اس فارمولہ پر عمل کریں گے، تو آپ کوکبھی بھی روزہ نہیں لگے گا

محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند

رمضان شروع ہونے سے پہلے ہی بہت سے حکیم اور ڈاکٹرہمارے روزہ کے متعلق فکرمند ہوجاتے ہیں۔ انھیں یہ خوف ستانے لگتاہے کہ گرمیوں میں روزہ رکھنا ایک دشوار کام ہے، گرمی کی شدت بھوک پیاس کو بھڑکا دے گی اور روزہ دار کو روزہ لگ جائے گا، اس لیے وہ اپنے خزانہ علم و حکمت سے ہمارے لیے نایاب اور بیش قیمت نسخے تلاش کرکے لاتے ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ چیز اس طرح کھاو گے، تو بھوک پیاس نہیں لگے گی۔ 
راقم کا عندیہ ہے کہ اگر کوئی شخص روزے کے مقصد کو پیش نظر رکھ کر حصول تقویٰ کی نیت سے روزہ رکھے اور روزہ کے لغوی معنی پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے آداب کو بھی ملحوظ رکھے، تو کبھی بھی روزہ نہیں لگ سکتا ۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر روزہ رکھے اور اس کے تمام تقاضوں کو انجام دے اور پھر روزہ لگ جائے۔ روزہ اسی کو لگتا ہے، جو اپنا روزہ پھاڑ دیتا ہے۔ پھٹا ہوا روزہ ہمیشہ روزہ دار کو بھوک اور پیاس کی پریشانی میں ڈال دیتا ہے۔ 
نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دو عورتوں نے روزہ رکھا۔ روزہ میں اس شدت سے بھوک لگی کہ ناقابل برداشت ہو گئیاور مرنے کے قریب پہنچ گئیں۔ صحابہ کرامؓ نے نبی کریمﷺ کو خبر دی ۔ حضورﷺ نے ایک پیالہ ان کے پاس بھیجوایا اور ان دونوں کو اس میں قے کرنے کا حکم دیا۔ دونوں نے قے کی تو اس میں گوشت کے ٹکڑے اور جما ہوا بدبودارخون نکلا۔ لوگوں کو حیرت ہوئی کہ روزہ کی حالت میں گوشت کے ٹکڑے کیوں نکل رہے ہیں، تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انھوں نے حلال روزی سے تو روزہ رکھالیکن دن بھر یہ دونوں عورتیں لوگوں کی غیبت کرتی رہیں۔ 
ایک حدیث میں ہے کہ
الصیام جنۃ مالم یخرقہا۔ قیل بما یخرقہ؟ قال: بکذب او غیبۃ
روزہ ڈھال ہے ، جب تک کہ اسے پھاڑ نہ دے۔ پوچھا گیا کہ ڈھال کس سے پھٹتا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ جھوٹ اور غیبت سے ۔ 
یہ نبوی فارمولہ ہمیں بتاتا ہے کہ ورزہ تو خود ایک تحفظ کا ذریعہ ہے۔ روزہ خود انسان کی حفاظت کرتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس تحفظ کے آلہ کو ہم توڑ پھوڑ نہ دیں۔ جب ہم حفاظت کرنے والے ہتھیار ہی توڑ دیں گے، تو وہ ہمارا تحفظ کیسے کرپائے گا۔ اور یہ ہتھیار جھوٹ بولنے اور غیبت کرنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ 
اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارا روزہ ہی بھوک پیاس سے ہماری حفاظت کرے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جھوٹ اور غیبت کرنے سے بچیں اور روزے کے دیگر تمام تقاضوں پر عمل کریں۔ اگر کسی دن ہمیں روزہ لگ جاتا ہے، تو اپنا محاسبہ کریں کہ آج ہم سے کونسا گناہ ہوگیا ہے، جس سے ہماری حفاظت کرنے والا ہتھیار روزہ ٹوٹ گیا ہے اور ہماری حفاظت نہیں کر پارہا ہے۔ 
آج جھوٹ بولنا اور غیبت کرنا ہم نے اپنے روزہ کاٹنے کا ذریعہ بنالیا ہے، جس سے ہمیں روزہ بھی بہت لگتا ہے اور اس مشقت کا کوئی حاصل بھی نہیں نکلتا ، کیوں کہ حدیث شریف میں ہے کہ 
من لم یدع قول الزور والعمل بہ، فلیس للہ حاجۃ ان یدع طعامہ و شرابہ
جس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹی باتوں پر عمل نہیں چھوڑا، تو اللہ کواپنے نام پر کھانا پینا چھوڑ دینے والے کی کیا ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں روزہ کو اس کے تقاضے کے مطابق رکھنے اوربالخصوص روزہ کی حالت میں جھوٹ اور غیبت سے ہماری حفاظت فرمائے ، آمین۔ 

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں