اعتکاف

Views: 43
Avantgardia

محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند

عربی کا لفظ ہے۔ اس کا معنی ہے: ٹھہرنا۔ یہ اسلام کی ایک عبادت کا نام ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسی مسجد میں جہاں پنج وقتہ نماز ہوتی ہے، وہاں ٹھہرنے کی نیت سے قیام کرے۔ اعتکاف کی تین قسمیں ہیں: (۱) واجب: اس کی شکل یہ ہے کہ کوئی شخص اعتکاف کرنے کا نذر کرلے، تو اسے پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ (۲) سنت موکدہ: یہ رمضان کے آخر عشرے کا اعتکاف ہے۔اس کے لیے بیسویں رمضان کی افطاری مسجد میں کرنا ضروری ہے۔ اور عید کا چاند نظر آتے ہی یہ پورا ہوجاتا ہے۔عید کی رات اعتکاف میں شامل نہیں ہے، خواہ انتیس ہی کا مہینہ کیوں نہ ہو۔ (۳) مستحب: یہ اعتکاف کسی وقت بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے کسی چیز کی شرط نہیں ہے، جب کہ اول الذکر دونوں اعتکافوں میں روزہ شرط ہے۔ اسی طرح پہلے دونوں اعتکافوں میں وقت کی تحدید ہے، جب کہ اس اعتکاف میں وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے، ایک لمحے کا بھی اعتکاف ہوسکتا ہے، البتہ تینوں اعتکاف نماز ہورہی مسجد میں ہونا ضروری ہے، کیوں کہ اعتکاف دراصل نماز کے لیے انتظار کرنے کی عبادت ہے، لہذا جہاں نماز ہوگی، وہیں پر انتظار ہوگا۔
ان تینوں قسموں میں سے دوسری قسم کا اعتکاف رمضان میں ہوتا ہے۔
اگرچہ اعتکاف کا تذکرہ کلام پاک میں بھی ہے، ارشاد خدا وندی ہے:
ولا تباشروھن و انتم عاکفون فی المساجد(البقرۃ، ۷۸۱)
(مسجد میں رہتے ہوئے عورتوں سے مت ملو)۔ لیکن اس کی اصل فضیلت اور مشروعیت احادیث سے ثابت ہے۔ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے کی پابندی کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ حضرت ابی سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پہلے پہلے دونوں عشروں کا اعتکاف فرمایا: اعتکاف کا مقصد شب قدر کی تلاش تھا، لیکن فرشتے نے خبر دی کہ اس کا وقت آخر عشرے میں ہے، لہذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف کرنا چاہتے ہیں، وہ آخر عشرے کا اعتکاف کریں اور اسے طاق راتوں میں تلاش کریں۔ ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عباس ؓ اعتکاف کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں ہیں کہ
ھو یعکف الذبوب و یجری لہ الحسنات کعامل الحسنات کلھا(سنن ابن ماجہ، باب فی ثواب الاعتکاف)۔
یعنی اعتکاف سے ایک طرف جہاں انسان کی گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے، وہیں دوسرے بہت سے اعمال کا ثواب کیے بغیر مل جاتا ہے، جیسے جنازہ میں شرکت، مریض کی عیادت وغیرہ۔ ابن عباس ؓ کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ
من اعتکف یوما ابتغاء وجہ اللہ، جعل اللہ بینہ و بین النار ثلاث خنادق، کل خندق ابعد مما بین الخافقین(المعجم الاوسط للطبرانی، باب المیم من اسمہ محمد)۔
یعنی محض رضائے الٰہی کے لیے اعتکاف کرنے والوں کے اور دوزخ کے بیچ زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر فاصلہ کردیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اعتکاف کرنے کی توفیق ارزانی کرے، آمین۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart