مسلمانوں کے لئے خوشی و مسرت کا مقام!!!!

Views: 329
Avantgardia

مولانا محمد سفیان القاسمی مولانا محمد سفیان القاسمی ،گڈا ،جھارکھنڈ

جہازی میڈیا کے بار بار مطالبہ پر کہ جمعیۃ علماء کے جس موقف کو لے کر نشانہ بنایا جارہا ہے اور جو کام نہ کرنے کی بنیاد پر اس کو لعن طعن کیا جا رہا ہے دوسری تنظیمیں اس کے لئے آگے کیوں نہیں بڑھتیں اور جمعیۃ سے الگ ہٹ کر کوئی موقف کیوں نہیں پیش کرتیں جو تنقید کرنے والوں کی منشا کے مطابق ہو تا اور وہ کام کیوں نہیں کرتی جس کا مطالبہ لوگ جمعیۃ سے کر رہے ہیں. نیز اگر دوسری تنظیمیں آگے نہیں بڑھ رہی ہیں تو جمعیۃ پر تنقید کرنے والے قلم کار ان تنظیموں کو آمادہ کیوں نہیں کرتے اور خاموش رہ کر ظلم کی تائید کرنے پر ان کو کیوں نہیں کوستے؟

اللہ کا شکر ہے کہ اتنے شدید انتظار کے بعد ایک اور تنظیم کا بیان آیا ہے جس کا موقف الگ ہے اور وہ ہے جماعت اسلامی ہند. اس سے پہلے جمعیۃ اہل حدیث کا بیان آیا تھا مگر اس کا موقف بھی جمعیۃ جیسا تھا اور ناقدین کے بقول حکومت کی ترجمانی تھی.میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتاکہ لوگوں کی فکری رہنمائی کے لئے شناخت رکھنے والی تنظیم جماعت اسلامی کا یہ موقف ان کی قوت فکری کا نتیجہ ہے یا لوگوں کے رجحانات کی طرف داری کا مظاہرہ کیونکہ اگر قوت فکری کا نتیجہ ہوتا تو کشمیر کا حالیہ مسئلہ پیش آنے کے فوراً بعد آجاتا نہ کہ اتنا طویل زمانہ گزرنے کے بعد. بہر حال جماعت اسلامی کے بیان آنے کے بعد خوشی ہوئی کہ اب دو طرح کے موقف ہمارے سامنے آگئے ہیں. اب لوگوں کے لئے مجبوری نہیں کہ وہ ایک ہی موقف کو قبول کرے یا ریجیکٹ کرے. اب دو موقف ہیں جس کو جمعیۃ کا موقف اچھا نہ لگے وہ جماعت اسلامی کے موقف کی تائید کر سکتے ہیں. کاش کہ اس طرح کا موقف کشمیر کا حالیہ مسئلہ پیش آنے کے بعد فوراً آجاتا یا کم از کم جمعیۃ علماء کے موقف سے پہلے یا فورا بعد آجاتا تو لوگ ایسی لا یعنی بحثوں میں پڑنے کے بجائے یہ کہ دیتے کہ ہم جماعت اسلامی کے موقف کی تائید کرتے ہیں یا ہم جمعیۃ علماء کے موقف کی تائید کرتے ہیں. اس طرح جس موقف کے حامی زیادہ ہوتے یہ کہا جاتا کہ مسلمانوں کی اکثریت کا یہ موقف ہے

حالانکہ اب تو کافی وقت نکل چکا ہے پھر بھی مجھے انتظار ہے کہ کاش ابھی بھی دوسری تنظیمیں اپنا اپنا موقف پیش کر دیں تو چار پانچ یا آٹھ دس موقف سامنے آجائیں پھر مسلمان سارے موقف کا موازنہ کرکے جو بہتر معلوم ہو اس کی تائید کریں تو کیا ہی بہتر ہوتا . ابھی تک دو ہی موقف کا آپشن ہے کاش کہ مسلمانوں کے لئے چار پانچ موقف اختیار کرنے کا آپشن ہو جاتا تو لا یعنی بحث کے بجاءے بات یہ ہوتی کہ یہ موقف سب سے اچھا ہے اس لئے مسلمان اس کا سپورٹ کریں

اس کے ساتھ ہی ایسی تنظیم کا اب بھی انتظار ہے جو صرف بیان بازی پر اکتفا کرنے کے عملی طور پر بھی کچھ کرے یعنی بیان جاری کرنے کے ساتھ احتجاج مظاہرہ اور دھرنے کا اہتمام کرے اور اس کے بینر تلے ہر صوبے اور ہر ضلع میں کشمیریوں کے لئے احتجاج و دھرنا ہو. ناقدین اس کا مطالبہ جمعیۃ سے کرتے ہیں اگر جمعیۃ یہ کام نہیں کر رہی ہے تو دوسری تنظیموں کو اس کام کے لئے آگے بڑھنا چاہیے تھا کیا ضروری ہے کہ اگر ایک تنظیم کوئی کام نہیں کر رہی ہے تو اس کو لعن طعن کریں یہ کام کیا دوسری تنظیمیں نہیں کر سکتی ہیں اور کیا لکھنے والے حضرات ان تنظیموں کے لئے جھنجھوڑنے والے مضامین نہیں لکھ سکتے؟

بہر حال مسلمانوں کے لئے خوشی کا مقام ہے کہ اب ان کے سامنے دو طرح کے موقف ہیں اور ان سے گزارش ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے کے بجائے ان دو موقف میں سے جو آپ کو بہتر لگے اس کی تائید کیجئے اور اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیے مگر ایک دوسرے پر طنز، چھنٹا کشی اور لعن طعن سے گریز کیجئے

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

  1. ماشاءاللہ
    حضرت
    بہت ہی خوبصورت انداز میں تحریر فرماتے ہیں ۔

0

Your Cart