حضرت گرونانک اور اسلام

Views: 28
Spread the love
Avantgardia

قسط 1.

بقلم:
مفتی محمد اشرف قاسمی

پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مرد کامل نے جگایا خواب سے

سکھوں کے مقتدا حضرت گرونانک

کسی مذ ہب کی عمارت اس کے با نی کے نظریات اور معتقدا ت پر قا ئم ہو تی ہے۔ سکھ فر قے کا مستقل تعا رف بیان کر نے کے بجائے سطور ذیل میں سکھ از کے با نی حضرت گر ونانک کے معتقدا ت کو پیش کیا جا رہا ہے۔ جس سے اندا زہ ہو گا کہ گرو نانک کے نظریا ت در حقیقت اسلامی نظریات ہیں اور سکھوں کی اصل وبنیا د، اسلام ہے۔
گرونانک کی ولا دت15 اپریل1469ء میں لاہور سے چالیس میل کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع ایک گاؤں تلوندی میں ہوئی، جسے اب ننکا نہ صا حب کہا جاتا ہے، والد کانا م مہتا کالو تھا، بیدی کھتری خا ندان سے تعلق رکھتےتھے،گرونانک نے ابتدا ئی عمر میں سنسکرت اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں کا علم حاصل کیا، پھر گاؤں کی مسجد کے مکتب میں عر بی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی،بچپن ہی سے مذہبی لگاؤ رکھتے تھے جو رو ز بروز بڑھتا گیا، پنجاب کے مشہورصو فیا کرام شیخ اسما عیل ؒبخاری، بابافریدؒ،علاء الحقؒ، جلاالدین بخا ریؒ، مخدوم جہانیانؒ اور دیگر بزرگوں سے کسب فیض کیا۔ع

ازل سے فطرت احرار میں ہیں دوش بدوش
قلندری و قبا پوشی و کلہ داری

زمانہ لے کے جسے آفتاب کرتا ہے
انھی کی خاک میں پوشیدہ ہے وہ چنگاری

*حضرت گرونا نک کے یہاں تو حید کی تعلیم*

گر و نانک فر ماتے ہیں کہ۔

”کر نی اکھ کلمہ کے تان مسلمان سدا ئے“

”ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال کو کلمہ طیبہ کے مطابق بنا ئے،وہی حقیقی مسلمان کہلا نے کا حق دار ہے۔“(1)
(گرو گرنتھ دار مابھ شلوک محلہ 1ص 141)

ایک دوسری جگہ گر ونانک کہتے ہیں

مَرنے کی چِنتا نہیں جیون کی نہیں آس
تو سرب جیاں پر تپا لدا لیکے سَاس گراس(2)
(گرو گرنتھ صاحب سری راگ محلہ ص20)

’’اے میرے خدا میرے دل میں نہ تو موت کی فکر ہے اور نہ ہی زندگی کی لالچ ہے۔اے خدا تو ہی تمام جا نداروں کو پال رہا ہے۔ تو ہی ہر شخص کی زندگی کے اعمال کا حساب لے گا۔“(2) (گرو گرنتھ صا حب سر ی راگ محلہ 1ص 20/)

گر ونانک نے پنجا بی کی طرح فا رسی اور عر بی میں بھی اشعا رکہے ہیں۔ سطور ذیل میں فا رسی میں گر ونانک کے عقیدۂ تو حید اور آ خرت کے تعلق سے ایک منا جات ملا حظہ کریں۔ع

یک عرض گفتم پیش تو در گوش کن کر تار
حقا کبیر کریم تو بے عیب پَروَر دِگار
حقا کبیر کریم تو بے عیب پَرور دگار
سم سرِموئے پدر عزرائیل گرفتہ دل ہیچ نہ دانی
زن پسر پدَر برادراں کس نیست دستگیرْ
آ خر بیفتم کس نہ دارد چوں شود کبیر(3)
( گرو گرنتھ صا حب تلنگ محلہ1/ ص726)

”اے اللہ میں آ پ سے یہ التجا کرتا ہوں کہ آ پ میری دعا قبول فر مالیں۔ آ پ توسچے ہیں، اور سب سے بڑے کریم ہیں۔ اور پورے عالم کوپا لنے والے ہیں، میں نے بڑی تحقیق کے بعد یہ بات سمجھ لی ہے کہ یہ دنیا فنا اور ختم ہو نے والی ہے اور مو ت کے فر شتے عزرائیلؑ نے میری پیشا نی کو پکڑ لی ہے، مگر میر ادل اس سے بے پرواہ اور غا فل ہے، یعنی مجھے اس کی کوئی فکرنہیں ہے کہ ایک نہ ایک دن عزرائیل میری پران اور جان میرے بدن اور تن سے نکال لیں گے۔ اور یہ بیوی بچے، ماں باپ اور بھائی وغیرہ میرا ہا تھ پکڑ نے والے نہیں ہیں، مجھے یقین ہے کہ جب میں بے جان ہو جا ؤں گا تو یہ لوگ میرے اوپر نماز جنازہ پڑھ کر مجھے دفن کردیں گے، تو اس وقت تیرے علا وہ تیرے عذاب سے بچا نے والا کوئی نہیں ہو گا، اے مالک تو ہی میر اسہا را بن جا۔ بقیہ کسی کے سہا رے کا کوئی بھرو سہ نہیں ہے۔“(4)

(گرونانک اور ان کی تعلیم و دعوت ص92/ مو لاناحبیب اللہ صا حب چشتی قادری )
(مختلف قومیں اور اسلام ص43وص44)
تصنیف
: محمد اشرف قاسمی
خادم الافتاء شہرمہد پور
ضلع اجین ایم پی
ashrafgondwi@gmail.com

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart