لعنت کرنے کا بیان

مفتی محمد شوکت علی قاسمی بھاگلپوری

ایک دوسرے پر لعنت کی ممانعت
]۲۸[ (۱) عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍصقَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا: لَا تَ لَا عَنُوْا بِلَعْنَۃِ اللہ ِ وََلَا بِغَضَبِہٖ وَلَا بِا لنَّارِ۔
(ابو داؤد:۲/۲۷۶؛ رقم:۸۹۸۴،ترمذی واللفظ لہ:۲/۹۱؛ رقم:۶۷۹۱، شعب الایمان: ۴/۵۹۲؛ رقم:۰۶۱۵، ترغیب:۳/ ۳۱۳،مشکوۃ:۳۱۴)
ترجمہ: حضرت سمرہ بن جندب ص سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے ارشاد فرمایاکہ: تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے لئے نہ تو خدا کی رحمت سے دور ہونے کی بددعا کرو، نہ خدا کے غضب کی، نہ جہنم میں جانے کی۔ (ابو داؤد،ترمذی)
مومن کو لعنت کرنا اُس کے قتل کی طرح ہے
]۳۸[ (۲) عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ ص (فِی حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِ ا: لَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِہٖ۔
(بخاری:۲/۳۹۸؛رقم:۷۴۰۶ و۲/۱۰۹؛رقم:۵۰۱۶،مسلم:۱/۲۷؛رقم: (۶۷۱-۰۱۱) شعب الایمان:۴/۴۹۲؛ رقم:۳ ۵۱۵، ترغیب:۳/۰۱۳، ۳۱۳)
ترجمہ: حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے اِرشاد فرمایاکہ:مؤمن کو لعنت کرنا (یعنی اُس کے لئے اللہ کی رحمت سے دوری کی بددعا کرنا) اُس کو قتل کرنے کی طرح ہے۔ (بخاری،مسلم)
لعنت والے اونٹ کے ساتھ سفر کی ممانعت
]۴۸[ (۳) عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:سَارَ رَجُلٌ مَعَ النَّبِیِّا فَلَعَنَ بَعِیْرَہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:”یَاعَبْدَ اللہ ِ لَاتَسِرْ مَعَنَا عَلٰی بَعِیْرٍ مَلْعُوْنٍ“.
رواہ ابو یعلی (ترغیب: ۳/۴۱۳)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ایک صاحب حضور اقدس ا کے ساتھ سفر میں چل رہے تھے کہ: انہوں نے اپنے اونٹ کو لعنت کی، آپ ا نے فرمایاکہ: اے اللہ کے بندے ہمارے ساتھ ایسے اونٹ پر نہ چلو جس پر لعنت کی گئی ہے۔ (مسند ابو یعلیٰ)
ہواکو لعنت کرنے کی ممانعت
]۵۸[ (۴) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمَا:اَنَّ رَجُلاً لَعَنَ الرِّیْحَ عِنْدَ نَبِیِّ اللہ ِا فَقَالَ:لَا تَلْعَنِ الرِّیْحَ فَاِنَّھَا مَأْمُوْرَۃٌ وَ اِنَّ ہٗ مَنْ لَعَنَ شَیْئاً لَیْسَ لَہٗ بِاَھْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَۃُ عَلَیْہِ۔
(ابو داؤد:۲/۲۷۶؛رقم:۰۰۹۴،ترمذی واللفظ لہ:۲/۹۱؛رقم:۸۷۹۱،شعب الایمان:۴/۶۱۳؛رقم:۵۳۲۵،ترغیب:۳/۵۱۳،مشکوۃ:۳۱۴)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ: ایک شخص نے نبی کریم ا کے سامنے ہو ا پر لعنت بھیجی، آپ انے فرمایاکہ: ہوا پر لعنت مت کرو کیونکہ یہ تو مامور ہے (اللہ کے حکم سے چلتی اور رکتی ہے) اور یاد رکھو! جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتاہے جو اُس کی مستحق نہیں تو وہ لعنت خود لعنت کرنے والے پر لوٹ جاتی ہے۔(ابو داؤد،ترمذی)
لعنت کرنا مومن کی شایانِ شان نہیں
]۶۸[ (۵) عَنْ عَبْدِاللہ ِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللہ ِا: لَیْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلَا اللَّعَّانِ،وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِیِّ۔
(ترمذی:۲/۹۱؛رقم: ۷۷۹۱،شعب الایمان:۴/۳۹۲؛رقم:۹۴۱۵،ترغیب: ۳/۳۱۳،مشکٰوۃ:۳۱۴؛رقم:۷۴۸۴)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ: حضور اقدس ا نے فرمایا کہ: مومن نہ تو بہت زیادہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے نہ بہت زیادہ لعنت بھیجنے والا، نہ بُرا کام کرنے والا، نہ بُری بات بولنے والا۔ (ترمذی،شعب الایمان)
لعنت کرنے والے قیامت میں سفارشی نہیں بن سکیں گے
]۷۸[ (۶) عَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ رَضِیَ اللہ ُ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہ ِ ا یَقُوْلُ:”لَا یَکُوْنُ اللَّعَّانُوْنَ شُفَعَاءَ وَلَا شُھَدَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ“۔
(مسلم:۲/۳ ۲ ۳؛رقم:(۵۸-۸۹۵۲)،ابوداؤد:۲/۲۷۶،شعب الایمان:۴/۴۹۲؛ رقم:۲۵۱۵،ترغیب:۳/ ۲۱،مشکوٰۃ:۱۱۴)
ترجمہ:حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے نبی کریم ا کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ: بہت زیادہ لعنت کرنے والے لوگ قیامت کے دِن نہ گواہ بنائے جائیں گے، نہ سفارشی۔ (مسلم،ابو داؤد)

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں