مفکر اسلام حضرت مولانامحمد سجادؒکے دو انمٹ نقوش قیام امارت شرعیہ ونظام دارالقضاء

حضرت مولانامحمدقاسم مظفرپوری
قاضی امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ

اس دار فانی میں کچھ شخصیتیں ایسی پیدا ہوتی ہیں،جن کی زندگی مرکر بھی باقی رہتی ہے،ان کے افکار وآرا،جہد مسلسل،اخلاص و للٰہیت،خدمت خلق،بے خوف و مصلحت کے منافقانہ خول سے آزاد ان کے باعظمت فیصلے،زہد وقناعت،علمی وفکری قوت اوران کی شب بیداری اور امت کی سربلندی کے لیے ان کی ہمہ جہت کوششیں انہیں مرنے نہیں دیتی ہیں،وہ ہمیشہ علماء، دانشوران،قائدین اورامت کے جانباز سیاحوں کے لیے ایک آئیڈیل کی شکل میں رہبر منزل کا درجہ رکھتے ہیں،زمین چاہے ان کے گوشت وپوست کو ہضم کرجائے،مگر ان کے فولادی افکار اورمجاہدانہ کوششوں کو تاریخ نے اپنے سینہ کی امانت بنالیا ہے،اب وہ تادیر آنے والوں کے لیے ایک روشن اورقابل تقلید شخصیت بن کر زندہ رہتے ہیں،مشہور عربی ادیب عبداللہ بن محمد البطلیوسی نے صحیح کہاہے:
أخوا العلم حی وخالد بعد موتہ

واوصالہ تحت التراب رحیم

ان ہی شخصیات میں سرفہرست نام مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کاہے،حضرت مولاناکی شناخت اپنے عصرکے علماء میں فخر گلشن سے ہے،اللہ پاک نے آپ کو خالص علمی وتحقیقی ذوق،فقہی بصیرت،سیاسی شعور کی پختگی،ملکی قوانین سے آگہی،اسلام مخالف سازشوں سے باخبری،ملت اسلامیہ کے مسائل کا ادراک،امت کی شیرازہ بندی اورانسانیت کی فلاح کے لیے ہمہ جہت کوشش،جیسی اہم صفات سے نوازاتھا۔
ہندوستانی مسلمانوں کے لیے آپ کی ذات ایک یگانہئ روزگار کی حیثیت رکھتی ہے،اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس فقہی بصیرت اورسیاسی ادراک سے نوازا تھاکہ ہم عصر علما کو ہر اجتماعی مسئلہ میں آپ کی رائے کا انتظار رہتا اورآپ ہی کی رائے عام طور پر فیصلہ کن ثابت ہوتی،حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاری لکھتے ہیں:
”جب کسی مسئلہ پر حضرت مولانا محمد سجاد صاحب دلائل وبراہین فقہی کے ساتھ بحث فرماتے تو حضرت مفتی صاحب(مفتی کفایت اللہ صاحبؒ)بھی بے حد متأثر ہوتے اوران کے علمی تبحر کا اعتراف کرتے ہوئے بے ساختہ ان کی زبان سے کلمات تحسین نکل جاتے“۔ (۱)
حضرت مولانا کی شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن اورہمہ جہت صفات کی حامل تھی،آپ کی عملی زندگی کی اکائیاں بہت سے علمااوراہل علم ونظر کی زندگی کے برابر کہی جاسکتی ہیں،سید الطائفہ حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ اپنے تعزیتی مضمون میں لکھتے ہیں:
”ان کی تواضع میں بلندی،سادگی میں تناؤ اورخاموشی میں گویائی تھی،وہ اکیلے تھے؛لیکن لشکر تھے، پیادہ تھے مگر برق رفتار تھے،وہ قال نہ تھے،سراپا حال تھے،کہتے کم اورکرتے زیادہ تھے،ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ راہ اورمنزل کے فرق کو کبھی فراموش نہیں کیا“۔(۲)
زیر نظر مضمون میں راقم الحروف نے حضرت مولانا کی علمی زندگی کا ایک اہم تاریخی،زندہئ جاوید کارنامہ”قیام امارت شرعیہ اورنظام قضاء“ سے متعلق کچھ سطریں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

اسلام ایک مکمل نظام حیات کا نام ہے،جس میں زندگی کے تمام شعبہ جات،خواہ ان کا تعلق شخصی ہو،یا سماجی،سیاسی ہویا معاشرتی،عدالتی ہو یا معاشی، شامل ہیں،چوں کہ تخلیق انسانی کا مقصد ہی روئے زمین پر خلافت الٰہی کا قیام ہے اوراسلام تا قیامت انسانیت کی رہبری کے لیے ہے،اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے نہایت جامع نظام عطا کیا ہے اورمسلمان ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ خدااوررسول کے احکامات کوزندگی کے تمام شعبہ جات میں نافذ کیاجائے،ایسا نہ ہو کہ صرف عقائد وعبادات میں ہی اطاعت خداوندی کی جائے اورزندگی کے دوسرے شعبوں میں رب کائنات کے نازل کردہ احکامات کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ شناخت کا حامی ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلامی حکومت اورشرعی قوانین کا اجرااسلام کے بنیادی احکامات میں شامل ہے اورشرعی حکومت کے قیام کی اگر کوئی صورت ہوتو اس کی کوشش ایک اہم دینی فریضہ ہے،چنانچہ ایسے علاقے میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اورجہاں اسلامی حکومت اورشرعی قوانین کا اجرا ناممکن ہو،وہاں کم از کم شرعی امارت کے قیام کی بات فقہا نے لکھی ہے،علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں:
”وإذا لم یکن سلطان ولامن یجوز التقلد کما ھو فی بعض بلاد المسلمین غلب علیہم الکفار کقرطبۃ فی بلاد المغرب الآن،یجب علیہم أن یتفقوا علی واحد منھم یجعلونہ والیا فیولی قاضیا أو یکون ھو الذی یقضی بینھم“۔(۳)
(اورجب مسلمان بادشاہ نہ ہو اورنہ ہی ایسا شخص ہو،جسے قاضی کی تقرری کا اختیار ہو،جیساکہ یہ حالت بعض ان مسلم ملکوں کی ہے،جن پر کفار کا غلبہ ہوگیا ہے،جیساکہ مغربی ممالک میں قرطبہ،ایسی حالت میں مسلمانوں پر واجب ہے کہ متفق ہوکر کسی مسلمان کو حاکم یا والی بنالیں،پھر وہ قاضی کی تقرری کرے،یا خود ہی کار قضا انجام دے۔)
ہندوستان پر مغل حکمرانوں کے بعد جب انگریزوں کا ظالمانہ قبضہ ہوا تو رہے سہے اسلامی تشخص کے ختم کئے جانے کا اندیشہ علما کو ہونے لگا،توسب سے پہلے مفکراسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کی نگاہ دوررس اورفقہی بصیرت نے ان حالات میں شدت سے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ پورے ہندوستان کے لیے ایک امیر کی تعیین ہوجائے اورمسلمان اپنی زندگی امیر کی اطاعت اوراس کی امارت میں گذاریں،مگر جب کل ہند سطح پر امارت کے قیام میں کچھ پریشانیاں نظر آئیں تو آپ نے سرزمین بہار واڑیسہ میں اس کا قیام عمل میں لایا اوریہاں کے مسلمانوں کو شرعی امارت کے تحت زندگی گذارنے کا موقع فراہم فرمایا۔
مسلمانوں کے لیے ایک امیر کاانتخاب اورامیر کے تحت زندگی گذارنے کی اہمیت کے سلسلے میں آپ کے دل میں جو سوزدروں تھا،اس کا اندازہ ہم آپ کی اس تقریر سے لگاسکتے ہیں:
”اسلام ایک تنظیمی مذہب ہے،اس مذہب کی روح ڈسپلن اورنظم چاہتا ہے،اگر مسلمان منتشر رہیں اورکسی ایک شخص کی اطاعت نہ کریں اوراپنا کوئی امیر منتخب نہ کریں تو یہ زندگی غیر شرعی زندگی ہوگی“۔(۴)
قیام امارت کی ضرورت واہمیت کو واضح کرنے کے لیے آپ کے یہ کلمات علماء کرام کے لیے نہایت چشم کشاہیں،اسی طرح پٹنہ کی پتھر والی مسجد میں جب آپ نے بہار واڑیسہ کے علماء ومشائخ کی موجودگی اورمولانا ابوالکلام آزاد کی صدارت میں قیام امارت کااعلان کیا تو علما ء کو جھنجھوڑتے ہوئے کہاکہ:
”جب تک حکومت کا فرہ کا مسلمانوں پر تسلط ہے اورجب تک مسلمان اس ابتلا میں مبتلا ہیں اورجس وقت تک مسلمان سیاسی اقتدار کے مالک نہ ہوجائیں،اس وقت تک ایسے اقتصادی اورمعاشرتی کاموں کے لیے اپنا ایک امیر منتخب کریں اوراس کی اطاعت وفرماں برداری پر بیعت کریں؛تاکہ کفرستان میں جس قدر ممکن ہوسکے مسلمان اپنی زندگی کو شرعی بناسکیں“۔
بالآخر صوبہئ بہار واڑیسہ میں آپ کی مخلصانہ ومجاہدانہ کوششوں سے امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا،حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے آپ کو اس انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے:
”بہار میں امارت شرعیہ کا قیام ان کی سب سے بڑی کرامت ہے؛کیوں کہ زمین شور میں سنبل پیدا کرنا اوربنجر علاقہ میں کھلکھلاتی کھیتی کھڑی کرلینا ہرایک کاکام نہیں“۔(۵)
قیام امارت کے بعد آپ کا سب سے بڑا کارنامہ امارت کے تحت دارالقضاء کے قیام کا ہے،کیوں کہ ایک مسلمان کا یہ شرعی فریضہ ہے کہ وہ اپنے معاملات کا حل خدا اوررسول کے بتائے ہوئے احکام کے مطابق کرائے اوراسی دارالقضاء سے ہر سطح پر احقاق حق کا فریضہ ادا ہوسکتا ہے اوریہی امن عالم کا ذریعہ بھی ہے،اگر عالمی سطح پر عدالتی نظام بہتر ہوجائے تو یقینا پوری دنیا میں عدل وانصاف کی حکمرانی ہوگی اورظالم ومظلوم کو اس کا حق مل سکے گا اورموجودہ زمانہ میں بڑی حکومتوں کے ظلم وجور کا جو سلسلہ جاری ہے،انسانیت کو اس سے نجات مل سکے گی۔
قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے متعدد مقامات پر حکم خداوندی کے مطابق ہی فیصلہ کرانے کا حکم نازل فرمایا،ارشاد ربانی ہے:
(اطیعوا اللّٰہ واطیعوا الرسول واولیٰ الامر منکم)(۶)
(اللہ،رسول اوراولوالامر کی فرمانبرداری کرو۔)
یہاں اولوالامر سے مراد جس طرح ارباب حکومت ہیں،اسی طرح فقہا اورعلماء دین بھی ہیں،مشہور مفسر قرآن علامہ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں:
”والظاھر واللّٰہ أعلم أنھا عامۃ فی کل أولی الأمر من الأمراء والعلماء“۔(۷)
(میرے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ اس سے مراد علما ء وامرادونوں ہی ہیں واللہ اعلم)
اسی طرح مسلمانوں کی صفت قرآن پاک میں یہ بیان کی گئی ہے کہ جب انہیں اللہ اوراس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں تو وہ سرتسلیم خم کرتے ہیں ارشاد ربانی ہے:
(انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی اللّٰہ ورسولہ لیحکم بینھم ان یقولوا سمعنا واطعنا)(۸)
اسی طرح بعض آیات میں صراحت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ احکام خداوندی کے مطابق ہی فیصلہ کریں:
(فاحکم بینھم بما انزل اللّٰہ)(۹)

بلکہ مزید صراحت کے ساتھ حکم ربانی نازل ہواکہ اے نبی!آپ حکم خداوندی کے مطابق ہی فیصلہ کریں،ان (کفار مکہ)کی خواہش کے مطابق نہیں۔
(وان احکم بینھم بما انزل اللّٰہ ولا تتبع اھوائھم)(۰۱)
مسلمانوں کو بھی تاکید کی گئی کہ اپنے مسائل کے حل کے لیے دربار نبوت میں ہی حاضری دیں اوروہیں سے اپنے فیصلے کرائیں،ارشاد ربانی ہے:
(فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکمون فیما شجر بینکم)(۱۱)
مذکورہ بالات آیات میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ وہ اپنا فیصلہ احکام شرع کے ہی مطابق کرائیں،چنانچہ اگر کوئی اسے نہ مانے اوراحکام خداوندی کے مطابق فیصلہ کرانے پر راضی نہ ہوتو اس کے بارے میں قرآن مجید میں سخت ترین وعید بھی نازل ہوئی،ارشاد باری ہے:
(من لم یحکم بما انزل اللّٰہ فاولئک ھم الظالمون)(۲۱)
(جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق اپنا فیصلہ نہ کرائیں تو ایسے لوگ ظلم کرنے والے ہیں۔)
دوسری بعض آیات میں ایسے شخص کو فاسق؛بلکہ کافر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔(۳۱)
تعبیر کی یہ سختی یقینا معاملہ کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتی ہے،بعض اہل تفسیر ان آیات کا مخاطب بنو اسرائیل کو قرار دیتے ہیں،مگر الفاظ قرآنی کے عموم سے اس کے مخاطب کی عدم تعیین زیادہ واضح طورپر سمجھ میں آتی ہے۔
شریعت اسلامی کے دوسرے اہم مصدر احادیث نبویہ میں بھی اس کی اہمیت وفضیلت سے متعلق بہت سی روایات موجود ہیں،کتب حدیث کی تمام اہم کتابوں میں اس موضوع سے متعلق ابواب محدثین نے قائم کئے ہیں اوران میں موضوع سے متعلق احادیث کو جمع کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کار قضا سے مربوط افراد کی بہت سی فضیلتیں بیان فرمائی ہیں،جن سے یقینا اس کام کی اہمیت اوراس سے جڑے ہوئے علما ء کی فضیلت کا اندازہ ہمیں ہوتا ہے۔
قیامت کے دن جن سات قسم کے لوگوں پر اللہ کا خاص کرم ہوگا اوروہ لوگ اللہ تعالیٰ کے خصوصی سایہ میں ہوں گے،ان میں سب سے پہلا شخص وہی ہوگا،جو انصاف پرور قاضی یا حاکم ہو۔(۴۱)
اسی طرح جن لوگوں پر رشک کیا جاسکتا ہے،ان میں ایک وہ شخص بھی ہے،جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت سے نوازا ہو اوروہ اس سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہو اوراس پر عمل بھی کرتا ہو۔”لا حسد إلا فی اثنین۔۔۔رجل أتاہ اللّٰہ الحکمۃ فھو یقضی بھا ویعمل بھا“۔(۵۱)
کار قضاکی اہمیت وفضیلت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تلمیذ خاص،مشہور فقیہ،صحابی جلیل حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول انتہائی اہمیت کا حامل ہے،آپ فرماتے ہیں:
”لأن أقضی یوما أحب إلی من عبادۃ سبعین عاما“۔(۶۱)
(میں ایک دن لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں خرچ کردوں یہ میرے لیے ستر (۰۷)سال کی عبادت سے بہتر ہے۔)
اسی طرح مشہور تابعی مسروقؒ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن منصفانہ اورعادلانہ طریقہ پر فیصلہ کروں،وہ میرے لیے ایک سال کے جہاد سے افضل ہے۔
”لأن أقضی یوماً واحدًا بحق وعدل أحب إلی من سنۃ أغزوھا فی سبیل اللّٰہ تعالیٰ“۔(۷۱)
بعض حضرات کا خیال یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ممالک میں جہاں مسلمانوں کو قوت نافذہ حاصل نہیں ہے، وہاں شرعی عدالت کا قیام کیسے ممکن ہے،اگر شرعی فیصلہ کر بھی دیا جائے تو اسے نافذ کس طرح کیا جائے گا؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو قوت نافذہ حاصل نہیں ہے؛لیکن اگر ہم شرعی قوانین کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جن امور میں قوت نافذہ کی ضرورت ہے،وہ چند ہی ابواب ہیں،مثلا جنایات، حدود اورقصاص وغیرہ ابواب،جب کہ ان کے علاوہ زندگی کے دوسرے ابواب جن کا تعلق سماجی، معاشرتی اور معاشی مسائل سے ہے،ان میں قوت نافذہ خوف خدا،فکر آخرت،فلاح دارین کا جذبہ اورخدا ورسول کی اطاعت ہی ہے،چنانچہ ہم یہاں کے حالات کے مطابق اتنے ہی کے مکلف ہیں کہ مذکورہ شعبہئ ہائے مسائل میں احکام شرع کے مطابق اپنا فیصلہ کرائیں اورخاص طور پر مسلم پرسنل لاسے مربوط مسائل کے فیصلے کے لیے ہم دارالقضاء کا ہی رخ کریں۔
دارالقضاء امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے نظام قضا کو سرکاری عدالتی نظام نے بھی سراہا ہے،جو اس کے مفید اورقابل تقلید عمل بننے کی روشن مثال ہے۔
یہ تمام جدوجہد اورخدمات مولانا سجادؒ کی نگاہ بصیرت کا کمال ہے،جس کا عکس آج ہمیں امارت شرعیہ اور دارالقضاء کی شکل میں نظر آتا ہے۔(اللّٰھم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واکرم نزلہ وادخلہ فی جنۃ الفردوس)
مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد کی نگاہ بصیرت مذکورہ بالاآیات واحادیث پر ہمیشہ رہتی تھی،آپ نے موضوع کی ضرورت واہمیت کا ادراک کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے تحت دارالقضاء کے نظام کو مستحکم فرمایا،اوراس کے لیے پورا نظام مرتب کیا۔
دارالقضاء میں فریقین کے درخواست دینے کے مرحلہ سے لے کر فیصلہئ قاضی تک کے تمام مراحل کو ایسا منضبط اور قانونی بنایا کہ ملک کے عدالتی نظام نے بھی بارہا اسے سراہا اوردارالقضاء سے جاری کئے گئے فیصلوں کو برقراررکھا۔
دارالقضاء کے عدالتی طریقہئ کار کے ساتھ ساتھ آپ نے اپنے علمی وفقہی ذوق کی بناپر فیصلے کے طریق کار کو بھی منقح اورواضح فرمایا،جو کہ بعد کے قاضیوں کے لیے ایک گائیڈ کا درجہ رکھتی ہے،دارالقضاء امارت شرعیہ نے قضایا امارت شرعیہ(جلد اول)کے نام سے جو کتاب مرتب کروائی ہے،اس میں حضرت مولانا کے ۸/قیمتی فیصلے بھی شامل ہیں،جن کے مطالعہ سے کارقضاء میں آپ کی بصیرت اورآپ کے فیصلوں کی اہم خصوصیات کا پتہ چلتا ہے،ان میں سے بعض اہم امور مندرجہ ذیل ہیں۔
نصوص شرعیہ پر آپ کی گہری نظر:
آپ کے فیصلوں میں ایک امتیازی پہلو جو واضح طور پر نظر آتا ہے،وہ نصوص شرعیہ کا کثرت سے استعمال ہے،اس بارے میں آپ کے بہت سے معاصر نے لکھا ہے کہ ہر مسئلہ میں آپ کی کوشش یہ ہوتی کہ اس کی اصل کتاب اللہ میں مل جائے،یہی وجہ ہے کہ آپ فہم قرآن اورتدبر قرآن کے باب میں اپنے معاصرین میں سبقت رکھتے ہیں،آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا عبدالصمد رحمانی آپ کے منہج تدبر قرآن کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”حضرت مولانا سجاد ؒ کو قرآن مجید سے طبعی ذوق تھا،وہ اکثر فرماتے تھے کہ میں جب قرآن مجید کی تلاوت کرنے بیٹھتا ہوں تو بہ مشکل گھنٹہ آدھ گھنٹہ میں ایک صفحہ کی تلاوت کرپاتا ہوں،قرآن کی بلاغت، اس کا عمق،پھر اس کے احکام،پھر احکام کی روح اوراس کا مناط،پھر اس کے ماتحت اس کے فروع،پھر فروع کے تنوعات،پھر ان میں باہمی تفاوت اس طرح ایک ساتھ سامنے آنے لگتی ہیں کہ اس میں کھو جاتاہوں اوراکثر دوچارآیات میں وقت ختم ہوجاتا ہے اورتھک کر تلاوت ختم کردیتا ہوں،ایک دفعہ حضرت نے فرمایاکہ جب یہ مسموم ہوا چلنے لگی کہ ہر مسئلہ کا ثبوت قرآن سے کیا جانے لگا تو اس زمانے میں تلاوت کے وقت جزئیات فقہ اورفروعات اسلامی کے مآخذ کی طرف ذہن کا امالہ ہوگیا تو کچھ دنوں کے مطالعہ کے بعد خدا کی جانب سے یہ نوازش ہوئی کہ جب فقہ کے کسی باب کے فروعی مسائل کے ثبوت کی طرف توجہ کرتا تو آسانی سے مآخذ کی رہنمائی ہوجاتی،بلاشبہ (ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیر کثیرا)(اورجسے حکمت عطا کی گئی،اسے خیر کثیر مل گیا)کی بشارت کے وہ ایک فرد تھے“۔(۸۱)
احادیث کے قبول ورد میں محدثانہ ذوق:
اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآنی تدبر کے ذوق کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ پر بھی محدثانہ تحقیقی علم عطا فرمایا تھا، دارقطنی میں موجود ایک اثر صحابی جس میں عدم ادائیگی نفقہ کے وجہ سے تفریق زوجین کی بات نقل کی گئی ہے، آپ فرماتے ہیں:
اورحدیث دارقطنی”فی الرجل الذی لاینفق علی امرأتہ،قال:یفرق بینھما،حضرت سعید بن المسیب کے مراسیل میں سے ہے،یہ حدیث عندالمحدثین عن ابی ھریرہ سے صحیح نہیں ہے۔(۹۱)
مسلکی تعصب اورتشدد سے سخت نفرت:
حضرت مولانا ؒکے سامنے حنفی اوراہل حدیث حضرات کے درمیان کسی مسجد کی امامت جمعہ کے بارے میں مقدمہ پیش ہوا،آپ نے تمام ضروری کارروائی کے بعد جو حکم صادر فرمایا،وہ آج کے علما کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ ہے،آپ لکھتے ہیں:
حضرت امیر شریعت کے انتخاب میں فرقہ بندی کا قطعا ًلحاظ نہ کریں؛بلکہ جو شخص ان میں بہ اصول شریعت احق بالامامۃہو،اتقی یا اورع ہو اورمختلف مسائل میں محتاط اورہر دوفریق کو متحد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو،اسے منتخب کریں۔(۰۲)
اتحاد امت پر زور:
یوں تو آپ کی پوری زندگی ہی اتحاد امت کے ایک علمبردار کے طورپر گزری،موقع جیسا بھی ہو،آپ نے ہمیشہ اتحاد کے پیغام کو عام کیا،چنانچہ بلاضرورت دوجگہ جمعہ کے قیام کے متعلق آپ لکھتے ہیں:
”ہر دو فریق حنفی اوراہل حدیث جمعہ کی نماز ایک ہی جماعت کے ساتھ جامع مسجد میں پڑھا کریں اوردوجگہ جمعہ قائم نہ رکھیں کہ یہ اس مقام میں بلا ضرورت ہے اورتفریق مسلمین کا باعث اورمسلمانوں کی شان اجتماعیت کے لیے تباہ کن ہے“۔(۱۲)
نصوص فقہیہ سے اعتنا:
آپ کے فیصلوں میں جہاں نصوص شرعیہ کی کثرت ہوتی ہے،وہیں آپ اسلاف کے علوم سے بھی خاص طورپر استفادہ کرتے ہوئے فقہاء امت کی فقہی تصریحات سے اپنے فیصلوں کو قوت بخشتے،چنانچہ بالغہ سے بلا استیذان نکاح کے متعلق مرافعہ کے فیصلہ میں آپ نے جو علمی وفقہی بحث کی ہے،وہ یقینا اس راہ کے مسافروں کے لیے ایک خالص علمی تحفہ ہے۔(۲۲)
امارت شرعیہ،دارالقضاء اورحضرت مولاناؒ کے چند اہم فقہی فیصلوں سے متعلق یہ مختصر سی تحریر ہے،جس سے مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ کی بے مثال اوریگانہئ روزگار شخصیت پر مختصر سی روشنی ڈالی گئی ہے،اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ امت کے اس بے لوث خادم کو جنت کا اعلیٰ مقام عنایت کرے۔
وصلی اللّٰہ علی محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین
مصادر ومراجع
(۱) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد-حیات وخدمات،ص:۰۸
(۲) حوالہ سابق،ص:۵۴۴
(۳) فتح القدیر:۶/۵۶۳
(۴) حوالہ سابق،ص:۱۲۲
(۵) حوالہ سابق،ص:۶۴۴
(۶) سورۃ النساء:۹۵
(۷) تفسیر ابن کثیر:۱/۱۸۵
(۸) سورۃ النور:۱۵
(۹) سورۃ المائدۃ:۸۴
(۰۱) سورۃ المائدۃ:۹۴
(۱۱) سورۃ النساء:۵۶
(۲۱) سورۃ المائدۃ:۵۴
(۳۱) دیکھئے! سورۃ المائدہ:۷۴۔۸۴
(۴۱) دیکھئے:بخاری شریف،حدیث نمبر:۰۶۶/مسلم،حدیث نمبر:۰۳۸۱
(۵۱) دیکھئے:بخاری شریف،حدیث نمبر:۶۲۰۵/مسلم،حدیث نمبر:۴۹۸۱
(۶۱) السنن الکبریٰ للبیھقی:۰۱/۸۹
(۷۱) الدارقطنی:۴/۵۰۲
(۸۱) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد-حیات وخدمات،ص:۶۳۲
(۹۱) قضایا امارت شرعیہ:۱/۸۲
(۰۲) حوالہ سابق،ص:۸۴
(۱۲) حوالہ سابق،ص:۷۴
(۲۲) دیکھئے! حوالہ سابق،ص:۷۶

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں