جمعیت کی ممبرسازی کیسے کریں مقامی، ضلعی، شہری، علاقائی اور ریاستی جمعیتیں کیسے بنائیں

Views: 515
Avantgardia

محمد یاسین جہازی

قسط نمبر (1)

نوٹ: جمعیت کے دستور کی تفہیم میں مولانا معز الدین احمد صاحب ناظم امارت شرعیہ ہند، جمعیت علمائے ہند سے استفادہ کیا گیا ہے اورانھیں کی مشفقانہ اور اصلاحی نظر کے شکریہ کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

 4/ اگست 2019 کو منعقد مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے سال 2019اور اس کے بعد کے لیے نئی ممبر سازی کا اعلان کیا۔جس کا وقت یکم ستمبر 2019سے 31/ دسمبر 2019مقرر کیا گیا ہے۔  پھر 12/ ستمبر 2019، بروز جمعرات، دفتر جمعیت علمائے ہند میں مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا۔اس میں تنظیمی استحکام کی تجویز منظور کرتے ہوئے زمینی سطح پر ممبرسازی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ جمعیت کی ممبر سازی کے لیے ٹرم متعین ہے۔ اس سلسلے میں جمعیت کے دستورکی دفعہ(11)  کے سیکشن (ج) میں یہ ہدایت موجود ہے کہ

”جمعیت علمائے ہند اور اس کے نظام ترکیبی کی ہر یونٹ کا ٹرم اس تاریخ سے شروع ہوگا، جب مرکزی جمعیت کے انتخاب کی تکمیل کے بعد نیا صدر چارج لے گا۔ یہ ٹرم دو سال کا ہوگا۔ اور ممبر سازی ہر ٹرم کے بعد ہوا کرے گی، جس کی میعاد مجلس عاملہ مقرر کرے گی؛ البتہ غیر معمولی حالات میں ناظم عمومی کو بمشورہ صدر میعاد مقررہ کی توسیع کا اختیار ہوگا۔“

”دفعہ (13) جمعیت علماء ہند کے نظام ترکیبی میں شامل ہونے والی تمام جمعیتوں کے انتخابات دو سالہ ہوا کریں گے۔“ 

مرکزی جمعیت کے نئے صدر کے چارج لینے سے ٹرم شروع ہوگا اور دو سال تک برقرار رہے گا؛ لیکن 12/ ستمبر2019کی مجلس منتظمہ میں نئی ترمیم کے بعد اب یہ ٹرم تین سال کا ہوگا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اب ہر تین سال کے بعد ہی ممبر سازی ہوسکتی ہے۔

ممبر کون بن سکتا ہے؟

جمعیت علمائے ہند کا ممبر بننے کا کیا مطلب ہے، اس کی وضاحت دستور میں موجود ہے۔ چنانچہ دفعہ (5) کے سیکشن (و) میں کہا گیا ہے کہ

”لفظ ”ممبر“ آیا ہے۔ اس سے مراد جمعیت علما کا ابتدائی ممبر ہے، جو دفعہ (11) کے مطابق ہو۔“

دفعہ (11) میں ممبر کی اہلیتی اوصاف بیان کیا گیا ہے کہ

”(الف) ہر وہ مسلمان (مرد وعورت) جمعیت علما کا ممبر بن سکتا ہے، جو شرعا عاقل و بالغ ہو۔ اور جس کو جمعیت علمائے ہند کے مقاصد سے پوری طرح اتفاق ہو اور فارم ممبری پر دستخط کرے۔“

لفظ شرعا سے یہ وضاحت ہوجاتی ہے کہ سرکاری طور پر بلوغت کے لیے مقرر کردہ اٹھارہ سال کی عمر ہونا ضروری نہیں ہے؛ بلکہ چودہ سال کا مرد و عورت بھی جمعیت علمائے ہند کا ممبر بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ آسان زبان میں اس کی وضاحت کی جائے، تو یہ ہوگا کہ جمعیت کا ممبر بننے کی پانچ شرائط ہیں:

 (1)مسلمان ہو، غیر مسلم نہ ہو۔

(2) عاقل ہو، پاگل و مجنون نہ ہو۔

 (3) بالغ ہو، بچہ اوربے شعور نہ ہو۔

 (4)جمعیت کے مقاصد و اغراض سے اتفاق رکھتا ہو۔

 (5) ممبری فارم پر دستخظ کرے، جو اس کی رضامندی کی علامت ہوگی۔

ابتدائی ممبری فیس

دفعہ (11) کے سیکشن (ب) کے مطابق ممبری فیس دو روپے ہے؛ لیکن 12/ ستمبر 2019کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں نئی ترمیم کے بعد اب یہ فیس 10روپے کردی گئی ہے۔

ممبر بننے کا طریقہ

 جمعیت علمائے ہند کے وسیع تر قومی و ملی مفادات اور حقوق کی نگہبان ہونے کے باعث ہر مسلمان کا قومی و ملی فریضہ ہے کہ وہ جمعیت کا ممبر بنے۔ اس کاطریقہ بالکل آسان ہے۔ آپ اپنے علاقے کی جمعیت کے ذمہ دار سے رابطہ کریں اور ان سے کہیں کہ آپ ہمیں جمعیت کا ممبر بنائیں۔ وہ آپ کی ایک رسید کاٹیں گے، جس کے بدلہ آپ کو ابتدائی ممبری فیس دس روپے ادا کرنا ہوگا۔ رسید میں آپ کی ذاتی تفصیلات درج ہوں گی، جو جمعیت کے پاس محفوظ رہیں گی۔

جمعیت کا تنظیمی ڈھانچہ

جمعیت کا نظام ترکیبی چھے سلسلوں پر مشتمل ہے:

(1) مقامی جمعیت۔

(2) شہری جمعیت۔

(3)ضلعی جمعیت۔

(4)علاقائی جمعیت۔

(5) ریاستی جمعیت۔

(6) مرکزی جمعیت۔

دستور میں نظام ترکیبی کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے کہ

”دفعہ(12) جمعیت علمائے ہند کے نظام ترکیبی میں حسب ذیل جمعیتیں شامل ہوں گی: (الف) مقامی جمعیت۔ (ب) شہری جمعیت۔ (ج) ضلع جمعیت۔ (د) علاقائی جمعیت۔ (ھ) ریاستی جمعیت۔“

اس میں گرچہ مرکزی جمعیت کا تذکرہ نہیں ہے؛ لیکن دفعہ (42) میں اس کا ذکر ہے کہ

”دفعہ(42) تمام ہند یونین کے لیے ایک مرکزی جمعیت ہوگی، جو مرکزی جمعیت علمائے ہند کہلائے گی۔“ 

Comments: 2

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart