خدا کے واسطے جمعیۃ علماء ہند پر دباؤ نہ بنائیں، دیگر تنظیموں کو بھی کچھ ذمہ داری دیں اور خود بھی کچھ کریں

Views: 320
Avantgardia

مولانا محمد سفیان القاسمی مولانا محمد سفیان القاسمی ،گڈا جھارکھنڈ

کسی بھی ہندوستانی مسلمان کو اگر گھسپیٹھیا کہا جاتا ہے یا در انداز قرار دیا جاتا ہے تو جمعیۃ علماء ہند اس کی لڑائی بھر پور انداز میں لڑےگی. ایک بھی ہندوستانی مسلمان کو اگر غیر ملکی کہا جاتا ہے تو اس کے لئے جہاں تک اس سے ہو سکے گا وہ تمام ممکنہ اقدامات کرے گی

لیکن اگر بنگلہ دیش، پاکستان یا کسی اور مسلم ملک کا کوئی مسلمان اپنا ملک چھوڑ کر ہندوستان میں آءےگا اور یہاں کی شہریت حاصل کرنا چاہے گا تو اس سلسلے میں کچھ لوگوں کے بقول مولانا محمود مدنی کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اس کی حمایت میں نہیں. یہ ان کا بیان نہیں بلکہ ایک انٹر ویو میں ان کے ایک الزامی جواب سے سمجھ میں آتا ہے جو انھوں نے فرقہ پرستوں کے الزام کے جواب میں دیا ہے.

اس کی وضاحت تو وہی کریں گے کہ جمعیۃ کا اس سلسلے میں کیا موقف ہے یا ابھی اس کے بارے میں میٹنگ ہوگی اور تمام ممبران یہ فیصلہ کریں گے کہ اب ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ دنیا کے تمام مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنا بھی اس کے منشور میں رہےگا یا صرف ہندوستانی مسلمان کے مسائل کو حل کرنا . جمعیۃ جیسا بھی فیصلہ لے. مگر کچھ لوگوں کا دباؤ بن رہا ہے کہ نہیں، دنیا کے دوسرے ملک کے مسلمانوں کو بھی ہندوستان میں شہریت دلانے کے لیے جمعیۃ جد و جہد کرے.

حالانکہ جمعیۃ ابھی ان مسلمانوں کو شہریت دلانے میں ہی پریشان ہے جو ہندوستانی باشندے ہونے کے باوجود ان پر غیر ملکی ہونے کا الزام لگ رہا ہے.

ادھر مسلم ملکوں کا حال یہ ہے کہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں وہاں دوسرے ملک سے آءے ہوءے مسلمانوں کو شہریت تو دور کی بات ہے وہ پناہ بھی دینے سے انکار کرتے ہیں. پناہ کے لیے آنے والوں کو باہر دھکیل دیتے ہیں. چند ہی مسلم ملک ہیں جنھوں نے دوسرے ملک کے مسلمانوں کو صرف پناہ دے دکھی ہے. جب مسلم اکثریتی ممالک میں دوسرے ملک کے مسلمانوں کو شہریت نہیں مل پاتی ہے ایسے میں ہندو اکثریتی ملک میں مسلمانوں کو پناہ دینے کی بات کرنا یقیناً ایمانی جذبہ اور اتحاد ملت کی علامت ہے. اللہ ایسے جذبے کو مسلمانوں کے دلوں میں سلامت رکھے آمین

لیکن میری ادنیٰ سی درخواست ہے کہ اگر جمعیۃ ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے پابند عہد ہے تو اس کو اور اضافی ذمہ داری نہ دی جائے. اللہ کا فضل ہے ہر مسلک کے مسلمانوں کی بے شمار تنظیمیں ہیں، پھر دیوبندی حلقہ کی بھی بہت ساری تنظیمیں ہیں، مسلمانوں کی سیاسی پارٹیاں بھی کم از کم آدھے درجن سے زائد ہیں، ان ساری تنظیموں کو بھی کچھ ذمہ داری دیں. خود بھی دوسرے ملک سے مسلمانوں کو آکر ہندوستان میں شہریت حاصل کرنے کے حق کے لئے آواز اٹھائیں. ایک تنظیم کا اگر اپنا دائرہ کار ہے تو اس سے زیادہ کا بوجھ اس پر نہ ڈالیں. خدا کے واسطے خود بھی کچھ کریں، اس سے کسی نے آپ کو نہیں روکا ہے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart