مسئلہء کشمیر، جمعیۃ علماء ہند اور ناقدین….. ایک تجزیہ

Views: 627
Avantgardia

محمد سفیان ظفر
محمد سفیان ظفر،
گڈا جھارکھنڈ

کشمیر کے مسئلہ پر جمعیۃ علماء نے اپنی تجویز پیش کی اس تجویز میں تین باتیں ہیں 1.کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی کو بند کیا جاءے. 2.کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے. 3.اور پڑوسی ملک کشمیریوں کو ورغلانے اور وہاں تخریبی سرگرمیاں انجام دینے سے باز آءے. جمعیۃ علماء ہند کے اس موقف پر بہت سے لوگ اعتراض کر رہے ہیں. یہ اعتراض کرنے والے دو قسم کے ہیں. ایک وہ لوگ جو جمعیۃ اور مولانا محمود مدنی کے مخالفین ہیں دوسرے وہ لوگ جو جمعیۃ اور مولانا محمود مدنی کے نہ حامی ہیں نہ مخالف بلکہ بعض حامی بھی ہیں لیکن جمعیۃ نے جس طرح اپنا موقف پیش کیا ہے اس سے ان کو اختلاف ہے. ان کو لگتا ہے کہ جمعیۃ نے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی نہیں کی لیکن جمعیۃ کا کہنا ہے کہ اس کا جو موقف ہے وہ اپنے ملک اور ملک کے مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور یہ کشمیر کے مسئلہ کی نزاکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا ہے جس کی منظوری مجلس عاملہ نے دی ہے جس میں دو ہزار سے زائد علماء کرام اور دانشوران عظام شریک تھے

اس موقف کے منظر عام پر آنے کے بعد دو قسم کی تحریریں سامنے آرہی ہیں. کچھ لوگ اس موقف کی تائید کر رہے ہیں تو کچھ لوگ اس پر تنقید کر رہے ہیں اور اس کی مخالفت کر رہے ہیں. تاہم کسی راءے پر نہ تنقید کرنا برا ہے اورنہ اس کی مخالفت کرنا. یہ انسان کا بنیادی حق ہے وہ اس کا استعمال کرسکتے ہیں لیکن جس انداز سے تنقید اور مخالفت ہورہی ہے اس پر سوال ضرور اٹھتا ہے کہ ان کا منشا کشمیریوں سے ہمدردی ہے یا جمعیۃ سے عداوت؟

اگر ان کو کشمیریوں سے ہمدردی ہے اور ان کے بقول جمعیۃ نے غلط موقف پیش کیا تو ان کو چاہیے تھا کہ ہندوستان میں ہر مسلک کی بے شمار تنظیمیں ہیں ان میں سے بعض بڑی بھی ہیں وہ ان تنظیموں کو آمادہ کرتے کہ کشمیر کے مسئلہ پر صحیح موقف پیش کریں جو ملت کی ترجمانی کرنے والا ہو. خود ان تنظیموں کو چاہیے تھاکہ جمعیۃ کا انتظار کئے بغیر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتیں احتجاجی مظاہرے کرتیں دھرنا دیتیں اور آئین نے جو اختیار و حق دیا ہے اس کا استعمال کرتیں مگر حیرت کی بات ہے کہ ان تنظیموں کے ذمہ داران بھی جمعیۃ کے موقف پر انگلی تو اٹھاتے ہیں مگر اپنا موقف پیش نہیں کرتے. ساری تنظیموں کو چاہیے تھا کہ وہ مسئلہ کے حل کے لئے اپنی اپنی تجاویز پاس کرتیں پھر مسلمانوں کو جس تنظیم کی تجویز اچھی لگتی اس کی تائید کرتے اور اس کے بتائے ہوئے لائحۂ عمل پر چلتے. نیز قلم کار حضرات کو چاہیے تھا کہ ان تجاویز میں سے موازنہ کرکے صحیح اور بہتر تجویز کی نشاندہی کرتے اور اس کو زیادہ سے زیادہ پھیلاتے.

اگر قلم کار حضرات کو کشمیریوں سے ہمدردی تھی تووہ یہ کام کرتے مگر افسوس کہ یہ مثبت کام کرنے کے بجائے وہ منفی کام پر اپنا زور صرف کر رہے ہیں. یہ حضرات یہ بتاتے ہیں کہ جمعیۃ غلط ہے مگر یہ نہیں بتاتے کہ صحیح تنظیم کون سی ہے. وہ کہتے ہیں جمعیۃ کا حالیہ موقف حکومت کی ترجمانی کرنے والا ہے مگر یہ نہیں بتاتے کہ کس تنظیم کا موقف ملت کی ترجمانی کرنے والا ہے. وہ کشمیریوں سے محبت و ہمدردی کے نام پر جمعیۃ کو تو برا بھلا کہتے ہیں مگر جو تنظیمیں خاموش ہیں ان پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟ ان کو کشمیریوں کی مدد کے لئے آمادہ کیوں نہیں کرتے؟ . وہ جمعیۃ کے خلاف مضمون لکھنے اور اس کو پھیلانے کے لئے رات دن تو ایک کرتے ہیں اور اپنا مدعا ثابت کرنے کے لئے جمعیۃ کی باتوں کو توڑ موڑ کر تو پیش کرتے ہیں مگر کشمیریوں کے لئے دھرنا و احتجاج میں شرکت کیوں نہیں کرتے؟ . یہ عمل کشمیریوں کی ہمدردی و محبت کی علامت ہے یا جمعیۃ سے بغض و عداوت کی؟

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart