاوی قوانین پر بھی نگاہ رکھتے ہوں- مرکز کے بانی ڈائریکٹر عمر گوتم صاحب نے تعارفی کلمات میں کہا کہ مرکزالمعارف سے استفادہ کرنے والوں میں ۴۷ پی ایچ ڈی ہولڈرس ہیں، ۲۰ ممالک میں یہاں سے فارغ ہونے والے علماء دین کی ترویج و اشاعت کا کام انجام دے رہے ہیں، ۱۱ اسکول پانچ آن لائن مدرسے ۱۰ سے زائد مدرسے قائم کیے- یہاں کے فارغین اپنے دینی تشخص کے ساتھ ہیں انہوں نے اپنے اسلامی حلیے سے سمجھوتہ نہیں کیا انہوں نے کہا کہ جب اسے قائم کیا گیاتھا تو ادارہ تھا؛ لیکن آج یہ ایک تحریک کی صورت اختیار کرگئی ہے- ہمیں تن من دھن سے اس تحریک کو آگے بڑھانا ہے- ہماری شخصیت ہی ہماری شناخت ہے اور ہماری شناخت ہی ہماری شخصیت ہے – انہوں نے کہا کہ میں نے اسلام لانے کے بعد حقیقی معنوں میں اسلام کو مولانا اجمل اور مرکز سے منسلک ہونے کے بعد سمجھا- مولانا متین الحق اسامہ قاسمی صدر جمعیت علماء اترپردیش نے کہا کہ علماء نے کبھی انگریزی زبان کی مخالفت نہیں کی؛ بلکہ انگریزی تہذیب کی مخالفت کی اور آج بھی ہم انگریزی تہذیب کے مخالف ہیں -مولانا ندیم صدیقی صدر جمعیت علماء مہاراشٹر نے مرکز کے کام کو مزید وسعت دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب تک اس ادارے کی برانچس پچاس سے زائد ہونی چاہیے تھیں. پروگرام کا آغاز مفتی حسان جامی کی تلاوت اور مفتی بلال قاسمی کی نعت پاک سے ہوا- نظامت کے فرائض کو مفتی افضل قاسمی لندن و مولانا برہان الدین قاسمی ڈائریکٹر مرکزالمعارف ممبئی نے مشترکہ طور پر بحسن و خوبی ادا کیا – پروگرام کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ علمائے کرام سے گزارش ہے کہ موجودہ ناگفتہ بہ ملکی و عالمی حالات میں امت مسلمہ میں امت مسلمہ کی قیادت و رہنمائی کے سلسلے میں اپنے منصبی ذمہ داریوں کا حقیقی ادراک کریں- مسلمانوں کی دینی سماجی پسماندگی کے جو اسباب ہیں ان کے ازالے کی کوشش کریں اور اس سلسلے میں واضح ہدایات کے ذریعے مسلم قوم کے کنفیوژن کو دور کریں – مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کی طرف خاص طور پر افراد قوم کو متوجہ کریں- آپ کا مذہب امن ومحبت اخوت و ہمدردی اور اخلاص و وفا کی تعلیم دیتا ہےجس کی اس وقت پوری دنیا اور خصوصا ہمارے ملک کو بے حد ضرورت ہے- آپ کی دینی شناخت اور مذہبی تشخص ہی دراصل آپ کے وجود کی علامت ہے موجودہ حالات میں مذہب کی اصل تعلیمات کی طرف واپسی ہی آپ کے مسائل کا حل ہے- خصوصا ہندوستان کی ملت اسلامیہ پر واضح ہونا چاہیے کہ آپ اس عظیم ملک کے عظیم باشندے ہیں صدیوں سے ہم نے اس گلشن کی آبیاری کی ہے ہمارے اجداد دفن ہوکر اس ملک کی مٹی کا حصہ ہوچکے ہیں ہمیں اس ملک سے محبت ہے اور ہم اس کے اتحادوسالمیت ، محبت ویکجہتی اور تعمیر و ترقی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے، ہمیں اس یقین کے ساتھ جینا ہے کہ ہمارا مذہبی تشخص اور ملک کی تکثیری روایات میں کوئی تضاد نہیں اور ہمیں دونوں کے ساتھ پورا انصاف کرنا ہے- قبل ازیں مرکزالمعارف المنائی کی جانب سے مولانا بدرالدین اجمل کو فخرالعلماء اور مرکز کے بانی ڈائریکٹر عمر گوتم صاحب کو رفیق العلماء کے خطاب سے نوازا گیا- ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے اس موقع پر اجمل گروپ کی دینی تعلیمی رفاہی سیاسی سماجی خدمات پر مشتمل ۲۰ منٹ کی ڈاکیومینٹری فلم “نیا سویرا” نشر کی جس میں یہ بتایا گیا کہ کس طرح اجمل گروپ کی جانب سے آسام کے دبے کچلے پچھڑے اور کمزور طبقات کی ہر سلسلے میں رہنمائی و امداد کی جاتی ہے- واضح رہے کہ گزشتہ روز مرکزالمعارف کے مسابقاتی پروگرام میں مرکز سے ملحقہ اداروں کے ۳۳ طلبہ نے انگریزی زبان میں موجودہ حالات اور دیگر موضوعات پر تقریریں کی تھیں ان کے نتائج کا اعلان اس آخری نشست میں کیا گیا جس میں اول پوزیشن شیخ عزیزالرحمان، دوم پوزیشن محمد اویس، سوم پوزیشن انیس الرحمان متعلم مرکز اسلامی انکلیشور گجرات نے حاصل کی-پروگرام سے خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر سید فاروق صدر ہمالیہ ڈرگس دہلی و دہرہ دون، ڈاکٹر فیصل عبداللہ،مفتی عبدالرحمان اجمل ایکزیکٹیو ٹرسٹی ایچ اے ایم ایم ہاسپیٹل و ریسرچ سینٹر آسام، مہاراشٹر اور جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرشامل تھے-

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart