آہ امام جامع مسجد گڈا مفتی عبد اللہ قاسمی صاحب!

محمد یاسین جہازی

18 مئی 2019 کو  واٹس ایپ سے پہلے برین ہمیریج ہونے کی اطلاع ملی۔ پھر اس کے کچھ ہی گھنٹے کے بعد 3:45 شام بھاگلپورکے اسپتال سے وفات کی اطلاع گردش کرنے لگی۔ بیماری کی خبر سن کر ابھی دل صدمہ سے جوجھ رہا تھا کہ خبر وفات نے  اسے چیر کر رکھ دیا۔ چوں کہ دستور فطرت ہے کہ رضائے مولیٰ بر ہمہ اولیٰ، اس لیے خود کو تسلی دینے کے لیے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھ لیا۔

مولانا موصوف گڈا شہر کی سب سے بڑی ’’جامع مسجد ‘‘ کے امام بھی تھے اور خطیب بھی۔ علاوہ ازیں گڈا و اطراف میں ان کی شناخت ایک سماجی کارکن کے حیثیت سے بھی تھی۔ بالخصوص جمعیت علمائے گڈا، تبلیغی جماعت اور اصلاحی کاموں میں بہت پیش پیش رہتے تھے۔ ناچیز کا ان حوالوں سے رابطہ  اور صلاح و مشورہ ہوتا رہتا تھا۔

دارالعلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی میں مولانا موصوف ہمارے بہت سینیر تھے۔ دیوبند میں طلبہ گڈا کی انجمن ’’ انجمن آئینہ اسلاف‘‘ کا ناچیز جب ذمہ دار بنا ، تو تقریری لیاقت کو اجاگر کرنے کے لیے کوشش یہ کی گئی کہ سبھی طلبہ  پروگرام میں حصہ لیں۔ لیکن مولانا موصوف انجمن سے کوسوں دور رہتے تھے ۔ ناچیز نے مولانا سے  کئی بار ہفتہ واری مشق سخن محفل میں شرکت کی گذارش کی، لیکن وہ بالکل شرکت نہیں کرتے تھے۔ پھر ایک واقعہ ایسا ہوا کہ ان کا نظریہ بالکل بدل گیا ۔ مولانا اپنے ہم عمر رفقا  جن میں مفتی محمد ہارون صاحب کیتھیہ، مولانا فاروق اعظم جہاز قطعہ کے ساتھ غالبا کسی پروگرام میں شریک ہوئے۔ چوں کہ مولانا دورہ سے فارغ ہوچکے تھے اور تکمیل تفسیر کے طالب علم تھے، تو منتظمین  نے آپ سے خطاب کی گذارش کی، جس پر مولانا کچھ نہ بول سکے اور بہت شرمندہ ہوکر لوٹے۔ اس واقعہ کے بعد ان کا نظریہ بالکل بدل گیا اور تمام چیزوں کو چھوڑ کر مشق سخن کو ہی اپنا مشغلہ بنا لیا۔ اس کے بعد ہفتہ واری تقریری مشقی پروگرام میں وہ شریک ہوتے تھے اور لمبی لمبی تقریر یاد کرکے آتے تھے، جس کے بعد انتظامیہ کو یہ گذارش کرنی پڑتی تھی، آپ مختصر تقریر یاد کرکے آیا کریں، اس سے دوسرے طالب علم کو وقت نہیں مل پاتا ہے۔  قصہ مختصر یہ کہ ابتدائی دور میں وہ تقریر سے بہت دور بھاگتے تھے ، لیکن خدا کا کرشمہ دیکھیے کہ بعد میں اسی فن سے شہرت پذیر ہوئے ، اور آج ان کے تعارف کے لیے امام و خطیب کا لقب ان کے نام کا ضروری حصہ ہوگیا۔

ناچیز کی مولانا سے آخری ملاقات 2019 کے ماہ جنوری کے آوائل میں جامع مسجد گڈا میں ہوئی تھی،تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات میں کچھ گھریلو اور کچھ سماجی حوالوں سے بات ہوتی رہی۔ اس میں انھوں نے اپنی بیماری کا بھی تذکرہ کیا تھا، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اتنا صحت مند نظر آنے والا شخص اتنی جلدی اس بیماری سے ہار مان جائے گا۔  اس کے بعد دو مرتبہ فون سے بھی رابطہ ہوا، جس میں ناچیز نے مولانا سے یہ درخواست کی تھی کہ ’’اکابرین گڈا ‘‘ پر مشتمل ایک ڈی جیٹل سیمینار کرنے کا ارادہ ہے، آپ کا قلمی و علمی تعاون چاہیے، پہلے انھوں نے مصروفیات کا عذر پیش کیا ، اس کے بعد انھوں نے بتایا کہ کوشش کریں گے، وعدہ نہیں کرسکتے۔ مجھے امید تھی کہ اگر زندگی نے وفا کی ہوتی تو وہ اس سلسلہ میں ضرور تعاون کرتے۔

بہر کیف مفتی صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور متعلقین کو صبر جمیل بخشے۔

ان کی نماز جنازہ 19 مئی 2019 کو صبح سات بجے پسیا دنگال کی عیدگاہ میں ادا کی گئی ، عینی شاہدین کے مطابق دس ہزار سے زائد لوگوں نے نماز میں شرکت کی ۔بعد ازاں ان کے آبائی گاوں سیارڈیہہ میں دوسری نماز جنارہ ادا کی گئی

پسماندگان میں پانچ لڑکے اور ایک لڑکی ہے۔

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں