فلمی موڈ

Views: 52
Avantgardia

محمد یاسین جہازی
میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے، فرائضی حدود کے پردہ سے بھی بے پردہ خاتون نے ایک گلاس پانی پیش کیا، جسے مسکراہٹ آمیز شکریہ کے ساتھ قبول کرتے ہوئے، تین سانسوں کا خیال رکھے بغیر پی گیا۔ مہمان کے ہاتھ سے گلاس لیتے ہوئے میزبان نے کہا کہ مولانا صاحب! آپ سنت سے بالکل ناواقف لگتے ہیں، کیوں کہ آپ کو تین سانس میں پانی ختم کرنا چاہیے تھا۔ یہ سن کر مولانا مہمان کو خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی۔ ایک جدید فکرو فیشن کی مظہر لڑکی کی زبان سے سنت کی اتنی گہری معلومات جان کر خوش ہونا فطری بات ہے۔البتہ ساتھ میں حیرت کی وجہ یہ تھی کہ سنت کی باریکیوں سے واقفیت رکھنے والی، آخر فرائض کے عملی مظاہر سے اتنا دور کیوں ہے……؟ قصہ مختصر یہ کہ یہاں سے مہمان و میزبان کے درمیان گفتگو کا سلسلہ دراز ہوا اور مختلف شرعی و سماجی مسائل پر بات کرتے ہوئے اپنے کیریر کے ڈریم پروجیکٹ کے بارے میں بتایا کہ ”میں بگ باس“ میں جاؤں گی۔ مولانا مہمان نے اس کی وجہ پوچھی تو بتایا کہ ”زندگی تھوڑی فلمی ہونی چاہیے“۔
یہ واقعہ دینی و دنیوی اعتبار سے متوسط درجے کی ایک فیملی کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تعلیمی اور معاشی اسٹیٹس نہ تو کفر کے اندیشے تک پہنچاتا ہے اور نہ ہی جہالت کے لیے معقول عذرکا سبب بن سکتا ہے۔ اب ایک رپورٹ اس سے اعلیٰ درجے اور اس سے نیچے درجے کے خاندان کی بھی دیکھتے ہیں۔ اعلیٰ درجے کی بات کریں، تو اس میں اعلیٰ درجے کا تعلیم یافتہ اور معاشی اعتبار سے مضبوط خاندان آتے ہیں، ایسے خاندان کے بچوں کے لائف اسٹائل اور تھنکنگ پاور کی بات کریں، تو دونوں فلمی موڈ میں ہی نظر آئیں گے، نظریہ حیات اور طرز زندگی کے حوالے سے ہر پہلو پر جائزہ لے لیجیے، آپ کو شریعت، کیریر، افکار، معاشرت، عائلی و خانگی مسائل ہر چیز میں ان کے لیے آئیڈیل لائف صرف اور صرف فلمی ماڈل ہوں گے۔ اسی طرح سب سے نچلے درجے کی فیملی کا جائزہ لیں، تو جس خاندان کی معاشی اور تعلیمی دونوں اسٹیٹس مایوس کن ہیں، غربت جہالت کے لیے معقول عذر ہے اور یہی جہالت غربت کی ذمہ دار بھی؛ ایسے افراد کی طرز فکر، لائف اسٹائل فلمی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایسے معاشرہ میں جاکر چھوٹے بڑے کسی سے بھی پوچھ لیجیے کہ آپ نے اس فیشن کا کپڑا کیوں خریدا، تو اس کا جواب اس کے علاوہ نہیں ہوسکتا کہ یہ فلاں ہیرو/ ہیروئن کا اسٹائل ہے۔ بڑے شہروں میں جھگی جھوپڑی میں رہنے والے اور دیہات میں بسنے والے سینکڑوں افراد، اسی طرح شہری سماج میں زندگی گذارنے والے سینکڑوں نوجوانان سے بات چیت کرنے کے بعد یہی خلاصہ ہوا کہ ان کے کیریر، سماج، رسوم و رواج، تہذیب و ثقافت، حتیٰ کہ فکرو نظر کے لیے کوئی آئیڈیل لائف ہے، تو وہ فلمی نمونے اور ان سے وابستہ افراد ہیں۔
انسانی سماج میں فلمی نظریہ و فکر اورلائف اسٹائل کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے کہ آج ہر شخص کا ہر عمل اور ہرقدم فلمی بن چکا ہے: ہر شخص کا لباس فلمی، زبان فلمی، لائف اسٹائل فلمی،چلنے پھرنے کا انداز فلمی، تہذیب فلمی، تعلیم فلمی،عبادت فلمی، ریاضت فلمی، رسوم و رواج فلمی، شادی بیاہ فلمی، عشق فلمی، محبت فلمی، گاڑی چلانے کا طریقہ فلمی، گویا ہر ہر ادا فلمی بن چکی ہے، حتیٰکہ شعور و ادراک سے عاری ایک معصوم بچہ سے بھی آپ سوال کریں گے کہ بیٹا آپ کیا بننا چاہتے ہو، تو اس کا جواب بھی فلمستانی ہی ہوگا۔ اس پر مزید طرفہ تماشا یہ ہے کہ اپنے قائدین کو بھی فلمی نقطہ نظر سے پرکھتے ہیں اور ان کے اندر مفروضی امتیازات کے بجائے حقیقی طاقتوں کو تلاش کرتے ہیں، جو ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ویلن کو ختم کرکے مسئلہ کا قصہ ہی تمام کردے، گذشتہ دنوں کے سوشل میڈیاز کے ٹرول میسیز اس کے گواہ ہیں۔اسی طرح ملت اسلامیہ کے ہر مسئلے میں اپنے نظریہ کو پرفیکٹ اور دوسروں کے نظریہ کو ملت فروشی پر مبنی قرار دینے میں فلمی موڈ کا ہی اثر ہوتا ہے، جس میں ہر شخص خود کو ہیرو اور دوسرے کو ویلن ثابت کرنے کی مکمل کوشش کرتا ہے۔
اس دنیا کی بقا و استمرار اختلاف پر قائم ہے، تمام مخلوقات کے باہمی تعاون، مختلف پیشوں اور انسانوں کی مختلف پوزیشن سے دنیا چل رہی ہے۔ جس طرح دنیا کو آباد رکھنے کے لیے انسانوں کی بستی ضروری ہے، اسی طرح انسانوں کو زندہ رکھنے کے لیے کائنات کی دیگر مخلوقات کا وجود بھی ضروری ہے۔ پھر انسانوں میں کسی کو بادشاہ، کسی کو رعایا، کسی کو امیر، کسی کو غریب وغیرہ وغیرہ ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ایک انسان کے لیے زندگی کے مختلف پہلو ہیں، بچپن، جوانی بڑھاپا، استاذ، طالب علم، ملازم، تاجر، اور اس کے علاوہ زندگی کی ہزاروں جہتیں ہیں، ان تمام جہتوں میں انسان کو آئیڈیل کی ضرورت ہے۔
دنیا کے تمام انسان کے لیے؛خواہ وہ کسی بھی مذہب سے وابستہ ہو،اسلام اپنی تعلیمات اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت کی شکل میں،زندگی کے ہرپہلو، اس پہلو سے وابستہ ہرمسئلہ اورہر صورت حال کے لیے عملی نمونہ اور آئیڈیل فکر پیش کرتا ہے۔ علامہ سید سلیمان ندوی نور اللہ مرقدہ، مختلف طبقات انسانی اور الگ الگ انسانی احوال کا تفصیلی تذکرہ کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ
”غرض تم جو کوئی بھی ہواور کسی حال میں بھی ہو، تمھاری زندگی کے لیے نمونہ، تمھاری سیرت کی درستگی اور اصلاح کے لیے سامان، تمھارے ظلمت خانہ کے لیے ہدایت کا چراغ اور رہ نمائی کا نور محمد ﷺ کی جامعیت کبریٰ کے خزانہ میں ہر وقت اور ہمہ دم مل سکتا ہے۔“ (خطبات مدراس، ص/102)
اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایک انسان کے لیے، زندگی، حتیٰ کہ مابعد زندگی کے لیے جتنے بھی تعمیری، تشکیلی اور عروج بخشنے کے لیے آئیڈیاز ہیں، وہ فلمی آئیڈیا ز نہیں؛ بلکہ اسلامی تعلیمات اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت کے نمونے ہیں۔ آج ہم بحیثت مسلمان بھی اور بحیثت انسان بھی؛ تمام شعبہ ہائے زندگی میں ظلم و فساد اور تباہی کے دہانے پر اسی وجہ سے پہنچ گئے ہیں کہ ہمارے آئیڈیل اسلامی ہدایات کے بجائے فلمی چیزیں بن چکی ہیں، جن کی حقیقت تخیلی پر فریب حسین مناظر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
تو اس مقام پر ذرا گردو پیش کا جائزہ لیجیے اور گہرائی سے غورو فکر کیجیے کہ اب تک ہر چیز میں فلمی چیزوں کو آئیڈیل بنانے سے ہم کہاں تھے اور کہاں پہنچ گئے اور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رکھیں گے، تو ہم، ہماری زندگی اور ہمارا سماج کہاں پہنچ جائے گا، اس لیے حقیقت پر مبنی مشورہ یہی ہے کہ اگر ہم اپنی زندگی میں ہمہ جہت ترقی چاہتے ہیں، تو ہمیں فلمی کے بجائے نبوی طریقوں کو نمونہ بناکر زندگی کو آگے بڑھانا ہوگا، اور اس کے علاوہ کوئی اور سکیور طریقہ نہیں ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart