مسرت کے مارے اچھلتے اچھلتے

شاعر اسلام جناب جمشید جوہر صاحب

چلا ہے دیار حرم کو دیوانہ، مسرت کے مارے اچھلتے اچھلتے

سنائے گا سرکار کو اپنی نعتیں، یہ عشق نبی میں مچلتے مچلتے

کہاں میری قسمت کہ طیبہ کو پہنچوں، مگر یہ ہوئی بڑی مہربانی

چلاتھا کہاں سے، کہاں آگیا ہوں، میں یاد نبی میں ٹہلتے ٹہلتے

زمانے سے مشتاق ہوں میرے مولیٰ، دکھادے تو اپنے نبی کا وہ روضہ

جدائی کا زہر ہلاہل کو پی کر، کہیں مرناجاوں نکلتے نکلتے

یہی ہے تمنا یہی آرزو ہے، یہی دل کی چاہت یہی جستجو ہے

پہنچ جاوں قدم تلے مصطفیٰ کے میں تربت میں پہلو بدلتے بدلتے

یہی آرزو ہے یہی ہے تمناکہ جوہر پہ مولیٰ کرم اتنا

کرادینا سرکار دیدار مجھ کو کم از کم میرا دم نکلتے نکلتے

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں