اقبال رح اور شری رام چندر جی

Views: 44
Avantgardia

ت بدر آزاد*_ عنوان کے مطابق کل ایک مخلص دوست سے جو کچھ گفتگو ہوئی اسے یہاں رکھنا مناسب سمجھتے ہیں!سوال:علامہ اقبال نے رام جی کو ‘امام الہند’ کب کہا؟کس پس منظر میں کہا؟جواب:اسے ماہر اقبالیات سے سمجھا جایے تو بہتر ہوگا.ان ہوں نے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:گزشتہ دنوں کی بات ہے. جب ٹی وی چینلز سے لے کر پرنٹ اخبار تک میں یہ خبر چلتی رہی کہ مولانا سلمان ندوی صاحب نے رام کو ایک پیغمبر تسلیم کر لیا ہے۔اس وقت یہ بات بھی سامنے آیی تھی کہ”مولانا سلمان ندوی نے کمال خان کو جو انٹر ویو دیا ہے اس میں وہ رام جی کو پیغمبر کہتے نہیں دکھ رہے ہیں۔تاہم وہ اس بات پر زور دیتے نظر آئے کہ مسلمانوں کو بابری مسجد اراضی کی ملکیت کے دعوے سے دستبردار ہو جانا چاہیے اور شرعا مسجد کو دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے”۔آگے مزید انہوں نے کہا:”میرے خیال سے سلمان ندوی صاحب ایک بڑے عالم دین ہیں اور اجتہاد ان کا حق ہے اگر وہ غلط اجتہاد بھی کرتے ہیں، یا کیے ہیں تو بھی وہ گنہگار نہیں ہوں گے” “اب آج کل ایک ویڈیو جناب محمود صاحب کی وایرل ہے، جس میں انکو تعلیمات محمدی ص و پروچن رامچندری کے مساوات نیز احترام رام کے وجوب پر اصرار کرتے دیکھا جاسکتا ہے.”ایک پروگرام میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس کو پھر سے دیکھنے سننے کی بات کہی ہے.یعنی ممکن ہے کہ سنجیدگی سے سمجھنے کے بعد وہ رجوع وغیرہ کرسکیں!”کمال کی بات یہ ہے کہ ان جیسے موقع پر انکے مریدین و معتقدین اپنی بات منوانے کے لیے یہ کہتے اور سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ علامہ اقبال نے بھی رام جی کو ‘امام الہند’ کہا ہے،میں تو حیران ہوں کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے….اس پر راقم نے انکی بات کاٹتے ہویے کہا:”حالانکہ ان مریدین کو یہ بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ علامہ کا یہ کہنا وہ بھی بحیثیت ایک ایسے شاعر،جسکی شاعری ماہرین کی نگاہ میں کیی ادوار پر مشتمل ہے،دلیل نہیں بن سکتا” دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ معتقدین و مریدین دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اقبال کے تعلق سے لوگوں کو گمراہ کر نے کا ارتکاب الگ کرتے ہیں۔بقول ماہرین اقبالیات اقبال کی فکری ارتقا کو کئی ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔سو اس حوالے سے اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اقبال نے نظم “رام” کب لکھی ہے؟تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ علامہ اقبال نے یہ نظم 1908 میں لکھی ہے۔یہ وہ دور تھا جب اقبال *پکے نیشنلسٹ* تھے اور متحدہ قومیت کے علم بردار یا مبلغ تھے۔اس زمانے میں ہی انہوں نے’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا’لکھا تھا اور’نیا شوالہ’ بھی اسی دور کی نظم ہے،جس میں وہ پنڈت اور مولوی کے جھگڑے سے تنگ آکر “دیر و حرم کو چھوڑنے کی بات کر رہے تھے۔اسی زمانے میں انہوں نے نظم ‘رام’ لکھی اور انہیں امام الہند کا لقب دیا، لیکن اقبال کی فکر میں بعد میں جو تغیر آیا اس کے تناظر میں ترانہ ملی”چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا۔۔ مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا اور نظم “وطنیت” کہ ‘ان تازہ خداوں میں بڑا سب سے وطن ہے ۔۔۔۔جو پیرہن ہے اس کا وہ ملت کا کفن ہے،۔۔۔ اور پھر خطبات الہ آباد والی دو قومی نظریہ والی فکر سامنے آتی ہے، اب ظاہر ہے ان افکار و خیالات کے بعد ان تخلیقات کےسامنے نظم رام اور امام الہند کی معنویت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔ ایسے میں مذکورہ أشخاص کے مریدین و منتسبین کا یہ امام الہند والا راگ سماعت کو گراں گزرتا ہے۔ان سب سے زیادہ دلچسپ بات یہ بھی رہی ہے کہ گزشتہ دنوں وہ لوگ بھی اقبال کو quote کر تے دکھتے رہے ہیں جنہیں اقبال کا وجود تک کبھی گوار نہیں رہا۔میری مراد سمبت پاترا سے ہے،جو اسٹوڈیو میں کہتے پھرتے رہے ہیں کہ اقبال نے رام کو امام الہند کہا ہے۔ کاش بیچارہ کبھی وہ یہ بھی کیمرے کے سامنے کہہ دیتا کہ اقبال نے یہ بھی کہا ہے کہ: سچ کہہ دوں اے برہمن اگر تو برا نہ مانے! تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے! آپس میں بیر رکھنا تونے بتوں سے سیکھا!جنگ و جدَل سِکھایا واعظ کو بھی خدا نے!________________+919122381549 +918789554895

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart