مہتمم صاحب! استاذ + سفیر پر رحم کیجیے

محمد یاسین جہازی
۵/ رمضان یعنی ۱۱/ مئی ۹۱۰۲ء، سخت ترین گرمی کا دن تھا۔ عصر سے تقریبا تقریبا ایک گھنٹہ پہلے راقم رہائش گاہ سے آفس کے لیے نکلا ہی تھا کہ ایک ولی صفت بزرگ شخصیت پر نظر پڑی۔ جن کے چہرے کا جغرافیہ بتا رہا تھا کہ ایک طویل سفر سے ابھی ابھی آئے ہیں۔ ناچیز قریب پہنچا اور سلیک علیک کے بعد خیریت دریافت کی۔ عمر کا بوجھ، سفر کی تکان، روزہ کی کیفیت، موسم کی شدت اور بدن کی خستگی زباں سے کچھ بتائے بغیر گویا تھی کہ کیسی خیریت تھی؛ اس کے باوجود پھولتی سانس کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہوں۔ راقم نے قابل رحم حالت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس عمر اور رمضان میں سفر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس سوال پر گویا بھڑکتے ہوئے انھوں نے جواب دیا کہ یہ بات تو مہتمموں کو بتلاؤ، جو اس عمر میں بھی کہتے ہیں کہ اپنی تن خواہ رمضان کے چندہ سے ہی نکالو۔ اور چندہ نہیں کروگے، تو ادارہ آپ کی خدمت کا نقصان برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ اس شخص کا تاثر تھا، جنھوں نے فراغت کے بعد اپنی نوجوانی، جوانی اور بڑھاپا، سب اس مدرسہ کی تعلیمی و تعمیری ترقی کے لیے وقف کردیا تھا۔ ان کی زندگی میں کئی مہتمم بوڑھاپے سے موت اور پیدا ہوکر جوان ہوگئے۔ ان مہتمموں اور ان کی اولاد کی زندگی ٹاٹ سے فرش مخمل پر پہنچ گئی؛ لیکن تعمیر و ترقی میں برابر کے شریک اس استاذ کی زندگی جس ٹاٹ سے شروع ہوئی تھی، آج بھی اسی ٹاٹ پر بسر ہورہی ہے۔ بس صرف ایک تبدیلی آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ پہلے ٹاٹ نئی تھی، اب ان کی عمر کی طرح وہ بھی بوڑھی ہوگئی ہے۔
یہ تو اس شخص کی وکوہ کن داستان تھی، جس کی زندگی کا ایک بڑا حصہ چندہ وصولی کے تجربات میں گذر چکا ہے؛ لیکن نئی نسل اور نئے خون کے نظریے اور حوصلہ کی بات کریں، تو یہاں بھی تجزیاتی رپورٹ اس کے برعکسنہیں ہوگی۔ چنانچہ راقم نے ایک دن ایک جگہ پر مقیم تقریبا سو سے زائد سفرائے کرام سے سوال کیا کہ رمضان میں چندہ کے بارے میں آپ کا کیا نظریہ ہے، تو بیک زبان جو صدائے احتجاج بلند ہوئی، وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں تھی کہ یہ کام غیر رمضان میں ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ سب کی دلیل یہی تھی کہ رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے ہم لوگ محروم رہ جاتے ہیں، وصولی کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے تراویح پڑھنے کی ہمت نہیں جٹاپاتے، تلاوت قرآن کی سعادت سے بھی محروم رہتے ہیں۔ مسافر ہونے کی وجہ سے سحری و افطاری میں بڑی دشوری پیش آتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ البتہ اس مجمع میں چند ایک آواز یہ بھی اٹھی کہ نہیں، ہم اس نظریے کو اس وقت تک قبول نہیں کرسکتے، جب تک کہ دارالعلوم دیوبند اور اس جیسے بڑے ادارے کچھ اقدامات نہ کریں۔ تحقیق حال پر معلوم ہوا کہ یہ مہتمم حضرات تھے، جو ہر قیمت پر صرف اور صرف چندہ ہی پیش نظر رکھتے ہیں۔
ان دونوں طبقوں کے نظریات پر نفسیاتی تجزیہ کریں، تو اس کے علاوہ کچھ اور کہنا خلاف واقعہ ہوگا کہ مہتمم حضرات کو اپنے ایسے اساتذہ کی عمر کا خیال رکھتے ہوئے معاملہ کرنا چاہیے، جنھوں نے آپ کے مدرسہ کی تعمیر و ترقی کے لیے جوانی کی ساری طاقت خرچ کرڈالی۔ اسی طرح جو نوجوان اساتذہ ہیں، اور چندہ کے تجربات سے نا آشنا ہیں، انھیں ان کی قوت وصولی کے بقدر کام کرنے کا مکلف بنانا چاہیے۔ اتنا زیادہ ٹارگیٹ نہ دے دیا جائے کہ انھیں اس ٹارگیٹ تک پہنچنے کے لیے جواز اور عدم جواز کی حدوں کو بھی لانگھنا پڑجائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ماتحتوں کے ساتھ اسلامی رویہ اختیار کرنے کی توفیق بخشے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں