مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی میں پروگرام کا انعقاد

Views: 249
Avantgardia

گڈا جھارکھنڈ گڈا جھارکھنڈ( 2 اکتوبر )

مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا میں مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش پر ان کی حیات و خدمات سےطلبہ و طالبات کو روشناس کرانے کے لئے ایک پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا جس میں مدرسہ کے پرنسپل کے ساتھ کئی اساتذہ نے خطاب کیا
پروگرام کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہوا، بعد ازاں بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم میں نعت پاک کا نذرانہ پیش کیا گیا اور طلبہ و طالبات نے نظمیں پیش کیں.
جلیل القدر عالم دین اور مدرسہ ہذا کے پرنسپل مولانا محمد ریاض اسعد مظاہری نے اپنے خطاب میں کہا کہ مہاتما گاندھی نے ملک کو آزاد کرانے، دبے کچلے و پسماندہ طبقات کو حقوق دلانے اور یہاں کے تمام باشندوں کو امن و سکون اور انصاف دلانے کے لئے جو کارہاءے نمایاں انجام دیئے وہ آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں. چنانچہ ان کو فادر آف دی نیشن ( باپو ) کا خطاب دیا جانا بالکل ان کی خدمات کے شایان شان ہے. پرنسپل مدرسہ نے مزید کہا کہ مہاتما گاندھی نے جس بھارت کا خواب دیکھا تھا وہ تبھی پورا ہوگا جب کہ ہندو مسلم اور تمام برادران وطن سب مل کر اس کو بنانے کی کوشش کریں گے، اس کے ساتھ ہی انھوں نے گزارش کی کہ بھارت کو پاک صاف بنانے کے لئے ہم عہد کریں کہ پلاسٹک کا استعمال نہیں کریں گے کیونکہ اس میں بہت سے نقصانات ہیں.

مفتی محمد سفیان قاسمی نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے دنیا کے سامنے جو نظریہ پیش کیا وہ عدم تشدد اور پر امن جد و جہد کا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بسا اوقات تیر و تلوار اور گولہ و بارود وہ کام نہیں کرتے جو پر امن جد و جہد کرتی ہے. قاسمی صاحب نے طلبہ سے سوال کرتے ہوئے کہا آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری بستیوں میں بہت سے لوگ گزرے مگر پورا ہندوستان ان کو یاد نہیں کرتا ان کو جانتا تک نہیں اور مہاتما گاندھی کو پورا ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا یاد کرتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بلا لحاظ مذہب، ہندو مسلم سکھ عیسائی اور ہندوستان کے تمام باشندوں کی بھلائی کے لیے کام کئے اس کے صلہ میں آج ہندو مسلم اور تمام مذاہب کے لوگ ان کو یاد کرتے ہیں لہذا کوشش کریں کہ اپنی ذات سے ملک اور قوم کو زیادہ سے زیادہ نفع پہنچے، کسی کی ذات کو نقصان نہ پہنچے. مدرسہ کے استاد ماسٹر محمد غفران نے ان زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی. پروگرام میں مولوی قمر، مولوی اظہر، ماسٹر عبد الرزاق اور قاری محمد ظفر صاحب وغیرہ وغیرہ موجود تھے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart