ISIS کا فتنہ (اس کے ابتدائی دو سالوں کا تجزیہ) (جون 2014 سے جون 2016ء تک)

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

قسط نمبر 16

ایک عمومی جائزہ
اس ضمیمہ میں ہم داعش کے عروج اور فتنہ کا مطالعہ کریں کے، داعش ISIS اور ISIL سے بھی موسوم ہے لیکن اپنے ابتدائی دو سالوں (جون 2014 سے جون 2016ء تک) میں یہ اپنے آپ کو اسلامک اسٹیٹ سے متعارف کرتی تھی۔ نام داعش، یہ عربی کا مخفف ہے اور یہ جون 2014ء سے اس تنظیم کا نام ہے اور یہ مخفف ہے دولت الاسلام فی العراق و الشام کا۔ اور اسی لئے اس کا ایک مخفف ISIL بھی ہے۔ لفظ داعش عربی میں کسی معنی کا حامل نہیں لیکن عربی کے دیگر الفاظ کے مانند اس میں ایک دہشت اور جارحیت کا پہلو بھی ہے۔ غرضیکہ عربی زبان میں اس گروہ کو اسی نام سے موسوم کیا جاتا ہے گو کہ اسے ناپسند ہے۔
اس کتاب کی اشاعت تک داعش کی ساخت میں اس آج کی موجودہ شکل سے یقیناً تبدیلی واقع ہوجائے گی اور اس کا جائے عمل بھی یقیناً منتقل ہوگیا ہوگا۔ اور ممکن ہے افریقہ میں یہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے۔ خواہ یہ کتنا ہی ناپسندیدہ فعل کیوں نہ ہو لیکن داعش کا تجزیہ لازمی ہے اور اس کے لئے متعدد مآخذ کا مطالعہ کرنا چاہئیے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ اصول مخالف تحریک کا نمائندہ یہ انتہا پسند گروہ کون ہے اور کیا ہے؟ اس نے کس طرح اسلام کے منتخب اجزاء کا غلط استعمال کیا۔ کس طرح دین کی توانائی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور اسلامی ریاست کا ایک جعلی ڈھانچہ کھڑا کیا، نظری اعتبار سے بھی اور عملی اعتبار سے بھی جبکہ درحقیقت یہ سر تا سر غیر اسلامی ریاست ہے۔ اس وضاحت کے بغیر اصولی اسلام اور داعش کے فتنہ میں امتیاز کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اور یہ اضافہ غیر ضروری ہے کہ غلط فہمی ہی تمام غلطیوں اور فتنے کو جنم دیتی ہے۔

داعش کی اصل
داعش کی ابتدا کیسے ہوئی یہ امر معروف ہے۔ یہ افسوس ناک امر واقعہ ہے کہ اس کی بنیاد ایک اردن شہری احمدفاضل الخلیلہ عرف ابو مصعب الزرقاوی نے رکھی۔ یہ ایک معروف مجرم تھا جو اردن کی جیلوں میں 1990ء میں رہا کرتا تھا اور وہیں اس پر دین کا غلبہ ہوا اور وہ دین کے نام پر اور بدتر جرائم کرنے لگا۔ اس نے ایک گروہ قائم کیا جس کا نام جماعت التوحیدو الجہاد تھا جس کا مقصود اردن کی حکومت کا تختہ پلٹنا تھا اور ہز مجسٹی شاہ محمد عبداللہ ثانی ابن حسین کے خلاف بغاوت تھی۔ اس گروہ کا پہلا کارنامہ 7 اگست 2003ء کو ایک کار پر بم پھینکنے کا تھا اور جس میں بغداد میں اردن کے سفارت خانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس گھناؤنی حرکت کو آسٹریلیا کے صحافی مائیکل ویر نے فوراً ہی فلم پر محفوظ کرلیا۔ 2004ء میں عراق میں الزرقاوی نے القاعدہ میں شمولیت کی اور ایسے حملے کرائے جن سے درجنوں لوگ ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر شہری تھے۔ یہ 2003ء میں عراق میں مغربی فوجوں کے حملہ کے بعد ہوا۔ مغربی فوجوں نے صدام حسین کو معزول کیا اور ان فوجوں نے نہ صرف سنّی آبادی کو یکا و تنہا چھوڑا بلکہ عملاً شیعہ آبادی کی حمایت کی۔ سنّیوں نے اس کے خلاف جو بغاوت کی اس میں مزید ابتری بعض شیعہ حکومتوں نے پیدا کی جو کہ جنگ کے بعد اقتدار میں آئیں اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ ان شیعہ جنگجؤوں کا ہے جنھوں نے ہزاروں سنیوں کا قتل کیا اور ان کو اذیت دی اور اس طرح بغداد کی نسلی تطہیر کی کوشش کی۔ صرف بغداد ہی میں نہیں بلکہ عراق کے جنوبی صوبوں میں تقریباً تمام سنّی آبادی کو نیست و نابود کرنے کی کوشش کی۔ 9 نومبر 2005 کو جب کہ الزرقاوی عراق میں تھے انھوں نے عمان، اردن میں تین ہوٹلوں پر حملے کئے جس میں 60 بے گناہ شہری ہلاک اور 115 زخمی ہوئے۔ جون 2006ء میں ایک امریکی ہوائی حملے میں اس کو اپنے کرتوتوں کا بدلہ ملا اور اپنے بے گناہ مقتولین اور ان کے اہل خانہ کی بددعا کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہوا۔
اگست 2011ء میں اس گروہ کا نیا قائد جو اس گروہ کو اب الجبت النصرہ علی اہل الشام سے موسوم کرتا تھا تاکہ دہشت گردی کے ذریعہ عرب بہار سے جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرے۔ اس نے اپنا مستقر عراقی سرحد کے قریب مشرقی شام کو بنایا۔ 2013ء میں اس گروہ نے اپنا نام الدولۃ الاسلامیہ فی العراق و الشام رکھا اور 2014ء میں یہ اپنے اصل گروہ النصرہ فرنٹ سے علیحدہ ہوگیا۔ النصرہ فرنٹ القاعدہ کے قائد ایمن الزواہری جو اسامہ بن لادن کے جانشین اور ان کے وفادار تھے اور اب اس گروہ نے شام میں جنگ و جدال میں حصہ لینا اور قبضہ کرنا شروع کیا۔ ہر ممکنہ طریقہ پر اس گروہ نے ہزاروں افراد کو تہہ تیغ کرنے کے بعد اور عراق کے العنبر صوبے پر چند مہینہ اپنا قبضہ قائم کرنے کے بعد اس نے جون 2014ء میں چند سو جنگجؤوں کے ساتھ مغربی عراق پر حملہ کیا۔ 29 جون 2014ء کو موصل کی جامع مسجد کے ایک خطبہ سے جو کہ ٹیلی ویژن پر نشر ہوا اس گروہ نے اپنے آپ کو تمام مسلمانوں کے لئے خلافت قرار دیا۔ اور ایک عراقی شخص جس کا نام ڈاکٹر ابراہیم البدری السمرائی عرف ابو بکر البغدادی ہے اس نے اپنے آپ کو خود ساختہ خلیفہ مقرر کیا۔ اس نے عالمی پیمانے پر جہاد کا حکم دیا اور یہ جہاد ہر اس شخص کے خلاف تھا جو ان کے ساتھ شامل نہ ہو۔ بالفاظ دیگر 99.99 فیصد عالم اسلام کے خلاف اور ساری دنیا کے خلاف یہ جہاد چھیڑا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک اس گروہ کو شام اور عراق میں وقتاً فوقتاً کامیابیاں اور نقصان اٹھانے پڑے ہیں اور اس کے قبضے میں زمین کا خاصہ حصہ ہے۔ انتظام و انصرام کے لئے اور اپنی حاکمیت کو قائم کرنے کے لئے اس گروہ نے شام کی خانہ جنگی میں مختلف گروہوں کے خلاف جنگ کی اور ہزاروں کی تعداد میں غیر ملکی جنگجؤوں کو بھرتی کیا جن میں سے زیادہ تر اب جنگ میں کام آچکے ہیں۔ اس نے ہزاروں قیدیوں اور شہریوں کو ایذا پہنچانے کے بعد قتل کیا اور اپنے قبضہ کے علاقے کے لاکھوں شہریوں کو ہر ممکن طریقہ سے تنگ کیا۔ اس سب کے باوصف یہ گروہ اپنی دہشت گردی کو پوری دنیا کے ساٹھ ممالک میں قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ اس نے مقامی تکفیری دہشت پسندوں سے رابطہ قائم کئے اور ان میں سب سے زیادہ بدنام اور سفاک شمالی نائجیریا کا بوکو حرام گروہ ہے۔ داعش نے لیبیا میں خانہ جنگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں بھی اپنے قدم جمائے۔ 2015ء میں داعش کو درجنوں دہشت گردی کے حملے کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی جن کا شکار بے گناہ شہری بنے۔ یہ حملے دنیا بھر میں ہوئے خاص طور سے یمن میں اور ساتھ ساتھ مغرب میں بھی بالخصوص فرانس میں۔ داعش کے بہت سے منصوبے بروقت ناکام بنادئیے جاتے ہیں اور مقامی ذمہ داران اور عام شہری بھی اس کے منصوبوں کے خلاف فعّال ہیں۔
اس تذکرے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان سب واقعات کے پس پشت کوئی سازش تھی یا داعش کا منظر عام پر آنا ناگزیر تھا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ گروہ صرف غیر قانونی عناصر اور قاتلوں پر مشتمل ہے جو کہ 2003ء میں عراق پر مغربی قبضہ کے بعد انتشار کے باعث ہوا۔ اس کو مزید ہوا 2011ء میں عرب بہار نے دی۔ عراق میں موجود قاتلوں میں سب سے زیادہ خطرناک، ہولناک اور سفّاک اور فعّال گروہ داعش کا ہے۔
داعش کیا ہے؟
داعش ایک تکفیری جہادی منظم مجرموں کا گروہ ہے۔ یہ سلفی وہابی نظریے کی انتہا پسند شکل ہے۔ البتہ اس کے رکن رکین سیکولر بعثی ہیں جن کا تعلق صدام حسین کی قدیم سیاسی جماعت سے ہے۔ بغدادی کے دو نائب صدام کی فوج میں کرنل تھے۔ اس کی مجلس شوریٰ کے تمام ارکان وہ عراقی تھے جن کا باعثی پس منظر تھا، ان میں سے زیادہ ترکو امریکی فوج یا عراق کی حکومت نے جیل میں ڈالا تھا اور وہاں ان پر زیادتیاں ہوئی تھیں۔ قدیم عراقی بعثی ارکان اور تکفیری غیر ملکی جنگجؤوں کے علاوہ داعش کے بہت سے حامی عراق اور شام میں اخوان المسلمون کے سابق ارکان ہیں۔
داعش کے تشخص کی ایک اور صفت یہ ہے کہ اس کے پیرو ایسے اسلام کی تصویر اپنے ذہن میں رکھتے ہیں جس کا تعلق مستقبل سے ہے اور اس کی وجہ ان کی بعض احادیث کی غلط تشریح ہے۔ ان کا خیال ہے کہ قرب قیامت کی جنگوں کا زمانہ قریب آرہا ہے جب مسلمانوں، جن میں وہ خود صرف اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں اور غیر مسلموں میں فیصلہ کن جنگ ہوگی، ان کا یہ خیال ہے کہ یہ جنگیں غیر معمولی پیمانہ پر اور دنیا بھر میں موت اور قتل و خون کا بازار گرم کریں گی اور پھر اس کے آخر میں مہدی نمودار ہوں گے، مہدی سے مراد نبی اکرم محمدؐ کے اہل خانہ کے ایک ہدایت یافتہ شخص ہیں جو کہ دنیا کو فتح کریں گے اور سات سال حکومت کریں گے اور پھر المسیح الدجال کا ظہور ہوگا اور عیسیؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس حدیث کا مصداق سمجھتے ہیں جس میں مذکور ہے کہ ’’اگر تم خراسان سے آتے ہوئے سیاہ پرچم دیکھو تو ان میں شریک ہو کیونکہ ان پرچموں کے پس پشت اللہ کا خلیفہ مہدی ہے‘‘ (احمد، اور اسی کے ہم معنی دو اور احادیث ابن ماجہ اور ترمذی نے بھی نقل کی ہیں)۔ ان سے مراد یہ ہے کہ داعش کی فوج میں کوئی مہدی ہے اور اسی لئے ان کے پرچم سیاہ رنگ کے ہیں۔ تاریخی لحاظ سے خراسان کا علاقہ آج کے ایران، پاکستان، افغانستان، ترکمنستان، تاجکستان، ازبکستان اور جنوب مغربی قزاقستان پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اعلان کرتے ہیں کہ جہاد کی ابتداء افغانستان سے ہوئی اور ان کے بعض جنگجو جو کہ اصلاً القاعدہ سے منسلک تھے ان کا تعلق مذکورہ بالا ممالک سے ہے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ 2016ء میں داعش نے سونے اور چاندی کے نفیس سکّہ جاری کئے جس میں درج تھا خلافہ علی منہاج النبوہ۔ ان کی اس غلط فہمی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جو نبی اکرم محمدؐ کے بعد حکومت سے متعلق ہے۔ بالخصوص انھوں نے حدیث کو کس طرح سے مسخ کیا ہے۔ مسلم میں ایک اور حدیث کے جس میں دابق یا عامق یعنی مسلمانوں اور رومیوں مغربیوں کے درمیان دنیا کے خاتمہ پر جنگ کا ذکر ہے جس میں عیسیؑ شامل ہوں گے اور وہ نماز میں مسلمانوں کی امامت کریں گے۔ یہ جنگ شام میں متوقع ہے کیونکہ شام میں ایک مقام دابق ہے۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ1516 میں اسی مقام پر عثمانیوں اور مملوکیوں میں جنگ ہوئی تھی۔ داعش کی ایک تصنیف کا عنوان دابق ہے اور اس کی خبر رساں ادارے کا نام عامق ہے۔ مختصراً داعش اپنے آپ کو قرب قیامت کی نشانی سمجھتا ہے اور اسی لئے ایک عالمی سطح کی جنگ میں برسر پیکار ہے۔
داعش کا منتہیٰ
سادہ الفاظ میں داعش کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ پوری دنیا کے خلاف اقدامی جہاد برپا کرے اور داعش کے تمام نظریات اسی خیال کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ داعش کے الفاظ یہ ہیں :
’’یہ ہمارا یقین ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد ہر مسلمان فرد پر فرض ہے۔ یہ جہاد سقوط اندلس سے فرض ہے اور اس کا مقصد تمام مسلم سرزمین کو آزاد کرنا ہے۔ یہ ایک ایسا فرض ہے جو ہر شخص پر عائد ہوتا ہے اور کسی بھی متقی یا غیر متقی شخص کی موجودگی میں اس کام کو انجام دیاجاسکتا ہے۔ یہ ہمارا یقین ہے کہ کفر کے بعد سب سے بڑا گناہ اللہ کی راہ میں جہاد سے روکنا ہے اور بالخصوص جبکہ یہ ایک انفرادی فرض ہے۔ ابن حزم کا قول ہے کہ کفر کے بعد کفرکے خلاف جہاد سے روکنے سے بڑا کوئی گناہ نہیں‘‘ (Some of Our Fundamental از ابو عمر البغدادی، 13 مارچ 2007ء)۔
یہ نکتہ اہم ہے کہ اپنے اس نظریئیے کے لئے داعش نے بنیاد چار اہم مذاہب کے کسی نمائندے کی تحریر پر نہیں رکھی بلکہ انھوں نے حوالہ اندلس کے ایک ظاہری عالم ابن حزم (م 456ھ بمطابق 1064 ء) کا دیا ہے اور یہ حوالہ بھی سیاق و سباق سے منقطع کرکے دیا گیا ہے یہ وہ دور تھا جب مسلمان مصیبت کا شکار تھے اور اندلس میں اموی خلافت کا خاتمہ یقینی تھا۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں ابن حزم کا یہ قول ملتا ہے۔ غرضیکہ داعش کا مقصد جہاد ہے تاکہ سر زمین فتح کی جائے اور طاقت کی بنیاد پر دنیا پر قبضہ کیا جائے اور مسلمان اسے جو کچھ حاصل کریں اسے داعش کو پیش کریں۔ یہ خلافت کے اعلانیہ میں بالکل واضح ہے۔ اس اعلانیہ میں داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی عرف طٰہٰ فلاحی نے 29 جون 2014ء کو یہ بیان دیا :
’’اے مسلمانوں اپنے خلیفہ کی جانب بڑھو، ان کے ارد گرد جمع ہو تاکہ تم اپنی ماضی کی عظمت حاصل کرو۔ تم زمین میں بادشاہ بنو اور جنگ میں کامران ہو۔ آگے بڑھو تاکہ تم کو عزت اور احترام ملے، تم بحیثیت مالک کے عزت و تکریم کے ساتھ رہو، یہ سمجھ لو کہ ہم ایسے مذہب کے لئے جنگ کررہے ہیں جس کی مدد کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ ہم ایسی ملت کے لئے لڑرہے ہیں جس کو اللہ نے عزت اور قیادت سے نوازا ہے اور جس کو زمین پر قوت اور اقتدار عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اے مسلمانوں! اپنی عزت اور احترام اور اپنی فتح کی جانب آگے بڑھو، بخدا اگر تم جمہوریت، سیکولرازم، قومیت پرستی اور مغرب کے دیگر بے مصرف خرافات نظریات میں یقین نہیں رکھتے ہو تو اپنے مذپب اور عقیدے کی جانب مراجعت کرو بخدا تم زمین کے مالک ہوگے اور مشرق و مغرب تمہاری اطاعت کریں گے۔ یہ تم سے اللہ کا وعدہ ہے‘‘۔
داعش کے افکار اور عقائد
داعش کے افکار انتہا پسندی کے عناصر کا مجموعہ ہیں اور ان کا مآخذ سنّی بنیاد پرستی اور اسلامی فکر کے یہ نمائندے ہیں یعنی سلفیت، وہابیت اور اخوان المسلمون کی فکر۔ ان کے نظریات میں قرب قیامت کی پیشن گوئیوں کو بھی شامل کردیا گیا ہے جیسا کہ ہم نے نشاندہی کی۔ مذکورہ بالا گروہوں کے انتہا پسند خیالات ہی کو داعش نے اپنی فکر میں شامل کیا ہے اور بسا اوقات داعش نے نئے افکار وضع بھی کئے ہیں۔ جہاں تک سلفیت اور وہابیت کا تعلق ہے اور بالخصوص محمد ابن عبد الوہاب کی نواقض الاسلام کا معاملہ ہے داعش نے اس مآخذ سے بڑے پیمانے پر تکفیر کا نظریہ لیا ہے یعنی جو مسلمان ان داعش کے نظریے سے اتفاق نہ کریں ان کو مطعون کرنا اور غیر مسلم قرار دینا تاکہ ان کا قتل کا جواز ہو اور ایسے مسلمانوں کے مال و دولت کو غصب کرنا اور ان کی بیویوں کو ان سے طلاق دلانا۔ داعش اپنے آپ کو ولیٰ اور براء سے تعبیر کرتے ہیں یعنی یہ کہ وہ صرف اسلام کے وفادار ہیں اور تمام غیر مسلموں سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح اخوان المسلمون اور سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ (م 1979ء) اور سید قطب (م 1966ء) سے داعش نے حاکمیت کا نظریہ لیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق وہ مسلمان جو ریاستوں اور حکومتوں کے غیر اسلامی نظریات کی مخالفت نہیں کرتے۔ ان دونوں نظریات کے مدد سے وہ سنّی مسلمانوں کی اکثریت کو ایسے غیر مسلم قرار دیتے ہیں جن کو قتل کردینا چاہئیے۔ اس میں عراقی بعثیوں کی زندگی اور آزادی سے نفرت اور نسل کشی کی مہارت بھی شامل ہے اور القاعدہ کی دہشت پسندی کی روایت جس کا نشانہ مغرب ہے۔ غرضیکہ یہ وہ ہولناک داعش نظریات ہیں۔
حاکمیت کا نظریہ
اپنی کتاب فی ظلال القرآن اور معالم فی الطریق میں سید قطب نے حاکمیت کا نظریہ پیش کیا ہے۔ یہ نظریہ بنیادی طور پر یہ ہے کہ وہ شخص جو سید قطب کی فہم کے مطابق شریعہ قانون کو نافذ نہیں کرتا وہ کافر ہوجاتا ہے اور پھر اس کا قتل کردینا چاہئیے۔ اسی طرح وہ حکومت جو شریعہ قانون نافذ نہیں کرتی وہ کافروں کی حکومت ہے اور اسی طرح جو شخص اس حکومت کی حمایت کرتا ہے چاہے رائے شماری کے ذریعہ یا حکومت کے انتظام و انصرام میں شریک ہوکر یا حکومت سے کسی اعتبار سے بھی نفع اٹھانے کی صورت میں، اس پر بھی اسی کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور چونکہ یہ حکومت اور اس سے متعلقہ تمام افراد کافر ہیں ان کو لازمی طور پر قتل کردینا چاہئیے خواہ وہ اللہ میں اور اسلام کے عقائد میں یقین رکھتے ہوں اور وہ ارکان اسلام پر تقوی کے ساتھ عمل درآمد کرتے ہوں۔ یہ ہولناک نظریہ محمد ابن عبد الوہاب کے نواقض الاسلام کے چوتھے ناقض میں بھی ملتا ہے اور سید قطب اور مودودی کے اس قرآنی فقرے کے مسخ شدہ معنی میں کہ جو شخص اللہ کی وحی کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ کافر ہے :
ہم نے نازل کی توریت کہ اس میں ہدایت اور روشنی ہے، اس پر حکم کرتے تھے پیغمبر جو کہ حکم بردار تھے اللہ کے یہود کو اور حکم کرتے تھے عالم اس واسطے کہ وہ نگہبان ٹھہرائے گئے تھے اللہ کی کتاب پر اور اس کی خبر گیری پر مقرر تھے۔ سو تم نہ ڈرو لوگوں سے ور مجھ سے ڈرو اور مت خریدومیری آیتوں پر مول تھوڑا، اور جو کوئی حکم نہ کرے اس کے موافق جو کہ اللہ نے اتارا سو وہی لوگ ہیں کافر۔
(سورہ المائدہ 44 : 5 )۔
سید قطب سے قبل تمام مفسرین نے تاریخ کے ہر دور میں جس میں ابن عباس، ابن مسعود، ابن حنبل، طبری، قرطبی، بغوی، نسفی، ابن عطیہ، ابن الجوزی، الرازی (الرازی نام کے تین مفسرین گزرے ہیں: عبد الرحمن، احمد اور فخر الدین)، غزالی، ابن تیمیہ، ابن کثیر، ابن جزعی، ابو حیان، الالوسی اور ابن عاشور تک بیسیوں مفسرین، ان کے علاوہ بیسویں صدی میں محمد امین شنقطی اور شعروی نے اس کے بالکل مختلف معنی لئے ہیں۔ ان سب کی تشریح یہ ہے کہ اگر اس آیت کو ایک عمومی سیاق و سباق میں لیا جائے اور اگر اس کا اطلاق مسلمانوں پر کیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ جو لوگ اللہ کے کلام کو دانستہ مسخ کرتے ہیں یا چھپاتے ہیں اور وہ جو شریعہ کے قوانین پر عمل نہیں کرتے باوجود یہ کہ ان کو اس پر عمل کرنے کی قدرت ہے اور وہ جو اپنے قلب میں اور اپنے اقوال کے ذریعہ شریعہ کے جواز کا انکار کرتے ہیں وہ اصلاً کافر ہیں۔ غرضیکہ اس آیت سے ہرگز وہ معنی مراد نہیں جو سید قطب نے لئے ہیں۔ اس آیت کا سیاق و سباق مدینہ کے یہودیوں سے متعلق ہے۔
ابن عباس اس بارے میں بالکل واضح اور متعین رائے رکھتے ہیں۔ ان کی تشریح کے مطابق جو شخص اللہ کے قانون کو نافذ نہیں کرتا اس میں کفر پایا جاتا ہے لیکن وہ اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر کافر نہیں ہے اور اگر کوئی شخص اللہ کے قول کا انکار کرے تو وہ یقیناً کافر ہے اور اگر وہ اس کو تسلیم کرتا ہے اور اس پر عمل کرتاہے تو اس نے ظلم کیا اور شدید گناہ کا مرتکب ہوا (الطبری، جامع البیان اور الحاکم)۔ عطا ابن رباح کا قول ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ کفر حقیقی کفر سے کمتر ہے اور فتنہ حقیقی فتنہ سے کمتر ہے اور شدید گناہ حقیقی گناہ سے کمتر ہے (الطبری، جامع البیان)۔
مختصراً اگر کوئی شخص شریعہ کے بعض قوانین کو نافذ نہ کرے تو وہ غلطی پر ہے اور یہ گناہ ہے لیکن یہ ایک ایسا امر نہیں جس سے پوری ریاست کے جواز کو مسترد کیا جائے اور ایسا امر بھی نہیں جس کے باعث بغاوت برپا کی جائے۔ یہ کوئی علمی مسئلہ نہیں ہے، یہاں زیر بحث ہر قومی ریاست کے اقتدار کو بیسویں اور اکیسیوں صدی میں قبول کرنا ہے خواہ وہ شریعہ کو قانون کی بنیاد مانیں یا نہ مانیں۔ آج کی دنیا میں متعدد مسلم اکثریت والے ممالک ہیں جو اس پر عمل نہیں کرتے۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقل خانہ جنگی اور ریاست اور دستوری اور جمہوری اداروں کے درمیان تبدیلی میں فرق ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کے معنی مسخ کرنے سے کیسا عظیم فتنہ برپا ہوتا ہے۔
تکفیر
صحابہ اکرام ہی کے دور سے تکفیر کے فتنے نے اسلام کو داغدار کیا ہے۔ نو مسلموں کے ایک گروہ نے جن کو براہ راست نبی اکرمؐ سے صحبت نہیں رہی تھی، یہ فیصلہ کیا کہ خلیفہ علی ابن ابی طالبؓ نے قرآن کی خلاف ورزی کے ہے اور ان کا گناہ ہی ایسا شدید ہے کہ وہ مسلمان ہی نہیں رہے۔ بالفاظ دیگر ان افراد نے حضرت علیؓ کی تکفیر کی پھر انھوں نے حضرت علیؓ کے خلاف بغاوت کی۔ اور ان کی خلافت ختم کرنے اور ان کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ یہ ملحوظ رہے کہ علیؓ نبی اکرمؐ کے عمزاد اور داماد تھے اور آپ پہلے تین مسلمانوں میں شامل ہیں۔ نبی اکرمؐ نے علیؓ سے اپنی نسبت کو اس طرح بیان کیا کہ ان کے اور علیؓ کے درمیان وہی تعلق ہے جو موسیؑ اور ہارونؑ کے مابین تھا (احمد)۔ یہ امر حیران کن ہے ان افراد نے علیؓ سے زیادہ اسلام کی فہم کیسے حاصل کرلی۔ اس کے پس پشت ان کی قرآن کی غلط تشریح تھی، بعد میں یہی افراد خوارج سے موسوم ہوئے یعنی خوارج کے لفظی معنی یہ ہیں کہ وہ لوگ جو دائرہ اسلام سے خارج ہوئے۔ ایک حدیث میں ان کے نمودار ہونے کا تذکرہ ملتا ہے :
’’جلد ہی ایک ایسا گروہ پیدا ہوگا جو عمر میں کم، ذہین لیکن سخت مزاج ہوگا۔ وہ لوگ واضح طور پر قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن یہ ان کے حلق کے باہر سنائی نہیں دیگا۔ اگر تم انہیں دیکھو اور ان کو پاؤ تو ان کو قتل کرو اور اس قتل کے لئے اللہ تم کو ثواب دے گا‘‘ (احمد)۔
اور خوارج واقعی نمودار ہوئے۔ وہ انتہائی ظالم اور سفاک تھے قتل کرنے میں ان کو کوئی باک نہ تھا۔ طبری نے اپنی تاریخ میں 37ھ کے واقعات کے ذیل میں یہ بیان کیا ہے کہ علیؓ سے نہروان میں جنگ سے قبل ان کی یہ کیفیت تھی :
’’خوارج ایک گاؤں میں وارد ہوئے اور عبداللہ ابن خبابؓ صحابیٔ رسول باہر آئے، انھوں نے دریافت کیا کہ کیا آپ ہی عبداللہ ابن خبابؓ صحابیٔ رسول ہیں انھوں نے اثبات میں جواب دیا ۔ وہ آپ کو ایک نہر کے کنارے لائے اور آپ کا سر قلم کردیا اور آپ کا خون بہتا رہا اور ان لوگوں نے ان کی اہلیہ کو بھی اسی طرح قتل کیا‘‘۔
علیؓ نے جب خوارج کو جنگ میں شکست دے دی اس کے باوجود بھی ان کے چھوٹے چھوٹے گروہ نہتے آدمیوں کو بدستور تتیس سال تک قتل کرتے رہے۔ ہر صدی میں ان کا ظہور کسی نہ کسی نام سے ہوتا رہا ہے اور یہ بے گناہ لوگوں کا قتل کرتے رہے ہیں۔ صحابی ابن عمرؓ نے انتباہ کیا تھا کہ ’’وہ کفار سے متعلق آیات کا انطباق اہل ایمان پر کریں گے‘‘ (بخاری)۔
بجنسہٖ یہی تکفیر کے قائل موجودہ حضرات کا عمل ہے۔ وہ ایسے مسلمانوں کو جو بالکل دو ٹوک انداز میں اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، یوم آخرت اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں بلا جھجک غیر مسلم قرار دیتے ہیں اور پھر ان کا قتل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں وہ طرح طرح کے عذر اور تکنیکی بہانوں کا سہارا لیتے ہیں۔ نواقض الاسلام سے متاثر ہو کر یہ انتہا پسند سلفی اور وہابی ہر اصولی مسلمان کے خلاف یہی رویہ اپناتے ہیں۔ سید قطب نے ہر اس شخص کو جو کسی قومی ریاست سے منسلک ہو قصور وار ٹھہرایا ہے اور غرضیکہ یہ گروہ نوّے فیصد سنّی مسلمانوں کا دشمن ہے شیعہ مسلمانوں کا یہاں ذکر نہیں۔
مزید برآں، داعش کی یہ رائے بھی ہے کہ جو شخص ان کے قائد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتا وہ کافر ہے۔ اس میں داعش کی اصل جماعت القاعدہ اور شام میں اس کی مقامی شاخ النصرہ بھی شامل ہے۔ داعش کے خلافت کے اعلان سے قبل النصرہ کے جنگجوؤں نے آپس میں ایک دوسرے کا قتل عام کیا اور آج بھی وہ اسی میں مصروف ہے۔ غرضیکہ داعش اور النصرہ دونوں انتہاپسند سلفی وہابی تکفیری جہادی گروہ ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف تکفیر اور جہاد میں مشغول ہیں اور ان کا نشانہ بقیہ دنیا بھی ہے اور وہ یہ سب اللہ اور قرآن کے نام پر کرتے ہیں۔ نبی اکرم محمدؐ نے ہمارے دور میں اس رویہ کی بالکل صحیح پیشن گوئی کی تھی۔ آپؐ نے فرمایا :
’’قرب قیامت میں ایک گروہ نمودار ہوگا جو نوجوانوں پر مشتمل ہوگا اور احمق ہوگا وہ بہترین الفاظ کا سہارا لے گا لیکن اسلام سے ان کا تعلق ایسا ہی ہوگا جیسا کہ تیر کسی شکار کو چھوتا ہوا گزر جاتا ہے۔ جو کوئی جنگ میں ان کا سامنا کرے ان کو قتل کرے اور ان کے قتل کے لئے اللہ ثواب دے گا‘‘ (بخاری)۔
یہی وجہ ہے کہ مصر، سعودی عرب، نائجیریا، اردن اور دیگر مقامات اور علوم اسلامی کے عظیم مراکز جن میں حقیقی سلفیت کے نمائندہ ادارے بھی شامل ہیں وہ متفقہ طور پر داعش کو خوارج سے تعبیر کرتے ہیں یعنی جن کا اسلام سے تعلق برائے نام ہے۔ ہم داعش کی مذمت یقیناً کرتے ہیں لیکن ان کی تکفیر کے قائل نہیں۔ اور ان کو مرتد بھی نہیں قرار دیتے لیکن یہ ہماری پختہ رائے ہے کہ ان کے خلاف مسلح جنگ کرنا چاہئیے۔

داعش کے زیر مطالعہ کیا رہتا ہے؟
داعش کی فکر کے تجزیہ میں اس امر کا مطالعہ مفید ہوگا کہ وہ اپنے نظریات کی کیا بنیاد فراہم کرتے ہیں اور وہ اپنے گروہ میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی ذہنی تربیت کیسے کرتے ہیں۔ داعش کے زیر مطالعہ ابن حنبل کی بعض تصانیف اور ابن الجوزی، ابن تیمیہ اور ابن قیم کی تصانیف رہتی ہیں۔ داعش کے ارکان سلفی تفاسیر مثال کے طور پر محمد الشوکانی کی تفسیر (1173ھ سے 1250ھ بمطابق 1759ء سے 1839ء) فتح القدیر اور اسی طرح سلفیوں کی مرتب کی ہوئی ابن کثیر اور قرطبی کی تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں۔ الالبانی کی مرتبہ حدیث کے مجموعے بھی ان کے مطالعے کا جزو ہیں۔ وہ محمد ابن عبد الوہاب اور ان کے مسلک کے ترجمان رسائل اور دور جدید کے اسی اسکول کے نمائندہ ابن اسیمن کی تحریریں بھی پڑھتے ہیں۔ ان کے چند ارکان سید قطب اور مودودی کے بھی قاری ہیں۔ القاعدہ سے قطع تعلق سے قبل وہ القاعدہ کا جہادی مواد بھی پڑھتے تھے جو کہ ابو مصعب الثوری کی کتاب Global Islamic Resistance Call اور ابو محمد المقدیسی کی ملت ابراہیم پر مشتمل تھا۔ اس کے علاوہ القاعدہ کی سرگرمیوں سے متعلق متعدد کتابچہ ہیں۔ مثال کے طور پر ابو عمرو القاعدی کا A Course in the Art of Recruitment اور ابو بکر الناجی کی بدنام زمانہ The Management of Savagery ۔ خود داعش کے اپنے اہل قلم ہیں جو مسلسل رسالے اور مقالے شائع کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً اس گروہ کے سرکاری ترجمان ابو محمد العدنانی کی متن فقہ الجہاد، ابو ابو عبد اللہ الجہادی کی مسائل فی فقہ الجہاد، ابو حمام الاثری کی مدد العیادی لبیت البغدادی اور ابو عمرو الشامی کی اطہاف البرارہ۔ مختصراً داعش کا اپنی ایک مخصوص ثقافت ہے جو کہ انتہا پسند سلفی، وہابی اور اخوان المسلمون اور القاعدہ کی فکر پر مبنی ہے۔ اور اب داعش کے خود اپنی کتابیں، رسائل اور مقالے منظر عام پر آگئے ہیں جن سے ان کا تصور حیات اور فتاویٰ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔
حدیث کا غلط استعمال
داعش اور القاعدہ اس امر پر قادر نہیں کہ وہ قرآن کی بہت زیادہ غلط تشریح اور تعبیر کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے حاکمیت کے نظریے پر تنقید کے باب میں واضح کیا۔ قرآن اور اس کی کلاسیکی تفاسیر میں وہ ایسا کچھ مواد نہیں ہے جس کو داعش اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرسکیں۔ اور جب بھی داعش کی جانب سے اس طرح کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو روایتی اصولی علماء اس کی فوراً تردید کردیتے ہیں۔ البتہ حدیث کا معاملہ دو اسباب کی بنا پر مختلف ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ احادیث کے متعدد مجموعہ ہیں۔ سلفی ناصر الدین البانی اور ان کے شاگردوں کے بہت قائل ہیں۔ ان کی دانست میں یہ معروضی مطالعۂ حدیث ہیں جو اس سے قبل کبھی منظر عام پر نہیں آئے۔ لیکن درحقیقت الالبانی کے مجموعے دانستہ طور پر حدیث کی نظر ثانی کے مترادف ہیں اور ان کئ مجموعوں میں صرف انہی احادیث کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے سلفی ذہن سے ہم آہنگ ہیں۔ جب بھی آپ اس طرح کے جملے سنیں، صححہ الالبانی یعنی یہ البانی کے مطابق صحیح ہیں یا ضعفہ الالبانی یعنی البانی کے مطابق یہ درست نہیں ہیں تو آپ یہ سمجھ لیں کہ سلفی تعصبات اور سیاسی نظریات کے مطابق اس حدیث میں ترمیم کی گئی ہے خواہ وہ شعوری طور ہو یا غیر شعوری طور پر۔ گزشتہ پچاس سال میں البانی کے مرتبہ مجموعے مفت تقسیم ہوئے ہیں اور یہ ہر کتب خانے، دانش گاہ اور مسجد میں دستیاب ہیں۔ ان کے بے شمار تراجم بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ عملاً سلفی حدیث کے مجموعوں نے روایتی حدیث کے مجموعوں کو پس پشت ڈالدیا ہے۔ بیسویں صدی کے وسط تک یہ صورتحال نہیں تھی اور اصولی علماء کو اس کا اندازہ نہیں ہوا۔
دوسری وجہ جس کے باعث داعش حدیث کو مسخ کرنے میں کامیاب ہیں وہ یہ ہیں کہ احادیث کا ذخیرہ بہت وسیع ہے اور الحاقی احادیث بھی ہیں جس کی جانب ہم نے اس تصنیف کے باب 7 میں توجہ دلائی۔ 250 سے زائد مجموعوں میں درج دو لاکھ سے زائد احادیث کا مطالعہ ایک دشوار عمل ہے۔ کسی لائق استاذ کےاجازہ اور نگرانی میں اگر کوئی طالب علم ان احادیث کا مطالعہ کرنے کا خواہش مند ہو اور روزانہ دو گھنٹے وہ اس مطالعہ پر صرف کرے تو اسے کل تیس سال کی مدت درکار ہوگی۔ چند ہی ایسے بزرگ ہوں گے جن کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔ پھر ان احادیث کی فہم، ان کے سیاق و سباق کا اور ان کے استناد کا معاملہ ہے لیکن انتہاپسند سلفی، وہابی اور اخوان المسلمون اس کام کو اجتماعی طور پر گزشتہ 70 سال سے انجام دےرہے ہیں اور انھوں نے ایسی احادیث کا انتخاب کیا ہے جو ان کے نظریات کے لئے عین موزوں ہیں اور وہ چند ایسی احادیث تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ساٹھ ہزار سے زیادہ مستند احادیث میں وہ چالیس سے پچاس احادیث کی نشاندہی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ ان احادیث کو اپنی غلط کاری اور ظالمانہ کاروائیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ درج ذیل مثال کافی ہوگی۔ ایک حدیث ہے:
مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے خلاف جنگ کروں یہاں تک کہ وہ کہیں لا الٰہ الا اللہ۔ لہٰذا وہ شخص جو کلمہ پڑھے وہ محفوظ ہے اور اس کی دولت محفوظ ہے الّا یہ کہ قانون اس کے قتل کی اجازت دے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے (بخاری اور مسلم)۔
ہم نے اس جانب پہلے توجہ دلائی کہ جہاد کا مقصود یہی ہے۔ البتہ یہ جہاد اس وقت واقع ہوتا ہے جب مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی جائے۔ غرضیکہ ساتویں صدی عیسوی کے عرب میں اس کا محل دفاعی جنگ تھا۔ مذکورہ حدیث سے فتح کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ البتہ یہ افعال جہاد کا سبب نہیں ہیں، البتہ جہادی لوگ اس پہ اصرار کرتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیث لوگوں کو جنگ کرنے کا حکم دیتی ہے اور یہ ایک عمومی اور غیر محدود حکم ہے، یہ موقف بالکل غلط ہے۔ لوگوں کے مستعمل لفظ الناس عمومی بھی ہوسکتا ہے اور متعین افراد بھی اس سے مراد ہوسکتے ہیں جیسا کہ درج ذیل آیت سے ظاہر ہے:

جن کو کہا لوگوں نے کہ مکہ والے آدمیوں نے جمع کیا ہے سامان تمہارے مقابلہ کو سو تم ان سے ڈرو تو زیادہ ہوا ان کا ایمان اور بولے کافی ہے ہم کو اللہ اور کیا خوب کارساز ہے۔(سورہ آل عمران 173 : 3)۔
یہ امر بالکل واضح ہے کہ دنیا بھر کے سب لوگ اہل ایمان کے خلاف صف آراء نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی ان لوگوں نے ڈرنے کا حکم دیا تھا۔ صرف چند لوگوں نے ایسا کیا تھا لہٰذا مذکورہ بالا آیت میں لوگوں کے لفظ کا ایک مخصوص محل ہے۔ لوگوں کا لفظ یہاں ضرور استعمال ہوا ہے لیکن اس کا مخاطب کون ہے اور اس سے مراد کون ہے اس کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ اسی طرح جس حدیث کا ہم نے اقتباس کیا اس کا تعلق دفاعی جنگ سے ہے۔ یہ وہ دفاعی جنگ تھی جو نبی اکرمؐ کفار قریش اور ان کے حلیفوں کے خلاف لڑرہے تھے۔
مزید برآں، مسلم علماء یہ بھی وضاحت کرتے ہیں کہ ایسی جنگ جس سے لوگ کلمہ پڑھنے سے باز رہیں، مذکورہ حدیث کے دائرے میں نہیں آتی۔ مسلمانوں کا طرز عمل ایسا ہونا چاہئیے کہ لوگ توحید پر ایمان لائیں اور اسلام ان لوگوں کے لئے محفوظ ہو۔ یہ اضافہ غیر ضروری ہے کہ دہشت گردی اور ظلم و ستم لوگوں کو اسلام سے متنفر کرتا ہے۔ غرضیکہ دہشت گردوں نے اس حدیث کو بالکل مسخ کرکے پیش کیا ہے۔
ایسی ناقص فہم اور ایسے غلط جوش کے بارے میں صرف یہی کہا جاسکتا ہے جو کہ انگریزی شاعر الیگزینڈر پوپ (م1744 ء) نے اپنی نظم An Essay on Criticism میں کہا ہے:
اپنے آپ پر اعتماد مت کرو بلکہ اپنی خامیوں کی فکر کرو، اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں سے مدد لو۔ ناقص علم بڑا خطرناک ہے۔ علم کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرو۔ ناقص علم ذہن کو گمراہ کردیتا ہے جب کہ علم کی مستقل کاوش راہ راست پر رکھتی ہے۔
ایک اور مثال درج ہے۔ نبی اکرم محمدؐ کعبہ میں طواف ہجرت سے قبل کررہے تھے، آپؐ کی صاحبزادی فاطمہؓ آپؐ کے ہمراہ تھیں۔ اس موقعہ پر چند اہل قریش نے آپؐ کو سخت و سست کہا، اس موقعہ پر آپؐ نے فرمایا:
اے اہل قریش کیا تم میری بات سنو گے؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے۔ میں تمہارے لئے قتل کا حکم لایا ہوں (احمد بحوالہ ابن اسحاق)
یہ حدیث ضعیف ہے، البتہ یہ جملہ کہ میں تمہارے لئے ’ذبح‘ لایا ہوں داعش کا پسندیدہ فقرہ ہے۔ اسی کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کرتے وقت وہ اس کو استعمال کرتے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ جب نبی اکرم محمدؐ نے مکہ کو فتح کیا تو آپؐ نے قریش کو ذبح نہیں کیا (دیکھئے اس تصنیف کا باب 7) بلکہ آپؐ نے ان کو معاف کیا اور ان کے ساتھ اکرام کا معاملہ کیا۔ مذکورہ حدیث کے بغائر مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپؐ کے مخاطب چند متعینہ افراد تھے جن کے قتل کی آپؐ پیشن گوئی کررہے تھے، یہاں مراد ابو جہل اور عتبہ ابن ابی معید کی ہے جو واقعتاً بدر کی جنگ میں قتل ہوئے۔ یہ صراحت ضروری ہے کہ آپ نے ان کو قتل نہیں کیا تھا۔ نبی اکرمؐ کا ہرگز منشاء یہ نہ تھا کہ ان کے اپنے قبیلہ قریش کا قتل عام کیا جائے۔ اللہ نے اس قبیلہ کا خود اکرام کیا ہے اور ان کی امن و سلامتی کے بارے میں قرآن کی ایک پوری سورت القریش ہے جو درج ذیل ہے:

اس واسطے کہ مانوس رکھا قریش کو۔ مانوس رکھنا ان کو سفر سے جاڑے کے اور گرمی کے۔ تو چاہئیے کہ بندگی کریں اس گھر کے رب کی۔ جس نے ان کو کھانا دیا بھوک میں اور امن دیا ڈر میں۔(سورہ قریش 1-4 : 106)۔
لہٰذا داعش کی یہ مبینہ تشریح سنّت رسول کے قطعاً منافی ہے بلکہ قرآن مخالف بھی ہے۔ اسی طرح یہی نکتہ داعش کی پیش کردہ دیگر احادیث پر بھی صادق آتا ہے۔ انھوں نے ان احادیث کو مسخ کیا ہے۔ اہم تر نکتہ یہ ہے: ’’صحیح بخاری کے ترجمے کے مطالعہ سے کسی پر بھی یہ روشن نہیں ہوتا کہ فلاں حکم فرض ہے یا واجب ہے یا مباح ہے (محمد زکریا کاندھلوی، ائمہ کا اختلاف، وہائٹ ٹھریڈ پریس 2004ء، ص 35)
بہر کیف احادیث داعش کا ایک مہلک ہتھیار ہیں اور اس کی وجہ بالکل واضح ہے احادیث مختصر ہوتی ہیں فصیح و بلیغ اور عام فہم ہوتی ہیں اور ان کو یاد کرنا آسان ہوتا ہے اور بظاہر یہ مستند معلوم ہوتی ہیں۔ 2015ء میں امریکہ کے انڈر سیکریٹری برائے حکومت رچرڈ اسٹنگل نے مطلع کیا کہ داعش اور آن لائن اس کے حامی ایک دن میں ایک لاکھ سے زیادہ ٹوئیٹ استعمال کرتے ہیں اور ان میں زیادہ تر کا آغاز ان کی پسندیدہ احادیث سے ہوتا ہے۔
غرضیکہ جو شخص داعش کی تردیدکرنا چاہتا ہے وہ احادیث کا مطالعہ کرے یا کسی عالم حدیث سے رجوع کرے اور پھر اس گروہ کے ناقص فہم حدیث کو طشت ازبام کرے اور ان سینکڑوں احادیث کو بھی پیش کرے جو سنی اسلام کے اجماع کی نمائندہ ہیں۔ بالفاظ دیگر داعش کے حدیث کے غلط استعمال کی تردید کے دو پہلو ہیں: ایک تعصیل اور دوسرا توسیل یعنی سند ہونی چاہئیےاور پھر اس کی عوام الناس تک ترسیل ہونا چاہئیے۔ داعش کے نظریات احادیث مخالف ہیں وہ احادیث کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ سیاق و سباق سے ان کا تعلق منقطع کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق ایسی احادیث کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انہیں ہر ممکن طریقے سے ان کا استعمال انٹر نیٹ پر کرتے ہیں۔

داعش کا جذبۂ تحریک اور جذبہ
داعش انتہا پسندانہ جوش اور جذبہ سے بھر پور ہے۔ جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا گیا، ان کی کتابیں، ان کے شیوخ اپنے مقصد کو عین اسلام تعبیر کرتے ہیں اور اپنے دشمنوں کو کفر کے ہم معنی قرار دیتے ہیں اور اس سے ان کے جوش و جذبہ کو مزید تحریک ملتی ہے۔ ان کے شیوخ اور ان کے فتاویٰ اورشوریٰ اپنے ہر عمل کے لئے فتوے اور جواز فراہم کرتے ہیں اس سے بھی ان کا حوصلہ اور بڑھتا ہے۔ اور اس بلند حوصلے کہ وجہ سے ان میں ایک نوع کی بہادری اور میدان جنگ میں حصہ لینے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔
داعش کے تمام جنگجوؤں کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ ایسی نظریاتی تعلیم حاصل کریں، یہ ان کی عسکری تربیت کے علاوہ ہے، اور اس نظریاتی تربیت کا تمام تر زور میدان جنگ میں جام شہادت نوش کرنے پر مرکوز رہتا ہے اور اس کا دوسرا جز دوسروں کو قتل کرنے کے اوصاف اور ثواب بتائے جاتے ہیں۔
صدیوں سے مسلم افواج کا یہ شعار رہا ہے کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے اور برضا و رغبت میدان جنگ میں شہادت کے حصول کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جہاد اسلام کا ایک جزو لاینفک ہے جیسا کہ ہم نے اس سے قبل واضح کیا۔ مزید برآں، عرب قدرتاً ایک بہادر جنگجو قوم ہے اور اس کا اطلاق دیگر لوگوں اور افواج پر بھی ہوتا ہے۔ بالخصوص داعش کے کرد جنگجوؤں پر۔ انسانوں میں عزم اور حوصلہ کی کمی نہیں ہوتی لیکن عرب اور اسلامی ثقافت میں ملک کے لئے جان دینے کا کوئی تصور نہیں۔ اس کی جانب ایک شاعر گلفرٹ اوون (م 1918ء) نے بھی اشارہ کیا ہے۔ داعش نے اس جذبہ سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ موت سے بے خوفی داعش کی ایک بڑی قوت ہے اور اس کے اراکین اس پر عمل پیرا رہتے ہیں بالخصوص جو کہ برضا و رغبت خودکش بم پھیکنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
البتہ عظیم عرب مؤرخ ابن خلدون (732ھ سے 808ھ بمطابق 1332ء سے 1406ء)نے اپنی معرکۃ الآراء تصنیف مقدمہ میں عربوں کی فتوحات اور قوانین کا تجزیہ کیا ہے ان کے مطابق جتنا زیادہ دنیاوی منافع سے تعلق ہوگا جوش و جذبہ میں کمی واقع ہوگی۔ داعش کا قیام خلافت اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ مزید برآں، ابتدائی دور میں کامیابیوں سے داعش کا حوصلہ اور بڑھا البتہ خلافت کے قیام میں ان کو جو ہزیمت اٹھانی پڑی ہے اس سے ان کی قوت میں کمی واقع ہوئی ہے وہ انتشار کا شکار ہیں۔ یہ کیفیت کم و بیش ہر انتہا پسند گروہ کو پیش آتی ہے۔ عالم انسان کی تاریخ اس کی گواہ ہے۔
داعش کے جنگجوؤں کو بلند حوصلہ ہونے کے دوسرے اسباب بھی ہیں۔ ایک بڑی وجہ ایسی ادویہ کا استعمال ہے جو ان کو نفسیاتی طور پر مضبوط اور جری رکھتے ہیں۔ داعش پابندی سے یہ نشہ آور ادویہ ان کو فراہم کرتی ہے۔ یہ ادویہ بآسانی لیباریٹری میں تیار کی جاسکتی ہیں۔ ان دواؤں کے استعمال سے انسان انتہائی جارح اور سفاک ہوجاتا ہے اور وہ ضمیر کی آواز قطعاً نہیں سنتا، اس کا ضمیر اس کو ملامت نہیں کرتا اور اس کی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ اسے نیند اور بھوک کی ضرورت بھی کم پڑجاتی ہے۔ بالآخر ان داؤوں کے استعمال سے انسان پہ خراب اثرات پڑتے ہیں اور دو یا تین سال ان کے مستقل استعمال کے بعد اندرونی اعضاء کام کرنا بند کردیتے ہیں اور میدان جنگ کے وہ لائق نہیں رہتے۔ مزید برآں، جنگ عظیم دوم کے مطالعوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ساٹھ دن کے مسلسل جنگ و جدال کے بعد فوجیوں پر سنگین نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں۔ غرضیکہ میدان جنگ میں دو مہینے سے دو یا تین سال مکمل سالوں تک لڑنے اور بغیر کسی راحت کے محض دواؤں کے بدولت داعش کی قوت میں دس سے بیس فیصدی گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ شام اور عراق میں سبھی لڑنے والے جن میں جوش و جذبہ کی کمی ہے وہ ان دواؤں کا استعمال کررہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں اردن کے سلامتی اور تحفظ کے ذمہ داروں نے باقاعدگی کے ساتھ ان دواؤں کے بڑی پیمانے پر درآمد کا سراغ لگایا ہے۔ ایک جہاز پر بیس سے تیس ملین گولیاں ملیں جن کو اسمگلر اردن سے عراق اور شام لارہے تھے۔
داعش کے جنگجوؤں میں خود بھی ایک دہشت کا ماحول پایا جاتا ہے اور یہ خوف ان کو اپنے ہی گروہ سے اور اندرونی جاسوسی سے ہوتا ہے۔ ان جنگجوؤں کو پابندی کے ساتھ اذیت اور پھانسی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ اگر ان کی قوت ارادی کمزور ہونے لگے یا یہ حکم عدولی کریں یا قائدین کے مسلط کردہ انتہا پسند نظریات کے بارے میں سوالات اٹھائیں تو ان کو بھیانک سزا ملتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر داعش حوصلہ بلند رکھنے کے لئے اور نئے جنگجوؤں کی بھرتی کے لئے مستقل نشر و اشاعت میں مصروف رہتا ہے۔

پروپیگنڈا یا نشر و اشاعت
الف۔ داعش کے پاس تربیت ، لڑنے اور قتل کرنے کے بارے میں بے حساب ویڈیو ہیں جن میں جذباتی موسیقی بھی شامل ہوتی ہے اور اشتعال انگیز جملے اور فقرے اپنے پروپیگنڈا کو فروغ دینے کے لئے داعش نے آن لائن رسالوں کا بھی اجراکیا ہے مثلاً دابق جو کہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے اور عامق۔
ب۔ پروپیگنڈا کے لئے بے شمار ٹوئیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ استعمال اس حد تک بڑھا ہوا کہ ٹوئٹر سماجی رابطے اور انٹرنیٹ کے ذمہ دار اب سنجیدگی سے داعش کے اس استعمال پر غور کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر ٹوئٹر نے 2015ء اور 2016ء میں داعش کے ہزاروں ٹوئیٹر رابطے بند کئے۔ داعش اور اس کے حامی ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں فیس بک، یوٹیوب اور سماجی رابطے کے مختلف وسائل پر موجود ہیں۔ کچھ آن لائن کھیل خفیہ طور پر اس طرح پیش کئے جاتے ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ مغربی جاسوسی اداروں نے اب داعش کے رابطوں اور ان کے حامیوں کی تفصیلات جمع کرنی شروع کردی ہیں لیکن 2014ء تک داعش کے لئے میدان کھلا ہوا تھا اور 2016ء تک داعش اس میدان میں اب بھی بہت فعّال ہے اگرچہ وہ انٹرنیٹ پر یہ جنگ جیتنے پر قادر نہیں ہے لیکن اس کے رابطے اب مغربی جاسوسی اداروں کی نظر میں ہیں۔ داعش نے اب یہ طریقہ نکالا ہے کہ پیغام کی ترسیل کے بعد اس پیغام کو ہٹا دیتے ہیں۔
ج۔ داعش کے پروپیگنڈا ویڈیو انتہائی مؤثر ہیں اور اپنی تاثیر کے لحاظ سے سبھی ان کا مطالعہ کرنے پر مجبور ہیں۔ ابتدا میں ان ویڈیوز کو دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے۔ کسی کو یہ یقین نہیں آتا کہ یہ اسلامی جنگجو ہالی ووڈ کے معیار کے اتنے عمدہ ویڈیو تکنیکی اعتبار سے تیار کرسکتے ہیں۔ آج بھی داعش جو بھی ویڈیو جاری کرتی ہے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس کے بارے میں اطلاع دیتے ہیں یہی داعش کی سب سے بڑی کامیابی اور اس کا سب سے اہم وسیلہ ہے۔ اسی کے باعث غیر ملکی بھرتی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
البتہ اب یہ ویڈیو اس لحاظ سے اتنے معتبر نہیں رہے ہیں کیونکہ اب یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہر نیا ویڈیو گزشتہ ویڈیو کے مقابلہ میں زیادہ سفاکانہ ہوگا۔ ہر ویڈیو میں زیادہ لوگوں کا قتل پیش کیا جائے گا۔ قتل کے طریقہ اور زیادہ ہولناک ہوں گے اور اس ضمن میں مناظر اور زیادہ تکلیف دہ ہوں گے مثلاً بچوں کے ہاتھوں پھانسی دینا اور جلاد اور زیادہ مہیب شکلوں کے ہوں گے البتہ اب عام لوگ ان ویڈیوز سے اکتا چکے ہیں اور ان کو اب اس میں کوئی نیا پن نظر نہیں آتا۔ ان ویڈیوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ داعش نے کس طرح سے اسلام کو مسخ کیا ہے اور انسانی وقار و عظمت کو خاک میں ملایا ہے۔
داعش کیوں غلط اور باطل ہے؟
19ستمبر 2014ء بمطابق 24 ذیقعدہ 1435ھ میں داعش کے نام نہاد خلافت کے اعلان کے تین ماہ بعد 126 اصولی علماء جمع ہوئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیں۔ ان میں سے اکثریت جامعہ ازھر، مصر کی تھی، لیکن ان کے ساتھ ساتھ ان میں نائجیریا، انڈونیشیا، چاڈ، فلسطین، کردستان، کوسو، بلغاریہ اور مصر کے مفتی کرام بھی شامل تھے۔ ان علماء نے داعش کے نام ایک کھلا خط روانہ کیا جس میں داعش کے رویہ میں غلطیوں کو نمایاں کیا (دیکھئے www.lettertobaghdadi.com)۔ اس کھلے خط کا البتہ خاطر خواہ اثر نہیں ہوا صرف اردن میں اس پر توجہ دی گئی اور اسکولوں اور جامعات میں اس کا مطالعہ کیا گیا البتہ اس کا دس زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور یہ داعش کے اعمال کا ایک جامع عام فہم تجزیہ اور تردید ہے۔ یہ خط روایتی اصولی اسلام کا نمائندہ ہے۔ اس خط کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
تلخیص
1۔ اسلام میں مطالعہ اور علم کی تمام شرائط کی تکمیل کے بغیر فتویٰ جاری کرنا حرام ہے۔ فتوے کو کلاسیکی متن میں بیان کرنا چاہیئے اور اسےاسلامی قانونی نظریہ کے مطابق ہونا چاہئیے۔ کسی آیت قرآنی کا ایک جزو کا اقتباس دینا اور اس سے ایسا حکم برآمد کرنا جو اس معاملہ کے متعلق قرآن و حدیث کی دیگر ہدایات کے برخلاف ہو یہ فعل بھی حرام ہے، بالفاظ دیگر، فتویٰ کے لئے سخت تقاضے ہیں، ایک شخص اپنی مرضی کے مطابق قرآنی آیات کو احکام وضع کرنے کے لئے استعمال نہیں کرسکتا اور بقیہ قرآن اور حدیث کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
2۔ اسلام میں یہ ممنوع ہے کہ عربی زبان پر مہارت حاصل کئے بغیر احکام کسی چیز کے کے بارے میں وضع کئے جائیں۔
3۔ اسلام میں یہ حرام ہے کہ شریعت کے معاملات کو سرسری انداز میں پیش کیا جائے اور معروف اسلامی علوم کو قطعاً نظر انداز کردیا جائے۔
4۔ اسلام میں علماء کو یہ اجازت ہے کہ کسی مسئلہ پر وہ آپس میں اختلاف رائے کریں۔ سوائے ان بنیادی معاملات کے جو تمام مسلمانوں کو معلوم ہیں۔
5۔ اسلام میں یہ حرام ہے کہ احکام وضع کرتے ہوئے عصر حاضر کے حقائق کو نظر انداز کردیا جائے۔
6۔ اسلام میں بے گناہ کو قتل کرنا حرام ہے۔
7۔ سفراء کو قتل کرنا حرام ہے اسی بنا پر صحافیوں اور راحت رساں امدادی اداروں کے کارکنوں کو قتل کرنا بھی حرام ہے۔
8۔ اسلام میں جہاد ایک دفاعی جنگ ہے۔ صحیح مقصد اور صحیح ضابطۂ عمل کے بغیر جنگ کرنا جائز نہیں ہے۔
9۔ اسلام میں کسی شخص کو غیر مسلم قرار دینا حرام ہے جب تک کہ وہ برسر عام اپنے کفر کا اعلان نہ کرے۔
10۔ اسلام میں یہ حرام ہے کہ کسی طرح سے بھی عیسائیوں یا اہل کتاب کو کوئی ضررپہنچایا جائے یا ان کے ساتھ خراب سلوک کیا جائے۔
11۔ یزیدیوں کو اہل کتاب تسلیم کرنا لازم ہے۔
12۔ اسلام میں غلامی کو پھر سے متعارف کرنا حرام ہے۔ عالمی اجماع کے ذریعہ غلامی کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
13۔ اسلام میں لوگوں کو زبردستی تبدیلیٔ مذہب پر مجبور کرنا حرام ہے۔
14۔ اسلام میں عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا حرام ہے۔
15۔ اسلام میں بچوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا حرام ہے۔
16۔ اسلام میں یہ بھی حرام ہے کہ حدود کو نافذ کرتے ہوئے صحیح طریقہ کار پر عمل درآمد نہ کیا جائے اور انصاف اور رحم کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے۔
17۔ اسلام میں لوگوں کو اذیت دینا حرام ہے۔
18۔ اسلام میں خدا کی بے حرمتی کرنا حرام ہے۔
19۔ اسلام میں یہ حرام ہے کہ بدکاری کو اللہ سے منسوب کیا جائے۔
20۔ اسلام میں یہ حرام ہے کہ انبیاء اور صحابہ کے مزاروں کو منہدم کیا جائے۔
21۔ حاکم وقت کے کھلے ہوئے کفر اور لوگوں کو نماز پڑھنے کی اجازت نہ دینے کے بجز کسی اور وجہ سے مسلح بغاوت اسلام میں حرام ہے۔
22۔ اسلام میں یہ حرام ہے کہ تمام مسلمانوں کی مرضی کے بغیر خلافت کا اعلان کیا جائے۔
23۔ اسلام میں اپنی قوم سے وفاداری جائز ہے۔
24۔ نبی اکرمؐ کی وفات کے بعد اسلام کسی سے ہجرت کا مطالبہ نہیں کرتا۔
اس خط کی اشاعت کے بعد داعش کے جرائم کی تعداد بڑھ گئی ہے اور اس کی بدکاریوں میں اس طور پر اضافہ ہوا ہے کہ اب وہ بچوں کو جنگ میں شریک ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں پھانسی دلواتے ہیں اور خود کش بم ان کو فراہم کرتے ہیں۔ وہ قیدیوں کے ساتھ زنا کرتے ہیں۔ انھوں نے اردن کے پائلٹ معاذ القسبہ کو زندہ جلایا۔ لوگوں کو اسٹیل کے پنجرے میں ڈبوتے ہیں اور کاروں میں رکھ کر اڑاتے ہیں۔ وہ دیگر عورتوں کو اذیت دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک شخص کو اپنی والدہ کے قتل پر مجبور کیا کیونکہ اس کا یہ جرم تھا کہ اس نے اپنے بیٹے سے اس گروہ سے اپنا تعلق قطع کرنے کے لئے کہا تھا۔ اور بڑے پیمانہ پر لوگوں سے زبردستی رقم وصول کرنا۔ یہ روایت بھی ہے کہ داعش نے دھات کا ایک کلپر تیار کیا ہے جس سے یہ عورتوں کی کھال کو کاٹتے ہیں۔ اگر ان کی دانست میں یہ عورتیں نامناسب لباس پہنے ہوں۔ داعش نے پوری دنیا میں درجنوں دہشت گردی کے جرائم کئے ہیں اور ان کا نشانہ بے گناہ شہری بنے ہیں۔ داعش نے کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کئے ہیں۔ غرضیکہ داعش کے جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے۔ شومئی قسمت سے تاریخ عرب میں داعش جیسے اور بھی بے رحم گروہ ہوئے ہیں البتہ اسلامی تاریخ میں کسی نے بھی اپنی بربریت کا ایسا تخلیقی مظاہرہ نہیں کیا اور اس کو اس درجہ فخر کے ساتھ محفوظ اور نمایاں نہیں کیا۔ بالفاظ دیگر بہت سے ہولناک کردار نمودار ہوئے ہیں لیکن کسی نے اپنے مجرمانہ اعمال کو اتنے فخریہ انداز سے نہیں بیان کیا۔ مذکورہ تلخیص سے داعش کے جرائم کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ اس کا بھی اظہار ہے کہ اصولی اسلام کا معیار سارے انسانوں کے لئے ایک حسن سلوک کا معیار ہے اور یہ فطرت سے ہم آہنگ ہے۔ 30 ستمبر 2014ء کو ورلڈ کونسل آف چرچیز کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اولوف فسٹرٹ نے اس کھلے خط کا استقبال اس بیان سے کیا :
‘‘یہ مفصل اور علمی تردید ہے اسلامی اسٹیٹ کے دعوؤں کی، اس دستاویز میں مستند اسلام کی وضاحت مسلم قائدین کے لئے مفید ہوگی جن کی یہ خواہش ہے کہ تمام مذاہب کے پیرو ایک ساتھ عزت احترام اور انسانیت کی قدر مشترک کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندگی بسر کریں’’۔

داعش کا طریقہ کار
درحقیقت دور جدید سے قبل کی ریاستیں بھی جن میں اسلامی ریاستیں بھی شامل ہیں ان کی بنیاد ایک معاشرتی معاہدے کی ہوتی ہے جس کا مقصد تمام لوگوں کے ساتھ مساوی طور پر انصاف کرنا اور حکومت اور عوام کے درمیان باہمی طور پر ذمہ داریوں اور فرائض کو تقسیم کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے اس کی تفصیل اس کتاب کے باب 12 میں بیان کی ہے۔ اسی معاہدے کے تحت ریاست ٹیکس وصول کرتی ہے اور انصاف فراہم کرتی ہے۔ ریاست نظم و ضبط، تحفظ کی ضمانت دیتی ہے اور پاک صاف کھانا، پانی، صحت سے متعلق خدمات، تعلیم، ملازمت، ذرائع نقل و حرکت، زمین، مکان، توانائی اور دیگر سہولیات حتی الامکان فراہم کرتی ہے۔ یہ لوگوں کو حقوق اور آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنے معمول سے دس فیصد کم سہولیات فراہم کرے یا لوگوں کی توقعات پر پوری نہ اترے تو اس کے خلاف احتجاج ہوتا ہے۔ جب بھی کبھی کفایت کی کوشش کی جاتی ہے لوگ اس سے ناراض ہوتے ہیں اور اگر کوئی ریاست توقعات سے بیس فیصد کم سہولیات دے یعنی جو خدمات وہ فراہم کرتی تھی اس کا صرف 80 فیصدی فراہم کرے تو احتجاج اور زیادہ سنگین ہوگا۔ جب بھی کفایت کی مہم چلائی جاتی ہے لوگوں کا یہی رد عمل سامنے آتا ہے۔ لیکن ابو بکر الناجی نے اپنی تصنیف ادارۃ التوحش میں یہ کہا ہے کہ جب بھی سنگین جرم یا خانہ جنگی ہو جس میں معاشرتی انتشار پایا جائے تو جو شخص بھی نظم و ضبط فراہم کرے گا اس کا سب خیر مقدم کریں گے۔ بالفاظ دیگر جب موجودہ انتشار کے بعد داعش فتحیاب ہوتا ہے اور بظاہر نظم و ضبط کا انتظام کرے گا تو لوگ اس کا خیر مقدم کریں گے۔ ناجی کا موقف یہ ہے کہ انتشار اور بدامنی کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیا جائے اور ایک ظالمانہ معاشرتی ضابطہ لوگوں پر نافذ کیا جائے۔ عراق اور شام میں داعش اسی پر عمل پیرا رہا۔
مزید برآں، چونکہ داعش ایک ریاست نہیں ہے اور اگر وہ ریاست ہی کی طرح ٹیکس وصول کرتی ہے اور مقامی لوگوں کو بنیادی خدمات میں سے صرف چالیس فیصد ہی فراہم کرتی ہے اور لوگوں کو بھی توقعات کم ہیں تو لوگ اس کے بارے میں اچھی رائے قائم کریں گے اور داعش اپنے تمام اعمال کو جہاد کی دینی ضرورت کے پس پشت بیان کرتی ہے۔ غرضیکہ چند مؤثر خدمات کے عوض داعش ٹیکس وصول کرتی ہے یہی اس کا شام اور عراق میں عمل رہا ہے۔ بالفاظ دیگر داعش لوگوں کی توقعات کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے اور عوام اور حکومت کے درمیان جو معاشرتی معاہدہ ہوتا ہے اس کی خلاف ورزی کرتی ہے اور اگر کوئی اس کی نشاندہی کرے تو داعش اس کا جواب انتہائی سفاکی اور دہشت گردی سے دیتی ہے۔
یہاں ایک نکتہ اور بھی ہے جس سے عام طور سے لوگ بے خبر ہیں سوائے چند امریکیوں کے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ میں چند ہی ایسی ریاستیں ہوں گی اور غالباً جس میں رسول اکرمؐ کی مدینہ کی اسلامی ریاست شامل ہے جو لوگوں کے ذاتی زندگی سے اس قدر متعلق تھیں جیسے آج کی قومی ریاستیں ہیں اور ان کے پاس شہریوں کے متعلق بے شمار اطلاعات اور جاسوسی کی خبریں ہیں۔ لیکن داعش کی نام نہاد خلافت تمام جدید ریاستوں میں سب سے زیادہ مداخلت پسند ہے۔ وہ لوگوں کی ذاتی زندگی میں ہر ممکن مداخلت کرتی ہے اور جاسوسی کے تمام وسائل کو بغیر کسی جھجھک کے استعمال کرتی ہے اور یہ ریاست کا انتہائی غیر اسلامی تصور ہے۔
داعش میں اضافہ کیسے ہوتا ہے؟
داعش میں اضافہ اور قومی ریاست کے اضافہ میں پانچ بنیادی فرق ہیں۔ ان کی اطلاع کے بغیر داعش کے خلاف کوئی کاروائی ممکن نہیں۔ یہ نہ صرف جنگ بلکہ غیر مساوی معاشی مسابقے کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ ایک عام قومی ریاست اپنے عوام کے بارے میں فکر کرتی ہے اور ان کی خوشحالی، مسرت اور صحت کے بارے میں تمام ممکنہ قدم اٹھاتی ہے۔ یہی ریاست کا بنیادی فرض ہے۔ داعش لوگوں کی زندگی پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ کافروں کا تصور پیش کرتی ہے جن کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ داعش کا جہاد کا اپنا تصور ہے ان کے لئے عملاً تمام انسان محض ایک وسیلہ ہیں جہاد برپا کرنے کے لئے۔ کیونکہ اس گروہ نے جہاد کا ایک مسخ تصور پیش کیا ہے وہ انسانی جان، فلاح اور معاشرے اور اپنے فوجیوں کی زندگی کے بارے میں مطلق پرواہ نہیں کرتے۔ داعش کو فکر صرف اس بات کی ہوتی ہے کہ مردہ لوگوں کے ویڈیو تیار کئے جائیں اور یہ ظاہر کیا جائے کہ کس طرح وہ جنت میں داخل ہوئے۔ جنت کا حوالہ وہ اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں داعش کے مقصد کے لئے اپنی جان دیں۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ داعش اپنے لوگوں کے بارے میں مطلق فکر نہیں کرتی۔ ان کی خوشحالی، صحت اور مسرت کے بارے میں اسے کوئی فکر نہیں۔ داعش کو فکر صرف یہ رہتی ہے کہ اپنے جنگجوؤں کی تعداد کی جلد از جلد تلافی کی جائے اور وہ مردہ جنگجوؤں کے خاندان اور دوستوں کو اس کے لئے آمادہ کرتی ہے۔ ظاہر ہے متوفی کے دوست اور عزیز اس کی وفات کا بدلہ لینے لئے بے چین رہتے ہیں۔ اسی طرح داعش پروپیگنڈے کے ذریعہ اپنا اثر و رسوخ بڑھاتی رہتی ہے۔ غرضیکہ نظری اعتبار سے داعش کو جنگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ اس کے برخلاف ایک ریاست جنگ سے شدید طور پر متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے ذریعہ کوئی بھی ریاست رفتہ رفتہ وسائل کی کمی اور دیگر کمزوریوں کی شکایت کرتی ہے اس کے برخلاف داعش کا حوصلہ اور بلند ہوتا ہے۔ جنگ سے داعش پر قابو پانا مشکل ہے اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ داعش پر پابندیاں عائد کی جائیں اور ہر طرح سے ان کو محصور کردیا جائے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حزب اللہ کی مانند شہری آبادی میں نفوذ کے باعث داعش ایک قومی ریاست کے مانند نہیں ہے۔ جس طرح حزب اللہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا اگر اسرائیل بیروت پر بمباری کرے، داعش کو بھی اس کی مطلق پرواہ نہیں اگر روس اور امریکہ رقہ اور موصل کے شہر تباہ و برباد کریں۔ بلکہ اس بمباری سے مقامی آبادی کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے اور مقامی لوگ اور زیادہ تعداد میں داعش میں بھرتی ہونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کے پس پشت انتقام اور بے بسی کا جذبہ ہوتا ہے۔ غرضیکہ مقامی آبادی کی تباہی اور بربادی سے داعش کو کوئی تعلق نہیں۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ داعش مال غنیمت کی معیشت پر یقین رکھتی ہے، نہ صرف یہ اپنے دشمنوں کے مال و دولت اور اسلحے پر قبضہ کرتی ہے بلکہ مقبوضہ علاقوں کے مال و دولت اور تجارت پر بھی محصول عائد کرتی ہے۔ یہ وہ قدم ہے جو کوئی قومی ریاست نہیں اٹھا سکتی۔
چوتھا نکتہ یہ ہے کہ مال غنیمت کی اس معیشت کے علاوہ داعش کو کسی چیز کو محفوظ رکھنے کی کوئی فکر نہیں جبکہ قومی ریاست پر یہ فريضہ عائد ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف داعش چیزوں کو تباہ و برباد کرنے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر شئے کو تباہ و برباد کرنے میں یقین رکھتی ہے۔ اور اس سے جس حد تک ممکن ہو منافع حاصل کرتی ہے۔ داعش شام اور عراق میں آثار قدیمہ کے ذخیروں کی تباہی اور فروخت کے لئے بدنام ہے۔ اس تجارت سے داعش کو ہر سال ملین ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے، وہ زمینیں، عمارتیں، مکان، کھیت، مویشی، کارخانے، عوامی ادارے اور قدرتی ذخائر بالخصوص تیل اور گیس حتی کہ انسانوں تک کو بیچنے کے قائل ہیں۔ وہ لوگوں کو اغوا کرکے اور غلامی میں گرفتار کرکے ان کی خرید و فروخت کرتی ہے۔مختصراً داعش ماحولیات، ثقافت، عمارتوں اور زندگی کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور اس کی نظر میں اس کا مقبوضہ علاقہ محض آمدنی کا ذریعہ ہے۔
پانچواں نکتہ یہ ہے کہ داعش اپنے دشمنوں کے درمیان اختلاف سے بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس معاملہ کی مزید تفصیلات پیش کئے بغیر یہ کہنا کافی ہوگا کہ شام اور عراق میں داعش کے تمام دشمن جن میں القاعدہ، النصرہ اور امریکہ شامل ہیں، ان کے اپنے کچھ دشمن ہیں اور ان میں سے کوئی بھی داعش کے خلاف جنگ لڑنے پر پوری طرح آمادہ نہیں ہے۔ اگر یہ سب کے سب داعش کے خلاف حملہ کریں تو وہ بآسانی تباہ ہوجائے گا۔ بہرحال یہ ایک کھیل کی سی صورت ہے۔
ان مختلف عوامل سے یہ واضح ہے کہ داعش کو شکست دی جاسکتی ہے لیکن صرف ہتھیار کی مدد سے اس کو بے دست و پا کرنا ممکن نہیں کیونکہ بالآخر جنگ میں وہی فریق فتحیاب ہوتا ہے جس کے پاس بہتر وسائل ہوں۔ داعش کو شکست دینے کے لئے مشاہدے، فہم اور داعش کی سرگرمیوں کو منقطع کرنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے محض عسکری بنیاد پر شکست دینا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔

افرادی قوت اور بھرتی
اس کتاب کے آخر میں ہم اس امر کا مطالعہ کریں گے کہ داعش میں کون اور کیوں شامل ہوتا ہے؟ ہم نے داعش کے مؤثر پروپیگنڈے کے ذرائع کا ذکر کیا۔ یہ اضافہ ضروری ہے کہ جون 2016ء میں تقریباً 25000 تربیت یافتہ اور نظریاتی اعتبار سے پختہ جنگجو شام اور عراق میں موجود تھے۔ یہ اضافہ بھی ضروری ہے کہ ان کو بنیادی عسکری تربیت کے ساتھ ایک ماہ کی طویل مذہبی نظریاتی تربیت بھی دی گئی۔ 2015ء میں ان کی تعداد 32000 تھی۔ جون 2014ء سے 2016ء تک موصل پر قبضہ سے اب تک داعش نے 30000 غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی کی ہے ان میں سے غالباً ایک چوتھائی مارے گئے ہیں اور کچھ دنیا کے مختلف حصوں میں بس گئے ہیں۔ کچھ اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں گو کہ ان کے اغراض و مقاصد معلوم نہیں ہیں کچھ نے اپنی وفاداری تبدیل کردی ہے اور کچھ بدستور جنگ میں مصروف ہیں۔ جون ۲۰۱۶ء سے ہر ماہ غیر ملکی بھرتی کی تعداد 200 جنگجو ماہانہ ہے۔ داعش نے ایک متبادل منصوبہ کے تحت لیبیا میں بھی بھرتی کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ اور آخر میں 2014ء میں غیر ملکیوں کی بھرتی کی تعداد 2000 ماہانہ سے زائد تھی۔ اس کمی کی وجوہ یہ ہیں: داعش کے مالیات پر مغرب کا نشانہ، روسیوں کی فضائی بمباری، ترکی کی سرحد پر پابندیاں اور داعش کی عسکری کامیابیوں میں نمایاں کمی۔ ان سب اسباب کی بنا پر بھرتی میں نمایاں کمی آئی ہے۔
مغربی ممالک سے بھرتی ہونے والوں کو بہت نمایاں کیا جاتا ہے۔ بالعموم ان کا تعلق متوسط طبقے سے ہوتا ہے اور ان کے پاس دولت اور مہارت بھی حاصل ہوتی ہے۔ خاص طور سے ٹکنالوجی میں یہ ماہر ہوتے ہیں۔ البتہ شام اور عراق کے اندر یہ افراد داعش کی اصل قوت نہیں ہیں۔ داعش کی افرادی طاقت میں ان غیر ملکی افراد کی تعداد ایک چوتھائی سے کم ہے۔ اصل افرادی قوت کا مآخذ عرب اور مسلمان ممالک ہیں بالخصوص ٹیونیشیا، مراکش، سعودی عرب، ترکی اور روس کے مسلم علاقے۔ مختصراً داعش کی کل افرادی قوت کا نصف حصہ ان غیر ملکی جنگجوؤں پر مشتمل ہے۔
داعش کے زیاد تر جنگجو درحقیقت مقامی عراقی اور شامی لوگ ہیں۔ شامیوں نے عرصہ دراز تک بشار الاسد اور اس کے والد حافظ الاسد کے مظالم برداشت کئے ہیں، اسی طرح عراق کے لوگوں کے مصائب کا سلسلہ دراز رہا ہے۔ کم از کم 2003ء تا 2007 عراق میں جاری جنگ اور شیعوں کی مسلکی تطہیر کے نتیجہ میں مقامی آبادی کی مصیبتوں میں مزید اضافہ ہوا۔ شیعہ سیاستدانوں اور جنگجوؤں نے قبضہ اور اقتدار حاصل کر کے صدام حسین کے دور میں ان پر جو ظلم ہوئے تھے ان کا پورا انتقام لیا۔ 2006ء میں امریکہ نے بہت سے سنّی قبائل کو جمع کیا تاکہ وہ عراق میں القاعدہ کے خلاف جنگ کریں۔ امریکہ نے ان کو ہتھیار فراہم کئے اورخاص منصوبہ کے تحت ان قبایلیوں کو رقم بھی ادا کی۔ 2008ء میں جیسے ہی امریکہ کی فوجیں عراق سے رخصت ہوئیں وزیر اعظم نوری المالکی نے ان قبائل کو نہتا کردیا اور ان کی تنخواہیں منقطع کردیں۔ ان کو القاعدہ اور شیعہ جنگجوؤں نے قتل کرڈالا۔ اس کے نتیجہ میں وہ سنّی عراقی جنھوں نے القاعدہ کے خلاف 2006ء سے 2008ء تک جنگ کی تھی وہ اب عراقی حکومت پر اعتبار نہیں کرتے اور انتخاب کی صورت میں وہ بغداد میں قائم کسی شیعہ حاکم کی حکومت کے مقابلے میں داعش کو ترجیح دیں گے۔ صرف اس صورت میں جبکہ عراق کی تقسیم سنّی ، کردستان اور شیعہ ریاستوں میں ہوجائے یا کم ازکم وفاقی الحاق قائم ہو جس میں سنّی صوبوں کو اپنی فوج، وسائل اور اقتدار حاصل ہو اور ان کا اپنا قانون اور دستور ہو۔ صرف اسی صورت میں یہ عراقی داعش سے غیر منسلک کئے جاسکتے ہیں۔
مزید برآں، داعش اپنے مفتوحہ علاقے میں لوگوں کو بھرتی کرتی ہے اور اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوں تو ان پر ٹیکس عائد کرتی ہے۔ 14 سے 15 سال کے لڑکوں کو جنگجو کے طور پر بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کی تربیت کا آغاز چھ سے سات سال کی عمر ہی سے کردیا جاتا ہے کیونکہ اس عمر میں بچے نسبتاً زیادہ فرمانبردار ہوتے ہیں۔
جون 2016ء میں داعش کے زیر اقتدار 50 سے 60 فیصدلوگ ہیں جب کہ اس سے قبل تقریباً ایک کروڑ لوگ اس کے زیر اقتدار تھے۔ بہر کیف اب بھی داعش کے پاس افرادی قوت حاصل کرنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔
یہ نکتہ بھی اہم کے کہ داعش نئے شامل ہونے والوں کا جامع جائزہ لیتا ہے اور ان کی تفصیلات محفوظ رکھتا ہے تاکہ ان کے اغراض و مقاصد اور ان کے وسائل پر کڑی نظر رکھی جائے اور جاسوسی کا امکان نہ رہے۔ داعش کسی پر اعتبار نہیں کرتے اور بدترین مجرموں کے گروہ کی طرح یہ اپنے افراد کو ایسے جرائم میں ملوث کرتے ہیں تاکہ وہ ان کے خلاف کبھی نہ جاسکیں اور ان کے ساتھ رہنے پر مجبور رہیں۔ جب تک کوئی شخص بدترین جرائم کا ارتکاب نہیں کرتا داعش اس کی سرپرستی نہیں کرتا۔
معیشت اور مالیات
ہم نے داعش اور قومی ریاست کے مابین اقتصادیات کو واضح کیا۔ 2015ء میں جب داعش اپنے نقطۂ عروج پر تھااس کے پاس ہر سال اس کی معیشت دو بلین ڈالر سے زائد کی تھی۔ اس کی آمدنی کے ذرائع یہ تھے: مال غنیمت، کھیتوں پر محصول، اغوا کا تاوان، لوگوں سے زبردستی وصولی، ڈاکہ زنی اور چوری، غیر ملکی ہمدردوں سے چندے، تیل اور گیس سے آمدنی، درحقیقت ان سے داعش کی آمدنی کا 80 فیصد حاصل ہوتا تھا۔ ہر ممکنہ شئے پر محصول ، اپنے مقبوضہ زمین کی ہر شئے کی فروخت جن میں مکان، مویشی، سامان حتی کہ انسان تک بھی شامل تھے۔ داعش بینکوں اور عوامی اداروں کو لوٹتے ہیں اور عوامی سہولتوں کو فروخت کرتے ہیں۔ داعش نے اپنے مقامی تجارتی مرکز بھی قائم کررکھے ہیں جن میں کار سے لے کر مچھلی تک کی فروخت شامل ہے۔ یہ کسی سے بھی تجارت کے لئے تیار رہتے ہیں اور حتی کہ اپنے ان دشمنوں سے بھی جن سے یہ حالت جنگ میں ہیں۔ داعش کے غیر ملکی ہمدرد اس کی تجارت اور مالیات کا نظم کرتے ہیں۔

مذہبی پیغام کی ترسیل کیسے کی جاتی ہے؟
بنیادی طور پر درج ذیل چار طریقوں سے مذہبی پیغام کی ترسیل ہوتی ہے:
۱۔ قدیم طریقہ یعنی درس اور تدریس اور تبلیغ کے ذریعہ۔
۲۔ جدید طریقے (بنیادی طور پر انٹرنیٹ، سماجی راستے، فلم یا سماعی کیسیٹ)۔یہ بھی ستم ظریفی ہے کہ ان پیغامات کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ فروغ دیتے ہیں۔
۳۔ انعام کا پہلو، بنیادی طور پر ایسی امداد پہنچانا جس کے پس پشت مذہبی پیغام ہو۔ اخوان المسلمون اور حزب اللہ اور چرچ سے متعلق راحت رساں ادارے، تعصب کی تجارت کرنے والے مدارس اور جامعات اس میں مہارت رکھتے ہیں۔
۴۔ تعذیب کا پہلو، بنیادی طور پر ایسے قوانین جن کی بنیاد پر سزا دیجاتی ہے اور معاشرتی مقاطعہ کیا جاتا ہے۔
ہر تہذیب میں ان طریقوں پر سوائے طریقہ نمبر دو کے عمل کیا جاتا رہا ہے۔ اس مہم میں وقت، کوشش اور بے شمار لوگوں کی جان اور مال صرف ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا اور اس پر نظر رکھنا آسان نہیں ہے کہ مختلف گروہ مذہب کے نام پر کیا کیا کررہے ہیں۔
وہ لوگ جو مذہب کے معاملے میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں ان کو بنیادی طور پر یہ تین کام کرنا چاہئے۔ پہلا اغراض و مقاصد کی تحقیق، مؤثر تبدیلیاں اسی وقت واقع ہوتی ہیں جب لوگ اخلاص کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہوں۔ عربوں کے یہاں ہ مقولہ رائج ہے کہ دل سے نکلنے والے الفاظ براہ راست دل پر ثبت ہوتے ہیں جب کہ زبان سے ادا ہونے والے الفاظ کانوں تک ہی پہنچتے ہیں۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ اس کام کا آغاز اپنے خاندان، اپنے دوستوں اور اپنے ذاتی رابطوں کے ذریعہ کیا جائے۔ لوگ بالخصوص بچے دوسروں کے طرز عمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس میں قول سے زیادہ دخل عمل کو ہوتا ہے۔ تیسرا قدم جو ہمارے دور کے لئے زیادہ مناسب ہے وہ یہ کہ موجودہ اداروں کی تکرار نہ کی جائے بلکہ جو ادارے موجود ہیں ان کے ذریعہ بہتر انداز سے پیغام پہنچایا جائے۔ اس میں سافٹ ویر کی تبدیلی درکار ہے یعنی پیغام کو بہتر طور پر پیش کیا جائے، اس کے لئے بہت زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں لیکن جس شئے کی ضرورت ہے اسے دولت سے خریدا نہیں جاسکتا وہ ہے فہم، ذہانت، علم، صبر، ہمت اور محبت۔

آج نوجوان مسلمان کیسے متاثر ہوتے ہیں (2016ء)
اس موضوع پر خصوصی مطالعے کئے گئے کہ مسلمان نوجوان کیسے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مطالعات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ مذہبی طبقہ بالعموم مذہب کے نام پر کچھ بھی نہیں کرتا بالخصوص ایسی سرگرمی کہ داعش یا النصرہ میں شمولیت۔ ان کا عمل فتوے پر مبنی ہوتا ہے اور یہ فتویٰ ان کے لئے قابل کشش ہونا چاہئیے۔ طابا فیوچرس انیشی ایٹیو متحدہ عرب امارات نے اس ضمن میں بہترین مطالعہ کیا ہے، ان کی اجازت سے کچھ نتائج پیش ہیں۔ ہم ان اعداد شمار کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ یہ جائزہ فی نفسہٖ کافی ہے۔ یہ صراحت البتہ ضروری ہے کہ مذہبی پیغام کی ترسیل کے لئے ان اعداد شمار کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
عرب مسلمان مذہبی معاملات سے متعلق کس سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں؟

داعش میں کون شمولیت اختیار کرتا ہے؟
مذکورہ بالا اعداد شمار کے باوصف حقیقت یہ ہے کہ ایک مخصوص قسم کے مسلمان داعش میں اور اس کے ہم خیال گروہوں میں شامل ہوتے ہیں یا ہوئے ہیں۔ اثر کا مآخذ اس مسلمان میں تبدیلیاں لاسکتا ہے لیکن داعش اس مسلمان میں زیادہ فرق نہیں لاسکتے، یہ ایک اہم نکتہ ہے جس کا عام طور پر ادراک نہیں ہوتا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ بعض قسم کے مسلمان ہرگز داعش میں شامل نہیں ہوتے اور نہ ہوئے ہیں اور نہ ہوں گے اور کوشش کے باوصف بھی اس میں شرکت کا تصور نہیں کرسکتے، یہ ایک اور اہم نکتہ ہے جس کو عام طور سے لوگ نظر انداز کردیتے ہیں۔
7 دسمبر 2015ء کو ایک مسلمان پاکستانی نژاد شوہر اور بیوی کے ذریعہ کیلیفورنیا میں واقع سان بربارڈینو کے مرکز صحت میں 14 لوگوں کے قتل اور22 لوگوں کو زخمی کرنے کے پانچ دن بعد امریکہ کے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار اور تاجر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ:
’’مسلمانوں کےامریکہ میں داخلے پر پابندی لگائی جائے جب تک کہ ملک کے ارباب حل و عقد اس کا صحیح ادراک نہیں کرلیتے کہ ماجرا کیا ہے۔ (اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں)۔
مسلمانوں کے متعلق ٹرمپ کے دیگر بیانات سے قطع نظر جس میں یہ بیان بھی شامل ہے جس میں اس نے ایک امریکی جنرل کے اس بیان کی تعریف کی کہ مسلمانوں کو سور کے خون میں ڈوبی ہوئی گولیوں سے اڑادیا جائے۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کے بارے میں جو اس کا تبصرہ ہے اس میں اس نکتہ کا ادراک نہیں کہ کس قسم کے مسلمان داعش میں شامل ہوتے ہیں اور پھر تشدد اور قتل و غارت گری انجام دیتے ہیں اور پھر کون سے ایسے مسلمان ہیں جو ان حرکتوں میں ملوث نہیں ہوتے۔ اس سوال کا جواب غور و فکر، دیانت داری اور بغیر کسی تحفظ ذہنی کے دینا چاہیے۔

اس کتاب کے باب10 اور ضمیمہ اول میں ہم نے یہ واضح کیا کہ سنّی مسلمان آج ان نظریاتی خیموں میں منقسم ہیں۔
۱۔ اصولی روایتی مسلمان جو سنیوں کی کُل تعداد کے 65 فیصد ہیں۔ یہ چار فقہی مذاہب کی اسلامی روایات کے پیرو ہیں۔ جہاں تک ان کے عقائد کا تعلق ہے وہ اشعری ماتریدی دینیات پر کاربند ہیں اور روحانیات کے لئے وہ تصوف مثال کے طور پر غزالی کے مرہون منت ہیں۔ مصر میں الازھر ایک نمائندہ اصولی ادارہ ہے۔ یہ دنیا کی تین قدیم ترین دانشگاہوں میں سے ایک ہے۔ 1900ء میں ۹۹ فیصدی سنّی اصولی تھے۔
اپنے عقائد کے لحاظ سے اصولی سیاسی عزائم نہیں رکھتے البتہ اگر کوئی مسلم اکثریت کی ریاست نماز پر پابندی لگائے اور کفر کا اعلان کرے صرف اس صورت میں یہ مسلمان اس حکومت کو تبدیل کرنے کے خواہاں ہوں گے۔
۲۔ اصولی مخالف جو کہ کُل سنّیوں کے 20 فیصد ہیں۔ یہ مذاہب کے منہج کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق جو منہج ان کو مناسب محسوس ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان کو بنیاد پرست بھی کہہ سکتے ہیں۔ اگر اس میں سیاسی جارحیت کا پہلو شامل ہو۔
اسلام میں بنیاد پرستی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نصوص کے لغوی معنی پر اصرار کیا جائے بلکہ اپنی مرضی کے مطابق لغوی معنی مراد لینا ، مثال کے طور پر کوئی بھی بنیاد پرست آیت نور کے لغوی معنی مراد نہیں لے گا اسی طرح وہ اس آیت کے بھی لغوی معنی پر اصرار نہیں کرے گا:

اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اس کے جی میں، اور ہم اس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ۔(سورہ ق 16 : 50)۔
بلکہ بنیاد پرستی مذہب کی وہ شکل ہے جو اس کی سب سے مستند شکل ہی نہیں بلکہ اللہ کو قابل قبول بھی ہے اور پھر اسی مذہب کی دیگر تمام شکلوں کو تشدد یا دھمکی کے ذریعہ مستند کرے۔
بنیادی طور پر فعّال سنّی بنیاد پرستی کی دو اقسام ہیں : ایک انتہا پسند سلفیت اور وہابیت اور دوسرے اخوان المسلمون۔
۳۔ ناواقف: یہ سنّی مسلمانوں کی آبادی کا چوتھائی حصہ ہیں۔ بدقسمتی سے اصول مخالف تحریک کے زیر اثر عالم اسلام میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اب یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ اب کسی مذہب کے پابند نہیں اور اگر ہیں تو انہیں اپنے فقہی مذہب کا علم نہیں۔ وہ لوگ جو کسی مذہب کی نشاندہی بھی کرتے ہیں وہ بغیر کسی امتیاز کے سلفی احادیث کے مجموعے بالخصوص البانی کے ان نسخوں پر اعتبار کرتے ہیں جو ان کو مفت فراہم کئے گئے ہیں۔ غرضیکہ اس معاملے میں بڑے حساس واقع ہوئے ہیں اور لوگ بنیاد پرستی کا رجحان بغیر کسی تجزیہ یا فہم کے اختیار کرلیتے ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم دانشگاہوں مثلاً الازھر کے بالمقابل عالم اسلام کی دوسری دانشگاہوں میں مذہب کی بنیاد پر شریعہ کی تعلیم نہیں دی جاتی بلکہ اسلامی اتحاد کے نام پر تقابلی شریعہ کا مطالعہ ہوتا ہے اور اس سے اصول کمزور پڑتے ہیں جب کہ بنیاد پرستی کو ایک موقع ملتا ہے۔
۴۔ تجدد زدہ: یہ افراد سنّی آبادی کا ایک فیصدی سے بھی کم ہیں۔ اسلامی تجدد کے پس پشت یہ نظریہ ہے کہ نہ صرف اسلامی تہذیب و ثقافت بلکہ اسلامی عقائد اور قانون پر بھی نظر ثانی کی جانی چاہییے اور ان کو مغربی اقدار کے تابع ہونا چاہئیے۔ دیگر تمام مسلمان اس تصور کو کلی طور پر مسترد کرتے ہیں حالانکہ مغرب اس رجحان کی ہمت افزائی کررہا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ سیکولرزم کو بھی فروغ دے رہا ہے اور یہ عمل کئی صدیوں سے جاری ہے۔ البتہ کوئی ایسا دیندار اور باعمل سنّی مسلمان ملنا مشکل ہے جو کہ تجدد کا حامی ہو۔ بہر کیف ان کی تعداد سنّی دنیا میں ایک فیصد سے کم ہے۔ ان میں کسی قسم کی حرکت یا صلاحیت نہیں ہے۔ جب بھی کبھی مغربی قوتیں یا ادارے ان کی ہمت افزائی کرتے ہیں، اس سے بنیاد پرستوں کے نظریۂ سازش کو اور تقویت ملتی ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور قابل ذکر گروہ ہے:
۵۔ نو مسلم یا وہ پیدائشی مسلمان جو بہک گئے تھے اور اب اسلام پر عمل پیرا ہیں۔ یہاں مراد ان مسلمانوں سے ہے جو گزشتہ تین سال سے قبل کے عرصہ سے اسلام پر کاربند ہیں۔ ان کا تناسب سنیّوں کی کل تعداد کا .01 فیصد سے بھی کم ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ صرف وہی لوگ داعش میں شامل ہوتے ہیں جو کہ اصول مخالف ہیں یا نومسلم ہیں۔ داعش کی افرادی قوت تمام تر اصول مخالف افراد پر مشتمل ہے۔ ان کارکنوں کو ایک مہینہ کی نظریاتی تربیت دی جاتی ہے تاکہ ان کی فکر میں تبدیلی لائی جائے۔ صرف اصول مخالف مسلمان ہی شام اور عراق کا سفر کرتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ ہر اصول مخالف مسلمان داعش میں شامل ہوتا ہے یا اس سے ہمدردی رکھتا ہے، ان کی صرف ایک اقلیت ایسا کرتی ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ پر ہے کہ داعش کے تمام اراکین اصول مخالف ہیں اگر وہ ایسے نہیں ہوتے تو وہ ہرگز داعش میں شامل نہیں ہوتے۔
داعش اور القاعدہ انتہا پسند سلفی وہابی اور اخوان المسلمون تحریک و فکر کے باعث ہیں۔ انتہا پسند سلفیت اور وہابیت نے روایتی اسلام کو ڈھائی سو سال قبل ترک کردیا۔ داعش کے جرائم کے لئے اسلام کو مورد الزام ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسا کہ امریکہ کے اصل باشندوں پر جو ظلم 1830ء میں ہوئے اس کے لئے برطانیہ کو مورد الزام قرار دیا جائے۔ 1776ء سے برطانوی لوگوں پر یہ ذمہ داری ختم ہوگئی، اگر ان مجرموں کے آباءو اجداد برطانوی تھے، جیسا کہ امر واقعہ ہے تب بھی امریکیوں نے اگلی صدی میں جو کچھ کیا اس کے لئے برطانوی افراد کو ذمہ دار نہیں قرار دیا جاسکتا۔
اس نکتہ کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ اس سے داعش کی افرادی قوت میں ایک دم سے ۹۰ فیصدی کی کمی واقع ہوتی ہے اور یہ وضاحت بھی ہوتی ہے کہ داعش کا نظریاتی طور پر جواب دینے کے لئے روایتی اصولی اسلام کافی ہے۔
صرف تنازع کی شکل میں ناواقف حضرات داعش میں شامل ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ وہ افراد ہیں جو اپنے دین کی تشریح منافع کے لحاظ سے کرتے ہیں اور وہ دولت یا دباؤ کا شکار ہوکر داعش میں شامل ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے اگر مسلمانوں کو اپنے مقصود کے بارے میں کوئی شبہ ہو تو اس کے لئے وہ اپنی جان کی بازی نہیں لگائیں گے بلکہ وہ اس کی مخالفت کریں گے۔ اس ضمن میں شکوک و شبہات اور غیر یقینی صورتحال کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ داعش میں شمولیت کے لئے روکنا اس لحاظ سے آسان ہے کہ مسلمانوں پر یہ واضح کردیا جائے کہ داعش کے عقائد اور اعمال کس طرح قرآن و سنت کے مخالف ہیں۔ درحقیقت وہ لوگ داعش سے اپنا تعلق منقطع کرلیتے ہیں کہ وہ قریب سے یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ یہ گروہ کتنا غیر اسلامی ہے۔ اپنے تمام تر پروپیگنڈوں کے باوجود۔
یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ نومسلم اس سلسلہ کی سب سے کمزور کڑی ہیں اور داعش اور القاعدہ انہی پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اس کا ذکر ابو عمرو القاعدی کی تصنیف دورہ فی فنّ التجنید میں ملتا ہے۔ ان میں سے بیشتر نوجوان وہ ہیں جو حاشیہ پر ہیں اور غم و غصہ کا شکار ہیں، ان کا تعلق باغی، ذیلی طبقہ سے ہے۔ اس کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح مغرب میں غیر مسلم داعش میں بھرتی کے لئے گئے اور ان کی جانچ سختی سے نہیں کی گئی، اسی طرح یہ مثالیں بھی ملتی ہیں کہ کس طرح غیر مسلم طلباء جو کہ جاپان میں زیر تعلیم ہیں داعش میں شرکت کے خواہاں ہیں اور وہ اسلام قبول کئے بغیر ایسے کرتے ہیں ان کی شرکت بطور منتقم مزاج غیر مسلم کی ہوتی ہے۔ بالفاظ دیگر داعش صرف اسلامی انتہا پسند ہی نہیں بلکہ انتہا پسندوں کی اسلامی شکل کا نام ہے۔ وہ لوگ جو کہ آج سے چالیس سال قبل انارکسٹ یا مارکسٹ ہوتے وہ آج داعش میں شامل ہیں۔ مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان جرائم کو اسلام کا نام دیا جاتا ہے یا اس جنون پر اسلام کا لبادہ چڑھایا جاتا ہے۔ ازبکستان میں ماسکو میں مارچ ۲۰۱۶ء میں ایک خاتون نے ایک معذور بچے کو اس لئے قتل کردیا کیونکہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کی تھی اور پھر اس نے اپنے دفاع میں یہ کہا کہ اس نے اللہ کی راہ میں ایسا کیا تھا اور اپنے آپ کو دہشت گرد بتایا۔ یہی صورتحال البوکوحرام کی ہے جس نے بڑے پیمانے پر قتل و غارتگری کا بازار گرم کررکھا ہے۔ اغوا اور تباہی اور بربادی اور یہ سب اسلام کے نام پر کررہے ہیں۔ یہ تکفیری تحریک سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے۔

داعش میں کون نہیں شامل ہوتا؟
مذکور بالا گفتگو سے یہ واضح ہوگا کہ کوئی بھی باعلم اور ذمہ دار شخص جس کا تعلق اصولی گروہ سے ہے وہ داعش میں ہرگز شامل ہوگا، نہ آج تک اس میں کوئی شامل ہوا ہے اور نہ آئندہ شامل ہوگا۔ اسی طرح کوئی اشعری ماتریدی، ماہر دینیات نے آج تک داعش میں شرکت نہیں کی ہے۔ کوئی صوفی داعش کی صف میں شریک نہیں۔ کسی اسلامی فلسفی نے آج تک داعش کی جانب توجہ نہیں کی ہے، انھوں نے نہ ایسا کیا ہے اور نہ آئندہ ایسا کریں گے، اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کا تعلق اصولی گروہ سے نہیں ہوگا، نہ وہ ماہر دینیات ہوں گے، نہ وہ فلسفی ہوں گے اور نہ وہ صوفی ہوں گے۔ داعش کا لائحۂ عمل اصولیوں، علماء، صوفیوں اور فلسفیوں کے طریقہ کار کی بالکل ضد ہے۔ اگر بفرض محال کسی طرح وہ اس داعش تحریک میں شامل بھی ہوتے ہیں اور وہاں اپنے خیالات کا اظہار کریں گے تو ان کا سر فوراً قلم کردیا جائے گا اور بھیانک موت سے دو چار ہوں گے۔ درحقیقت داعش اور تمام تکفیری، اصولیوں، اشعریوں، ماتریدیوں، صوفیوں اور فلسفیوں کو ایسا مرتد قرار دیتے ہیں جو واجب القتل ہیں۔ اس سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے مختلف مقامات اور ممالک سے جون 2016ء تک داعش میں شمولیت کی ہے ان کی کیفیت کیا ہے۔ مثال کے طور پر آج تک بلجیم سے 2000 غیر ملکی جنگجو داعش میں شامل ہوئے ہیں جب کہ بلجیم میں مسلمانوں کی تعداد چھ لاکھ ہے۔ لیکن ہندوستان سے صرف 23 مسلمان داعش میں شامل ہوئے ہیں جب کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد 16کروڑ سے زائد ہے۔ بلغاریہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلمانوں کی قدیم آبادی ہے اور وہ ملکی آبادی کا دس فیصد ہیں وہاں مسلمانوں کی تعداد 10لاکھ ہے اور اس ملک میں مسلمانوں پر بہت ظلم و ستم ڈھائے گئے اور اب بھی ان کا استحصال ہوتا ہے لیکن بلغاریہ کا کوئی بھی مسلمان داعش میں شامل نہیں ہے۔ اسی طرح عمان سے بھی کوئی جنگجو داعش میں شامل نہیں ہوا ہے جبکہ عمان میں 10 لاکھ سے زائد سنّی مسلمان ہیں۔ اس کے برخلاف تیونیشیا جس کی آبادی ایک کروڑ دس لاکھ سے بھی کم ہے اس کے تین ہزار جنگو یہاں موجود ہیں۔ اور یوروپی ممالک مثلاً فرانس، برطانیہ جہاں مسلمان چند لاکھ ہیں وہاں سے کئی کئی ہزار جنگجو داعش میں شریک ہیں۔ انڈونیشیا میں مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اور ان کی کل آبادی 22 کروڑ سے زائد سنّی مسلمانوں پر مشتمل ہے اس کے باوصف انڈونیشیا سے صرف 200 جنگجو داعش یا النصرہ میں نظر آتے ہیں۔ غرضیکہ تمام مغربی ممالک میں مقیم ایک ہزار مسلمانوں میں سے ایک شخص نے داعش میں شمولیت اختیار کی ہے جب کہ انڈونیشیا اور مصر جیسے ممالک میں سے ایک لاکھ میں سے ایک مسلمان داعش میں شامل ہوا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم مسلمان عالم اسلام کے مسلمانوں کے مقابلے میں انتہا پسندی کی جانب زیادہ مائل ہوتے ہیں۔
اس کی توجیہ کیا ہے؟ اس کی وجہ بڑی سادہ ہے۔ بلغاریہ اور ہندوستان جیسے ممالک میں حنفی ادارے بہت قوی ہیں اور ان کے علماء حنفی فقہ میں طاق ہیں۔ مصر اور انڈونیشیا شافعی فقہ کے مراکز ہیں اور وہاں تصوف کا بھی چلن ہے۔ اس کے برخلاف یورپ، اخوان المسلمون اور سلفی وہابی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور گزشتہ چالیس سال سے وہاں اس نوع کے ادارے قائم ہیں اور بالخصوص یورپ میں ایسے افراد مقیم ہیں جن کو اپنے وطن میں رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ بلجیم میں شمالی افریقہ کے خاصی تعداد میں سلفی وہابی مسلمان موجود ہیں۔ حبیب بورقیبہ (1956 سے 1987 تک) اور زین العابدین کے عہد (1987ء سے 2011ء تک) کے مابین روایتی مالکی فقہ کے پیروؤں کا استحصال کیا گیا اور اس مذہب کو کمزور تر کیا گیا اور تیونس میں واقع جامع الزیتونیہ جو 120ھ بمطابق 737ء میں وجود میں آئی، وہاں سلفیت کا فروغ ہوا اور مالکی فقہ کا مقام سلفیت نے حاصل کرلیا۔ بالفاظ دیگر جہاں کہیں بھی اصولی فقہ مضبوط ہے مسلمان داعش ، النصرہ، سلفیت، وہابیت، تکفیریت یا اخوان المسلمون کی فقہ کی جانب متوجہ نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف جہاں اصولی مخالف فکر کا غلبہ ہے وہاں داعش کے کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔
ایک اور نکتہ کو ملحوظ رکھنا چاہئیے، یہ کسی سنّی اصولی، اشعری یا صوفی کے لئے ناممکن ہے کہ وہ داعش میں شامل ہو اور اس کی کوئی مثال بھی نہیں ملی ہے اور اس کا اطلاق شیعہ مسلمانوں پر بھی ہوتا ہے۔ اس سے یہ واضح ہے کہ نسلی لحاظ سے یوروپی غیر مسلم بھی جو اپنے ماحول سے غیر مطمئن ہیں، داعش میں شامل ہوسکتے ہیں۔ ہر چند کہ ان کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے لیکن نظری اعتبار سے اصولی مسلمان کے مقابلہ میں ان غیر مسلموں کی داعش میں شمولیت بعید از قیاس نہیں یہ محض قیاس آرائی نہیں ہے اس کے سنگین سیاسی معنی ہیں بالخصوص یورپ کے سیاق و سباق میں۔ اب تک سیکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم داعش میں شامل ہوچکے ہیں جب کہ ایک بھی اصولی مسلمان کی شرکت کا ثبوت نہیں ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ داعش اور تکفیری نظریے پر قدغن نہیں عائد کی جاسکتی اور ان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ لوگوں کو ایک دم سے انتہا پسند بنا دیں اور کسی کو اس کی بھنک بھی نہیں لگے، جیسا کہ ذرائع ابلاغ تفصیل پیش کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف حقیقت یہ ہے کہ داعش اسباب اور علل کی بنیاد پر منطقی انداز میں کام کرتے ہیں۔ ان امور کا ذکر مذکورہ بالا نقشے میں کیا گیا ہے۔ خاندان، دوستوں، ذاتی رابطوں، انٹرنیٹ، مذہبی پروگراموں،مقامی امام، مسجد، کتابوں اور کتابچوں کا اثر ہوتا ہے۔ اب تک کسی مفتی اعظم یا فتویٰ مرکز کی طرف سے داعش کی تائید کا ثبوت نہیں ہے۔ البتہ سب سے زیادہ مؤثر وسیلہ تعلیم کا ہے بالخصوص دینی تعلیم کا۔ اس نکتہ پر تکرار ضروری نہیں کیونکہ جن ممالک میں یہ مسئلہ ہے وہ اس سے بخوبی واقف ہیں اور تدبیر کررہے ہیں۔ اسی کا اطلاق بعض معروف دانشگاہوں پر بھی ہوتا ہے۔سفر کے ذریعہ بھی داعش کا اثر اور دائرہ کار بڑھا ہے اور تکفیریوں کو نئی افرادی قوت جمع کرنے کا موقع ملا ہے۔
بالفاظ دیگر، صحیح فیصلے اور وافر وسائل کی مدد سے یہ معلوم کرنا آسان ہے کہ کس کے انتہا پسند ہونے کا خدشہ ہے اور کون اس کی جانب ہرگز مائل نہیں ہوگا۔ اس میں احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا چاہئیے کہ باخبر اصولی مسلمانوں کی داعش میں شمولیت کا کوئی امکان نہیں۔ اسی لئے داعش کو کوئی اسلامی یا مسلم یا مسلم معاملہ نہیں تصور کرنا چاہئیے بلکہ درحقیقت یہ ایک تکفیری سلسلہ ہے۔
سنّی خانہ جنگی
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ فی الوقت کیا ہورہا ہے؟ اس کے آغاز میں یہ صراحت ضروری ہے کہ اوائل 2015ء میں اردن کے ہز مجسٹی شاہ عبداللہ ثانی ابن الحسین نے داعش کے خلاف اعلان جنگ کیا اور اس کو تیسری دنیا کی جنگ قرار دیا۔ بادشاہ کی اس سے مراد یہ ہے کہ یہ جنگ عالمی ہے کیونکہ دہشت گردی کی حرکتوں اور داعش کے مختلف گروہوں سے شام، عراق، لیبیا، نائجیریا اور ملحقہ ممالک مثلاً صومالیہ، یمن کے جنوبی حصے، سینائی اور افغانستان میں مقابلہ کی ضرورت ہے۔ یہ بھی مفہوم ہے کہ داعش کے جو اغراض و مقاصد ہیں وہ یہ کہ دنیا پر قبضہ جمایا جائے اور مسلح جد و جہد پر ان کی حکمت عملی مبنی ہے اور یہ بظاہر جیسی جنونی حرکت معلوم ہوتی ہے واقعتاً ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک مختلف قسم کی جنگ ہے، تکفیری سالوں سے اس جنگ کو بھڑکارہے ہیں۔ یہ کوئی مذہبی جنگ نہیں ہے جس کا نشانہ مغرب ہے۔ یہ ہٹنگٹن کے تصادم تہذیب کا معاملہ بھی نہیں ہے اور یہ شیعوں کے خلاف مسلکی جنگ بھی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ سنّی خانہ جنگی ہے یا یہ اصولیوں کے خلاف تکفیریوں کی جنگ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصولی تکفیریوں کی تکفیر نہیں کرتا۔ درحقیقت اصولی ان کے خلاف کسی جنگ میں مصروف نہیں ہیں۔ اصولی مسلمانوں کو حکومت کی قوت اور اقتدار کا اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تکفیری جنگ کے خلاف حکومت مقابلہ کرے گی۔
اسلام کی ابتدائی صدیوں کے خوارج کی مانند داعش اور تکفیری مہم درحقیقت اصول کے خلاف جنگ ہے۔ اس کا اولین نشانہ اصولی مسلمان ہیں بالخصوص اشعری اور صوفی حضرات۔ دنیا کے خلاف تکفیریوں کی یہ جنگ ثانوی ہے۔ یہ ایک علیحدہ نکتہ ہے کہ یہ دونوں جنگیں بیک وقت جاری ہیں۔ یہ جنگ قتل اور غارتگری، تباہی اور بربادی سے عبارت ہے۔ ایک سطح پر یہ ایسی جنگ ہے کہ جس میں بیانات کی بنیاد پر لوگوں کی تکفیر کی جاتی ہے۔ سنّی مسلمان اس کا خوب ادراک کرتے ہیں۔ سلفی اور وہابی مستقل اشعریوں اور صوفیوں پر انٹرنیٹ پر تبرّا بھیجتے رہتے ہیں اور اس کے لئے کسی خاص زبان کی قید نہیں۔
موصل پر حملے کےبعد داعش کا پہلا قدم یہی تھا کہ مساجد کے ائمہ کو گرفتار کیا جائے پھر ان ائمہ کے سامنے انتخاب رکھا گیا کہ وہ داعش خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت ہوں یا موت کو ترجیح دیں۔ وہ اصولی علماء جنھوں نے اس انتخاب پر اعتراض کیا اور انکار کیا ان کو فوری طور پر عوام کے سامنے ہی تہہ تیغ کردیا گیا غرضیکہ موصل شہر میں اصولیوں کی جانب سے مزاحمت کو شروع ہی میں ختم کردیا گیا۔ یہ نکتہ اہم ہے کہ اس شہر میں اصول کی روایت اسلام کے ابتدائی صدی سے قائم تھی۔ گزشتہ دو سو سالوں میں اس کی متعدد مثالیں ملتی ہیں، یہاں ہم روس کے چیچن لوگوں کا تذکرہ کریں گے، 1817ء سے چیچن اور انگلش لوگ روس سے آزادی کے لئے کوشاں ہیں۔ گزشتہ دو سو سال سے چیچن آبادی پر پے در پے حملے کئے جارہے ہیں۔ بسا اوقات ان کو کثیر تعداد میں سائبیریا جلاوطن کردیا جاتا ہے اور وہاں سے خوش قسمت افراد واپس آتے ہیں۔ البتہ 1991ء میں سویت یونین کے انتشار کے بعد صدر ماشکودوف اور جنرل دوادو کی قیات میں چیچن لوگوں نے صوفی حلقوں کی مدد سے ایک کامیاب جنگ 1991ء سے 1996ء کے درمیان اپنی آزادی کے لئے لڑی، اس جنگ میں وہ 1996ء میں خوسوف۔یورٹ معاہدے کے تحت روس سے خودمختاری حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور اس کی توثیق 12مئی 1997ء کوہوئی۔ خودمختاری کی اس جنگ میں ایک لاکھ سے زائد چیچن لوگوں کو اپنی جان قربان کرنی پڑی اور ان کا ملک تباہ ہوگیا البتہ اس کے دو سال بعد ان پر پھر جنگ مسلط کردی گئی۔ روس نے یہ جنگ 1999ء سے 2000ء میں چھیڑی اور اس میں تکفیری عناصر پیش پیش تھے، مثال کے طور پر ابن الخطاب جنھوں نے صوفی قیادت کو تہہ تیغ کیا اور روسیوں اور خود اپنے خلاف تمام مزاحمتی قوتوں کو ہلاک کیا۔ اس مرتبہ چیچن لوگ جنگ بڑی جلدی ہار گئے اور ان کی خود مختاری کا خواب بھی نامکمل رہ گیا۔ حالانکہ اس کے بعد سے چیچنیا کی تعمیر نو کی کوشش کی ہے لیکن یہ مثال ہے کہ کس طرح تکفیری عناصر نے مسلمانوں کے ایک معاملے کو غصب کرلیا اور اصولیوں پہ جنگ مسلط کردی جس کا نتیجہ تباہی ہوا۔ مختصراً تکفیری اصولیوں کے خلاف مقامی سطح پر جنگ چھیڑتے رہتے ہیں اور اس کا اطلاق پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ اگر تکفیری یہ جنگ جیتتے رہے تو وہ تیسری دنیا میں بڑے پیمانے پر جنگ کریں گے اور اقدامی جہاد کا سہارا لیں گے۔
داعش کا عظیم تر منصوبہ
کیا داعش کا عظیم تر منصوبہ دنیا پر قبضہ ہے؟ اس سے قبل ہم نے یہ صراحت کی کہ داعش کا منصوبہ اتنا احمقانہ نہیں ہے جیسا کہ نظر آتا ہے۔ اصولیوں کے خلاف داعش کی جنگ کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے؟ در حقیقت آن لائن رسالہ دابق کے شمارہ نمبر 7 کے ایک مقالہ میں داعش نے اپنی حکمت عملی خود بیان کی ہے۔ مختصراً داعش کے مطابق دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہے، اہل ایمان جس میں ظاہر ہے وہ صرف اپنے آپ کو شمار کرتے ہیں اور صلیبی قوتیں جس سے ان کی مراد مغرب ہے اور مرتد دہریئے اوران کی جماعت جس سےان کا اشارہ ان مسلمانوں کی جانب ہے جو داعش کے مخالف ہیں یا داعش کے ساتھ نہیں ہیں۔ بے گناہ شہریوں پر ہر جگہ حملے کرنا اور بالخصوص مغرب میں داعش تمام مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتا ہے۔ اس سے داعش کی خواہش یہ ہے کہ ناوابستہ یا اس کے بقول وہ بزدل مسلمان جو کہ غیر مسلموں کے ساتھ دنیا بھر میں امن و سکون کے ساتھ رہتے ہیں وہ بھی داعش میں شرکت پر مجبور ہوں، اسی کے سااتھ داعش کا یہ بھی خواب ہے کہ تمام مسلم اکثریتی ممالک میں مرتد حکومتوں کا خاتمہ کیا جائے اور اس کے نتیجہ میں وہاں کے عوام بڑی تعداد میں داعش میں شامل ہوجائیں گے اس سے داعش کو دنیا کی آبادی کے بیس فیصدی حصہ کی حمایت حاصل ہوجائے گی۔ یہ ملحوظ رہے کہ دنیا کی آبادی کا اکیس فیصدی حصہ سنی مسلمان ہیں۔ اور جب یہ مسلمان جہاد کریں گے تو وہ دنیا پر قابض ہوجائیں گے۔بہر کیف یہ نیک و بد کے درمیان ایک بڑے پیمانے کا تصادم ہوگا اور وہ اس ضمن میں بعض پیشن گوئیوں کی اس طرح تشریح کرتے ہیں گویا ان کو نصرت الٰہی ملے گی اور پھر مہدی اور عیسیٰؑ ان واقعات کے خاتمہ پر جلوہ افروز ہوں گے۔ دابق کے مقام پر ایک عظیم جنگ ہوگی جو داعش کے مطابق شام میں واقع ہے۔ اسی مناسبت سے داعش کے رسالہ کا نام بھی دابق ہے۔
ضمیمہ اول میں دی گئی شکل کے مطابق صورتحال یہ ہے:
۱۔ فی الوقت تقریباً 1.5 بلین سنّی ہیں۔
۲۔ ان میں سے دس فیصدی سنّی اصولی مخالف ہیں جن کی تعداد اندازاً ۱۵۰ ملین ہے۔
۳۔ اصولی مخالفوں کے اندازاً دس فیصدی انتہا پسند سلفی، وہابی ہیں، ان کی کُل تعداد ۱۵ ملین ہے۔
۴۔ ان انتہا پسند سلفیوں اور وہابیوں کے اندازاً ایک فیصدی افراد نے ہتھیار اٹھالئے ہیں اور وہ تکفیری جہادی ہیں یعنی جنگجوؤں کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار ہے۔
ٍداعش کا عظیم تر منصوبہ یہ ہے کہ اگر اصولی سنّیوں کو سلفی اور وہابی میں تبدیل کردیا جائے، اگر تمام سلفی اور وہابی انتہاپسند سلفی اور وہابی بن جائیں اور اگر یہ انتہا پسند سلفی اور وہابی تکفیری جہادی بن جائیں اور اگر یہ تمام تکفیری جہادی داعش کی خلافت کے پرچم تلے جمع ہوجائیں تو اس کے نتیجہ میں دنیا میں ایک سب سے بڑا مسلح معاشرہ وجود میں آئے گا۔ اس کے نتیجہ میں ایک بین الاقوامی سلطنت وجود میں آئے گی جو کہ مستقل اضافہ پذیر ہوگی یعنی مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کے ساتھ ساتھ اس سلطنت کے حجم میں بھی اضافہ ہوگا اور یہ اپنے پڑوسیوں کو بھی اپنے زیر نگیں کرے گی اور آخر میں پوری دنیا فتح ہوگی۔ قطع نظر اس سے فریقین کے کتنے لوگ اس جنگ میں مارے جاتے ہیں۔ یہی داعش کا عظیم تر منصوبہ ہے اور یہی ان کے مطابق تمام معاملات کا حتمی حل ہے۔
لوگ داعش میں کیوں شامل ہوتے ہیں؟
داعش نئے بھرتی ہونے والوں سے مفصل گفتگو کرتی ہے اور اس کے پس پشت ان کا ایک تکفیری مقصد ہے۔ داعش ان کو اس وقت تک حقیقی مسلمان متصور نہیں کرتی جب تک وہ ایک مہینہ کے نظریاتی تربیتی کورس میں شامل نہ ہوں۔ درحقیقت اس کی افرادی قوت میں شامل ہونے والے لوگوں کے بالعموم مذہبی اغراض و مقاصد ہوتے ہیں۔ ان کے دنیاوی اغراض و مقاصد بھی ہوسکتے ہیں لیکن آخرت پر گہرے یقین کے بغیر اپنی زندگی کو داؤں پر لگانا آسان نہیں ہے۔ نفسیاتی لحاظ سے انسان ایک پیچیدہ مخلوق ہے اور وہ اپنے اغراض و مقاصد پر پردہ ڈالنے میں بالعموم کامیاب رہتا ہے۔ اور دیگر لوگ اس کی نیت سے واقف نہیں ہوتے۔ بسا اوقات متعدد اغراض و مقاصد وابستہ ہوتے ہیں۔
کچھ ماہرین نفسیات نے ان اغراض و مقاصد کو خارجی اور اندرونی اسباب کے تحت تقسیم کیا ہے۔ اس کی روشنی میں ان معاشرتی اسباب کی نشاندہی ہوسکتی ہے لیکن دینی اغراض و مقاصد کے سلسلہ میں یہ تقسیم یا یہ تجزیہ بے معنی ہے۔ نظریات، نفسیات کی بنیاد پر نہیں معائنہ کئے جاسکتے۔
داعش کے سابقہ ارکان اور داعش کے ممکنہ ارکان جو کہ اردن کی جیل میں ہیں ان سے گفتگو کی روشنی میں درج ذیل اغراض و مقاصد سامنے آئے:
1۔ تشدد کی جانب مائل ہونا، خواہ یہ معاشرے کی سطح پر ہو یا گھر کی سطح پر اور مجرمانہ ماضی، النصرہ اور داعش کے تقریباً تین سو سابق ارکان میں یہی قدر مشترک تھی۔ اردن کی جیل میں چالیس فیصدی قیدیوں کا یہی پس منظر تھا۔
2۔ داعش کے مقاصد اور تکفیری فکر میں یقین۔
3۔ یہ خواب کہ وہ اسلامی قانون کے تحت اپنی زندگی بسر کریں گے۔
4۔ انتہا پسند سلفی، وہابی یا اخوان المسلمون کا پس منظر ایک تہائی سے زیادہ قیدی اسی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔
5۔ جہاد کی خوبیوں میں مخلصانہ اعتقاد اور شہادت کا جذبہ اور داعش سے وابستہ ہونے کی صورت میں جہاد اور شہادت پانے کی خواہش۔
6۔ مقامی سیاسی اسباب کی بنا پر ناراض اور بے چین نوجوان (مثال کے طور پر مرسی کے انتخاب کے بعد مصر میں جوابی انقلاب کی خواہش)۔
7۔ خاندان کے بعض اسباب کی بنا پر ناراض نوجوان (مثال کے طور پر باپ کی دوسری شادی ہوجانا اور اپنے بیٹے یا پہلی بیوی کو نظر انداز کرنا)۔
8۔ بین الاقوامی سیاسی عوامل کی بنا پر ناراض نوجوان (مثال کے طور پر فلسطین کے بارے میں مغرب کا موقف یا امریکہ کی خارجہ پالیسی)۔
9۔ ریاست کے ہاتھوں ناانصافی کا شکار ہونا۔ (مثال کے طور پر پولس یا خفیہ اداروں کی تعذیب، نامنصفانہ عدالتی فیصلہ وغیرہ بالخصوص اسد کے دور حکومت میں)۔
10۔ داعش کے جنگجوؤں کے دوست یا رشتہ دار جو خاندانی تعلق یا دوستی کے باعث اس کی طرف مائل ہوئے۔
11۔ انتقام کا جذبہ۔ داعش کے پرچم تلے جنگ کا ایک بڑا محرک لوگوں کا مقتولین کا انتقام لینا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو داعش کے دشمنوں نے قتل کیا قصداً یا غیر ارادی طور پر۔ مثال کے طور پر یمن اور پاکستان میں ڈرون حملوں کے نتیجہ میں۔اب ان یتیم بچوں کا ایک پورا گروہ ہے جن کے والد ان حملوں کا شکار ہوئے، ان کو تربیت دی گئی ہے اور وہ اپنے والد کے انتقام کے لئے تیار ہیں۔
12۔ غربت۔ خاص طور سے داعش کے زیر انتظام غریبوں کے علاقے کے نوجوان۔ داعش تمام زمرے کے سپاہیوں کو معقول تنخواہ دیتی ہے اور ان کے کھانے، کپڑے، ہتھیار اور مکان کا نظم کرتی ہے۔
13۔ بے روزگاری اور ملازمت کے مواقع کی کمیابی۔ داعش نئے بھرتی ہونے والوں کے لئے کسی نہ کسی ملازمت کا نظم کرتی ہے۔
14۔ محبت، شادی یا جنسی معاملات۔ مغرب میں نوجوان خاصی تاخیر سے شادی کرتے ہیں اور شادی دو خاندانوں کے بیچ ایک طویل اور خاصا مہنگا سلسلہ ہوتا ہے۔ داعش کے زیر انتظام علاقہ میں ان کی شادی کم عمری میں ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی پیچیدگی بھی نہیں ہوتی۔کسی کے انتقال کی صورت میں یا جب زوجین میں طلاق ہوجاتی ہے تو ان نوجوانوں کی بآسانی شادی ہوجاتی ہے۔
15۔ ضمیر کی آواز اور غلطی کا احساس۔ بہت سے ایسے نوجوان ہوتے ہیں جو اپنے افعال پر شرمندہ ہوتے ہیں۔ ان برے افعال میں اغلام بازی بھی شامل ہے جس میں وہ بالعموم جیل میں ملوث ہوتے ہیں۔ داعش میں شمولیت اور پھر اس کے نتیجہ میں شہادت کے ذریعہ وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
16۔ مہم جوئی کی آرزو۔ بہت سے نوجوان ایسے ہیں کہ جو اپنے حالات سے غیر مطمئن ہیں۔ داعش کے زیر اہتمام جنگیں اور اسلحے ان کو مسحور کرتے ہیں اور وہ داعش کی مہم میں شریک ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ داعش کے کارکنوں میں ہتھیار اٹھائے ہوئے تصویروں کا رواج اسی کا غمّاز ہے۔
17۔ بہادری کا کوئی کارنامہ انجام دینے پر شہرت اور عظمت اور میدان جنگ میں ترقی ان سب میں معاشرتی روابط بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
18۔ ذاتی طور پر قوت اور اقتدار کے مالک ہونے کا احساس۔
19۔ دنیا کے نظام میں تبدیلی لانے کا ایک موقعہ اور اپنے ممالک یا اپنے حالات میں تبدیلی لانے ایک نادر موقعہ۔
20۔ زندگی کے معنی کی تلاش۔ داعش کے طریقۂ کار سے کچھ لوگوں کو یہ خیال آتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بامعنی بنائیں اور یہ کہ ان کی اپنی اہمیت ہے اس سے ان کو مقصد حیات ملتا ہے۔
21۔ خلافت۔ بہت سے مسلمان متحدہ خلافت کا خواب دیکھتے ہیں ہر چند کہ سقوط سلطنت عثمانیہ۱۹۲۴ء سے خلافت کا وجود نہیں ہے۔ یہ لوگ بین الاسلامی اخوت کے آرزو مند ہیں اور ان کو محسوس ہوتا ہے کہ داعش ان کے حصول میں مددگار ہوگی۔
22۔ توحید کو فروغ دینے کی خواہش۔ توحید کا تصور ان کی ذاتی آراء کے مطابق ہے۔ یہ پہلو خود تردید ہی کے ذیل میں آتا ہے کیونکہ ہر مسلمان توحید کا قائل ہے اور داعش کے ارکان تمام غیر تکفیریوں کو کافر قرار دیتا ہے۔ جو سفاکی ان گروہوں نے پھیلائی ہے اس سے دلبرداشتہ ہو کر بہت سے لوگ نظریۂ توحید سے تائب ہوئے۔ یہاں غیر مسلم موحدین مذکور نہیں ہیں۔ غرضیکہ توحید کے فروغ کے نام پر داعش ۹۹ فیصد مسلمانوں کو موحد نہیں تسلیم کرتا اور اس امر کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ کچھ مزید غیر مسلم توحید کا عقیدہ قبول کرلیں گے۔
23۔ اسلام کی عزت اور عظمت کے لئے یہ سبب بھی خاصا مضحکہ خیز ہے کیونکہ ظلم اور بربریت سے بڑھ کر اسلام کی بے عزتی کچھ اور نہیں ہوسکتی۔
24۔ تاریخ سازی کا موقعہ اور اس طرح ایک اہم مقصد میں شرکت۔
25۔ 2003ء میں امریکہ کا عراق پر حملہ۔
26۔ اسلام میں بین المسلکی اختلافات بالخصوص عراق میں شیعوں کے خلاف غم و غصہ کے جذبات کیونکہ شیعوں کے خونی دستوں نے 2003 ء کی جنگ کے بعد سنّیوں کا قتل عام کیا۔
27۔ مسلمانوں کی سرزمین پر مغربی فوجوں کی موجودگی خواہ واقعتاً ہو یا لوگوں کا یہ تصور ہو۔
28۔ جہادی جنگجوؤں کی عزت اور تکریم۔ یہ بھی ایک ترغیب ہے کیونکہ داعش کا بیانیہ اصولی اسلام کی علمی روایت سے ہم آہنگ نہیں ہے۔داعش پایۂ استناد حاصل کرنے اور اپنا جواز ثابت کرنے کے لئے اپنے مجاہد ہونے کی دہائی دیتے ہیں۔ اپنے جیل جانے اور اپنے مصائب برداشت کرنے، اپنی قربانیوں کا ذکر۔ غرضیکہ نفسیاتی سطح پر یہ اقوال نہیں افعال کا حوالہ دیتے ہیں گو کہ ان کے افعال بربریت سے پر ہوتے ہیں اور ان کے اقوال قرآن اور حدیث کے منافی ہیں۔
29۔ مسلمانوں کی سرزمین پر مغربی اقتدار، طرز حیات اور معاشی نظام کے اضافہ پر غم و غصہ۔
30۔ عرب حکمرانوں اور ریاستوں کی نااہلی۔
31۔ فلسطین اور یروشلم پر ناجائز قبضہ اور اس ناانصافی کے خلاف غیض و غضب اور اہل فلسطین کی در بدری۔یہ شکایت مسلمانوں کو ہر جگہ ہے کیونکہ فلسطینی مظلوم ہیں اور ان کی سرزمین کو غیر قانونی طور پر اسرائیلی آبادیوں میں تبدیل کیا جارہا ہے دیگر علاقوں کے بر خلاف جن کا دفاع فرض کفایہ ہے یروشلم کی حفاظت فرض عین کا درجہ رکھتی ہے اور ہر مسلمان دنیا میں خواہ کہیں ہو اس کی حفاظت کا پابند ہے۔ قرآن میں یہ صریحاً مذکور کہ یروشلم وہ جگہ ہے جہاں تک نبی اکرم محمدؐ نے سفر کیا اور یہی اسریٰ اور معراج کا مقام ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے۔
پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے بندہ کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کو گھیر رکھا ہے ہماری برکت نے تاکہ دکھلائیں اس کو کچھ اپنی قدرت کے نمونے، وہی ہے سننے والا، دیکھنے والا۔(سورہ الاسریٰ 1 : 17)۔
مزید برآں، یروشلم قبلۂ اول تھا۔ مسلمانوں کے لئے : ’’اب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ کس چیز نے پھیر دیا مسلمانوں کو ان کے قبلہ سے جس پر وہ تھے، تو کہہ اللہ ہی کا ہے مشرق اور مغرب، چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر۔ اور اسی طرح کیا ہم نے تم کو امت معتدل تاکہ ہو تم گواہ لوگوں پر اور ہو رسول تم پر گواہی دینے والا، اور نہیں مقرر کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر تو پہلے تھا مگر اس واسطے کہ معلوم کریں کون تابع رہے گا رسول کا اور کون پھر جائے گا اُلٹے پاؤں، اور بیشک یہ بات بھاری ہوئی مگر ان پر جن کو راہ دکھائی اللہ نے اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کرے تمہارا ایمان، بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفیق نہایت مہربان ہے۔ بیشک ہم دیکھتے ہیں بار بار اٹھنا تیرے منہ کا آسمان کی طرف، سو البتہ پھیر دیں گے ہم تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہے۔ اب پھیر منہ اپنا طرف مسجد حرام کے، اور جس جگہ تم ہوا کرو پھیرو منہ اسی کی طرف، اور جن کو ملی ہے کتاب البتہ جانتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے ان کے رب کی طرف سے اور اللہ بے خبر نہیں ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں۔ اور اگر تو لائے اہل کتاب کے پاس ساری نشانیاں تو بھی نہ مانیں گے تیرے قبلہ کو اور نہ تو مانے اُن کا قبلہ اور نہ اُن میں ایک مانتا ہے دوسرے کا قبلہ، اور اگر تو چلا اُن کی خواہشوں پر بعد اس علم کے جو تجھ کو پہنچا تو بیشک تو بھی ہوا بے انصافوں میں۔(البقرہ 142-145 : 2 ) اور نبی اکرم محمدؐ کی یہ حدیث:
سوائے تین مساجد کے کسی اور جگہ کے لئے سفر نہ کریں۔ یہ تین مساجد ہیں المسجد الحرم (مکہ)، مسجد نبوی (مدینہ) اور مسجد اقصیٰ۔ (بخاری)۔
غرضیکہ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فلسطین میں فلسطینیوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے اور مسجد اقصیٰ اور حرم شریف میں مسلمانوں کے معاملات میں دخل دیا جاتا ہے اس میں گنبد صخریٰ، مسجد اقصیٰ اور مروانی مساجد اور دیگر تعمیرات، صحن، تجارتی مرکز، سیر و تفریح کی جگہ، عوامی راستے، کتب خانے، وقف کی جائدادیں یہ سب حصہ ہیں اس امر کا کہ ایسا کوئی مسئلہ ایمان کی رو سے پیش کیا جائےجس میں مسلمان یروشلم اور اردن کے مسئلہ کے بارے میں حل تلاش کریں۔
32۔ بوسنیا، کوسوف، میانمار (روہنگیا مسلمانوں کے خلاف) مغربی، افریقی، عوامی جمہوریہ وغیرہ میں مسلمانوں کی نسل کشی۔
33۔ مسلمانوں کے استحصال کے خلاف متعدد مثالیں جن سے یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ مسلمانوں کا کیسے استحصال کیا جاتارہا ہے۔
34۔ داعش کے زیر انتظام علاقے میں زور زبردستی کا دور دورہ ہے۔ داعش لاکھوں لوگوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان کے لیئے جنگ کریں اور نہیں تو بھاری رقومات ادا کریں یہ افسوس کا مقام ہے کہ بہت سے لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں۔
35۔ ساتھیوں کا دباؤ اور داعش حامی طبقہ کی جانب سے اصرار۔
36۔ ذہنی یا دماغی عدم توازن۔
37۔ فتح۔ داعش کی مسلسل فتوحات نے لوگوں کو اس میں شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ داعش کی کامیابی کے باعث شام کی فوج کے بڑے حصے اور قبائل نے داعش میں شمولیت کی۔
38۔ ذہن سازی۔ داعش کے ارکان یا داعش کے پروپیگنڈا کے ذریعہ نوجوانوں کے ذہن اس جانب مائل ہوجاتے ہیں۔
39۔ غربت یا انتہائی صدمے کی حالت۔ اتحادیوں کی جانب سے فضائی حملوں یا روس اور شام کی حکومت کی جانب سے حملوں کے باعث لوگ محرومی کے شکار ہوئے اور غذا کی قلّت اور دوسرے اسباب کی بنا پر یہ قدم اٹھانے پر مجبور ہوئے۔
40۔ کوئی وجہ نہیں۔ بہت سے داعش کے کارکن یہ وضاحت نہ کرسکے یا ان کے پاس مناسب الفاظ نہ تھے کہ انھوں نے داعش میں کیوں شمولیت کی۔ وہ ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔
اتنے زیادہ اغراض و مقاصد کے بیان سے یہ غلط فہمی نہ ہونا چاہئیے کہ داعش میں شرکت کی وجوہ بہت زیادہ ہیں اور اس میں اور زیادہ نوجوان شامل ہوں گے۔ حقیقت یہ نہیں ہے، اگر کوئی شخص یہ مطالعہ کرے کہ ہزاروں لوگ اس میں کیوں شامل ہوتے ہیں تو ہزاروں لوگ کسی بھی ملازمت کے پیشہ میں کیوں شامل ہوتے ہیں تو اس کے بھی چالیس سے زائد مختلف اغراض و مقاصد سامنے آئیں گے۔ بعض افراد کے چھ سات مقاصد بھی ہوسکتے ہیں اسی کا اطلاق داعش پر بھی ہوتا ہے اور اغراض و مقاصد کی اتنی طویل فہرست سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونا چاہئیے۔ ایک لمبے عرصہ بعد یہی اغراض و مقاصد کمزوری میں اور بےچینی میں بالآخر تائب ہونے پر منتج ہوتے ہیں۔
کیا داعش شر مجسم ہے؟
یہ سوال خاصا ڈرامائی ہے اور اس میں خود ستائی کا پہلو بھی نکلتا ہے۔ درحقیقت مسلمان دوسرے کے بارے میں اس انداز کے فیصلہ نہیں سناتے کیونکہ صرف اللہ کو یہ اختیار ہے اور اللہ لوگوں کی قلبی کیفیات سے باخبر ہے۔ البتہ مسلمان ظاہر کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ داعش کے جرائم کی فہرست بہت طویل ہے جیسا کہ ہم نے باب ۱۱ میں دیکھا اور ان کے جرائم روز افزوں ہیں۔
البتہ بعض مجرموں اور دماغی طور پر غیر متوازن لوگوں کے علاوہ داعش میں نئے شامل ہونے والے عام طور سے غلط ارادوں کے ساتھ اس میں شامل نہیں ہوتے۔ اگر مذکورہ بالا فہرست کا ہم پھر جائزہ لیں تو اس میں صرف چند اغراض و مقاصد ہی بد ہیں۔ مہم جوئی کے لئے یا شان و شوکت حاصل کرنے کے لئے یا فاتح گروہ سے وابستہ ہونے کے لئے یقیناً جنگ میں شامل ہونے کے اعلیٰ مقاصد نہیں ہیں کیونکہ جنگ بہرکیف قتل و خون کا نام ہے۔ البتہ انتقام، دباؤ، نسل کشی پر غم و غصہ فطری اغراض و مقاصد ہیں۔ اپنی نظم یکم ستمبر 1939ء میں انگریزی شاعر ڈبلیو۔ ایچ۔ اوڈن (م 1973ء) لکھتا ہے:
میں اور عوام الناس جانتے ہیں کہ یہ اسکول کے طالب علم جو برائی ہوتے ہوئے دیکھیں گے بدلے میں برا ہی کریں گے۔
بعض اغراض و مقاصد یقیناً اعلیٰ و ارفع ہیں کیونکہ سادہ لوحی پر محمول ہیں۔ مثال کے طور پر قربانی اور شہادت کا جذبہ یا خلافت کی امید، یا اسلامی قانون کے تحت زندگی گزارنے کی خواہش مسلمانوں کے لئے البتہ یہ سب بڑا افسوسناک ہے کہ کس طرح سے نوجوان نیک نیتی کے ساتھ اس میں شامل ہوتے ہیں اور پھر وہ داعش کی جرائم کی دنیا میں مذہب کے نام پر غرق ہوجاتے ہیں۔
نبی اکرم محمدؐ نے اس قسم کی صورتحال سے نپٹنے کے لئے لوگوں کو ایک زرّین اصول سمجھایا کہ کس طرح مذہب کے نام پر ظلم و زیادتی سے محترز رہ سکتے ہیں۔ آپؐؐؐؐ نے فرمایا کہ ’’ایک مومن اپنے مذہب پر استقامت کے ساتھ قائم رہتا ہے الا یہ کہ وہ ناحق خون کا مجرم بن جائے‘‘ (بخاری و مسلم)۔ بالفاظ دیگر قاتل کے سوا ہر ایک کے لئے گنجائش اور رعایت ہے۔داعش نئے ارکان پر اس وقت تک اعتماد نہیں کرتے جب تک کہ وہ بے گناہوں کے قتل و خون میں اپنے ہاتھ نہ رنگیں۔ بدی کے اس چکر میں پڑے بغیر ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ غرضیکہ جرائم کی یہ وسیع دنیا ہے جس پر قدم قدم پر لغزشیں ہیں۔ اللہ نے اس کے خلاف متنبہ کیا ہے:

اے ایمان والو! نہ چلو قدموں پر شیطان کے اور جو کوئی چلے گا قدموں پر شیطان کے سو وہ تو یہی بتلائے گا بے حیائی اور بُری بات، اور اگر نہ ہوتا اللہ کا فضل تم پر اور اُس کی رحمت تو نہ سنورتا تم میں ایک شخص بھی کبھی، اور لیکن اللہ سنوارتا ہے جس کو چاہے، اور اللہ سب کچھ سنتا جانتا ہے۔(سورہ النور 21 : 24)۔
داعش کی بے رحمانہ اور بہیمانہ کاروائیاں
ہم داعش کی دیگر حکمت عملیوں کا جائزہ لیں گے البتہ اس نکتہ کی صراحت ضروری ہے کہ اس کا بنیادی طریقہ کار خوف و ہراس پھیلانا ، دہشت گردی، سفاکی اور لوگوں کو ڈرانا اور دھمکانا ہے۔ اپنے رسالہ دابق شمارہ نمبر 12کے سر ورق پر اس نے بر ملا فخریہ اپنے دہشت گرد ہونے کا اعلان کیا ہے۔ عرب دنیا میں بین الاقوامی سطح پر دہشت اور خوف کا یہ مظاہرہ یا تو صلیبی جنگوں کے جنگجوؤں نے کیا تھا یا مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگرخطوں میں منگولوں نے وسط تیرہویں صدی عیسوی میں کیا۔ ہزاروں بے سہارا لوگوں کے قتل کے علاوہ داعش نے قیدیوں کی برسر عام سزائے موت کی فلمیں تیار کی ہیں، ان کے سروں میں گولیاں ماری ہیں، تلواروں سے ان کے سر اڑائے ہیں، چاقو سے ان کے سر قلم کئے ہیں، ان کو زندہ جلایا ہے ان کو صلیب پر چڑھایا ہے، ان کو زنجیروں سے باندھا ہے ان کو بم سے اڑایا ہے، ان کو لوہے ک پنجروں میں ڈبویا ہے، ان کو رجم کیا ہے، ان کو اونچی عمارتوں سے پھینک کر ہلاک کیا ہے، ان کے دل پر خنجر سے حملے کئے ہیں، ان کو زندہ دفن کیا ہے، ان کو تیزاب کے کڑھاو میں ڈبویا ہے انھوں نے عورتوں کے قتل پر مجبور کیا ہے۔ انھوں نے بچوں کے ہاتھوں بڑوں پر گولیاں چلوائی ہیں۔ انھوں نےبچوں کو بڑوں کے سر قلم کرنے پر مجبور کیا ہے۔ انھوں نے بچوں سے اپنے والدین کا قتل کرایا ہے۔ انھوں نے بھائی سے بھائی کو قتل کرایا اور دوست کو دوست سے اور اس طرح کی متعدد سفاکانہ اور بہیمانہ اور غیر انسانی انداز کے قتل کئے ہیں۔
اس دہشت گردی کا مقصد مذہب کے نام پر خونریزی ہے۔ داعش کے ذریعہ تیار کردہ ویڈیو جدید ترین اور مؤثر ہوتے ہیں لیکن ان کا مذہبی جواز سر تا سر غلط اور اپنے ان افعال کے لئے ان کا سیاسی جواز بھی بے بنیاد ہوتا ہے۔ وہ غرور کے نشے میں اپنی فتح کا اعلان کرتے ہیں اور اس کے لئے تصویروں کا بڑی مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔ قتل کے ناقابل معافی گناہ کے علاوہ اپنے ان افعال پر فخر محسوس کرنا اور اذیت رسانی سے لطف اٹھانا خلاف سنت اعمال ہیں۔ نبی اکرمؐ کا قول ہے ’’اگر کھانے کے لئے تم جانوروں کو ذبح کرو تو ذبیحے کا طریقہ جتنا کم تکلیف دہ ہو وہ بہتر ہے‘‘ (بخاری)۔ مختصراً ظلم اور سفاکی کے لحاظ سے داعش صدام حسین کی بعثی ریاست سے بدتر ہے اور بغیر کسی باک کے وہ اس کا اعلان کرتی ہے اور ان بہیمانہ کاروائیوں کے ذریعہ مقامی آبادی کو اطاعت پر مجبور کرتی ہے۔
اس سے قبل ہم نے یہ ذکر کیا کہ ان اعمال سے داعش کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے، جتنے زیادہ لوگ اس خونریزی کے عادی ہوں گے ان کے خوف میں کمی آئے گی اور پھر وہ اس کے خلاف مزاحمت کرسکتے ہیں۔ یہی داعش کا انجام ہوگا۔ وہ تاریخ میں اپنے سیاہ کرتوتوں کے لئے یاد رکھے جاں گے اور وہ اسی کے مستحق ہیں۔ قتل عام، ظلم و ستم اور اسلام کی تصویر کو داغداار کرنا ان کےناقابل معافی اعمال ہیں انھوں نے مذہب کا بدترین مذاق اڑایا ہے۔
داعش کی بدعملی
داعش کی عسکری حکمت عملی کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہاں مقصود اس کے عسکری کارناموں کی تحقیق نہیں ہے بلکہ اس امر کا اعتراف ہے کہ یہ گروہ تقریبا دو سال تک اپنی سرزمین کا ایک مضبوط بین الاقوامی اتحاد کے خلاف دفاع کرسکا۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے:’’اے ایمان والو! کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو انصاف کی، اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو، عدل کرو، ہی بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ سے، اور ڈرتے رہو اللہ سے، اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کرتے ہو‘‘ (سورہ المائدہ 8 : 5)۔ اس کی ضرورت ہے کہ معروضی طور پر جائزہ لیا جائے کہ داعش یہ کرنے میں کیسے کامیاب ہوا۔ مآخذ کی روشنی میں بعض عمومی مشاہدات درج ذیل ہیں۔ یہ کوئی عسکری راز نہیں ہے:
1۔ قیادت اور احکام جاری کرنے کا نظام۔
الف۔ حکم دینے کانظم:۔ داعش کی دانست میں خلافت کے قیام کے بعد حاکم صرف ایک ہوتا ہے اور اسے اندرونی یا خارجی مخالفوں کو قتل کرنے کا پورا اختیار ہے اور برائےنام مقدمے کے بعد فوراً ہی سزا کا اعلان ہوتا ہے۔ اس سے احکام پر عمل درآمد بآسانی ہوتا ہے۔
ب۔ نوجوان ذمہ داران: داعش کی تنظیم میں دفتری امور نہیں ہیں اور ناکارہ افسروں کے اعلیٰ مقامات پر فائز ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ جنگ میں کمزور اور ناکارہ افسروں کا صفایا کردیا جاتا ہے۔
ج۔ داعش کے علاقائی امیر جن کو قوت و اقتدار حاصل ہوتا ہے خلافت کی نگرانی میں کام انجام دیتے ہیں
2۔ حکمت عملی اور کارکردگی کی ذہنیت:۔
داعش کا ذہن کام کو انجام دینے کا ہے اس میں جوش و جذبہ اور راز کی حفاظت پائی جاتی ہے۔ یہ لوگوں سے زبردستی وصولی کرتا ہے، بم برساتا ہے، لوگوں کو دھوکے سے قتل کرتا ہے، اس کی دہشت گردی کی حکمت عملی میں فتنہ پیدا کرنا اور لوگوں کے حوصلے پست کرنا بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ گوریلا جنگ کے ضابطوں پر بھی عمل ہوتا ہے۔ داعش کے پاس روایتی جنگ لڑنے کے وسائل بھی ہیں اور مقصد بھی۔ باغیوں کے انداز سے وہ گھر گھر جاکر ظلم اور جبر کرتے ہیں۔ ان کو جنگی ضابطۂ قانون سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح جنگ کے بارے میں مذہبی ہدایات بھی ان کے لئے بے معنی ہیں۔ بعثیوں کی طرح نسل کشی کرنے میں ان کو مطلق کوئی جھجھک نہیں ہوتی۔
3۔ تکنیک اور عسکری تجربہ
۱لف۔ داعش کو مسلسل جنگ کرنے کا تجربہ ہے۔ داعش کے کچھ جنگجو افغانستان میں اور اس کے بعد 2003ء سے عراق کی جنگ میں شامل رہے ہیں۔ داعش کی عراقی قیادت کو جنگ کا تجربہ نہ صرف 1991ء اور 2003ء کی عراقی جنگوں سے ہے بلکہ اس سے قبل 1980ء سے 1988ء کے درمیان انہیں ایران عراق جنگ کا وافر تجربہ ہے۔ داعش کے بعض جنگجوؤں نےشام کی آزادی کے نام پر بغاوت کی اور انھوں نے خود اتحادی فوج سے تربیت حاصل کی۔ یہ واقعہ شام میں خانہ جنگی کے آغاز پر یعنی 2011ء سے 2013ء تک کا ہے تاکہ اسد کی حکومت کا مقابلہ کیا جائے پھر یہ جنگجو داعش میں شامل ہوگئے۔ مزید برآں، داعش کے بہت سے جنگجو دنیا کی مختلف فوجوں سے منسلک رہے ہیں اور ان کو جنگوں کا خاصہ تجربہ ہے۔ ان کا عسکری تجربہ داعش کا ایک مضبوط پہلو ہے۔ داعش کے جہادیوں کے مقابلے میں مغرب کی فوجوں کے پاس کوئی حقیقی اور عملی جنگ کا اتنا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ مزید برآں، داعش کو ہر طرح کے اسلحوں کا تجربہ ہے، اس میں ناٹو اور روسی اسلحوں کا ذکر نہیں ہے۔
ب۔ داعش تمام اسلحوں کا بیک وقت استعمال کرتا ہے اور اسی باعث یہ ہر پہلو سے حملہ کرنے پر قادر ہے۔ ترکی کے راستے داخل ہوکر یہ جعلی فوجی لباس میں بھی حملے کرتے ہیں۔
ج۔ داعش کے جنگجو نشانہ باز ہیں اور ان کا نشانہ بالعموم خطا نہیں کرتا۔ ہر سال داعش کے یہ جنگجو ہزاروں دفعہ بندوق چلاتے ہیں جب کہ اس علاقے میں تعینات فوج کے سپاہیوں کو بندوق چلانے کا موقعہ چند سو دفع سے زائد نہیں ملتا۔
د۔ داعش سستے اسلحوں کی مرمت کرکے اور خود کشی کی بیلٹ اور دھماکہ خیز مواد اور گاڑیوں میں دھماکہ خیز اشیاء اور دیگر بموں سے کام لیتے ہیں۔
ہ۔ داعش کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ شہروں میں جنگ کے لائق ہیں اور اس میں ایک حد تک صداقت ہے۔ داعش کے بموں کا استعمال مؤثر ہے یہ سرنگ کھود کر بالخصوص شہری علاقوں میں ایک دو کلومیٹر تک نفوذ کرتے ہیں اور پھر دشمن کے اسلحے پر حملہ آور ہوتے ہیں اور دھماکہ خیز اشیاء سے اس کو تباہ کردیتے ہیں۔ غرضیکہ داعش انتہائی دشوار خطرناک دشمن ہیں اور ان کے مقابلے کے لئے وقت درکار ہے۔ داعش اور النصرہ دونوں نے اسلحے کو بڑے مؤثر انداز میں استعمال کیا ہے اور ان کے اسلحہ اور باردو کی استعمال کی کوئی حد نہیں۔ ان کی شناخت کرنا مشکل ہے کیونکہ یہ زیر زمین بھی کام کرتے ہیں۔ مزید برآں، داعش سرنگ کے بموں کا استعمال دشمن کے علاقے میں کرتے ہیں اور اس طرح وہ دشمن کی صف کی صف تباہ کرنے پر قادر ہوجاتے ہیں ہر چند کہ فضائی بم ان پر برستے رہتے ہیں۔
و۔ داعش عام طور سے مختصر اور فعال دستے استعمال کرتے ہیں تاکہ حملے بعد فوراً بھاگیں۔ یہ طریقۂ کار احمد شاہ مسعود نے سب سے پہلے افغانستان میں افغان مجاہدین کی قیادت کرتے ہوئے استعمال کیا تھا۔
ز۔ داعش کا ایک خصوصی پہلو یہ ہے کہ وہ بیک وقت کئی اور ہزاروں ٹن کے امونیم نائٹریٹ بم کو گاڑیوں میں خود کش بم کاروں کے ساتھ روانہ کرتے ہیں جس سے دشمن کا دفاعی نظام، حفاظتی چوکیاں اور رہائش کے علاقے تباہ اور برباد ہوجاتے ہیں۔ یہ جاسوسی کے ذریعہ ایسے مقامات کی شناخت کرلیتے ہیں اور رات میں یا علی الصباح حملہ کرتے ہیں۔ امونیم اور نائٹریٹ کے بم ترکی سے حاصل کئے گئے ہیں اور یہ کسی بھی عمارت کو سو میٹر تک تباہ کرکے ضائع کرسکتے ہیں، یہی داعش کا سب سے مؤثر عسکری اسلحہ ہے۔ اور عملاً یہ فضائیہ کی طاقت کے مساوی ہے۔ شہری علاقوں میں یا میدان جنگ کے نزدیک اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہے۔ خودکشی کے یہ ٹرک مسلح ہوتے ہیں لہٰذا ان کو مشین گن یا اور اعلیٰ سطح کے ہتھیار سے نہیں روکا جاسکتا اور یہ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے حملہ آور ہوتے ہیں۔ بہر کیف کردی فوجیں داعش کی اس سرگرمی پر قدغن عائد کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور ایسا بہتر جاسوسی کے نظام ،صحراء اور پہاڑی علاقوں میں رات میں ان کو شناخت کرنے کی صلاحیت کے آلات اورٹینک مخالف میزایل کے استعمال سے ممکن ہوا ہے۔
4۔ اسلحے کی فراہمی
الف: داعش نے اپنے حملوں کی ابتدا اس اسلحے سے کی جو کہ اس نے عراقی اور شامی فوجوں سے چھینا تھا۔ اس کے بعد سے اب یہ اسلحہ خریدنے پر بھی قادر ہوگئی ہے تاکہ جنگ کا سلسلہ جاری رہے۔ دو سال سے زائد سے داعش کے جنگجو جنگ میں مشغول ہیں اس کا مطلب کہ ان کے پاس اسلحہ اور باردو کے ایک بلین سے زیادہ راؤنڈ دستیاب ہیں۔ اس کا حساب یوں لگایا جاسکتا ہے کہ 25000 جنگجو ایک دن اگر روزانہ دو سو گولیاں 730 دن تک استعمال کریں گے تو اس کے لئے 3.65 بلین گولیوں کی ضرورت پڑے گی۔ کیونکہ داعش ہر طرف سے دشمنوں سے گھرے ہوئے ہیں اور ان کے زیر تسلط علاقے میں اسلحے کا کوئی کارخانہ نہیں ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان کو اسلحے کی فراہمی کہاں سے ہوتی ہے اور داعش یہ اسلحہ کہاں سے وصول کرتا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ چھوٹے اسلحے کے علاوہ داعش کے اسلحوں میں یہ شامل ہے۔ ایس۔اے۔7 اور اسٹنگر، زمین سے فضا تک مار کرنے والی میزایل ایم 79 اوسا، ایچ۔جے۔ 8 اور اے۔ٹی۔ 4، اور ٹینک مخالف ہتھیار، ٹائپ 59 زمینی بندوقیں اور ایم 198 ہاؤزر جو کہ 2000 سے زائد ہیں۔ اور ہمویز ٹی 54-55، ٹی 72، اور ایم ۱ ایبرامس جنگی ٹینک، ایم 1117 مسلح گاڑیاں، ٹرک پہ سوار بی۔اےس۔ایچ۔کے۔ بندوقیں، زیڈ۔ یو۔ 22-32 جہاز گرانے والی بندوقیں، بی۔ایم۔21 تکثیری راکٹ لانچرس اور کم از کم ایک اسٹڈ میزایل۔ غرضیکہ داعش کے پاس اسلحہ کردوں اور عراقی فوج سے بہتر ہے۔ اس سے زیادہ پریشان کن معاملہ یہ ہے کہ مارچ 2016ء میں اسپین سے درآمد 20000 سپاہیوں کے لباس کو پکڑا گیا جو داعش کو فراہم کیا جانے والا تھا۔
ب: داعش گاڑیوں پر اپنی بھاری مشین گنوں سے حملہ کرتے ہیں اور اگر عسکری قیادت جانوں کی پروا نہ کرے تو یہ طریقۂ کار سستا بھی ہے، آسان بھی اور زیادہ کارگر بھی۔
ج : دیسی بم، پائب بم، سرنگ کے بم، خودکشی کی بیلٹ اور سستی توپیں اور ایسی گاڑیاں جن میں ایک ہزار پونڈ سے زیادہ کے مضبوط بم ہوں داعش کے پاس دستیاب ہیں۔
د : داعش ڈیم کو بھی ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یعنی کہ وہ پانی کی فراہمی بند کرنے یا ضائع کرنے کا جنگی مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
5۔ اسلحے کی مرمت
داعش اپنے اسلحے اور اوزار کی مرمت پر قادر ہیں اور اس سلسلہ میں ان کو مستقل فراہمی ہوتی رہتی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے کیوبا کی خانہ جنگی کو پیش نظر رکھا ہے۔
6۔ فوجی انجینیر اور ماہر تعمیرات
داعش کی افرادی قوت میں ایسے مقامی انجینیر اور ماہرین تعمیر ہیں اور اس کے علاوہ داعش نے مقامی صنعت پر بھی قبضہ کیا ہے۔
7۔ دفاع
الف: زیادہ اونچائی سے فضائی حملوں کے خلاف داعش بنیادی طور پر بے بس ہے۔ البتہ اس نے اپنی دفاع کے لئے سرنگوں کا انتظام کیا ہے۔ زیر زمین رہائشی مکان ہیں اور وہاں نقل و حرکت اور رسد کی فراہمی ہوتی رہتی ہے۔یہ سرنگیں فرار کے لئے اور فوج کے لئے سامان فراہم کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بغدادی اور اس کے رفقاء انہی سرنگوں میں مقیم ہیں۔ گزشتہ دو سال سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
ب: داعش شہریوں کے طور پر ظاہر ہوکر اپنے جنگجوؤں اور ان کی حرکات و سکنات پر پردہ ڈالتے ہیں۔
ج: داعش کو یہ فن آتا ہے کہ کس طرح راز خفیہ رکھے جائیں اور اطلاعات کو عوام تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ وہ اپنے آپ کو چھپانے میں بھی بڑے ماہر ہیں۔کم درجے کے جنگجوؤں کو ٹیلی فون یا انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی اور داعش کے علاقہ میں مواصلات کی سخت نگرانی کی جاتی ہے۔
د: شام اور عراق میں داعش کے قبضہ میں جو علاقہ ہے وہ خاصا بڑا ہے گو کہ اس میں کمی واقع ہوئی ہے اور اسی باعث داعش اپنے جنگجوؤں کو پوشیدہ رکھنے میں کامیاب ہے۔
8۔ ٹکنالوجی، سائنسی تحقیق اور اضافے
داعش کے پاس کوئی اعلیٰ پیمانے کی صنعت اور سنجیدہ سائنسی تحقیق کا سامان نہیں ہے۔ البتہ یہ عسکری تجربے کرتے رہتے ہیں اور اپنی ضروریات کے لحاظ سے عسکری سامان میں رد و بدل کرتے ہیں بالخصوص تجارتی ڈرون کے سلسلہ میں جس کا یہ میدان جنگ میں اطلاعات حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
9۔ مواصلات
چھینے گئے عسکری ساز و سامان کا استعمال داعش کرتے ہیں۔ ان کے مواصلات کا نظام القاعدہ کے طرز پر ہے اور وہ وہاٹس اپ جیسے سماجی رابطوں پر خفیہ پیغام بھیجتے رہتے ہیں۔
10۔ نقل و حرکت
زمین پر داعش کی جنگی صلاحیت، فعال اور سریع ہے کیونکہ اس کے جنگجوؤں کے پاس بہت بھاری اسلحے نہیں ہوتے اور دفتری یا سرکاری حساب کتاب بھی نہیں ہوتا۔
11۔ جاسوسی
الف: انتہا پسند سلفی، وہابی اور تکفیری جہادیوں کے اپنے طور طریقے ہیں اور ان کے اپنے فتاویٰ، عادتیں، رسوم و رواج، اصطلاحات و لفظیات ہیں جن کا وہ استعمال کرتے ہیں لہٰذا خارج سے ان کی شناخت کرنااس لئے مشکل ہے کہ سنّی مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے ہیں۔ داعش کے قلب میں داخل ہونا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنااسی وجہ سے مشکل ہے۔
ب: آج کے دور میں انٹرنیٹ پر معلومات اس قدر دستیاب ہیں کہ کسی بھی شخص کو یہ بآسانی مل سکتی ہیں۔ اردن کے پائلٹ کے قتل کے لئے داعش نے جو ہدایات جاری کیں ان میں گوگل کے نقشوں کا استعمال ان پائلٹ کے گھروں کی تلاش کے لئے کیا گیا تھا۔
ج: داعش کی صف میں متعدد بعثی جاسوس ہیں جنھوں نے ایک جامع جاسوسی نظام وضع کیا ہے۔

-12میدان جنگ
الف:داعش کو مقامی حالات کا بخوبی علم ہے انہیں جنگ کا تجربہ ہے لہٰذا وہ میدان جنگ میں کامیاب رہتے ہیں۔ جون ۲۰۱۴ء میں ہر چند کہ داعش کے صرف 2000 جنگجو تھے وہ موصل شہر پر قابض ہوگئے۔ موصل کی آبادی 20 لاکھ سے زائد ہے اور اس کی حفاظت کے لئے 25000 سے 30000 ہزار فوج اور پولس تعینات تھی۔
ب: عراق اور شام کا میدان جنگ لیبیا اور صومالیہ سے سمندری راستے اور تجارتی راستوں کے ذریعہ براہ ترکی اور اسمگلرس کے راستے کے ذریعہ منسلک ہے۔ لیبیا ایک وسیع و عریض ملک ہے اور وہاں ایک بار داخل ہونے کے بعد شمالی افریقہ اور صحارا افریقہ میں داخلہ آسان ہے۔ بالفاظ دیگر ترکی کے ذریعہ داعش کا رابطہ پورے افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے ہے۔ داعش کے لئے مشرق وسطیٰ ایک میدان جنگ ہے اور وہ بآسانی اس میں ہر طرح کی نقل و حرکت پر قادر ہے۔

داعش کی انتظامیہ
1۔ پیشہ
الف: القاعدہ اور داعش میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ابتدا ہی سے داعش نے قبضہ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ داعش کی ابتدا شہری علاقوں میں ہوئی جبکہ القاعدہ کی ابتدا افغانستان کے وسیع و عریض دیہی علاقوں میں ہوئی تھی۔
ب : دہشت گردی کے ذریعہ داعش مقبوضہ علاقہ پر اپنا قابو رکھتی ہے۔ اس ضمن میں آمرانہ حکومتوں سے بدتر اس کا رویہ ہے۔
2۔ کھانا، پانی اور صحت و صفائی کا انتظام
الف: داعش اپنے زیر قابو علاقے میں بنیادی کھانے پینے اور صفائی کا انتظام کرتی ہے۔ داعش کے زیر انتظام علاقہ میں کبھی بڑے پیمانے پر قحط یا فاقہ کی خبریں نہیں ملیں۔
ب: داعش نے اسپتالوں پر بھی قبضہ کررکھا ہے اور ان میں جنگجوؤں کا داخلہ ترجیحی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اپنے ویڈیو میں داعش نے غیر ملکی طبی رضاکاروں کی مدد طلب کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ طبی اوزار اس کے پاس ہیں۔ بیر کیف یہ طبی سہولیات بالکل ابتدائی سطح کی ہیں اور یہ داعش کے قبضہ سے پہلے اس علاقہ میں موجود تھیں البتہ داعش نے اب انسانی اعضاء کی تجارت شروع کردی ہے وہ قیدیوں اور خود اپنے زخمی فوجیوں کے اعضاء کو فروخت کرکے نقد رقم حاصل کرتی ہے۔
3۔ انتظامی امور
الف: داعش نے تنظیمی امور کے لئے بعثی جماعت اور جدید قومی ریاست کی مثال کو سامنے رکھا ہے۔
ب: وہ رسد کے انتظام پر قادر ہے اور جہاں اس کے جنگجوؤں کو سامان کی ضرورت ہوتی ہے ترسیل کرتی ہے۔
ج: داعش نے اپنے شہریوں کے لئے شناختی کارڈ تک جاری کئے ہیں جس سے اس کی انتظامی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
د: مقامی آلات سے بخوبی واقفیت بالخصوص عراق میں، داعش کو غیر معمولی فائدہ ہوا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ داعش کی قیادت عراقیوں پر مشتمل ہے۔
داعش کی کمزوریاں
اس کے پہلو بہ پہلو داعش میں بعض بڑی عسکری، سیاسی اور مذہبی کمزوریاں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:
1۔ فضائیہ اور بحریہ کا فقدان اور ترقی یافتہ ساز و سامان اور اسلحے کی کمی۔
2۔ تحقیق کا فقدان
3۔ کسی صنعت کا نہ ہونا
4۔ داعش کے علاوہ کوئی گروہ ان کو پسند نہیں کرتا۔ داعش دہشت پھیلانے پر یقیناً قادر ہے لیکن کسی کے دل میں ان کی محبت نہیں، اس کے مقبوضہ علاقوں میں لوگ بالعموم تکلیف دہ اور مشکل زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں عوامی سہولیات ناقص ہیں اور داعش کے ارکان لوگوں کے ساتھ خراب سلوک کرتے ہیں اور عجیب و غریب مذہبی قوانین نافذ کرتے رہتے ہیں مثلاً رمضان میں باجماعت تراویح پر پابندی یا مسلمان پیغمبروں یا صحابیوں کے مزارات کو منہدم کرنا۔ داعش کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات قطعاً نہیں ملتے بلکہ اس کے خلاف جذبات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ مقامی افراد غیر ملکی جنگجوؤں کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور داعش کی تنظیم پر عراقیوں کے غلبہ سے بھی ناراض ہیں۔ اس کے برخلاف النصرہ کے ارکان مقامی شامی ہیں اور وہ مقامی افراد کے ساتھ عزت و اکرام کا برتاؤ کرتے ہیں لہٰذا ان کو پسند بھی کیا جاتا ہے اور لولگ ان کی عزت کرتے ہیں۔ داعش سے منحرف ہونے والے افراد کی اطلاع ہے کہ اس تنظیم میں بے ایمانی، خیانت اور صفوں میں بےچینی ہے۔ مختصراً لوگ داعش کو پسند نہیں کرتے اور ان کی خباثت سے بخوبی واقف ہیں۔
5۔ داعش کے مذہبی دلائل حد درجہ کمزور ہیں نہ صرف اصولی نقطۂ نظر سے بلکہ سلفی مسلک کے لحاظ سے بھی۔ اس گروہ کے اپنے مذہبی متون ہیں جیسا کہ ہم نے اس سے قبل ذکر کیا لیکن علماء ان کتابوں کیے بے بنیاد ہونے کا آسانی سے ثبوت فراہم کرسکتے ہیں۔ کسی بھی عالم نے ان کتابوں کی تائید اور توثیق نہیں کی ہے۔ داعش کے ارکان کو اب خارجی کہا جاتا ہے یہ الازھر کا موقف ہے اور اس رائے کی تائید سبھی مفتی اعظم نے سعودی عرب سے نائجیریا تک کی ہے۔ بغدادی کے اقتدار میں بھی یہ نکتہ سامنے آیا کہ ان کو خوارج سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان کے مذہبی مبلغ علم کے بارے میں سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
6۔ داعش سے منسلک افراد کو جہادیوں کے قتل یا پھانسی دینے میں کوئی تکلف نہیں ہوا ہر چند کہ وہ ان کے ہم مسلک ہوتے ہیں۔ یہ اطلاع ہے کہ 12000 جنگجو داعش اور النصرہ کے خلاف لڑتے ہوئے گزشتہ چند سالوں میں مارے گئے ہیں۔ افغانستان میں انھوں نے طالبان کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ غرضیکہ داعش کے جہادی تنظیم ہونے کا جھوٹ اس سے واضح ہے۔ یہ خود اپنے جہادی مفکرین مثلاً ابو محمد المقدیسی اور ابو قتادہ اور القاعدہ کے قائد ایمن الزواہری سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں۔
7۔ داعش کے متعلق یہ تصور ہے کہ اس کو اسرائیل سے کوئی سروکار نہیں ہے اور جس طرح اسرائیل شام اور عراق میں اپنے دشمنوں پر حملے کرتا ہے یہ بھی انھیں پر حملے کرتا ہے ۔ اسرائیلی حکام نے بھی علی الاعلان یہ کہا ہے کہ وہ حزب اللہ یا شامی حکومت کے مقابلے میں داعش کو کم خطرناک سمجھتے ہیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ داعش مسلمانوں اور عرب وعیسائیوں کو قتل کرنے میں مصروف ہے۔ اس ضمن میں سب سے بڑا ثبوت داعش کے بارے میں ایک مضحکہ خیز ویڈیو ہے اور یہ نکتہ قابل لحاظ ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ سے زائد فلسطینی بکھرے ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل مغربی کنارے پر روزانہ اپنی بستیاں بسا رہا ہے۔ چونکہ اسلام میں مقبوضہ یروشلم کی دینی اہمیت ہے تو داعش کا یہ موقف کہ وہ اسلام کی نمائندہ ہے انتہائی کمزور اور بے بنیاد ہے۔
8۔ جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ داعش کی کامیابی کا بڑی حد تک سبب اس کے دشمنوں میں باہمی اختلافات اور انتشار ہے۔ روس اور امریکہ کے مابین بہتر تعاون سے داعش کو بآسانی کمزور کیا جاسکتا ہے۔
9۔ داعش کا مفتوحہ علاقہ دشمنوں سے گھرا ہوا ہے اور اپنی تمامتر رسد کے لئے داعش ترکی پر منحصر ہے۔ اگر ترکی اپنی سرحد پر چوکنا رہے تو داعش کی رسد یکسر ختم ہوجائے گی۔
10۔داعش کا الیکٹرانک جاسوسی نظام کمزور ہے اور اس کے سماجی رابطے کے تعلقات ان لوگوں پر منحصر ہیں جو اس پر اپنا اقتدار جمائے ہوئے ہیں۔
11۔ پروپیگنڈا میں مہارت کے باوصف داعش کے ویڈیو میں نہ کوئی بیانیہ ہوتا ہے اور نہ کوئی انفرادی صلاحیت کا نمونہ جس سے ناظرین اس کی تحسین کرسکیں۔ درحقیقت داعش کے پاس کوئی عام انسانی بیانیہ ہے ہی نہیں یہ درحقیقت مغربی ذرائع ابلاغ ہیں جو داعش کے ارکان کے بارے میں کہانیاں بیان کرتے رہتے ہیں جس سے لوگوں کو اس میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ داعش کے ویڈیو بنیادی طور پر موت کے رقص سے متعلق ہوتے ہیں اور ان کا دائرہ اثر بہت محدود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تاثیر میں بھی نمایاں کمی آتی جارہی ہے۔
12۔ عراقی سنّی قبایل داعش کو نوآموز اور بربریت پسند سمجھتے ہیں۔ حالیہ انتخابات سے ظاہر ہوا ہے کہ ۹۵ فیصدی عراقی سنّی اور سب کے سب عراقی شیعہ داعش کے مخالف ہیں۔ اگر وہ داعش اور مسلکی شیعہ تسلط کی حکومت کے درمیان انتخاب پر مجبور نہ ہوتے تو وہ یقیناً داعش کے خلاف اور زیادہ کارگر ثابت ہوتے۔ بالفاظ دیگر اگر عراقی پارلیمنٹ عراقی سنّیوں کو مسلح خودمختاری قانونی طور پر دے دے بالخصوص ان کے تین یا چار صوبوں میں اور اگر عراق تین الحاق شدہ ریاستوں میں تقسیم ہوجائے تو اس بات کا قوی امکان کے ہے کہ سنّی مسلمان داعش کے خلاف کھل کر میدان جنگ میں آئیں گے۔ کردوں کے ساتھ بھی بغداد کو معاہدہ کرنا ہوگا۔
داعش کی حکمت عملی کا تدارک کیسے کیا جائے؟
داعش کی حکمت عملی کے مقابلے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کی کارکردگی کو بہتر طور پر سمجھا جائے۔ اس ضمیمہ میں اور دیگر مطالعات میں داعش کی کارکردگی کو بیان کیا گیا ہے، پھر داعش کے فروغ پانے کے جتنے راستے ہیں ان کو منقطع کرنے اور اس کی رسد کو یکسر ختم کرنے کی ضرورت ہے جس کا ذکر ہم نے مذکورہ بالا فصل 13 اور 21 میں کیا۔ اس کے لئے عسکری اور جاسوسی کے وسائل درکار ہیں۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہےکہ ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے ورنہ داعش بدستور 150 ملین اصولی مخالف گروہ کی حمایت اور وسائل حاصل کرتا رہے گا اور پھر 1.5 بلین سنّیوں پر انحصار کرے گا۔ چونکہ اسلام دنیا میں سب سے زیادہ بڑھنے والا مذہب ہے اس لئے سنّیوں کی تعداد میں مستقل اضافہ ہورہا ہے۔ داعش اور تکفیری جہادیوں کے خلاف سنّیوں کے بھر پور اشتراک کے بغیر یہ جنگ نہیں لڑی جاسکتی اور پوری دنیا میں فساد اور خونریزی برپا رہے گی۔
صورتحال اتنی دشوار نہیں ہے، اصل ضرورت یہ ہے کہ عالم اسلام میں لوگوں کے جائز مطالبات کو حل کیا جائے۔ سوال صرف یہ نہیں ہے کہ اصولی مخالف گروہ کا قلع قمع کردیا جائے یا ناواقف حال لوگوں کو صورتحال کا علم فراہم کیا جائے، اس قدم سے یقیناً مدد ملے گی لیکن اصل نکتہ یہ ہے کہ تکفیری جہادی فکر کا اس کے مآخذ اور اس کی کتابوں کی سطح پر ان کا مقابلہ کیا جائے۔ افراد اور اسلحے کو تباہ کرنے سے زیادہ اس کی اصل طاقت پر لگام کسنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ انصاف اور امن کے ماحول میں زندگی بسر کرسکیں۔ ان امور کا ذکر اس کتاب کے ضمیمہ دوم میں کیا گیا ہے لہٰذا ان کے اعادہ کی یہاں ضرورت نہیں۔
جیسا کہ ہزمجسٹی شاہ عبداللہ ثانی الحسین نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ یہ داعش سارے مسلمانوں کے ایک چیلنج ہے بالخصوص علماء کے لئے چاہے وہ اصولی ہوں یا سلفی۔ ان علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر جگہ اور ہمہ وقت قرآن کی و سنت کی روشنی میں اور تمام دستیاب وسائل کی مدد سے داعش کی اور تکفیری فکر کی غلطیوں کو نمایاں کریں۔ مسلمانوں نے نسل در نسل بےحسی اور بےتوجہی کے باعث جذباتی اور جوشیلے مسلمانوں کو اسلام کا غلط استعمال کرنے کا موقع دیا ہے۔ یہ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مذہب کو بحال کریں، ان کا یہ جوش اور جذبہ اللہ اور رسول کی محبت اوراس خیر اور حق کی راہ میں ہونا چاہئیے جس کا اسلام نمائندہ ہے۔ اپنی نظم The Second Coming (1919) میں انگریزی آئرستانی شاعر ڈبلیو۔بی۔ یٹس کہتا ہے:
مستقل حرکت میں ہے اور اب اپنے مالک کی ایک نہیں سنتا۔ ہر سو انتشار ہے کوئی مرکز باقی نہیں رہا۔ لاقانونیت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، ہر طرف قتل و خون کا بازار گرم ہے۔ معصومیت، خیرتباہ و برباد ہورہے ہیں اچھے لوگوں میں ہمت اور حوصلے کی کمی ہے جبکہ بدکردار جوش اور جذبہ سے پُر ہیں۔
ایک نکتہ یہ بھی قابل لحاظ ہے کہ آج کے دشمنوں کے ساتھ اگر ہمدردی اور مناسب اسلامی رویہ کا برتاؤ کیا جائے تو کل وہ ہمارے دوست بن سکتے ہیں اور اپنی تکفیری فکر سے نجات پاسکتے ہیں بلکہ وہ تکفیری فکر کے خلاف فعّال ہوسکتے ہیں۔ درحقیقت بہت سے سابق جہادیوں نے ایسے ہی کیا ہے۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ مسلم اکثریت کے ممالک خاص طور سے جن کی جیلوں میں تکفیری جہادی بند ہیں ان کو توبہ کی راہ پر لگائیں۔ ان کی انتہا پسندی کو ختم کریں اور ان کو بحال کرنے پر توجہ دیں اس کے لئے تعلیمی نصاب مرتب کیا جائے اور ان کی یہ تربیت یا تو جیل میں یا مسجد میں کی جائے۔ ان انتہا پسند لوگوں کو معاشرے میں پھر پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ واپس لایا جاسکتا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ معاشرہ ان کا مقاطعہ نہ کرے اور یہ اپنی بقیہ زندگی عزت اور اکرام کے ساتھ بسر کریں۔ الجیریا میں حالیہ تجربے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ انتہا پسندی کی بیخ کنی آسان ہے لیکن اس کے لئے ایک لائحۂ عمل ہونا چاہئیے خوا ہ ا علانیہ یا خفیہ۔
بقیہ دنیا کو بھی دہشت گردی کے واقعات کو بہت زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہئیے اور نہ اس کے خلاف جوشیلا ردعمل ظاہر کرنا چاہئیے اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ سارے مسلمانوں کو اس رد عمل کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ یہ کرنے کے کام ہیں۔ کوئی اور حکمت عملی کامیاب نہیں ہوسکتی۔
داعش کا خاتمہ
داعش کا نعرہ ہے ’باقیہ و متمددہ‘ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ وہ باقی رہیں گے اور اضافہ پذیر رہیں گے۔ انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا، داعش کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اور مقابلہ کی حکمت عملی مرتب کرنے کے ساتھ یہ عین ممکن ہے کہ داعش اچانک تباہ اور برباد ہوجائے جس میں ان کی اپنی اندرونی غلطیاں اور لڑائی ایک بہت بڑا سبب ہوگی۔ اپنی نظم The Hollow Men میں ٹی۔ایس۔ ایلیٹ (م ۱۹۶۵ء) کہتا ہے:
یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کے خاتمہ پر منتج ہوگا۔ یہ کوئی بہت اعلانیہ نہیں ہوگا بلکہ رفتہ رفتہ واقع ہوگا۔
داعش نے اس قدر ناانصافیاں کی ہیں، مقامی افراد کو اس قدر اذیت میں مبتلا کیا ہے کہ ان کا اہمی اتحاد باقی رہنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ناانصافی صرف بدامنی، احتجاج، بغاوت، انقلاب اور خانہ جنگی کی طرف لے جاتی ہے۔
اس مرحلے پر شام اور عراق میں فوج کے بڑے حصے النصرہ یا دیگر سلفی، وہابی گروہوں مثلاً احرار الشام کی جانب مائل ہونے پر تیار ہیں۔ احرار الشام ممکن ہے اپنی امارت شمالی شام میں قایم کرلے لیکن یہ ایک علیحدہ سوال ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ داعش کی اصل قیادت لیبیا منتقل ہوجائے جہاں یہ ایک متبادل منصوبہ پر عمل درآمد کے لئے کوشاں ہیں۔ لیبیا کا علاقہ کہیں زیادہ وسیع و عریض ہے اور یہ سمندر اور پورے افریقہ سے منسلک ہے لہٰذا وہاں اس پر قابوپانا اور مشکل ہوگا۔ مزید برآں، جیسا کہ میکسکو میں نشہ آور اشیاء کے سرغنوں کے ساتھ ہوتا ہے جب اصل سرغنہ منظر سے ہٹ جاتا ہے اسی طرح داعش کی مرکزی قیادت کی تباہی کے بعد مقامی قائد آزاد ہوجائیں گے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ مقامی سطح پر اور زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔ ان کی بیخ کنی رفتہ رفتہ کرنی ہوگی اور مقامی سطح ہی پر ایسے وسائل تلاش کرنےہوں گےجن سے تطہیر کا عمل انجام پائے۔
ISIS کا فتنہ
مذکورہ بالا گفتگو سے یہ واضح ہوگیا ہوگا کہ ہر مذہب کا اپنا ایک مسلک ہوتا ہے اور اس میں کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ مذہبی متن کو مسخ کرتے ہیں اور اس میں ان کے اپنے اغراض و مقاصد ہوتے ہیں۔ تاریخ عالم میں ہر مذہب کے ساتھ یہ سانحہ پیش آیا ہے اور آج بھی اس کا اطلاق ہر مذہب پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر یوگنڈا میں جوزف کونی کی لارڈ ریسسٹنس آرمی برسرپیکار ہے یا بدھ راہب ایشن گراتھو میانمار برما میں فعّال ہے لیکن داعش جیسی عسکری کامیابی اور شہرت کسی اور غول کو نہیں ملی ہے۔
یہاں ہم نے لفظ غول استعمال کیا ہے جو کہ اصلاً عربی لفظ ہے اس کا مطلب ایک بھیانک مخلوق یا صحراء کا بھوت ہے جو غیر محتاط لوگوں پر اچانک حملہ کرکے ان سے ان کی اشیاء چھین لیتا ہے۔ داعش کا طریقۂ کار بجنسہٖ یہی ہے۔اصولی علم میں کمزوری آنے اور سلفی ذریعہ علم میں بھی کمی آنے کے بعد مسلمان مذہبی طور پر ہوشیار اور چوکنا نہیں تھے، اسی دوران تکفیریت نے حملہ کیا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ داعش اسلام کا ایک غول ہے اور یہ اسلام کا بدترین دشمن ہے جو مقام اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں ے خوارج کو حاصل تھا۔
بہرحال داعش قرب قیامت سے متعلق ایک غول ہے۔ ہم نے مہدی کی فوج، اس کے سیاہ پرچموں کا حوالہ دیا جو علامت ہے قیامت کی۔ دابق میں بھی یہی تلمیح ہے۔ علی ابن ابی طالبؓ کی ایک پیشن گوئی بخاری کے استاد نعیم ابن حماد کی کتاب الفتن میں 1200سال قبل کی موجود ہے:
جب تم سیاہ پرچم دیکھو تو جہاں مقیم ہو وہیں ٹھہرے رہو اور اپنے اعضاء کو حرکت مت دو اور پھر تمہارے سامنے ایک کمزور اور غیر اہم گروہ ظاہر ہوگا۔ ان کے قلوب لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ان کی ریاست ہوگی، وہ عہد و پیمان پورا نہیں کریں گے، وہ حق کی جانب دعوت دیں گے لیکن وہ اہل حق نہ ہوں گے ان کے نام ان کے والدین سے نسبت رکھتے ہوں گے اور ان کے عرف ان کے شہروں سے نسبت رکھتے ہوں گے، ان کے بال عورتوں کی طرح لمبے ہوں گے۔ یہ صورتحال اس وقت تک رہے گی جب تک ان میں باہمی اختلافات نہ پیدا ہوجائیں۔پھر اللہ حق کو جس طرح سے چاہے گا ظاہر کرے گا۔
بغدادی کے نام 19 ستمبر 2014ء کے کھلے خط (دیکھئے www.lettertobaghdadi.com) میں مذکورہ بالا پیشن گوئی کے حوالے سے یہ وضاحت کی گئی ہے:
‘جب تم سیاہ پرچم دیکھو’، اسلامک اسٹیٹ کے پرچم سیاہ ہیں۔
‘تو جہاں مقیم ہو وہیں ٹھہرے رہو’ یعنی اے مسلمانوں تم اس میں شامل نہ ہو۔
‘اور اپنے اعضاء کو حرکت مت دو’ یعنی مال و دولت اور سامان کےذریعہ ان کی مدد نہ کرو۔
‘پھر تمہارے سامنے ایک کمزور اور غیر اہم گروہ ظاہر ہوگا’ یعنی کمزور اور غیر اہم دین کی فہم اخلاقیات اور مذہبی اعمال کے حوالے سے ہے۔
‘ان کے قلوب لوہے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے’ یعنی وہ بےرحمی کے ساتھ قیدیوں کو قتل کریں گے اور لوگوں کو اذیت دیں گے۔
‘ان کی ریاست ہوگی’ ایک صدی سے کسی نے بھی اسلامی ریاست کا دعویٰ نہیں کیا ہے سوائے عراق اور ملحقہ علاقے میں اسلامک اسٹیٹ کے علاوہ۔
‘وہ عہد و پیمان پورا نہیں کریں گے’ اسلامک اسٹیٹ نے شیتات قبیلہ کے ساتھ اپنا عہد پورا نہیں کیا جب کہ انھوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی، درحقیقت اسلامک اسٹیٹ نے اس قبیلہ کے سیکڑوں ارکان کو ذبح کردیا، انھوں نے صحافیوں کو بھی قتل کیا۔
‘وہ حق کی جانب دعوت دیں گے’ اسلامک اسٹیٹ حق اسلام کی دعوت دیتی ہے۔
‘لیکن وہ اہل حق نہ ہوں گے’ اہل حق رحم دل ہوتے ہیں۔ نبی اکرم محمدؐ کا قول ہے ‘‘رحم کرو اور تمہارے اوپر رحم کیا جائے گا’’۔
‘ان کے نام ان کے والدین سے نسبت رکھتے ہوں گے’ مثلا ابو مثنیٰ، ابو محمد، ابو مسلم وغیرہ وغیرہ۔
‘اور ان کے عرف ان کے شہروں سے نسبت رکھتے ہوں گے’ مثلاً البغدادی، الزرقاوی، الٹیونشی وغیرہ وغیرہ۔
‘ان کے بال عورتوں کی طرح لمبے ہوں گے’ اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کے بال بالکل اسی طرح ہیں۔
‘یہاں تک کہ ان میں باہمی اختلافات نہ پیدا ہوجائیں’ اسلامک اسٹیٹ اور اس کی اصل جماعت النصرہ اور جو کہ شام میں القاعدہ کی قائم مقام تھی، ان دونوں کے درمیان جنگ میں ایک سال میں دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔
‘پھر اللہ جس طرح سے چاہے گا حق کو سربلند کرے گا’ یہ ایک اسلامی اعلانیہ ہے اس کھلے خط کی طرح۔
غرضیکہ داعش اسلام کے احیاء کی علامت نہیں بلکہ یہ ایک فتنہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.