مسلم ووٹوں کی بے وزنی

ڈاکٹر اسلم جاوید
اس بار کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی میں آر ایس ایس کااہم رول رہاہے اس کے پہلے انتخابات میں بھی اس نے اہم رول ادا کیاتھا لیکن اس بار اس نے جی جان لگاکر اسے کامیابی سے ہمکنا ر کیا۔آرایس ایس کے کارکنوں نے گاؤں گاؤں میں جاکر اوروہاں دودو تین تین دن قیام کرکے بی جے پی کے حق میں ماحول تیار کیا۔اس الیکشن میں رام مندر کامعاملہ بالکل نہیں اٹھایا گیا۔بہار کے اسمبلی الیکشن میں سنگھ کے سربراہ نے ریزرویشن کے سلسلے میں ایک بیان دیاتھا جس پر بی جے پی کووہاں نقصان اٹھانا پڑا تھالیکن اس بار سنگھ نے پوری ہوشیاری برتی کہ اس قسم کی کوئی بات نہ کی جائے جس سے بی جے پی کونقصان ہو۔الیکشن کے ہرفیز کے حساب سے جہاں بی جے پی نے حکمت عملی تبدیلی کی اور جن مسئلوں پر فوکس کیا سنگھ کے سوئم سیوکوں نے بھی ان پر ہی کام کیا۔بوتھ کے حساب سے سوئم سیوکوں کی ٹولیاں بنائی گئیں جوگھر گھر جاکر راشٹرواد کے نا م پر ووٹ دینے کی اپیل کرتی تھی۔اسلئے بی جے پی کو اتنی زبردست کامیابی مل سکی۔کانگریس کے کارکن یہ کام نہیں کرسکے اسلئے اسے شکست کامنہ دیکھنا پڑا۔اس بار کے الیکشن میں صرف کانگریس ہی نہیں ہاری ہے،ملک کی بے روزگاری ہاری ہے،کسان ہاراہے،تعلیم ہاری ہے،عام لوگوں سے جڑا ہوا ہرمسئلہ ہاراہے اور اس کے ساتھ ایک امیدبھی ہاری ہے جس کی بھرپائی مشکل سے ہوپائے گی۔
پورے ملک میں اس بار 27مسلم ممبران پارلیمنٹ کامیاب ہوئے ہیں۔پچھلے الیکشن میں بھی 23مسلم امیدوار ہی کامیاب ہوئے تھے۔اس بار اطمینان کی بات یہ ہے کہ یوپی سے 6مسلم ممبرا ن کامیاب ہوئے ہیں جن میں تین بی ایس پی کے ہیں اورتین سماجوادی پارٹی کے ہیں۔امروہہ سے کنور دانش علی،سنبھل سے شفیق الرحمن برق،رام پور سے اعظم خاں،سہارنپور سے حاجی فضل الرحمن اورغازی پور سے افضال انصاری سے کامیابی حاصل کی ہے۔مہاراشٹر کے اورنگ آباد سے امتیار جلیل اورحیدرآباد سے اسدالدین اویسی نے مجلس اتحاد المسلمین کے امیداور کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی ہے۔مغربی بنگال سے ترنمول کے ٹکٹ پرنصرت جہاں روحی،جانگی پور سے خلیل الرحمن مرشدآباد سے ابوطاہر خاں نے کامیابی حاصل کی ہے تومالدہ سے کانگریس کے ٹکٹ پر ابوہاشم خاں نے جیت در ج کرائی ہے الوبیریا سے ساجدہ احمد بھی ترنمول کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ آرام باغ سے آفرین علی جیتے ہیں۔بہارسے اس بار صرف دومسلمان کامیاب ہوئے ہیں ان میں کشن گنج سے ڈاکٹر محمد جاوید اورکھگڑیا سے چودھری محبوب علی قیصر کامیاب ہوئے ہیں۔جموں کشمیر سے نیشنل کانفرنس سے فاروق عبداللہ،محمد اکبرلون اورحسنین مسعودی نے کامیابی حاصل کی ہے۔کیرل سے مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر اورپی کے کنہالی کٹی کے علاوہ سی پی ایم کے محمد عارف کامیاب ہوئے ہیں جبکہ آسام کے دھبری سے مولانا بدرالدین اجمل اوربرپیٹا سے کانگریس کے ٹکٹ پر عبدالخالق کامیاب ہوئے ہیں۔اس بار پنجاب کے فرید کوٹ سے بھی ایک مسلمان محمدصاد ق کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے ہیں۔جبکہ لکش دیپ سے محمد فیصل نے کامیابی حاصل کی ہے۔اس بار کانگریس کے چار اورترنمول کانگریس کے بھی چار مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔پورے ملک میں 92سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمانوں کی آبادی 20فیصد یاا س سے زیادہ ہے۔صرف یوپی میں 23سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلمان آسانی سے کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن اس بار زیادہ تر مسلم سیٹیں بی جے پی کے کھاتے میں چلی گئی ہیں۔مغربی بنگال میں ہی 28مسلم اکثریتی سیٹوں میں سے ترنمول کو23سیٹیں ملی تھیں لیکن اس بار منظر بالکل بدل گیاہے۔
گذشتہ پانچ سال سے شمالی ہند میں مسلم ووٹر بی جے پی کے خلاف ووٹ ڈالنے کے باوجو دانتخابی نتائج پر کوئی اثر ڈالنے میں ناکام رہے ہیں۔جمہوریت اکثریت کاکھیل ہے اورملک میں ہندوؤں کی زبردست اکثریت ہے۔مسلمان ووٹر کسی بڑے ہندو طبقے کے ساتھ جڑکر ہی الیکشن کومتاثر کرسکتے ہیں۔شمالی ہند میں مسلم ووٹر عام طور پر پسماندہ اوردلت برادریوں کی نمائندگی کرنے والی پارٹیوں کوحمایت دیتے رہے ہیں اوردیگر جگہوں پر وہ کانگریس کے ووٹر ہیں لیکن پریشانی یہ ہے کہ سیکولر سیاست کرنے والی ان پارٹیوں کوہندوووٹروں کے ایک بڑے حصے نے چھوڑدیاہے۔مثلا اعلی برادریوں،غیر یادو،پسماندہ برادریوں اورغیر جاٹو دلت برادریوں کی اکثریت بی جے پی کو اپنی پارٹی ماننے لگی ہے۔یہ ہندو سیاسی اتحاد کا نظارہ ہے جس کے تحت 42سے 50فیصد کے آس پاس ہندوووٹ ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔2017کے لوک سبھا الیکشن میں یہی ہو اتھا۔اور اس الیکشن میں بھی یہی ہوا ہے۔اس بڑی غو ل بندی سے پیدا شدہ خوف کی وجہ سے غیر بی جے پی پارٹیوں نے مسلم ووٹروں کواہمیت دنیا بھی بند کردیاہے۔واضح رہے کہ 2014سے پہلے یہی پارٹیاں مسلم ووٹروں کواپنی انتخابی حکمت عملی میں اہم رول دیتے تھے۔جس کے رد عمل میں بی جے پی ہندواکثر یتی ووٹوں کواپنے حق میں غول بند کرلیتی تھی۔اس صف بندی میں ایک نیا پہلو بہت پسماندہ اورانتہائی دلت برادریوں کی نمائندگی کرنے والی چھوٹی اورنامعلوم قسم کی تنظیموں کی حمایت کاہے۔ایسی تقریبا چالیس پسماندہ اورتقریبا 30دلت برادریاں 2014سے ہی دھیردھیرے بی جے پی کی طرف جھکتی جارہی ہیں۔
یہ برادریاں محسوس کرتی ہیں کہ برہمن واد مخالفت کے نام پر ہونے والی سماجی انصاف کی امبیڈ کر وادی اور لوہیا وادی سیاست سے انہیں کچھ بھی نہیں ملاہے۔نہ توانہیں ریزرویشن کے فائدے ملے ہیں اورنہ ہی نمائندگی میں حصہ۔ بی جے پی انہیں سیاست کے میدان میں مناسب موقع دینے کی یقین دہانی کرارہی ہے اوروہ فی الحال اس پر بھروسہ بھی کررہے ہیں۔ملک کی20فیصد سے زیادہ مسلم،سکھ او ر عیسائی آبادی والی 130سیٹیں ہیں۔ان میں سب سے زیادہ 53سیٹیں بی جے پی نے جیتی ہیں۔دوسرے نمبر پر مغربی بنگال میں مسلم اکثریت والی 14سیٹوں کے ساتھ ترنمول کانگریس ہے۔جن سیٹوں پر 20فیصد سے زیادہ مسلمان ہیں ان 96سیٹوں میں سے بی جے پی کواس بار 46سیٹیں ملی ہیں۔اتنی مسلم آبادی والی سیٹوں میں کانگریس نے ایک سیٹ کے فائدے کے ساتھ 11سیٹیں جیتی ہیں۔سب سے زیادہ مسلم ووٹروں والی ریاست اترپردیش میں 20فیصد سے زائد ووٹروں والی 28سیٹیں ہیں ان میں بی جے پی کو 21سیٹیں ملی ہیں جبکہ مغربی بنگال میں بی جے پی کو اس بار فائدہ ملاہے۔اس با ر اسے 20سیٹوں میں سے4پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
موبائل: 8468964597

 Website with 5 GB Storage

اپنا تبصرہ بھیجیں