مولانا محمود مدنی کا تازہ بیان…. ہمیں اور آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

Views: 385
Avantgardia

مولانا محمد سفیان القاسمی مولانا محمد سفیان القاسمی ،گڈا جھارکھنڈ

مولانا محمود مدنی کا ایک اور بیان وائرل ہو رہا ہے اس کا تعلق سابق کی طرح دین سے نہیں بلکہ سیاست سے ہے. اگر دینی مسئلے میں وہ غلط بولتے تو ان کی گرفت کرنا تمام علماء کرام کا دینی فریضہ تھا لیکن اگر سیاسی مسئلہ ہے تو اس میں ہر آدمی آزاد ہے وہ کوئی بھی راءے رکھ سکتا ہے جب تک کہ دین سے اس کا تعلق نہ ہو، اور کوئی بھی کسی راءے پر تنقید کر سکتا ہے.

مولانا سے ایک غیر مسلم نے انٹرویو میں پوچھا کہ آپ اکبر بادشاہ کے تشریح کردہ دین کو مانتے ہیں یا اورنگ زیب عالمگیر رح کے دین کو. مولانا نے جواب دیا ” میں نا اکبر بادشاہ کے دین کو مانتا ہوں نا ہی اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ کے دین کو مانتا ہوں میرے پاس خواجہ اجمیری اور پیر صابر کلیئری وغیرہ کے واسطے سے جو دین آیا ہے میں اس کو مانتا ہوں،،

مولانا یہ بیان کس سیاق میں دے رہے ہیں اور کس سیاسی مصلحت کے تحت دے رہے ہیں اس کو وہی جانیں. اس پر گہرائی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے. یہ ان کا ذاتی خیال ہے اس سے ہر آدمی کا اتفاق کرنا ضروری نہیں.

اگر کسی کو اپنے بارے میں لگتا ہے کہ وہ ان مسلم سلاطین کے بیٹے ہیں جن پر ہندوؤں کا الزام ہے کہ انھوں نے یہاں کے ہندوؤں پر ظلم و زیادتی کی ہے انھیں کے دین کو وہ مانتے ہیں تو وہ اس کا اظہار کر سکتے ہیں. باقی جن کو لگے کہ حکمت عملی اور مصلحت اس میں ہے کہ وہ برادران وطن کو یہ بتائیں کہ وہ مسلم بادشاہوں کو نہیں بلکہ اولیاء کرام و صوفیاء عظام کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں جو آپسی رواداری اور قومی یکجہتی کے قائل تھے اور انھیں کے ذریعے ان تک پہنچے ہوئے دین پر وہ چلتے ہیں تو وہ اس کا بھی اظہار کر سکتے ہیں

آپ کو برادران وطن کو جیسا بتانے میں اچھا لگے وہ کیجئے. یہ کوئی ایسا دینی مسئلہ نہیں جس پر کفر اور گمراہی کا فتویٰ لگایا جاءے. بلاوجہ کے ان کے ہر بیان پر تنقید کرنا کوئی ضروری تو نہیں.
آدمی کو مثبت کام کرنا چاہیے بلاوجہ منفی کام کرنے سے کیا فائدہ؟ اس سے تو مزید اس کو شہرت ملتی ہے جس کو ہم بدنام کرنا چاہتے ہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart