گالی دینا

مفتی محمد شوکت علی قاسمی

گالی گلوچ کا گناہ پہل کرنے والے پر
]۶۷[ (۱) عَنْ اَبِیْ ھُ رَیْ رَۃَ رَضِیَ اللہ ُ عَ نْہُ اَنَّ رَسُ وْلَ اللہ ِ ا قَالَ:”اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِی مِنْھُمَا مَالَمْ یَعْتَدِ الْمَظْلُوْمُ“۔
(مسلم:۲/۱۲۳؛رقم:(۸۶-۷ ۸۵۲)،ترمذی:۲/۹۱؛رقم:۱۸۹۱، ابوداؤد:۲/ ۰۷۶؛ رقم:۶۸۸۴،شعب الایمان:۵/۳۸۲؛رقم:۷۶۶۶،ترغیب:۳/۰۱۳، مشکوۃ: ۱۱۴)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضوراقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: دو شخص آپس میں گالم گلوچ کریں تو دونوں کی گالیوں کا گناہ پہل کرنے والے کو ہوگا جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔ (مسلم،ترمذی)
مسلمانوں کو گالی دینا گناہ ہے
]۷۷[ (۲) عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَ الَ رَسُ وْلُ اللہ ِ ا:”سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہٗ کُفْرٌ“۔
(بخاری:۱/۲۱؛ رقم:۸۴، مسلم:۱/۸۵؛ رقم:(۶۱۱-۴۶) ترمذی:۲/۹۱؛ رقم: ۳ ۸۹۱، ترغیب: ۳/۱۱۳،مشکوۃ:۱۱۴)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اُس سے لڑنا (جنگ کرنا) کفرہے۔ (بخاری،مسلم)
گالی دینے والے سے بدلہ لینا
]۸۷[ (۳) عَنْ عِیَاضِ بْنِ جُمَانٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللہ ِ! اَلرَّجُلُ یَشْتِمُنِیْ وَھُوَ دُوْنِیْ اَعَلَیَّ مِنْ بَأْسٍ اَنْ اَنْتَصِرَ مِنْہُ؟ قَالَ: اَلْمُسْتَبَّانِ شَیْطَانَانِ یَتَھَاتَرَانِ وَیَتَکَاذَبَانِ.(رَوَاہُ ابْنُ حِبَّانَ فِی صَحِیْحِہٖ، ترغیب:۳/۱۱۳)
ترجمہ: حضرت عِیَاض بن جُمَان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی! ایک شخص مجھ سے کم درجہ کا ہواور مجھے گالی دے توکیا میرے لئے اُس سے بدلہ لینے میں کوئی حرج ہے؟ آپ ا نے فرمایا کہ:آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی ایسے دو شیطان ہیں؛جو ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دیتے ہیں؛اور (جھوٹ موٹ کے دعوے کرکے) ایک دوسرے کی بے عزتی کرتے ہیں۔ (ابن حبان)
گالی دینے کی ممانعت
]۹۷[ (۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سُلَیْمٍ ص قَالَ: قُلْتُ (یَارَسُوْلَ اللہ ِ!) اِعْھَدْ اِلَیَّ قَالَ:” لَا تَسُبَّنَّ اَحَداً فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَہٗ حُرّاً وَلَا عَ بْدًا وََلَابَعِ یْراً وَلَا شَاۃً“۔(ابو داؤد فی حدیث طویل واللفظ لہ:۶/۴۶۵؛ رقم: ۰۸۰۴، ترمذی:۲/۷۹؛ رقم:۱۲۷۲-۲۲۷۲،شعب الایمان:۶/۲۵۲؛ رقم: ۰۵۰۸، ۵/۳۸۲؛ رقم: ۷۶۶۶، ترغیب:۳/۱۱۳)
ترجمہ: حضرت جابر بن سُلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! مجھے کچھ نصیحت فرمایئے! آپ ا نے ارشاد فرمایا: کسی کو گالی مت دو؛ تو میں نے آپ اکے اِس ارشاد کے بعد نہ کسی آزاد آدمی کو گالی دی، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو۔ (ابوداؤد)
مرغے کو گالی دینے کی ممانعت
]۰۸[ (۵) عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَ نِیِّ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُقَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا:” لَا تَسُبُّوا الدِّیْکَ فَاِنَّ ہٗ یُوْقِظُ لِلصَّلٰوۃِ“۔
(ابوداؤد:۲/۶۹۶؛ رقم:۲۹۰۵، شعب الایمان:۴/۹۹۲؛ رقم:۲۷۱۵، مشکٰوۃ:۱۶۳، ترغیب: ۳/۴۱۳)
ترجمہ: حضرت زیدبن خالد جُہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایا کہ: مُرغے کو گالی مت دو (اس کو بُرا بھلا مت کہو) اس لئے کہ وہ (تہجد اور فجر کی)نماز کے لئے جگاتاہے۔ (ابوداؤد،شعب الایمان)
پسّو کو گالی دینے کی ممانعت
]۱۸[ (۶) عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلًا فَاٰذَتْنَا الْبَرَا غِیْثُ فَسَبَ بْنَاھَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہ ا: لَا تَسُبُّوْھَا فَنِعْمَتِ الدَّابَّۃُ فَاِنَّھَا اَیْقَظَتْکُمْ لِذِکْرِ اللہ ِ. رَوَاہُ الطَّبْرَانِیُّ فِی الْاَوْسَطِ.
(ترغیب:۳/۵۱۳)
ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: (دورانِ سفر) ہم لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا جہاں پسّوؤں نے ہمیں بہت ستایا، تو ہم نے پسّوؤں کو گالیاں دی،رسول اللہ ا نے فرمایا کہ: اِنہیں گالیاں مت دو یہ کتنے اچھے جانور ہیں کہ تم کو ذکر اللہ کے لئے جگاتے ہیں۔ (طَبرانی)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں