بانی امارت شرعیہ بحیثیت نائب امیر شریعت

مولانامفتی محمد ثناء الہدی قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ وجھارکھنڈ

ابو المحاسن مولانا محمد سجادؒ (۹۹۲۱ھ مطابق ۹۷۸۱ء- ۷۱شوال ۹۵۳۱ھ مطابق ۸۱نومبر ۰۴۹۱ء) کی اصلی حیثیت تو بانیئ امارت شرعیہ کی ہے اور اصلاً امارت شرعیہ کا قیام فکر سجادکی عملی تصویر ہے، مولانا کی اس حیثیت کے علاوہ دوسری حیثیت نائب امیر شریعت کی ہے، یہ مولانا کی کسر نفسی اور خلوص کی بات تھی کہ سارا کچھ کرنے اور بھاگ دوڑ کے بعد جب فکر سجاد کی تجسیم کا وقت آیا تو مولانا نے اس کے کلیدی عہدے کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیا، حالانکہ روایت یہ رہی ہے کہ جو فکر دیتا ہے، خاکے بناتا ہے، عملی رنگ وروپ اختیار کرنے کے بعد کلیدی عہدہ اسی کے نام ہوتا ہے اور تحریک بھی عموماً اسی کے نام سے موسوم ہوتی ہے، مارکسزم، گاندھی ازم اور اب لالو ازم جس میں حکمراں کوئی ہوتا ہے اور کام کوئی اورکرتا ہے، اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، لیکن مولانا کی یہ فکر، اسلامی فکر تھی، خیال، اسلامی خیال تھا، بھاگ دوڑ، جد وجہد سب اسلام کے لیے تھا، اس لئے مولانا نے اس کا نام بھی خالص اسلامی ”امارت شرعیہ“ تجویز کیا، پانچ سو سے زائد علماء، چار ہزار سے زائد عوام اور اعیان وطن کو محلہ پتھر کی مسجد پٹنہ میں جمع کیا، رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے دور دراز کے اسفار کئے، جن کو تردد تھا، ان کے سامنے علمی طور پر اس مسئلہ کو واضح کیا۔ حضرت مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحیؒ لکھتے ہیں:
”آپ نے امارت شرعیہ کی اسکیم کو بروئے کار لانے کے لیے صوبہ وبیرون صوبہ کے علماء ومفکرین سے مختصر اور طویل ملاقاتیں کیں، ہندوستان کے سیاسی حالات ان کے سامنے رکھے، مسلمانوں کی زندگی کا نقشہ کھینچا اور پھر ان حالات میں قرآن کا مطالبہ، مسئلہ کی نوعیت اور مسلمانوں پر عائد ہونے والے فرائض کی تفصیل وتشریح کی، نیز اس باب میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات خواہ وہ علم وشریعت کے راستے سے ہوں یا دنیاوی مصلحت کی راہ سے، دور فرمائے“۔(۱)
۶۲جون ۱۲۹۱ء مطابق ۹۱شوال ۹۳۳۱ھ؁ کو محلہ پتھر کی مسجد میں امارت شرعیہ کے قیام کا فیصلہ ہوا تو مولانا نے عہدے سے اپنے کو دور رکھا اور حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ کی ہدایت اور مشورے پر مولانا سید شاہ بدر الدین قادریؒ (م۳۴۳۱؁ھ) پہلے امیر شریعت منتخب ہوئے اور بہت زور ڈالنے پر مولانا نے نائب امیر شریعت کی حیثیت سے کام کرنا منظور کیا اور دو امراء شریعت مولانا سید شاہ بدر الدین قادریؒ اور مولانا سید شاہ محی الدین قادریؒ رحمھما اللہ کے عہد میں نائب امیر شریعت کی حیثیت سے اس دلجمعی اور لگن سے کام کیا، جس کی مثال مِلّی تاریخوں میں کم ملتی ہے۔حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں:
”ان دونوں بزرگوں کی موجودگی میں مولانا محمد سجاد صاحب بدستور نائب امیر شریعت رہے اور وہی در حقیقت اس پورے نظام کا دماغ اور مرکز اعصاب تھے، امیر شریعت کی شکل میں قلب درد مند اور نائب امیر شریعت کی شکل میں ذہن بیدار اس نظام کو حاصل تھا، دل ودماغ کے اس تعاون نے اس نظام میں وہ اعتدال وتوازن اور عوام وخواص کا وہ اعتماد پیدا کردیا، جو ایسی عظیم تنظیم اور تحریک کے لیے ضروری ہے“۔(۲)
فیصلے سارے اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور اس میں خیر ہی خیر ہوتا ہے، اس فیصلے میں خیر کا یہ پہلو نکل آیا کہ بہار کی دو بڑی خانقاہوں کی سرپرستی اس ادارہ کو پہلے دن سے مل گئی، اور یہی دو خانقاہیں بہار میں اس زمانہ میں مرجع خلائق تھیں اور آج بھی ہیں، خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشیں پہلے امیر شریعت منتخب ہوئے تو خانقاہ کے سارے معتقدین ومتوسلین بیک وقت امارت شرعیہ سے منسلک ہوگئے، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشیں کی ایما پر یہ انتخاب ہوا اور حضرت مونگیری نے اپنے مریدین پر ایک خط کے ذریعہ واضح کردیا کہ جو ہم سے منسلک ہے، وہ امارت شرعیہ سے منسلک ہوجائے اور یہ بیعت، طریقت کے خلاف نہیں ہے، امیر شریعت سے بیعت امارت وطاعت اور پیر سے بیعت طریقت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں؛اس لیے ایک شخص کے لیے ممکن ہے کہ وہ بیعت امارت امیر شریعت سے کرے اور اپنے پیر سے طریقت میں بیعت کو جاری رکھ سکے، اس عمل کی وجہ سے دونوں خانقاہ کا جو اثر بہار میں تھا، اس کا فائدہ امارت شرعیہ کو مل گیا۔
دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ کلمہ کی بنیاد پر تنفیذ شریعت علی منہاج النبوت جو امارت کا بنیادی مقصد تھا اور جس کی وجہ سے فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ملی مسائل میں متحد ہونے کا اعلان کیا گیا تھا، اس کی عملی شکل کسی اور کے امیر بننے سے سامنے نہیں آتی، خانقاہ مجیبیہ کا نقطہئ نظر اعراس و رسومات اور نذر ونیازکے اعتبار سے علماء دیوبند سے الگ ہے، البتہ وہ ایک معتدل خانقاہ ہے اور یہاں ہرد ور میں اہل علم کی سیادت وقیادت رہی ہے، اس اعتدال وتوازن کی وجہ سے یہ حضرات علماء دیوبند کے ساتھ کام کرنے کو تیار رہتے ہیں، حضرت مولانا شاہ عون احمد قادریؒ جمعیت علماء بہار کے صدر رہے اور مولانا اسعد مدنیؒ کی قیادت میں جمعیت علماء بہار کے کام کوانہوں نے آگے بڑھایا، خالص دیوبندی امیر بننے کی صورت میں ایک بڑے حلقے کے امارت سے کٹنے کا اندیشہ تھا، امیر شریعت خانقاہ مجیبیہ کے ہوئے تو وہ پورا حلقہ جڑ گیا اور لوگوں میں یہ بہت اچھا پیغام گیا کہ اتحاد کی راہ میں قیادت رکاوٹ نہیں ہوا کرتی۔
تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ خانقاہ مجیبیہ کے سجادہ نشیں روایتی طور پر خلوت نشیں ہوتے ہیں، حضرت مخدوم منہاج الدین راستیؒ کے عرس، سفر حج اور ہوسپٹل کے علاوہ وہ خانقاہ کے حلقہ سے باہر نہیں نکلتے، ایسے میں حضرت امیر شریعت اول کے لیے غیر منقسم بہار کے اسفار اور امارت شرعیہ کے پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی کوئی شکل نہیں تھی، کسی تحریک کو گاؤں گاؤں تک پہنچانے کے لیے اسفار اور لوگوں تک پہنچنا ضروری ہوتا ہے، صرف عقیدت ومحبت کی بنیاد پر کسی تحریک کو مؤثر اور کامیاب نہیں کیا جاسکتا، ایسے میں نائب امیر شریعت کی حیثیت سے بانیئ امارت شرعیہ کے انتخاب سے یہ فائدہ ہوا کہ حضرت امیر شریعت کے حکم اور ہدایت کے مطابق نائب امیر شریعت کے دورے شروع ہوئے اور نائب امیر شریعت کی حیثیت سے مولانا سجادؒ کو اپنے بنائے ہوئے خاکے میں رنگ بھرنے کا پورا موقع ملا، یہ ایک قدرتی اور تکوینی نظام تھا، جس کے تحت بانیئ امارت شرعیہ کا نائب امیر شریعت کی حیثیت سے انتخاب ہوا اور امارت شرعیہ کا پیغام گھر گھر پہنچ سکا، مولانا نے نائب امیر شریعت بننے کے بعد پہلا دورہ بتیا، چمپارن کا کیا اور لوگوں کو امارت شرعیہ کی اہمیت اور اطاعت امیر پر ابھارا۔مولانا انیس الرحمن قاسمی ناظم امارت شرعیہ نے ایک جگہ لکھا ہے:
”نائب امیر شریعت کی حیثیت سے بانی امارت شرعیہ حضرت مولانا محمد سجاد صاحب اپنی مخلصانہ کوششوں، ریاضتوں اور پُرعزم جد وجہد کے ذریعہ پورے بہار میں فکر امارت سے امت کو واقف کراتے رہے، لوگ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا، یہاں تک کہ بہار کا ایک بڑا مسلم علاقہ شرعی زندگی گزارنے کے لیے امیر شریعت کے ماتحت منظم ہوگیا“۔(۳)
بانی امارت شرعیہ نے پہلے دن سے امت کی اجتماعی شیرازہ بندی پر زور دیا، انہوں نے کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کو امارت کا نصب العین بناکر کام کرنا شروع کیا، یہ کام آج بھی آسان نہیں ہے اس وقت تو اور بھی مشکل تھا، مولانا نے بحیثیت نائب امیر شریعت جو دورے کئے اس میں اس موقف کو مضبوطی سے رکھا اور واضح کیا کہ فروعی مسائل کو اختلاف کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہئے، کیوں کہ مسلک عمل کے لیے ہے، تبلیغ کے لیے نہیں، تبلیغ اسلام کی کرنی چاہیے، مسلک کی نہیں، مولانا نے اس موقف کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف مکتب فکر کے لوگوں کو امارت شرعیہ سے جوڑا، مختلف مجلسوں میں ان کو پابندی سے بلاتے رہے، اس طرح شدت میں کمی آئی اور بعد کے دنوں میں اسی نہج پر مسلم مجلس مشاورت، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور آل انڈیا ملی کونسل کی تشکیل عمل میں آئی جن کی خدمات کے ذکر کے بغیر ہندوستان کی کوئی مِلّی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔
مولانا نے بحیثیت نائب امیر شریعت مضبوط بنیادوں پر تحفظ مسلمین اور انسانوں کے مسائل ومشکلات دور کرنے کے لیے جد وجہد کی، تحفظ مسلمین کے حوالہ سے ان کے عقائد واعمال کی اصلاح، شرک وبدعات اور جاہلانہ رسم ورواج کی اصلاح کے ساتھ ان پر کوئی افتاد پڑی تو اس کے لیے سرگرم عمل ہوئے، مغربی چمپارن کے علاقہ میں جب سدھی تحریک نے اپنے دست وبازو پھیلائے تو مولانا نے مستقل وہاں قیام کیا اور اپنے لڑکے کی علالت کی پرواہ نہیں کی اور بالآخر ان کا لڑکا حسن سجادجو دیوبند سے فارغ ہوکر آیا تھا، راہیئ آخرت ہوگیا، اور مولانا کی ملاقات بقید ہوش وحواس اس لڑکے سے نہیں ہوسکی، مولانا اس کام میں اتنے منہمک ہوئے کہ اپنی صحت کی پرواہ نہیں کی اور بالآخر مرض الموت بھی بتیا ہی سے لے کر آئے اور جان جاں آفریں کے سپرد کردیا، کام کے تئیں اس قدر مخلصانہ جد وجہد کی مثالیں نایاب تو نہیں، کمیاب ضرور ہیں۔
مسلمانوں کے ساتھ ساتھ نائب امیر شریعت اکرام انسانیت اور انسانی مسائل ومشکلات کے دور کرنے کے سلسلہ میں بھی کافی سرگرم تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے امارت شرعیہ کی خدمات کا دائرہ مسلمانوں تک محدود نہیں رکھا، ان کو امت کی فکر تھی اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے کے لیے ان کے نزدیک امت کا مطلب امت دعوت واجابت دونوں ہوتا تھا، امارت شرعیہ نے اپنے رفاہی کاموں کو اسی نہج پر بڑھایا، آسمانی اور زمینی آفات کے موقع سے خواہ وہ زلزلہ ہو، یا آگ لگی، سیلاب کی تباہ کاری ہو یا فرقہ وارانہ فسادات کی تباہی، ہر موقع سے مولانا نے امداد واعانت میں انسانی بنیادوں کو سامنے رکھا اور جو ضرورت مند اور پریشان حال تھے، ان کی پریشانی دور کرنے کے لیے آگے آئے۔
کام جب انسانی بنیادوں پر کیا جاتا ہے تو انسانیت کی کوئی سر حد نہیں ہوتی، ملکوں کی جغرافیائی تقسیم انسانی بنیادوں کو منہدم نہیں کرتی؛ اسی لیے مولانا نے بحیثیت نائب امیر شریعت خدمات کے دائرے کو جغرافیائی سرحدوں میں قید نہیں کیا، اسرائیل کے قیام سے قبل ہی جب فلسطینی مسلمانوں کے حقوق پر شب خوں مارنے کی تیاری تھی تو مولانا نے ۹۱جون ۶۳۹۱ء؁ کو جمعہ کے دن پورے صوبہ میں یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا، مولانا کی اس آواز پر بڑے پیمانے میں احتجاج اور مظاہرے کیے گئے، دوسری طرف جمعہ کی نماز کے بعد فلسطینیوں کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا صرف دعا کے قائل نہیں تھے، اسباب کے درجے میں احتجاجی مظاہرے کو بھی درست سمجھتے تھے اور اس زبان کا استعمال کرتے تھے، جو زبان حکمراں اور وقت کے سیاسی قائدین سمجھا کرتے تھے۔
جب فلسطینیوں پر ظلم وستم کی گرم بازاری میں اضافہ ہوا تو مولانا نے ۳ستمبر ۷۳۹۱ء؁ کو پھر سے یوم احتجاج منایا، جس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی اور جلسے، جلوس اور مظاہرے کے ذریعہ اپنا موقف دنیا کے سامنے رکھااور بتایا کہ ظلم وستم دنیا کے جس حصہ میں بھی ہو، ہم ظالموں کے خلاف ہیں اور مظلوم ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔
امارت شرعیہ کے جن کاموں کو پہلے مرحلہ میں نائب امیر شریعت نے مضبوطی کے ساتھ کھڑا کیا، ان میں امارت شرعیہ کا شعبہئ قضا ہے، ایک زمانہ تک مولانا خود ہی مقدمات کو دیکھتے رہے، سماعت کرتے رہے، پھر اپنی مشغولیت کے پیش نظر یہ کام قاضی نور الحسن صاحبؒ کے سپرد کردیا، لیکن پوری زندگی اس کام کی توسیع کے لیے فکر مند رہے، دھیرے دھیرے یہ شعبہ امارت شرعیہ کی شناخت بن گیا، آج صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان ہی نہیں ہندوستان کے باہر بھی اس کے فیصلے اور دار القضا کے طریقہئ کار کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی تعریف کی جاتی ہے، اس نظام کے اجراء سے ایک طرف تو غیر مسلم ججوں کے یہاں لوگوں کا آنا جانا کم ہوا، دوسری طرف شرعی طور پر خصوصیت سے عورتوں پر ہورہے مظالم کو ختم کرنے میں مدد ملی اور گلو خلاصی کی شکل بنی، مولانا کے دور میں ہی اس موضوع پر کتابیں تیار ہوئیں، اس طرح علمی اعتبار سے بھی قضا کے نظام کو مضبوط کیا گیا۔

مولانا کی نظر میں سیاست شجر ممنوعہ نہیں تھی، بلکہ وہ اسے ملی اور اسلامی کاموں کو باوقار انداز میں بڑھانے کا ذریعہ سمجھتے تھے، ان کی نگاہ مغرب کے جمہوری نظام اور اسلامی سیاست پر گہری تھی، وہ ایک طرف فقیہ النظر عالم تھے اور دوسری طرف سیاست کے بڑے رمز شناس، کہنا چاہیے کہ ان کی فکر میں دین وسیاست کی حسین آمیزش تھی، وہ اقبال کی اس فکر کے قائل تھے کہ ”جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“، اس لیے مولانا نے سیاست کے خار زار میدان میں بھی قدم رکھا اور مضبوطی سے اپنے پاؤں جمائے، کانگریس اور مسلم لیگ کی کشمکش کے درمیان آپ نے ان دونوں سے الگ اپنے امیدوار انڈی پنڈنٹ پارٹی کے بینر تلے کھڑے کیے اور اس کے امیدوار اتنی بڑی تعداد میں کامیاب ہوکر آگئے کہ جب کانگریس نے جو سب سے بڑی پارٹی بن کر سامنے آئی تھی، اپنی بعض مصلحتوں کی وجہ سے حکومت سازی سے انکار کردیا تو مولانا نے انڈی پنڈنٹ پارٹی کی حکومت بنا ڈالی، اس زمانہ میں وزیر اعظم کا عہدہ ہوتا تھا، چنانچہ محمد یونس بار ایٹ لا کو اپنی پارٹی کی طرف سے وزیر اعظم بنادیا، اور پھر یہ بادشاہ گر امارت میں اپنی فقیری بوریے پر آبیٹھا، ایسا مولانا نے اس سیاسی اور آئینی طاقت کے حصول کے لیے کیا، جس کے بغیر ملی کاموں کو بغیر کسی رکاوٹ کے کرنا ممکن نہیں ہوتا، اسی لیے مولانا یہ چاہتے تھے کہ علماء سیاست میں بھی قوم کی رہبری کا فریضہ انجام دیں۔مولانا کو شکایت تھی کہ!
”علماء ربانیین اور فضلاء عظام، ماہرین شریعت نے (سیاست میں) عملی حیثیت سے اتنا حصہ نہیں لیا جتنی کہ ضرورت تھی، اگر یہ حضرات عملاً حصہ لیتے رہتے اور اپنے اوقات کا معتد بہ حصہ اس پُرخار وادی میں گذارتے تو امید یہ تھی کہ اتنے مفاسد پیدا نہیں ہوتے اور شریعت اسلامیہ کے اصول وفروع کی اتنی بے حرمتی نہ ہوتی اور مسلمانوں کی بے عزتی جو وقوع میں آتی ہے، نہ ہوتی“۔(۴)
مولانا کے اس فکر کی عملی شکل انڈی پنڈنٹ پارٹی تھی، جس کا تاسیسی اجلاس ۴۱ستمبر ۲۳۹۱ء کو انجمن اسلامیہ ہال میں منعقد ہوا، جس کا مقصد انگریزوں سے پورے ملک کو مکمل طور پر آزاد کرانا اور مسلمانوں کی سیاسی رہنمائی کے لیے امارت شرعیہ کو آگے بڑھانا تھا، مولانا نے یہ گنجائش بھی رکھی تھی کہ اگر کوئی مجلس امارت شرعیہ کے اصولوں اور ضابطوں کو سامنے رکھ کر تشکیل پائے تو امارت شرعیہ اس کی حمایت کرے گی، مولانا سجاد ایک طرف نائب امیر شریعت تھے، دوسری طرف اس پارٹی کے صدر بھی تھے، اکیس نفری مجلس عاملہ مشیر کار کے طور پر تھی، جس میں اس وقت کے بڑے اور قدر آور لیڈران شامل تھے، اس پارٹی نے مسلم لیگ اور کانگریس کے ساتھ عبد العزیز بیرسٹر کی پارٹی مسلم یونائٹیڈ پارٹی اور شفیع داؤدی کی احرار پارٹی کے مقابل بھی اپنے امیدوار کھڑے کیے اور پچاس فی صد مسلم سیٹوں پر فتح وکامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔
انڈی پنڈنٹ پارٹی کی حکومت صرف ایک سو بیس دن قائم رہی؛ لیکن اس پوری مدت میں مولانا نے اس حکومت سے جو کام لیا، وہ تاریخ کا روشن باب ہے، سیاسی پارٹیاں لمبی مدت میں اتنے کام نہیں کرپاتی ہیں۔کیوں کہ وہ عوامی مفادات کے لیے نہیں، پارٹی مفادمیں کام کرتی ہیں اور مصلحتوں اور تحفظات کے دائرے میں قید ہوکر بڑے اور انقلابی قدم نہیں اٹھا پاتی ہیں۔ موجودہ امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم نے لکھا ہے۔
”حضرت سجاد برقعہ پوش سیاست کے قائل نہیں تھے، وہ خطرات سے کھیلنا جانتے تھے، حالات سے نپٹنے کی صلاحیت ان میں تھی، وہ اپنی شخصیت کو بنانے، سنوارنے اور اس کی عظمت کے لیے داؤ پیچ کے قائل نہیں تھے، وہ ملت کی سربلندی کے خواہاں اور امت کی سرفرازی کے طلب گار تھے، اسی لیے انہوں نے اتحاد اور تنظیم کے بعد سیاسی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا، الیکشن لڑایا، حکومت بنائی“۔(۵)
مولانا نے بہار میں پہلی بار اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلایا، دفاتر میں کام اردو میں کیے جانے لگے، کسان لگان کے بوجھ تلے دبے جارہے تھے اور ان کی زندگی اجیرن تھی، منشی پریم چند نے اپنے مختلف افسانوں کے پلاٹ کسانوں کی اسی حالت زار سے اخذ کیا ہے، مولانا کو کسانوں کے ساتھ زمینداروں کے ذریعہ اور حکومتی سطح پر جاری ظلم وستم کا ادراک تھا، مولانا جانتے تھے کہ کسان سردی وگرمی جھیل کر مفلسی میں غذائی اجناس پیدا کرتا ہے اور ان کی ساری کمائی مہاجنی سود، زمینداروں کے لگان اور حکومت کے ذریعہ عائد ٹیکس میں ختم ہوجاتی ہے اور پھر کسان بھوکوں مرتے ہیں، مولانا نے اس قلیل مدت میں کسان پر لگائے گئے لگان میں تخفیف کا قانون پاس کرایا، جس سے کسانوں کو بڑی راحت ملی۔
۸۳۹۱ء؁ تک اسلامی اوقاف کی حفاظت کا بہار میں کوئی نظم نہیں تھا اور اوقاف کی جائداد برباد ہورہی تھی، مولانا نے اسلامی بنیادوں پر وقف بل امارت شرعیہ کے افراد کے ذریعہ تیار کراکر اسے بہار حکومت سے نافذ کرایا اور اسلامی اوقاف کو ٹیکس سے مستثنی قرار دیا گیا، اس طرح ملی سرمایہ کو حکومت کے دستبرد میں جانے سے محفوظ کرانے کی قابل قدر کوشش کی۔بعد کے دنوں میں انہیں خطوط پر وقف ایکٹ کو مزید مؤثر بنایاگیا؛لیکن آزاد ہندوستان میں اوقاف کے حوالہ سے نائب امیر شریعت کی فکر اور طریقہئ کار کو پورے طور پر نافذ نہیں کیا جاسکا؛ اس لیے آج بھی اوقاف برباد ہورہے ہیں اور لوٹ کھسوٹ جاری ہے۔
مولانا کو اس بات کا احساس تھا کہ ابتدائی تعلیم کو لازم قرار دیا جانا چاہیے تاکہ بچے ناخواندہ نہ رہیں، اب جب کہ ہندوستان میں رائٹ ٹو ایجوکیشن کے ذریعہ تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے تو نائب امیر شریعت کی بہت یاد آتی ہے، وہ تعلیم کے لزوم کے ساتھ نصاب میں مذہبی تعلیم کی شمولیت کو ضروری سمجھتے تھے۔ مولانا کی سوچ یہ تھی کہ خدا بیزار تعلیم سے جو نسل اٹھے گی وہ مذہب بیزار ہوگی، اس لیے مولانا نے وزیر تعلیم ڈاکٹر سید محمود صاحب کو اس پر تیار کیا کہ وہ تعلیم گاہوں میں مذہبی تعلیم کا بھی انتظام کرائیں، مولانا کی اس مہم کا نتیجہ ہوا کہ ۹۱فروری ۹۳۹۱ء؁ کو وزیر تعلیم نے ابتدائی تعلیم گاہوں میں مذہبی تعلیم کو اصولاً منظور کرلیا۔
جب اسمبلی میں ڈوری بل لایا گیا، جس کی رو سے جہیز اور مہر تک لینا جرم کے زمرے میں آرہا تھا، مولانا نے انڈی پنڈنٹ پارٹی کے ذریعہ حکومت کو اس پر مجبور کیا کہ وہ مسلمانوں کو اس قانون سے الگ رکھے، چنانچہ اس میں ترمیم کرکے مسلمانوں کو اس سے الگ رکھا گیا۔مولانا مہر کے خلاف اس بل کو مداخلت فی الدین سمجھتے تھے؛ کیوں کہ مہر عورت کا حق ہے اور قرآن کریم میں اس کے لیے واضح حکم ”وآتوا النساء صدقتھن نحلۃ“ موجود ہے، اس لیے کسی بھی دنیاوی قانون کے ذریعہ قانون الہی میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔
مولانا ابو المحاسن محمد سجادؒ نے سیاسی طور پر ملت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی گروپ بھی حزب اللہ کے نام سے قائم کیا، ۹ذی قعدہ ۴۴۳۱؁ھ کو اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا اور اس کی شاخیں چمپارن، آرہ اور صوبہ کے دیگر مقامات پر قائم ہوئیں، ابتدا میں شفیع داؤدی اور مولوی حسن جان جیسے لوگ بھی اس میں شریک تھے، اس تنظیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن مولانا کی مشغولیات کی وجہ سے یہ تنظیم زیادہ دنوں قائم نہیں رہ سکی اور جلد ہی تعطل کا شکار ہوگئی۔ مولانا نے جن بنیادوں پر حزب اللہ کو قائم کیا تھا، اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ آج ہے، مولانا کے دور نیابت میں شاردا بل بھی اسمبلی میں پیش ہوا، جس میں ۸۱سال سے کم عمر کے لڑکے اور بارہ سال سے کم عمر کی لڑکی کی شادی کو تعزیرات کے تحت لایا گیاتھا، ظاہر ہے کہ یہ صراحتاً دین میں مداخلت تھی، اسلام میں کم عمری کی شادی بھی بعض مصلحتوں کی وجہ سے درست ہے اور ولی اپنی صوابدید پر کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شادی کرسکتا ہے، مولانا نے اس بل کے مضر اثرات، فقہی اور قانونی طور پر اس کے غلط ہونے کے دلائل فراہم کیے، سول نافرمانی کی تحریک پر لوگوں کو ابھارا، مجلس تحفظ ناموس شریعت کے نام سے جمعیۃ علماء کے ذریعہ قائم کردہ تحریک کی قیادت کی، لوگوں کو اس قانون کے خلاف عملی اقدام کے لیے تیار کیا، چنانچہ نابالغ لڑکے لڑکیوں کی شادی کے سلسلہ میں جو لوگ مذبذب تھے، وہ بھی میدان میں آئے، اس مسئلہ پر امارت شرعیہ کی سرپرستی میں غیر معمولی اور تاریخی تحریک چلائی گئی، اس طرح یہ معاملہ معرض التوا میں گیا اور مسلمانوں کو ان کے پرسنل لا کے مطابق شادی بیاہ کرنے کی اجازت ملی،اتنا ہی نہیں؛بلکہ ۷۳۹۱ء؁ کا شریعت اپلی کیشن ایکٹ اور آزاد ہندوستان کے دستور میں بنیادی حقوق کے طور پر، پرسنل لا کی شمولیت کی داغ بیل بھی نائب امیر شریعت ہی نے ڈالی تھی، مولانا کی اس فکر کو جمعیۃ علماء ہند اور دیگر اسلامی جماعتوں نے مذہبی تحفظ کو آئینی اور دستوری بنانے کے لیے انگریزوں کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی، جو بعض وجوہ سے اس وقت دستور کا حصہ نہیں بن سکیں، مولانا نے”ہندوستان کا آئندہ دستور اساسی“ کے عنوان سے لکھا ہے کہ!
”آئندہ دستور میں ایک دفعہ بنیادی حقوق (FUNDAMENTAL RIGHTS)کی ہو، جس میں دیگر قوموں کے بنیادی حقوق کی صراحت کے علاوہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی تفصیلات درج ہوں اور اصولی طور پر یہ وضاحت ہو کہ مسلمانوں کے خاص باہمی معاملات اور معاشرتی رسم ورواج جو مذہبی احکام کے ماتحت ہیں، اس میں کسی قسم کے تغیر وتبدل کا اختیار کسی حکومت اور مجلس قانون ساز کو نہ ہوگا اور نہ اس کے متعلق کوئی قانون پاس ہوسکے گا، الا یہ کہ مسلمان خود اپنے مذہبی احکام کی پابندی یا ان کی ترویج کے لیے کوئی مسودہئ قانون پیش کرسکیں“۔(۶)
مولانا کے نزدیک یہ مسئلہ ہندوستان میں اسلامی زندگی گزارنے کے لیے انتہائی ضروری تھا، لیکن اس وقت جس شدت سے اس مسئلہ کو اٹھایا جانا چاہیے تھا، نہیں اٹھایا جاسکا، مولانا نے اپنے مضمون میں تحفظ حقوق مسلمین کے دعویداروں کی جانب سے اس بے توجہی کا شکوہ بھی کیا ہے، بعد کے دنوں میں یہ ہندوستانی دستور کا حصہ بن گیا اور اسی کے سہارے آج مسلم پرسنل لا کی لڑائی لڑی جارہی ہے، مولانا کی جو معروضات تھیں اس کی معنوی پرتیں آج کے ہندوستان میں کھلتی جارہی ہیں اور ان امور پر توجہ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہورہی ہے۔
مولانا کی نگاہ دنیاوی قوانین اور اس کے متعلقات پر بہت گہری تھی، وہ ہر وقت بیدار اور حساس رہا کرتے تھے، ناممکن تھا کہ پورے ہندوستان میں اسلام مخالف کوئی بل پیش ہو اور مولانا اس کے لیے سرگرم نہ ہوں، مرکزی حکومت کے ذریعہ وراثت بل جب پیش ہوا جس کے بعض دفعات شریعت کے خلاف تھے، مولانا نے اس مسئلہ پر محمد علی جناح سے کھل کر بحث کیا، پھر بعد میں اسلامی حقوق اور مسلم لیگ کے موضوع پر ایک طویل خط محمد علی جناح کو لکھا، جو بعد میں اسلامی حقوق اور مسلم لیگ کے نام سے شائع ہوا۔ جناب محمد یونس صاحب بار ایٹ لا نے جو انڈی پنڈنٹ پارٹی کی اسمبلی میں قیادت کررہے تھے اور ایک سو بیس دن بہار کے حکمراں رہے، انہوں نے مولانا کے بارے میں بجا طور پر لکھا ہے کہ!
”ہم پوری بصیرت کے ساتھ یہ جانتے ہیں کہ مولانا مرحوم نے سیاست میں حصہ لیا تو وہ بھی مذہب کے لیے، الیکشن میں حصہ لیا تو وہ بھی مذہب کے لیے، کانسل اور اسمبلی کے مباحثات میں حصہ لیا تو وہ بھی مذہب کے لیے“۔(۷)
امیر شریعت سادس حضرت مولانا سید نظام الدینؒ نے صحیح لکھا ہے کہ!
”حضرت مولانا محمد سجادؒ کو جو وقت ملا، جو زندگی ملی، جو صلاحیت حق تعالی کی طرف سے ان کو ودیعت ہوئی اور جو بصیرت ایمانی اور حمیت دینی ان کو عطا ہوئی تھی، اس سے انہوں نے کام لیا اور مختصر مدت کے اندر ایک ایسا انقلابی نقشہ بنادیا،جو آج ہمارے سامنے ہے“۔(۸)
مختصر یہ کہ مولانا کی پوری زندگی ملت کے لیے وقف تھی، اعلی فکر اور سادہ زندگی آپ کا طرۂ امتیاز تھا، ملت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے والی اس شخصیت کی خدمات پر روشنی ڈالنے کے لیے چند صفحات کافی نہیں ہیں؛ بلکہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے، مولانا کی زندگی اور خدمات کے دائرہ کو چند لفظوں میں بیان کرنا ہو تو شاعر کے اس شعر سے مدد لینی ہوگی۔
پھونک کر اپنے آشیانے کو
بخش دی روشنی زمانے کو
مصادر ومراجع
(۱) امارت شرعیہ دینی جد وجہد کا روشن باب:۲۳
(۲) مقدمہ: امارت شرعیہ دینی جد وجہد کا روشن باب:۶۴
(۳) حرف تعارف: امارت شرعیہ دینی جد وجہد کا روشن باب:۱۱-۰۱
(۴) خطبہئ صدارت:۴۴،۳۴
(۵) حیات وخدمات:۱۳
(۶) مقالات سجاد:۸-۹
(۷) حیات سجاد:۲۸۱
(۸) حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد حیات وخدمت:۳۱

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں