ماہ محرم کے فضائل اور احکام

Views: 68
Spread the love
Avantgardia

مفتی محمد سفیان القاسمی
استاذ مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

ماہ محرم کی دسویں تاریخ کو کربلا کے میدان میں نواسہء رسول، جگر گوشہء بتول کی شہادت کا دردناک اور الم ناک سانحہ پیش آیا. اس سانحہ میں درس عبرت بھی ہے اور رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لئے پیغام بھی. تاریخ میں یہ واقعہ اتنا مشہور ہوا کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ماہ محرم کی فضیلت و اہمیت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہء شہادت کی وجہ سے ہے. جبکہ یہ صحیح بات نہیں ہے. صحیح بات یہ ہے کہ ماہ محرم اور یوم عاشورہ کی فضیلت و اہمیت حضرت امام حسین رض کی شہادت پیش آنے سے پہلے سے ہے. ہاں یہ اتفاق کی بات ہے کہ حضرت امام حسین رض کی شہادت کا واقعہ عین یوم عاشورہ کو ہوا. اور چونکہ نواسہء رسول، جگر گوشہء بتول کی شہادت کا المناک سانحہ اس روز پیش آیا اس لئے اس روز پیش آنے والے تاریخی اور اہم واقعات کی فہرست میں ایک اور واقعہ کا اضافہ ہوگیا اور اس طرح یوم عاشورہ مزید تاریخی اور یادگار ہوگیا. میں اس تحریر میں امام حسین کی شہادت سے قطع نظر، ماہ محرم کے فضائل و احکام سے متعلق گفتگو کرنا چاہتا ہوں.

یہاں پر دو چیزیں ہیں، ایک ماہ محرم اور دوسری ماہ محرم کی دسویں تاریخ جس کو یوم عاشورہ کہتے ہیں. احادیث شریفہ میں دونوں کے الگ الگ فضائل و احکام بیان کئے گئے ہیں

چنانچہ جہاں تک مام محرم کی فضیلت کی بات ہے تو یہ مہینہ کئی اعتبار سے فضیلت کا حامل ہے. پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یہ ان چار مہینوں میں سے ایک ہے، جس کو قرآن نے حرمت والا مہینہ کہا ہے( الشھر الحرام بالشھر الحرام. البقرہ )یہ چار مہینے محرم، رجب ذی قعدہ اور ذی الحجہ ہیں. اسلام سے پہلے بھی یہ چاروں مہینے حرمت والے سمجھے جاتے تھے یعنی ان مہینوں میں مشرکین جنگ کرنا حرام سمجھتے تھے اور اسلام نے بھی ان کی حرمت کو بر قرار رکھا.

ماہ محرم کی فضیلت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ سرکار دو عالم ص نے فرمایا. سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والا روزہ، رمضان کے مہینے کے بعد اللہ کا مہینہ، محرم کا روزہ ہے( افضل الصیام بعد شھر رمضان شھر اللہ المحرم )اس حدیث سے جہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رمضان کے بعد دوسرے نمبر پر جو روزہ افضل ہے وہ ماہ محرم کا ہے . وہیں اس ماہ محرم کی فضیلت اس اعتبار سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ سرکار دوعالم ص نے اس کو اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے.

اور جہاں تک ماہ محرم کی دسویں تاریخ یعنی یوم عاشورہ کی بات ہے تو سرکار دو عالم ص نے اس کی فضیلت اس طرح بیان فرمائی( لیس لیوم فضل علی یوم فی الصیام الا شھر رمضان و یوم عاشورہ. رواہ الطبرانی و البیھقی )روزہ کے سلسلے میں کسی دن کو کسی دن پر فضیلت نہیں سوائے ماہ رمضان اور یوم عاشورہ کے. ایک دوسری حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں( مارایت النبی صلی اللہ علیہ و سلم یتحری صیام یوم فضلہ علی غیرہ الا ھذا الیوم، یوم عاشوراء و ھذا الشھر یعنی شھر رمضان. بخاری 1/268 مسلم 1/360 )میں نے نبی کریم ص کو کسی فضیلت والے دن کے روزہ کا بہت زیادہ اہتمام کرتے نہیں دیکھا سواءے اس دن یعنی یوم عاشورہ کے اور اس ماہ یعنی ماہ رمضان المبارک کے.

یوم عاشورہ کی اہمیت اس اعتبار سے بھی ہے اس دن سے کئی تاریخی اور اہم واقعات جڑے ہوئے ہیں چنانچہ بتایا جاتا ہے کہ اسی روز آسمان، زمین، قلم اور حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا. اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہری. اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی اور گل و گلزار ہوئی، اسی دن حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعونیوں کے ظلم سے نجات ملی اور فرعون دریا میں غرق ہوا وغیرہ وغیرہ

یوم عاشورہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو آپ نے صحابہ کرام کو عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا تاکیدی حکم دیا. چنانچہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کا روزہ فرض ہونے سے پہلے یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا پھر جب رمضان کا روزہ فرض ہوگیا تو یوم عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہوگئ البتہ اس کا استحباب بر قرار رہا. یہی وجہ ہے کہ فرضیت منسوخ ہونے کے بعد بھی سرکار دو عالم ص نفلی روزوں میں سب سے زیادہ اہتمام یوم عاشورہ کا فرماتے تھے( معارف الحدیث )

مذکورہ تفصیلات سے معلوم ہوا کہ ماہ محرم کی بھی فضیلت ہے اور یوم عاشورہ کی بھی. اب ان ایام میں کون کون سے احکام بندوں سے متعلق ہوتے ہیں تو اس سلسلے میں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان ایام میں خاص عمل روزہ ہے. چنانچہ عاشورہ کے دن روزہ کا ثواب یہ ہے کہ روزہ رکھنے والے کے ایک سال پیچھے کا گناہ معاف ہو جاتا ہے اور یوم عاشورہ کےعلاوہ اس مہینے کے دوسرے دنوں میں روزہ رکھنے کا ثواب یہ ہے کہ ایک روزہ کے بدلے تیس دنوں تک روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا.

حضرت ابو قتادہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.( صیام یوم عاشوراء. انی احتسب علی اللہ ان یکفر السنۃ التی قبلہ. مسلم 1/367 ) مجھے امید ہے کہ عاشورہ کے دن کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جاءے گا. اور حدیث پاک میں ہے( من صام یوما من المحرم فلہ بکل یوم ثلاثون یوما. الترغیب والترھیب 2/114 )جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے گا تو اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلے تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا. البتہ یوم عاشورہ کے روزہ میں تفصیل یہ ہے کہ یوم عاشورہ کے ساتھ مزید ایک روزہ رکھ لیا جائے تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہو( مسلم شریف 1/359 )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

0

Your Cart