جمعیت علمائے ہند کے صد سالہ جشن کی تاریخ طے

Views: 53
Avantgardia

صدسالہ اجلاس کو لے کر جمعیۃ علماء ہند کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد – جمعیۃ علماء ہند کا  صدسالہ اجلاس اگلے سال نومبر میں – اس سے قبل ملک بھر میں منعقد کیے جائیں گے اکابر پر سیمینار اور جمعیۃ کانفرنس ماب لنچنگ جیسے اعمال بد کی روک تھام کے لیے دہلی میں 4 اگست کو جمعیۃ علماء ہند کا بڑا اجلاس منعقد ہوگا –  اتحاد و یک جہتی، امن وآشتی اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کے لیے اور اقلیتوں  میں  مابین اضطراب کے خاتمے اور اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے جمعیۃ سرگرم ادا کرے گی 
نئی دہلی۔۱۱/ جولائی
جمعیۃ علماء ہند کی صد سالہ تقریبات کی تیاریوں کے سلسلے میں آج مدنی ہال دفتر جمعیۃ علماء ہند میں ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقدہوئی جس کی صدارت امیر الہند مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند نے کی۔ میٹنگ میں تنظیم کے سبھی ریاستوں کے صدور و نظماء شریک ہوئے جنھوں نے جمعیۃ کے سوسال مکمل ہونے پر جاری صدسالہ تقریبات کا جائزہ لیا اورآیندہ منعقد ہونے والے پروگراموں کو بااثر اور پیغام رساں بنانے کے لائحہ عمل پر غور وخوض کیا، بالخصوص دیوبند میں منعقد ہونے والے عظیم ا لشان صدسالہ اجلاس سے متعلق کئی امور زیر بحث آئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی سوسالہ تاریخ، ملت اسلامیہ ہند کی تاریخ ہے جس سے نہ صرف ہماری جہد وجہد، قربانیاں اور حصولیابیاں وابستہ ہیں بلکہ نسل نو کے لیے اس میں رہ نمائی کے اسباب بھی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ صدسالہ تقریبات اور پروگراموں کو ضلعی و ریاستی سطح پر بھی منعقد کیا جائے اور جمعیۃ علماء ہند کے اکابر پر مزید سیمینار اور کانفرنس منعقد کرکے جمعیۃ کے پیغام کو عام کیا جائے۔
چنانچہ غور و خوض کے بعد طے ہوا کہ دیوبند میں عظیم الشان صدسالہ اجلاس 20،21،22/نومبر 2020 کو منعقد کیا جائے اور اس سے پہلے تمام صوبائی جمعیتیں اپنے اپنے علاقوں میں جمعیۃ سے وابستہ شخصیات پر سیمینار یاپروگرام منعقد کریں۔
دوسری طرف جہاں جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام اکابر جمعیۃ پر سیمیناروں کا سلسلہ جاری ہے، وہیں یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ اکابر پر ڈاکیومنٹری بھی تیار کرائی جائے۔جہاں تک سیمینار کا تعلق ہے تو 27،28/جولائی 2019 کو دہلی میں حضرت مولانا احمد سعید دہلوی رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند اور مولانا حفظ الرحمن  سیوہاروی رحمۃ اللہ علیہ سابق ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کی خدمات پر سیمینار منعقد ہورہاہے، اس کے علاوہ 21،22/ستمبر 2019 کو حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ بانی جمعیۃعلماء ہند، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند، حضرت علامہ سید فخرالدین مرادآبادی رحمۃ اللہ علیہ سابق جمعیۃ علماء ہند کی خدمات پرسیمینار منعقد ہوگا۔ میٹنگ میں یہ تجویز آئی کہ حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مولانا عبدالوہاب آروی رحمۃ اللہ علیہ  اور فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ پر ایک کانفرنس دہلی میں ماہ نومبر میں منعقد کی جائے، نیز حضرت علامہ شاہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ سابق نائب صدر جمعیۃ علماء ہند پر اجمیر شریف میں سیمینار منعقد کیا جائے۔
میٹنگ میں صدسالہ اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی کئی فیصلے لیے گئے، بالخصوص فراہمی مالیات کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے کنوینر مولانا ندیم صدیقی مہاراشٹرا ہوں گے۔کمیٹی میں مولانا بدرالدین اجمل قاسمی، مولانا صدیق اللہ چودھری، حاجی محمد ہا رون بھوپال، مفتی محمد سلمان منصورپوری، مولانا رفیق احمد بڑودوی، مفتی احمد دیولہ شامل ہیں۔ یہ بھی طے ہوا کہ مولانا حکیم الدین قاسمی صدسالہ اجلاس کے معان کنوینر ہوں گے اور دیوبند میں صدسالہ رابطہ دفتر بھی قائم ہوگا۔واضح ہو کہ مفتی محمد عفان منصوری صدسالہ اجلاس کے کنوینر ہیں۔
میٹنگ میں اس کے علاوہ ملک کے موجودہ حالات بالخصوص ماب لنچنگ جیسے انسانیت سوز واقعات بھی زیر بحث رہے۔ فرقہ پرست عناصر جس طرح سے خوف اور نفرت کا ماحول پیداکرنے کی کوشش کررہے ہیں،اس نے ملک کی شناخت کو بری طرح سے متاثر کیا ہے،یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اقلیتوں کا ایک بڑا طبقہ اضطراب اور بے چینی میں مبتلا ہے۔ایسے حالات میں جمعیۃ علماء ہند اس امرکو ضروری سمجھتی ہے کہ وہ اتحاد و یک جہتی، امن وآشتی اور بھائی چارہ کو فروغ دینے کے لیے اپنی روایت کے مطابق میدان عمل میں سرگرم ہواور انصاف پسند وبااثر برادران وطن کے سا تھ مل کراعتماد کی فضا قائم کی جائے۔ اسی مقصد کے تحت 4/اگست 2019 کو دہلی میں امن وایکتا سمیلن کے انعقاد کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس سے قبل 3/اگست کو دہلی میں مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند کا اجلاس ہو گا۔یہ بھی طے ہوا کہ نہ صرف دہلی میں بلکہ ممبئی، اورنگ آباد، بھوپال، جے پور، لکھنو، دہرادون، پٹنہ سمیت بڑے شہروں میں یہ سمیلن منعقد کیے جائیں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart